مایوسی کفر ہے مگر کیا کیجئے

باقیوں کا مجھے نہیں پتہ مگر زندگی نے مجھے ہمیشہ فریب میں رکھا۔ بچپن سے بہت سے لوگوں کو آئڈیل مانا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان سے دل اچاٹ ہو گیا۔ تب جو حقیقتیں تھی وہ سب وقت کے ساتھ ساتھ جھوٹ اور فریب میں بدل گئیں۔ یہ تب کی بات ہے جب ٹیلیوژن پہ صرف ایک چینل نشر ہوتا تھا اور وہی دیکھنے کو ملتا تھا جو حکومت دکھانا چاہتی تھی اور ہمیں بھی وہی سچ لگتا تھا۔ ایک طرف ملک کو انڈیا سے خطرہ تھا اور دوسری طرف ہماری فصلوں کو امریکن سنڈی کا خطرہ تھا اس کے علاوہ سب کچھ بہترین چل رہا تھا۔

Read more

سکردو سے پیر ودھائی اڈہ تک

انٹرنیٹ پہ موسم کی صورت حال دیکھ کر خوشی خوشی سو گیا کی کل فلائٹ لازمی ہوگی مگر صبح قسمت کی طرح موسم نے بھی دھوکہ دیا اور فلائٹ کینسل ہو گئی۔ موسم اتنا خراب بھی نہیں تھا مگر فلائٹ پھر بھی کینسل ہو گئی۔ پی آئی اے کی مرضی یہی تھی تو ہم کیا کہہ سکتے تھے انہوں نے کہا موسم خراب تھا تو ہم مان گئے۔ آگلے چار دن لگاتار برف باری تھی سو بہتری اسی میں سمجھی کی بائی روڈ نکل لیا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ فلائٹ کے چکر میں چند دن کی چھٹیاں ملیں وہ بھی ختم نہ ہو جائیں۔

ٹکٹ ریفنڈ کرانے کے لئے ایجنٹ کو کال کی تو اس نے کہا کہ بائی روڈ جانا ہے تو میرے ساتھ آجاؤ کار بک کر لیتے ہیں، میں نے حامی بھر لی۔ اس صورتحال میں اس سے اچھا کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ ٹریول سروس والوں کے دفتر جانے کے لئے جب یادگار چوک سکردو پہنچا تو وہاں پہ لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے مجھے بتایا کہ ”یہ لوگ مولانا صاحب کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ “

Read more

ہمارے معاشرے کی ایک خوبصورتی

ہمارے معاشرے کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ یہاں کوئی اپنی تہذیب اور روایات سے نکل کر اپنے خوابوں کی تلاش میں نہیں نکل سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ باقی شہروں میں صورتحال کچھ مختلف ہو مگر میرا تعلق جس معاشرے سے ہے وہاں تو یہ معاشرتی خوبصورتی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ کچھ ماہ قبل کچھ نوجوان لڑکے لڑکیوں نے کسی مارننگ شو میں علاقائی، روایتی رقص کیا جو صدیوں سے ہمارے آبا و اجداد کی ثقافت کا حصہ رہا ہے، اور مقامی لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔

Read more

ہماری معاشرے کی خوبصورتی

ہمارے معاشرے کی ایک خوب صورتی، یہ بھی ہے کہ یہاں کوئی اپنی تہذیب اور روایات سے نکل کر اپنے خوابوں کی تلاش میں نہیں نکل سکتا۔ ہو سکتا ہے، کہ باقی شہروں میں صورت احوال کچھ مختلف ہو مگر میرا تعلق جس معاشرے سے ہے؛ وہاں تو یہ معاشرتی خوب صورتی سر چڑھ کر…

Read more

سردیوں والا گلگت بلتستان

اگر آپ کبھی سردیوں میں سکردو آئیں اور صبح کے وقت جب کسی اونچی جگہ سے شہر کا نظارہ کریں تو آپ کو بہت دلفریب منظر دکھائی دے گا جیسے بادل زمیں پہ آئے ہوے ہیں مگر وہ بادل نہیں لوگوں کے گھروں میں لگی ہوئی انگیٹھیوں سے نکلا ہوا دھواں ہوتا ہے، اور اگر رات کے وقت سکردو شہر کا نظارہ کریں تو ناقابلِ بیان نظارہ ہو تا ہے کیونکہ تاریکی میں ڈوبے شہر میں کچھ دکھائی ہی نہ دے تو بندہ بیان کیا کرے۔ اندھیروں میں ڈوبا شہر لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیتا ہے اور ٹھنڈ رہی سہی کثر پوری کر دیتی ہے۔

شہر کے سر پہ ایٹم بم جیسا خطرناک ڈیم بنایا گیا ہے پر بجلی پرانے وقتوں جتنی بھی نہیں ملتی جب ڈیم بنا ہی نہیں تھا۔ خیر لوگ رات بھر اندھیروں میں لکڑیاں جلا جلا کر سردی سے مقابلہ کرتے ہیں اور صبح تک پورے شہر کو دھوئیں سے بھر دیتے ہیں۔ ٹھنڈ میں مرنے سے اچھا ہے ک درخت کاٹ کے، ماحولیاتی الودگی بڑھا کے زندگی تو بچائی جائے۔ مرنا تو ویسے بھی سب نے ہے کسی نہ کسی دن تو کیوں نہ آج زندگی بچا لیں کل کی کل دیکھی جائے گی۔

Read more

بھوٹان کے انقلابی کی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ موجودہ بھوٹان کے کسی گاؤں میں سنہ 218 میں سب گاؤں والوں کے بیچ صرف ایک شلوار ہوا کرتی تھی جو کسی بادشاہ نے اپنے دورے کے دوران گاؤں والوں کو تحفے میں دی تھی۔ کمیونٹی کا نظام تھا اور گاؤں کی ساری چیزوں اور پیداوار میں سب گاؤں…

Read more

سکردو کے سرکاری ہسپتال سے اللّہ بچائے

ہفتے کے دن چھٹی تھی تو میں دیر سے جاگا۔ سکردو کی سردی میں کون جلدی جاگنا چاہے گا۔ بہر حال ناشتہ کیا اور ارادہ تھا کہ پچھلے ہفتے دوست سے گفٹ ملی کتاب ”رومیز ڈاٹر“ پڑھی جائے جو شلف میں پڑی پڑی سردی میں ٹھنڈی پڑ گئی تھی۔ کتاب ہاتھ میں لی تھی کہ میرے کزن کی کال آگئی۔ اس نے درد سے کراہتے ہوئے بتایا کی کندھے میں شدید درد ہے ہسپتال جانا ہے اور میں خود بائک چلا کے جا نہیں سکتا۔ ہو سکتا ہے تو کسی کو بھیج دو یا خود آجاؤ۔

میں نے نہ چاہتے ہوے بھی ہامی بھر لی۔ آدھے گھنٹے تک تیار ہو کے بائک سٹارٹ کی اور نکل پڑا۔ دروازے پہ پہنچ کے کال کی تو وہ باہر آگیا۔ کزن کی حالت سچ میں بہت خراب لگ رہی تھی۔ پیٹ سے اوپر کا حصہ ہلایا نہیں جا رہا تھا اور چل ایسے رہا تھا جیسے کوئی روبوٹ چل رہا ہو۔ ذرا سا جھٹکا لگتا تو درد سے یا اللہ یا اللہ کی آواز نکلنے لگتی۔ سکردو کی سڑکوں میں بنے کھڈوں کی تعداد کا اندازہ اس دن بخوبی ہو گیا جب ہر جمپ کے ساتھ کزن اللہ اللہ کا ورد کر رہا تھا۔

Read more