مقدمہِ ہندکووان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قوموں کا اپنا تشخص ہوتا ہے، اپنی شناخت ہوتی ہے۔ اس شناخت کے کئی حوالے ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مذہب ایک حوالہ ہے۔ دینِ اسلام کو ماننے والے تمام دنیا میں کہیں بھی بستے ہوں من حیث القوم مسلمان کہلاتے ہیں۔ اسی طرح ایک حوالہ جغرافیائی ہے۔ آپ جہاں سے تعلق رکھتے ہیں آپ کے آبا و اجداد یہاں کب سے آباد ہیں، آپ کی جڑیں اس مٹی میں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں؟ اس سرزمین کا حوالہ آپ کے لئے اور آپ اس کے لئے کتنے قابلِ فخر ہیں؟ شناخت کا یہ حوالہ معاشرے میں آپ کے مقام کا تعین کرتا ہے۔

میں شہر پشاور کا رہنے والا ایک پشوری، ایک عام سادہ انسان ہوں۔ میں یہاں صدیوں سے نہیں ہزاروں سال سے آباد ہوں۔ میری ماں بولی “ہندکو” ہے۔ لیکن میرے ارد گرد رہنے والے دوسری زبان بولنے والے میرے دوست میرے ہم وطن مجھے کبھی کبھی ’’خارے‘‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔ شہر پشاور میں بولی جانے والی دوسری زبان پشتو کے لفظ “خارے” کے دو معنی ہیں، ایک “شہری” اور دوسرا “کانٹا”۔ کبھی کبھی میرے ہم وطنوں کا ذو معنی لہجہ مجھے آخر الذکر معنی کی طرف اشارہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی مجھے یہ “پنجابی” کہہ کر بھی بلاتے ہیں۔ اِن ناموں سے پکارے جانے پر شاید میں معترض نہ ہوتا جتنا کہ لہجے کی تضحیک مجھے بے قرار کر دیتی ہے۔

میں جانتا تھا یہ القابات میری شناخت نہیں۔ میری شناخت تو کچھ اور ہے۔ میں جانتا تھا کہ میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں، میں ہندکو بولتا ہوں، لہٰذا میں ایک “ہندکووان” ہوں۔ لیکن میرے سامنے کچھ اور سوالات بھی موجود تھے کہ جن کے جوابات اگر مل جائیں تو میں اپنے لوگوں کو مطمئین کر سکوں۔ وہ سوالات کچھ یوں ہیں کہ

1۔ لفظ ‘ہندکو” کا مطلب کیا ہے؟
2۔ قوم “ہندکووان” کی تاریخ کیا ہے؟
3۔ کیا ہمارا کوئی صوفی نمایندہ شاعر ہے؟
4۔ ہماری بہادری کی کیا تاریخ ہے؟ کیا ہمارے کچھ کارنامہ ہائے شجاعت ہیں؟
5۔ ہماری بہادری کا استعارہ کیا ہے؟
6۔ ہماری زبان کی حدیں کہاں تک ہیں؟
7۔ میری زبان کتنی پرانی ہے؟

تاریخ کے گہرے و عمیق مطالعہ کے سمندر نے میرے سامنے ان سوالات کے جوابات لا کھڑے کردیے۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرا ہم زاد میرے سامنے موجود ہو اور مجھے مسکرا مسکرا کے ان جوابات سے آگاہ کر رہا ہو۔ آئے آپ بھی اسی کی زبانی ان سوالات کے جوابات سن لیجیے۔

1۔ لفظ “ہندکو” کا مطلب جاننا چاہتے ہو تو ذرا لفظ “ہند” پر غور کرو۔ دیکھو ان پہاڑوں کے سلسلے کو کہ جس کو “ہندو کش” کہہ کر بلاتے ہو۔ رخ موڑو زرا دریائے ہند (سندھ) کی جانب، دریا کی حدوں سے آگے بڑھو گے تو “بحیرہ ہند” بھی پا لو گے۔ خشکی پہ غور کرو گے تو خطہِ ہند پاؤ گے۔ خطہِ ہند کی زبان ہندکو بھی ہے کہ جس نام میں ہم نے تبدل اختیار نہیں کیا اور اس نسبت سے ہماری زبان ہندکو ہے۔

2۔ قوم “ہندکووان” کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ لفظ “ہندکو” قدیم ہے۔ ٹیکسلا کھنڈرات سے ملنے والے کتبوں پر لکھی تحریروں کا جب ترجمہ کیا گیا تو وہاں بھی ہمیں ہندکو سنائی دی۔

3۔ اے ہندکووان “احمد علی سائیں” تیرے نمایندہ صوفی شاعر ہیں کہ جن کو علامہ اقبال نے “ہندکو کا غالب” قرار دیا۔

4۔ ہندکووان کی بہادری کا اندازہ لگانا ہے تو 23 اپریل 1930 کے واقعے کو اٹھا کر دیکھ لو۔ اس وقت کی سپر پاور تاجِ برطانیہ کے سامنے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں بہادر پشوری سپوتوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن بھاگے نہیں۔ اور کیا حالیہ دہشت گردی میں پشاور دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ بن کر سیسہ پلائی دیوار کے مانند کھڑا نہیں رہا۔ گذشتہ دو دہائیوں میں دنیا کے نقشے پر پشاور کے علاوہ کون سا ایسا شہر ہو گا، جس نے دہشت گردی کے مقابلے میں اپنے ہزاروں جوانون، بزرگوں، خواتین اور بچوں تک کی قربانی دی ہو۔

6۔ ہندکووان قوم کی بہادری کا استعارہ غازی عبدالرشید صدیقی شہید ہیں جنہوں نے اپنی جان دے کر بہادری کی لازوال تاریخ رقم کی۔ آرمی پبلک اسکول کی شہید پرنسپل طاہرہ قاضی جیسے بہادری کے درخشندہ ستارے کہاں اتنی آب و تاب سے چمکتے ملیں گے بھلا۔

7۔ اے ہندکووان تیری زبان کی حدیں تو خطہ ہند و پاک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہندکو زبان کا تعلق زبانوں کے “ہند آریائی” خاندان سے ہے۔ اس خاندان کے دوسرے ارکان پنجابی، سندھی، گوجری، سرائیکی، کوہستانی، پہاڑی اور کشمیری وغیرہ ہیں۔ ان تمام زبانوں کے بولنے والوں کو ایک دوسرے سے بات چیت کے لئے کسی مترجم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مثال کے طور پر اگر آپ پشاور سے نکلیں اور کسی سے کہیں “پانڑی پینڑا وے” تو پاکستان تو چھوڑ خطہِ ہند کے آخری گاؤں تک میں آپ کی بات سمجھی جائے گی۔ آپ کو پینے کے لئے پانی مِل جائے گا۔ لگ بھگ سو کروڑ لوگ آپ کی یہ زبان سمجھتے ہیں۔

یہ سات سوالات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے جوابات کا علم ہونا ایک ہندکووان کے لئے یقینآ خود اعتمادی کا باعث ہوں گے۔ میرے ارادوں کو ان جوابات نے فولادی قوت عطا کی ہے۔ میں سر اٹھا کے کہہ سکتا ہوں کہ میں ہندکووان ہوں اور مجھے اپنی زبان پہ فخر ہے۔

ہندکو تحریر: محمد ضیاءالدین
اردو ترجمہ: محمد عادِل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •