بھوٹان کے انقلابی کی کہانی


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ موجودہ بھوٹان کے کسی گاؤں میں سنہ 218 میں سب گاؤں والوں کے بیچ صرف ایک شلوار ہوا کرتی تھی جو کسی بادشاہ نے اپنے دورے کے دوران گاؤں والوں کو تحفے میں دی تھی۔ کمیونٹی کا نظام تھا اور گاؤں کی ساری چیزوں اور پیداوار میں سب گاؤں والوں کا مشترکہ حصہ ہوتا تھا۔ جس کسی کو بھی کسی کام سے قریبی شہر جانا ہوتا تو وہ شلوار پہن کے چلا جاتا تھا۔ گاؤں میں تو شلوار پہننے کا رواج تھا نہیں بس ایک لمبی سی اون سے بنی ہوئی قمیض پہنے رکھتے تھے جو کافی لمبی ہوتی تھی اور حساس علاقے ڈھکے رہتے تھے۔

کبھی اگر دو لوگوں کو اتفاقاً ایک ساتھ شہر جانا پڑتا تو پنچایت بٹھائی جاتی تھی اور فریقین کو سامنے بٹھا کر ان کے کام کی نوعیت کو پرکھا جاتا تھا اور جس کا کام زیادہ اہم طے پاتا شلوار اس کے حوالے کی جاتی تھی۔ شلوار جسے نوازی جاتی اس سے کسی چمڑے پر حلف لیا جاتا کہ وہ بر وقت شلوار لے کر واپس پہنچے گا اور شلوار بھی صحیح و سالم ہوگی۔ حلف لینے کا طریقہ کچھ یوں تھا کہ چمڑے کے ٹکڑے پر پر شلوار لے جانے والے کو چَک مارنے کو کہا جاتا تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ وقت پے واپس نہ کرنے کی صورت میں سزا کا مستحق ٹھہرایا جاتا۔ سزا کچھ یوں رکھی گئی تھی کہ ملزم کو ایک مہینے کے لئے گھر میں نظر بند کر دیا جاتا تھا۔ نظر بند کرنے کا طریقہ بھی کچھ الگ ہی تھا اور وہ یہ کی اس بندے کی قمیض بھی ایک مہینے کے لئے ضبط کی جاتی تھی۔

ایک دفعہ یوں ہوا کے ایک بندہ شلوار لے کے شہر چلا گیا اور واپس نہ آیا۔ طرح طرح کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ کوئی کہتا کہ اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ کوئی کہتا کہ وہ شلوار لے کے بہت دور کسی بڑے شہر چلا گیا ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ گاؤں والے پریشان تھے کہ اب شہر جانا ہو تو کس منہ سے جائیں۔ گردونواح کے گاؤں سے معتبر اور دانشور لوگوں کو مدعو کیا گیا تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔ مہینوں گزر گئے اور کوئی حل نہیں نکلا۔

لوگوں کی نظریں گاؤں کے داخلی راستے پہ جمی ہوتیں کی کب وہ بندہ واپس آئے اور ان کی مفلوج آمد ورفت میں تحریک آئے۔ ایک دن سب لوگ پنچایت میں بیٹھے تھے اور یہ فیصلہ کر رہے تھے کہ ایک نئی شلوار بنائی جائے۔ اون سے بنی شلوار تو بہت بھاری اور چھبنے والی ہوتی تھی سو وہ کوئی ایسی شلوار بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جو چبھے والی نہ ہو اور اتنی ہلکی ہو کہ اپنا بوجھ برداشت کر سکے۔ کیونکہ اون سے بنی لمبی قمیص کا وزن لوگ مشکل سے برداشت کرتے تھے اس پہ مزید ایک بھاری شلوار کا وزن برداشت کرنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔

اون کے علاوہ کوئی شلوار بنانے کا ذریعہ بھی نہیں تھا اور مہینے کا سفر طے کر کے شہر سے کوئی نئی شلوار خرید لانے کے لئے بھی ایک شلوار کی کم ازکم ضرورت تھی۔ اسی منصوبہ بندی میں شام ہو گئی اور کوئی حل نہ نکل سکا۔ شام ہوتے ہی ڈھول بجنے کی آوازیں آنے لگیں اور داخلی رستے پہ کچھ لوگ اس بندے کو کندھے پہ اٹھا کے لا رہے تھے۔ سب بغور دیکھتے رہے کہ جس بندے کو سزا ہونی چاہیے اسے کندھے پہ اٹھا کے لایا جا رہا ہے۔ اس بندے کو پنچایت کے سامنے کھڑا کیا گیا اور اتنا عرصہ غائب رہنے کا سبب پوچھا گیا۔

اس بندے نے سب کی طرف ایک نظر دیکھا اور کہا۔ ”میں تنگ آگیا تھا اس روز کے جھگڑے سے۔ مجھے اپنے لوگوں کو اس روز کے جھگڑے سے آزاد کرنا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ قوم زندگی بھر اس ایک شلوار کے لئے لڑتی رہے۔ میرے پاس سب کچھ تھا، میں چاہتا تو ان لوگوں کے درمیان انہی کی طرح جی کے زندگی گزار سکتا تھا۔ میں شہر میں ایک اچھی زندگی گزار سکتا تھا جہاں مجھے شلواروں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ میں روز ایک نئی شلوار پہن سکتا تھا مگر میں سب کچھ چھوڑ کے واپس لوٹ آیا۔

کیونکہ میں جب اپنے لوگوں کے بارے میں سوچتا تو مجھے بہت تکلیف ہوتی اپنے لوگوں کو اس حالت میں دیکھ کر۔ میرے غریب لوگوں کو شہر جانے کے لئے شلوار بھی سالوں بعد ملتی ہے میں چاہتا تھا کہ یہ نظام بدلے اور تبدیلی آئے۔ آج میں اتنے مہینوں کا سفر کر کے اپنے لوگوں کے لئے باہر سے بائیس شلواریں لے کے آیا ہوں ”لوگوں نے خواب تالیاں بجائیں اور کچھ لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھی آگئے۔ لوگوں نے اس بندے کو گاؤں کا راجا بنایا۔ ہر سال اپنے اناج سے اسے خراج دینے لگے۔ یوں صدیوں سے چلتے کمیونٹی کا نِظام ختم ہوا اور سرمایا داری کے نظام کا آغاز ہوا۔ کچھ سال بعد گاؤں کے داخلی رستے میں کسی ڈھلوان کے اوپر اس بندے کا مجسمہ بنایا گیا جس میں اس نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیا ہوا تھا اور ہاتھ میں شلوار تھی۔

آج بھی بھوٹان کے لوگوں کو جب وہ وطن کی محبت میں جنون کی حد سے آگے نکل جاتے ہیں تو اُن کو وہ مجسمہ اور اس کے ہاتھ میں لہراتی ہوئی شلوار دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو یقین نہیں آتا تو جا کے دیکھ آئے۔

Facebook Comments HS