عالمِ بے بدل مولانا طارق جمیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناح کالونی فیصل آبادکی ہوزری مارکیٹ کے دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد واقع ہے۔ ہم نے ناظرہ قرآن مجید وہیں سے پڑھا۔ دوسرے بازار کے کونے پر ہماری ہوزری کی دکان تھی۔ سکول سے واپس آکر ہم گھر نہیں جاتے تھے بلکہ سپارہ پڑھنے بخاری مسجد چلے جاتے۔ عصر کی اذان کے ساتھ چھٹی ہوتی۔ دکان پر آکر سکول سے ملا ہوا ہوم ورک کرتے۔ اسی اثنا میں مغرب کا وقت ہوجاتا۔ اس وقت تک ہم کافی ہوم سِک محسوس کرنا شروع کردیتے تھے۔

دیکھیے، امی تو بندہ بوڑھا ہوجائے تب بھی یاد آتی ہیں تو اس وقت ہم بالکل چوتھی جماعت میں پڑھنے والے چھوٹے سے بچے تھے۔ خیر۔ بخاری مسجد دیوبندی مسلک کی مسجد تھی۔ جنرل ضیاءالحق کا دور تھا۔ جہاد زوروں پر تھا۔ مسجد کے دروازے پر سفید، سیاہ جھنڈے والے پوسٹر اکثر لگے ہوتے جن میں کسی جہادی جلسے اور اس میں عظیم مجاہدین کی شرکت کی خبریں ہوا کرتیں۔ بخاری مسجد میں لیکن ایسا جلسہ کبھی نہیں ہوا۔ وجہ شاید اس کی یہ ہو کہ تجارت اور کاروبار کا کوئی مذہب، مسلک اور قومیت نہیں ہوتی۔ جس مرغی سے چندے، عطیات کے سونے کے انڈے ملتے ہوں اس کو کوئی عالم کیسے ذبح کرسکتا ہے؟

تبلیغی جماعتیں اکثر اس مسجد میں آکر ٹھہرتیں۔ جناح کالونی کی ہر دکان کا گشت ہوتا۔ لوگوں کو نیکی، نماز اور اللہ کی راہ میں محنت کرنے کا درس دیا جاتا۔ تبلیغی جماعت سے منسلک علماء اور خطیبوں کے پروگرام اکثر ہوا کرتے۔ انہی پروگروامز کے اشتہار پر ہم نے پہلی دفعہ مولانا طارق جمیل کا نام پڑھا۔ اس وقت شاید ہم نویں یا دسویں جماعت میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ابو جی اکثر جمعرات کو بلال مسجد جایا کرتے جہاں تبلیغی اجتماع ہوتا تھا۔

بہت دفعہ انہوں نے ہمیں ساتھ جانے کی ترغیب دلائی لیکن ہم ذرا کافر طبیعت کے تھے اور ہیں تو کبھی نہیں گئے۔ ابو جی نے بھی کبھی زبردستی لے جانے کی کوشش نہیں کی۔ بہرکیف، ابو جی کی زبانی ہی مولانا طارق جمیل کی تعریف سنی۔ نوجوان ہیں، ڈاکٹر ہیں، ایسا بیان کرتے ہیں کہ مجمع مسحور کردیتے ہیں۔ نوجوان نسل میں خاص طور پر مقبول ہیں۔

زندگی گزرتی رہی۔ سکول سے کالج میں جا پہنچے۔ مولانا کی شہرت بھی بڑھتی رہی۔ بہت سے دوستوں نے بھی کہا کہ کسی دن چل کے سنو تو سہی کہ کیسے عالم بے بدل ہیں۔ ایک تقریر سن کے ہی دل کی حالت بدل جاتی ہے۔ لیکن ہمارا دل کبھی نہیں مانا۔ ہمیشہ یہ سوچتے تھے کہ اگر کوئی قرآن پڑھ کے نہیں بدل سکتا تو یہ مولوی وغیرہ کیا بیچتے ہیں کہ ان کو سن کے دل کی حالت بدل جائے؟ کچھ گستاخانہ خیالات بھی یلغار کرتے جن کو ہم لاحول پڑھ کے رفع کرنے کی کوشش کرتے۔ دل کی حالت تو کوئی گانا سن کے بھی بدل سکتی ہے، کوئی فلم دیکھ کے بدل سکتی ہے۔ کوئی پری چہرہ نظر آجائے تو بالکل کایا پلٹ ہوجاتی ہے۔ تو یہ مولانا بھی کیا انٹرٹینر ہیں؟ یاد رہے کہ ان فاسد خیالات کی آمد کے وقت ہم نے صرف مولانا کا نام ہی سن رکھا تھا کبھی ان کو سننے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔

عملی زندگی میں آمد کے بعد رولر کوسٹر کی سواری میں اتنی مصروفیت رہی کہ کوئی مولانا وغیرہ یاد نہ رہے۔ رب البتہ یاد آگیا۔ کافی سال پہلے خلیج میں مزدوری کے لئے پہنچے تو وہاں دوبارہ ان کا ذکر سنا۔ ایک جاننے والے نے مولانا کی سی ڈی بھی تھما دی کہ دل افروز بیانات ہیں۔ ضرور سننا۔ ہم نے سوچا کہ اب تو مولانا چل کے ہمارے پاس آپہنچے ہیں اب تو ضرور سننا چاہیے ورنہ کفرانِ نعمت ہوگا۔ ایک شام ان کی سی ڈی کمپیوٹر میں لگائی اور بیان شروع ہوگیا۔

دیکھیے، ہمیں قصے کہانیوں سے بہت دلچسپی ہے۔ شاید سبھی کو ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ سننے پر ہمیں مولانا ایسے فنکار لگے جو مذہب اور قصے کہانیوں کی ایسی کاک ٹیل بناتے ہیں کہ سننے والے مدہوش ہو کے رہ جاتے ہیں۔ ہم نے یہی رائے اپنے اس جاننے والے کے گوش گزار بھی کی جو بوجوہ ان کو پسند نہیں آئی۔ کہنے لگے کہ باتیں تو اچھی کرتے ہیں۔ اچھے کام کرنے کا کہتے ہیں۔ برے کاموں سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہم نے جواب دیا کہ کیا یہ باتیں پہلے سے آپ کے علم نہیں تھیں؟

کیا آپ کو آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ کسی کا مال نہیں کھانا چاہیے۔ نماز پڑھنی چاہیے۔ سچ بولنا چاہیے۔ ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیے۔ سب سے حسن سلوک کرنا چاہیے۔ کہنے لگے کہ بالکل علم ہے۔ تس پر ہم نے ہنس کے کہا کہ خدا، رسولؐ کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے آپ کو مولانا کی تقریر کی ضرورت ہے؟

مولانا بڑے پیارے انسان ہیں۔ شکل سے بھی اور باتوں سے بھی۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد اکثر ان کی تقاریر کے ٹکڑے سننے کا اتفاق ہوا۔ حوروں کے ایسے نقشے کھینچے کہ ہم جیسا گناہ گار بھی سنجیدگی سے نیک بننے کی سوچنے لگا۔ حاسدین کہتے ہیں کہ مولانا غلو کرتے ہیں۔ ضعیف روایات بیان کرتے ہیں۔ مداحین کہتے ہیں کہ بات تو اچھی کرتے ہیں۔ نیّت تو نیک ہے ناں۔ بس یہیں آکر ہم لاجواب ہوجاتے ہیں کہ نیّت تو نیک ہے ناں۔ دنیا میں جتنے غم، آفات اور مشکلات ہیں ان میں جو بھی شخص لوگوں کو انٹرٹین کرتا ہے، ان کو چند لمحے سب دکھ بھلا کر خوش ہونے کا موقع دیتا ہے، اس سے اچھا اور کون ہو سکتا ہے؟ اچھا شاعر، اچھا ادیب، اچھا اداکار، اچھا گلوکار، اچھا خطیب۔ یہ سب انٹرٹینر ہیں۔ اللہ سب کو جزائے خیر دے۔

15 دسمبر 2018

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جعفر حسین

جعفر حسین ایک معروف طنز نگار ہیں۔ وہ کالم نگاروں کی پیروڈی کرنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔

jafar-hussain has 88 posts and counting.See all posts by jafar-hussain