حقیقی حق سے محروم قومی شناخت اُردو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہ نومبر، 2018 ء میں آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے زیرِ اہتمام گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس میں محترم شمیم حنفی، انور مقصود، مستنصر حسین تارڑ، ضیاء محی الدین، مسلم شمیم، رضاعلی عابدی، حسینہ معین، زاہدہ حنا، افتخار عارف، ڈاکٹر آصف فرخی، طلعت حسین، پروفیسرنجمہ رحمانی، تنویر انجم، ضیاء الحسن، شاداب احسانی، یاسمین حمید، امداد حسینی، جاذب قریشی، افضال احمد سید، باصر کاظمی، وجاہت مسعود، حارث خلیق، مظہر عباس، اویس توحید، ناصر عباس نیر، نورظہیر، نادرہ ظہیرببر، عارف نقوی، ڈاکٹر انوار احمد، پروفیسرسحر انصاری، ڈاکٹرپیرزادہ قاسم، اسد محمد خاں، مسعوداشعر، امینہ سید، اقبال حیدر، راشد نور، صبا اکرام، یامین اختر، ڈاکٹرفاطمہ حسن، ڈاکٹر رخسانہ صبا، ذوالقرنین جمیل، ڈاکٹر ہما میر، انیق احمد، مرزاحامدبیگ، اسلم جمشیدپوری، ڈینیل جوزف، محمد حمید شاہد، خالد محمود سنجرانی، اخلاق احمد، زیب اذکار حسین، مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر نزہت عباسی، ہمایوں سعید، مصطفی قریشی، منور سعید، فرحین شیخ، منور حیدر (مانی چاؤ) ، ایوب خاور، شہزاد شرجیل، منیر بادینی، قاسم بگھیو، ڈاکٹر عظمی سلیم، احمد فواد، فہیم شناس کاظمی، سید مظہر جمیل، نور الہدی شاہ، ناصرہ زبیری، انور مسعود، انور شعور، خلیل طوقار، وفا یزدان منش، بشری اقبال جیسے اعلی پائے کے ادیبوں، دانشوروں، مترجم، محققین، نقادوں، افسانہ نگاروں، کالم نگاروں، تجزیہ نگاروں، شعراؤں، صحافیوں، فن کاروں، رقاصوں کی کہکشاں سجی جس نے چار دن ہی سہی حبس اور گھٹن زدہ معاشرہ میں سوکھے ذہنوں کو علم و ادب اور فن کی پاکیزہ، معطر پھواروں سے تر و تازہ کر کے وسعت عطا کی جس کے لئے ان تمام افراد کے ساتھ سال 2008 ء سے مسلسل کامیابی کے ساتھ جاری اس عالمی اُردو کانفرنس کو منعقد کرانے والے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ و دیگرا راکین بھی خراجِ تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔

پاکستان میں اکہتر سال بعد آج بھی اُردو میں صرف شاعری، افسانہ نگاری و تنقید نگاری ہو رہی ہے جو اُردو کی حقیقی ترقی کے لئے کافی نہیں ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال بھارت میں بھی ہے۔

انجمن ترقی ہند کو ہندوستانی حکومت ہر سال اربوں روپے امداد دیتی ہے اور پورے ہندوستان میں انجمن ترقی اُردو کی پچاس سے زیادہ بڑی شاخیں ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو روزگار مہیا ہوا ہے مگر بھارت میں اُردو زبان تحریر کرنے یا علمی تحقیق کے حوالے سے ترقی نہیں کر سکی ہے کیو ں کہ زیادہ اخراجات مشاعرے اور نمائشی کانفرنسوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ آج بھارت میں درست صورتحال یہ ہے کہ اگر وہاں کو ئی خط اُردو میں بھیجا جائے تو نوجوان اپنے بزرگوں کو تلاش کرتے ہیں تاکہ اُن سے اُردو میں لکھا خط پڑھوا سکیں۔

پاکستان میں بھی ہر چند کہ وفاقی اُردو یونیورسٹی، اکادمی ادبیات، مقتدرہ قومی زبان، مجلس ترقی ادب اور انجمن ترقی اُردو جیسے مشہور ادارے قائم ہیں جن کو حکومت کی جانب سے خطیر رقم مہیا کی جاتی ہے اور یہ ادارے اپنے طور پر اُردو کو اُجاگر کیے رکھنے کی بھرپور مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں لیکن افسوس اُردو کی حقیقی ترقی اور پھیلاؤ کے لئے آج بھی دو فیصد امیر طبقہ عملاً مخلص نہیں ہے۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ وہی زبان ترقی کرتی ہے جس میں علمی و تحقیقی کام ہو رہا ہو جس کی زندہ جاوید مثالیں انگریزی، جرمن، فرانسیسی، روسی، چائینز و دیگر زبانیں ہیں۔ افسوس پاکستانی اشرافیہ پر برصغیر پاک و ہند پر انگریز کی دو سو سالہ حکمرانی کے اثرات آج بھی گہرے ثبت ہیں۔ دو فیصد امیر طبقہ اپنے مفادات کو بچانے کے لئے گزشتہ اکہتر برسوں سے قوم کو پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے کی تصویر دکھا کر ”سب سے پہلے پاکستان“ کا شور مچاتا چلا آرہا ہے قوم بھی ان کی باتوں پر یقین کر کے پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتی چلی آرہی ہے اور یہ طبقہ اپنا مطلب نکال کر پھر سے انگریز ی کی مالا جپنا شروع کرکے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر کر قوم کو اگلے نازک وقت کی تیاری کے لئے بے یارو مددگار چھوڑ دیتا ہے۔

آج بھی ان کی منافقت کی انتہا دیکھیے کہ قومی زبان اُردو جو دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت ہے کو پاکستان ہی میں اس کے جائز حق سے جبراً محروم کر رکھا ہے جس کی وجہ سے خارجی سطح پر دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق تو بنتا ہی ہے داخلی سطح پر قومی یکجہتی کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا کروڑوں کی تعداد میں باصلاحیت ذہین طبقہ بھی ضائع ہو چکا ہے اور مزید اُبھر کر سامنے نہیں آرہاہے اور اسی سبب ہی پاکستان کی شناخت (اُردو زبان) کمزور ہو کر پاکستان اور دنیا بھر کی ترقی یافتہ زبانوں سے کہیں پیچھے ہے۔ حقیقتِ حال تو یہ بھی ہے کہ قوم کی اکثریت تو انگریزی سے نابلد ہے ہی اقلیتی طبقہ بشمول اشرافیہ میں بھی انگریزی کو درست طریقے سے سمجھنے والوں کی تعداد محض چند فیصد سے زیادہ نہیں ہے اوراب دو فیصد امیر طبقہ چلا ہے چائینیز زبان سیکھنے اور قوم کو سکھانے کا تجربہ کرنے۔ سبحان اللہ۔

پاکستان میں پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی زبانیں ترقی کر رہی ہیں جو اچھی بات ہے اور ان زبانوں کو مزید ترقی کرنا چاہیے لیکن ذرا سوچئے اُردو نہ ہو تو کیا چاروں صوبوں کے اکثریتی عوام ایک دوسرے سے اپنی مادری زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں؟ یا پھر انگریزی میں؟ جواب یقیناً نہیں میں آئے گا۔ تو پھر ایک ایسی زبان (اُردو) جو تقسیم سے پہلے بھی پاک و ہند میں صدیوں سے بولی جاتی رہی ہے جو سب کو متحد کرتی ہے اور پاکستان کو مضبوط بنانے کا ایک ذریعہ بھی ہے کے ساتھ مسلسل منافقانہ، ظالمانہ و جبری عمل روا رکھ کر پاکستان کو مضبوط بنایا جارہا ہے یا کمزور؟

پاکستان میں اُردوکو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں موجود ہے لیکن اُردو کی بدقسمتی یہ ہے کہ اُردو کے نیچے کوئی زمین نہیں ہے جس کے سبب اُردو زبان نفرت و تعصب کا شکار ہے۔ حالانکہ 1973 ء کے آئین میں درج ہے کہ پندرہ سال بعد اُردو کو پاکستان میں سرکاری سطح پر رائج کیا جائے۔ آئین کی شق 251 میں لکھا ہے کہ پاکستان کی دفتری، سرکاری زبان اُردوہے۔ اس حوالے سے ادارہ مقتدرہ قومی زبان نے تمام ضروری تیاریاں مکمل بھی کررکھی ہیں لیکن افسوس 45 سال بعد بھی دستور کی شق پر عمل نہ کر کے آئین کی مسلسل توہین کا سلسہ ہنوز برقرار ہے۔

تین سال قبل سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے نفاذِ اُردوکے سلسلے میں جو حکم جاری کیا تھا وہ بھی اب تک اشرافیہ کی سرد مُہری کا شکار ہے۔ طاقتور طبقے کا یہ عمل دستور کے ساتھ ساتھ قانون سے بھی بغاوت ہے۔ افسوس صد افسوس ہمارے معاشرہ میں دُہرا معیارِ انصاف ہے جس کی گرفت کمزور پر انتہائی مضبوط اور طاقتور پر انتہائی کمزور ہے۔

اپنے گرد وپیش میں ہی نگاہ دوڑا نے پر ہمیں معلوم ہوگا کہ اُردو میں جو کتابیں چھپتی ہیں اُن میں کتنے فیصد افراد یہ کتابیں خرید کر پڑھتے ہیں۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ کو الزام دے کر والدین، اساتذہ اور با اختیار طبقات اپنی بنیادی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے کیوں کہ یہ حقیقت بھی آشکار ہو چکی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک امریکہ، برطانیہ، چائنا وغیرہ میں آج بھی وہاں قومی زبان میں کتابیں چھپنے اور انہیں خرید کر پڑھنے والوں کا رجُحان بلند ہی ہو رہا ہے۔

درحقیقت پاکستان میں مجموعی طور پرمسئلہ اشرافیہ کے مفادات کا ہے جس کو منافقت کے مکروہ نقاب میں چھپا کر اکہترسالوں سے پُر فریب پتلی تماشا جاری ہے۔ آپ کو اُردو کی مزید بے توقیری جگہ جگہ اُردو کو رومن میں لکھ کر ہوتی دکھائی دے گی تو کہیں ٹی وی چینلز پر خبروں اور پروگرامز میں چند نیوز کاسٹرز، اینکر پرسنز اور ان کے مہمان غلط اُرد و بول کر اپنی صلاحیتیں ظاہر کرتے نظر آئیں گے۔ ملک و بیرونِ ملک کچھ ایسے دانشور حضرات بھی آپ کو ملیں گے جن کے اُردو ادب میں واقعی بلند نام ہیں اور بہت سے ابھی بلند نام بنانے کے مراحل میں ہوں گے جو اُردو کو ترقی کرتی بین الاقوامی زبان ثابت کرتے نہیں تھکتے ان میں سے چند بیرونِ ملک اُردو کے جزیروں کا حوالہ دیتے ہیں جو دراصل وہ تار کینِ وطن ہیں جو غیر ممالک میں آباد ہیں اس لئے وہ اُردو کو بین الاقوامی زبان قرار دیتے ہیں جو غلط ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بیرونی ممالک میں وہاں کی قومی زبانیں ہی ترقی کر رہی ہیں۔

راقم تو اُس وقت حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو گیا تھاجب وفاقی اُردو یونیورسٹی کراچی میں یہ قابلِ فکر و افسوس نظارہ دیکھنے کو ملا تھا کہ جامعہ کے طلبا و طالبات جامعہ کی جانب سے اُردو میں شائع کی جانے والی کُتب کو چھوڑ کر انگریزی کے نوٹس لے کر امتحانات کی تیاری کر رہے تھے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کی گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس میں بھی وفاقی اُردو یونیورسٹی کی نمائندگی نہ تھی۔ یہ افسوسناک صورتحال دیکھ کر اُردو زبان کی ترقی اور وفاقی اُردو یونیورسٹی کا خواب دیکھنے اور اس کوعملی جامہ پہنانے والی دو بلند پایہ مرحوم ہستیاں بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق اور جمیل الدین عالی عالمِ بالا میں یقیناً غم زدہ ہوں گے۔ اُردو کے ساتھ حد سے گزری مذکورہ بالا نا انصافیوں اور اس کی شدید بے توقیری پر مرحوم جون ایلیا بھی یقیناً چیخ چیخ کر سب سے کہہ رہے ہوں گے،

بولتے کیوں نہیں اُردو کے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •