مولانا طارق جمیل، بپا جانی اور عمران خان کا مدنی ماڈل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے امام مولانا طارق جمیل صاحب نے پاکستان کے بیس کروڑ عوام سے گزارش کی ہے کہ سب عمران خان کی پوری پوری مدد کریں کیونکہ جو بھی مدینے کی ریاست کا تصور پیش کرے گا ہم اس کے غلام ہوں گے۔ اکثر لوگ موجودہ دور میں مدینے کی ریاست کے تصور کے بارے میں ابہام کا شکار ہیں۔ مولانا نے یہ ابہام بھی دور کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک فلاحی ریاست جہاں لوگ جھوٹ نہیں بولتے، دھوکہ نہیں دیتے، فراڈ نہیں کرتے، ایثار اور قربانی کے پتلے ہیں، ظلم نہیں کرتے، زیادتی نہیں کرتے، مدینے کی ریاست ہوتی ہے۔

اب بعض گمراہ لبرل یہ سنتے ہی سویڈن، ناروے اور کینیڈا وغیرہ کی مثال دینی شروع کر دیں گے کہ بس وہی مدینے کی ریاستیں ہیں کیونکہ وہاں یہ سب صفات پائی جاتی ہیں اور مولانا کے حکم کی آڑ میں ان ریاستوں کی غلامی کا اعلان کرنے پر تل جائیں گے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ وہ سب کفار ہیں، خاص طور پر سکینڈے نیویا والے، کیونکہ وہ الحاد کے داعی ہیں۔ بہتر ہوتا کہ مولانا اس بارے میں ایمان کی شرط بھی لگا دیتے۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ اس حکومت کے دور میں پاکستان گزشتہ تیرہ سو برس میں پہلا اسلامی ملک بننے جا رہا ہے جہاں لوگ یہ سب اچھی اچھی باتیں کیا کریں گے۔ تصور کریں ایسا پاکستان جہاں ظلم زیادتی نہ ہو، سب لوگ سچ بولتے ہوں، ملاوٹ نہ کرتے ہوں، رشوت نہ لیتے ہوں، حکومت شہریوں سے لوٹ مار کرنے کی بجائے ان کو پیسے دیتی ہو، بس پانچ برس پورے ہونے سے پہلے پہلے پاکستان ایسا بن جائے گا۔

بظاہر ناممکن لگتا ہے، لیکن مولانا نے واضح کیا ہے کہ جس شخص کی جیب میں چونی بھی نہیں تھی اس نے مانگ تانگ کر اربوں کا ہسپتال بنا لیا تو وہ پاکستان کو بغیر پیسوں کے ایسی فلاحی ریاست کیوں نہیں بنا سکتا جو اپنے پلے سے شہریوں پر خرچ کرے؟

مولانا کی اس وضاحت سے پہلے ہمارے ذہن میں تو مرشد الیاس قادری عطاری یعنی بپا جانی والی مدنی ریاست ہی آتی تھی۔ ایسی ریاست جہاں تمام عمال و حکام سبز پگڑی پہنے ذکر و وظائف میں مشغول ہوں۔ وزارت خوراک کی ایک کمیٹی یہ تعین کر رہی ہو کہ کیلے اور کھیرے کو کاٹنے کا درست شرعی طریقہ کیا ہے، تو دوسری طرف وزارت ٹرانسپورٹ و انسداد فحاشی ریسرچ کر رہی ہو کہ دو موٹر سائیکل سواروں کے بیچ کس موٹائی کا مدنی تکیہ رکھا جائے تو فحاشی رک پائے گی، اور دونوں سواروں کو کس قسم کی عینک پہنائی جائے گی کہ وہ تانگے کے گھوڑے کی مانند ادھر ادھر فحاشی دیکھنے سے قاصر ہو کر نگاہیں سیدھی اور نیچی رکھ پائیں۔ اور وزارت راہ راست یہ آگہی پھیلا رہی ہو کہ کسی نمازی کے آگے گزرنے کے لئے کس قسم کی اجتماعی نقل و حرکت کی ضرورت ہے۔

بس اسی ماڈل سے متاثر ہو کر ہم سوچ رہے تھے کہ عمران خان بالوں کو خضاب لگانا چھوڑ دیں گے اور نہ صرف خود سبز پگڑی پہن کر مرشد بپا جانی کی طرح اپنی داڑھی مہندی سے رنگا کریں گے بلکہ ان کی ساری کابینہ بھی پیا رنگ میں رنگی جائے گی۔ وزیراعظم ہاؤس پر بھی سبز رنگ کی کوچی پھیر دی جائے گی۔ سڑکوں پر اشارے بھی سرخ، پیلے اور سبز نہیں بلکہ شوخ سبز، ہلکے سبز اور گہرے سبز ہوا کریں گے۔

ریاست کے وزیر دفاع، خارجہ اور خزانہ تحریک لبیک سے ہوں گے جو سود خور کفار کا دماغ سیدھا کر دیں گے۔ دھڑلے سے آئی ایم ایف والوں کو اسلام آباد بلائیں گے اور پوچھیں گے کہ بلا سود بیس ارب ڈالر کا قرض حسنہ دیتے ہو اور پرانا قرضہ ختم کرتے ہو یا پھر غوری ماریں؟ یعنی بتا تیری رضا کیا ہے، کیسے مرنا ہے۔

اب مولانا طارق جمیل نے ہمارے نظریات کو سیدھا کر دیا ہے۔ یعنی ہم بپا جانی کی ریاست کی بجائے سکینڈے نیویا کے ماڈل پر غور کرنے لگے ہیں۔ لیکن اس میں ایک اڑچن ہے۔ ہماری پاکستان قوم ہماری طرح ہی نہایت شریر ہے، اس کو سچ بولنے، ملاوٹ نہ کرنے، ظلم سے باز رہنے، وغیرہ پر آمادہ کرنا مشکل ہے۔ بہتر ہے کہ مولانا طارق جمیل ادھر سکینڈے نیویا نکل جائیں اور ادھر کے بادشاہ پر تبلیغ کر کے اسے مسلمان کر کے ادھر ریاست مدینہ بنا لیں۔ مولانا کے بیان کردہ باقی سب عناصر ادھر موجود ہیں، صرف ایمان کی کمی ہے۔ وہ مولانا پوری کر دیں گے۔ اس علاقے میں رہ کر مولانا کے حوروں والے بیان کی تاثیر میں اضافہ بھی ہو جائے گا کہ چشم تصور کو زحمت دینے کی بجائے حوریں ویسے ہی جا بجا دکھائی دے جائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1206 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar