قائداعظم کا نصب العین اور تین اہم سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح برصغیر کی گزشتہ صدی کی سیاست کا بلاشبہ ایک اہم کردار رہے اس کردار کا فکر وسوچ اوران کا عرض مدعا گویا کہ اب تک بھی نظروں سے اوجھل اور اظہار سے عاجز ہے ایک مسلسل ابلاغی اورتبلیغی مہم کے ذریعے قائد اعظم کے تصور مملکت کواس انداز میں مسخ کر دیا گیا ہے جسے دیکھ کر قائداعظم کا سراپا قوم کے وژنری اور مدبر رہنما کے بجائے ایک متردد، مذبذب اور ایک ایسے کنفیوزڈ قسم کے سیاسی لیڈر کی شکل میں سامنے آتا ہے جو یا تو خود عجز تکلم کی بیماری کے شکار تھے، یاوہ ایک ایسے سیاسی کارکن کے طور پر نصف صدی تک سیاست کے خارزار میں مصروف عمل تھے جس کا کوئی نصب العین تھا ہی نہیں یا پھر قدرت کلام اور تصور مقصد رکھتے ہوے قائداعظم کے پاس کوئی ایسا ایجنڈا تھا جس کو وہ چھپا رہے تھے اور اب نتیجتا ان کی فکروسیاست خواجہ حافظ کا فالنامہ یا عمرو عیار کی زنبیل بن گیا ہے جس سے کسی بھی وقت اپنی کسی بھی بات کی تائید یا دوسرے کے موقف کی تردید میں کچھ بھی نکالا جا سکتا ہے۔

ہماری قومی جہت کے تعین میں یہ واقعی ایک بنیادی اہمیت کا معاملہ ہے کہ آخر ملک کے بانی کے وژن کے ساتھ یہ حادثہ کیسے پیش آیا؟ اس مسئلے پر غور کرنے کے لیے لازم ہے کہ پہلے تین کلیدی نوعیت کے سوالات سامنے رکھے جائیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ ہمارے ملی ادب میں اساطیری حیثیت سے پیش کیے جانے والے حضرت علامہ اقبال کے اس خواب پر اگر جرح نہ بھی کی جاے، اس حوالے سے خود فرزند اقبال کی گواہی کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا جائے کہ مسلمانوں کے لیے الگ جغرافیے کا حصول علامہ اقبال کا خواب تھا تب بھی تو یہ سوال اپنی جگہ قایم ہے کہ خود قائداعظم کاخواب کیاتھا؟ 1936 کو لاہور میں علامہ اقبال کے ساتھ اپنی ملاقات میں توعلامہ اقبال نے قائداعظم سے نہیں بلکہ قائداعظم نے ڈاکٹراقبال سے اس کاز کے لیے تعاون وحمایت کاتقاضا کیاتھا جوکہ ظاہرہے ڈاکٹر صاحب کا نہیں بلکہ قائداعظم کامشن اور ان کاہی کاز تھا جس کے جواب میں علامہ اقبال نے ان الفاظ کے ساتھ حمایت کاوعدہ کیاتھا کہ ”میں آپ کے ساتھ ہوں مگر صرف عوام کی مدد کاوعدہ کررہاہوں مالداروں اور زمینداروں کی طرف سے نہیں“ اور پھر یہ کہ علامہ اقبال کے ساتھ اپنے پہلی ملاقات بلکہ خطبہ الہ آباد سے بھی قبل قائداعظم اس خطے کی سیاست میں ایک فعال رول آدا کررہے تھے تو اس وقت ان کا مطمح نظر کیاتھا، ظاہرہے کہ اس وقت سیاست کے میدان میں علامہ اقبال کے فکر کی ترجمانی کرنا تو ان کے مدنظر نہیں تھی۔

دوسرا حل طلب امریہ ہے کہ ہرسیاسی قائد کی طرح قائداعظم کے سیاسی جدوجہد کی سرگرمیوں، بیانات اور تقریروں میں بھی اس عنصر کا پایاجانا ضروری ہے کہ ایک تو ہوتاہے کسی تحریک اور حرکت کا بنیادی جوہر، اساسی نصب العین اور اصولی حکمت عملی۔ جبکہ ایک ہوتاہے سیاسی طاقت کی حصول اور معاشرے کے مختلف موثر طبقات کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے عام فہم انداز میں ہونے والی تقریریں، نعرے اور بیانات۔ یعنی بیانیہ، پالیسی اور نصب العین تین مختلف چیزیں ہیں، بیانیہ عموما جتنا دلکش ہوتاہے حقایق کا اتنا ہی پابند نہیں ہوتا، پالیسی کا راستہ حقیقت کی سنگلاخ زمین سے گزرتاہے اس میں نعروں، وعدوں اور خوابوں کا گزر باقی نہیں رہتا جبکہ نصب العین بیانیہ کے خوابوں اور پالیسی کی حقیقتوں سے مل کر حاصل کیاجانے والا واضح مقصد ہوتاہے تو قائد اعظم کے فکر کی روح اور اس کے فاضل اور اضافی اجزا کے درمیان حدفاصل کیسے قایم کی جائے اور مقصد و ذریعہ میں تفکیک کا پیمانہ کیاہو؟

تیسراسوال جو مندرجہ بالا دونوں سوالات سے زیادہ اہم بھی ہے اور ان دونوں سوالات کی گتھی سلجھانے میں بھی رہنمائی فراہم کرتاہے وہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اس نوزائیدہ ریاست کی مستقبل کو قائداعظم اپنے بیانات اور اقدامات سے کیا رخ اور کیا جہت دے رہے تھے؟

مذکورہ بالا تین سوالات کی تناظر میں ابہامات وتضادات اور بے سمتی اور کنفیوژن کے خودتراشیدہ وادیوں سے نکلنے اور قائداعظم کے وژن اور نصب العین کی درست تشخیص حاصل کرنے کے لیے ہمیں قائداعظم کی سیاسی زندگی کو مختلف ادوار میں تقسیم کرناہوگا، ان کے بیانات وتقریروں میں سے ہرایک کو متعلقہ دورکی ضرورت کے تحت رکھناہوگا اوریہاں تک کہ قائد اعظم کے نصب العین کی درست تفہیم وتعبیر کے لیے ان کی ذات کو خود ان کی جماعت مسلم لیگ کے دوسرے اکابرین کے رجحانات اور ترجیحات سے الگ کرنا ہوگا۔

1936 سے پہلے کا زمانہ قائد اعظم کی سیاسی سفر کاوہ حصہ تھا جب انہیں یقین تھا کہ کسی بھی طرح کے تفریق وتقسیم کے بغیر تمام محروم ومحکوم ہندوستانیوں کے لیے انسانی کرامت، یکساں شہری حیثیت اور بنیادی حقوق کی جنگ صرف دلیل کی قوت اور موقف کے اصابت کے بنیاد پر بھی جیتی جاسکتی ہے لیکن 1936 تک آکر انہیں احساس ہوا کہ مسلم لیگ کو پارلیمانی پارٹی میں تبدیل کردیناچاہیے، ایک آئیڈیل منزل کے حصول کے لیے راستے اور ذریعے بھی آئیڈیل نہیں ملتے، اس وقت انتخاب کی بنیاد بالغ رائے دہی نہیں تھی چنانچہ مسلم لیگ کے دروازے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، نوابوں اور معاشرے میں اثرورسوخ رکھنے والے فرقہ پرست عمایدین کے لیے کھول دیے گیے۔ اسلام اور مسلم قوم کی اصطلاحات کی وفور کے ساتھ بروے کار آنے کے باوجود قائداعظم کا ہدف ایک تھیوکریٹک ریاست یاکسی بھی قسم کی اشرافیہ کی مفادات کا محافظ یا ان کی شکم سیری کی چراگاہ کی قیام ہرگز نہیں تھا۔ وہ کسی تزویراتی اورتصوراتی قلعے کی تشکیل کے بجائے نوزائیدہ مملکت میں رائے کی تشکیل کی آزادی، رائے کے اظہار کی آزادی، قانون ودستور کی تشکیل کے آزادی اور ان کی عملی اطلاق کی آزادی کے علمبردار تھے، قائداعظم کے فکر میں ”اقلیتوں کے حقوق“ کے اصطلاح تلاش ہی بے انصافی ہے کیونکہ ریاست کی تمام شہریوں کے لیے مساوی حیثیت کے اعلان کے بعد معاشرے کو تقسیم کرنے والے ان دھاروں کا وجودہی ناپید ہوجاتا ہے۔

آزادی کے اعلان کے بعد اگر ایک طرف قائداعظم کے اقدامات ان کاساتھ دینے والے بعض حلقوں کے لیے غیر متوقع تھے تو دوسری طرف قائداعظم کے اقدامات پر ان طبقوں کا ردعمل خود قائداعظم کے لیے بھی چونکا دینے والا تھا۔ 11 اگست کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں نوزائیدہ ریاست کے بنیادی خدوخال واضح کرنے کے بعد اس تقریر کے ردعمل میں مولانا شبیر احمد عثمانی کو یکم ستمبر 1947 کو اخبارات میں قائداعظم کو ان کی اپنے ”اوقات“ یاددلانے اور ان پر اپنا احسان جتانے کے لیے یہ بیان جاری کرنا پڑاتھا کہ ہم لوگ قیام پاکستان کی تحریک کو ”مذہبی رنگ نہ دیتے“ تو قائداعظم سمیت کوئی بھی بڑا لیڈر خواہ کتنی ہی قابلیت اور تدبر سے مالامال ہوتا مسلمانوں کے خون میں حدت پیدا نہیں کرسکتاتھا۔ حضرت عثمانی کی اس شدیدردعمل کی وجہ یہی تھی کہ ان کی تخیلاتی نقشے کے مطابق تو پاکستان کے دستورساز اسمبلی میں کسی غیر مسلم کو ممبر بننے کابھی حق نہیں تھا جبکہ قائداعظم وزیر قانون ہی غیر مسلم کو بنارہے تھے اور تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اس مرحلے پر قائداعظم کی سوچ کے ساتھ ان علماء کی سوچ زیادہ قریب ہوگئی تھی جو ہندوستان میں رہ گیے تھے اور جنہیں ”نیشنلسٹ علماء“ کہہ کربدنام کیاجاتارہا چنانچہ انہی علماء کے سرخیل مولاناحسین احمد مدنی نے 1938 میں ہی واضح کیاتھا کہ ”اس جمہوری حکومت جس میں ہندومسلمان سکھ عیسائی پارسی سب شامل ہوں حاصل کرنے کے لیے سب کو متفقہ کوشش کرنی چاہیے ایسی مشترکہ آزادی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے (روزنامہ زمزم 7 جولائی 1938 )

اس کے بعد قائداعظم کی ”قیادت“ سے گلوخلاصی کے لیے نوابزادہ لیاقت علی خان کو علامہ شبیر احمد عثمانی کی اور قائداعظم کی ”سوچ“ سے نجات حاصل کرنے کے لیے علامہ عثمانی کو نوابزادہ لیاقت کی ضرورت پڑی، قائداعظم کے وفات کے وفات کے ایک ماہ بعد ہی اظہار رائے اور شخصی آزادی کا گلا گھونٹنے والے وہ پبلک سیفٹی آرڈینینس نافذ کردیاگیا جس پر قائداعظم نے دستخط سے بھی انکار کر دیا تھا، اکتوبر 1950 کو ملک کے غیر مسلم وزیرقانون کو ملک سے ہی بھاگنا پڑا، رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاجا انڈین لیچیسلیٹیو کونسل سے مستعفی ہونے والے قائداعظم کے پاکستان میں برصغیر کے قدیم ترین اخبار کا سرقلم کرنے کا مطالبہ ملک کے سولہ روزناموں کے ایڈیٹرز نے مل کرکیا، راجہ ظفرالحق نے 1985 میں قائداعظم کی تعلیمات سے غیرجماعتی انتخابات کی افادیت ثابت کی تھی اور ضیا الحق مرحوم نے قائداعظم کی کسی ”خفیہ ڈائری“ سے صدارتی نظام کا روح آفریں کشتہ دریافت کیاتھا۔ قائداعظم کے حوالے سے ان نت نئے انکشافات اور دریافتوں کاسلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن ملک کے پہلے دستورساز اسمبلی سے ان کے دن کے اجالے میں کی جانے والی تقریر اب بھی بلیک آوٹ ہے۔

سوال یہ ہے کہ علامہ اقبال کی مسلمانوں کے مستقل جغرافیے کا خواب تو شرمندہ تعبیر ہوگیا۔ فتنہ تاتار سے قبل کے بغداد کی مباحث کی منظر کشی کرنے پاکستان کی علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے ہم فکر حلقے کا خواب بھی پورا ہوگیا، اشرافیہ کی مختلف کلاسوں کی مفادات کی چوکیداری کرنے والی نووابزادہ لیاقت علی خان اور ان کے اخلاف کا خواب بھی پورا ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ قائداعظم جس قسم کا پاکستان چاہتے تھے ان کا بھی ایک خواب تھا قائداعظم کا وہ خواب کن وادیوں میں بھٹک گیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •