عوام الناس، باس اور کیڑے مکوڑے
”عوام الناس“ اردو اور عربی زبان کے زبردستی جوڑ توڑ سے بنایا گیا عرب و عجم کا اک سنگین قسم کا عامیانہ سا ملاپ ہے۔ خصوصا ترقی جیسی ستم ظریف ہستی کے پیچھے صرف رو رو کر ہلکان ہونے والے ناکام عاشق کی طرح دربدر ممالک میں یہ طائفہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ تاریخ گواہ ہے، بلکہ اب تو یہ بات ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ کہ جس کسی کو خصوصا باس کو کبھی بھی اپنا الو سیدھا کرنا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر سب سے پہلے ”عوام الناس“ کے بے جان کندھوں کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن اس کی سب سے قابل رحم صورت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی خمار میں آ کے پوری کی پوری بستی کے عوام الناس کا الو سیدھا کرنے کے لئے خواہ مخواہ با الجبر و الرضا آناً فاناً بڑی تندہی اور جان فشانی سے تیوری چڑھائے پوری قوت سے ترنگ میں آکر کہہ جاتا ہے ”میرے عزیز ہم وطنو“ ۔
یقیناً میرے منہ میں خاک، لیکن میرا بے ربط تخیل یہ کہنے سے باز نہیں آ رہا کہ باس دنیا کی سب سے ”باسی“ اصطلاح ہے۔ اب آپ کے ذہن میں خواہ مخواہ کا خناس سما جائے اور آپ باسی کھانا، باسی روٹی اور باسی شراب کے بارے میں سوچنے لگے تو میں لاحول ولا قوتہ کا ورد ہی کر سکتا ہوں۔ باسی روٹی تو عوام الناس کا سرمایہ ہے۔ لیکن باسی شراب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بڑی خمار بھری شے ہے۔ اس طرح کی چیزوں کے ہم یعنی عوام الناس کی دسترس سے دور رہنے ہی میں ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
اب اللہ جانے، ہم پر تو مولوی کے بہکاوے میں آنے کی وجہ سے جنت کے شراب کی لالچ میں چسکا تو کیا، کبھی چکھنا بھی حرام لگا۔ یقیناً اس ضمن میں معلومات کے لئے باس کے ”تجربے“ سے ہی فائدہ اٹھانا ہی ہوش مندی کی بات ہے بشرطیکہ باس اس دوران خود ”ہوش“ میں ہو۔ اور ان کے منہ سے کوئی ”باسی“ قسم کی بو نہ آ رہی ہو۔ تو باس آخر ہے کیا بلا؟ مختصرا عرض کر دوں کہ باس کی تعریف، ان کی شان میں گستاخی سے بچنے کے لئے سب سے مہذب الفاظ میں یوں ادا کی جا سکتی ہے۔ کہ باس اس طلسم کدے میں ہر اس شخص کو کہا جا سکتا ہے جو عوام الناس کو ”باسی“ سمجھتا ہے اور بعض اوقات جوش خطابت میں آکر انھیں کیڑے مکوڑے جیسے خاکسار القابات نوازنے سے بھی باز نہیں آتا۔
کیڑے مکوڑے خوش قسمتی سے دنیا میں سب سے بڑی قوم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سب کی تان ان پر ہی آ کر ٹوٹتی ہے۔ اور ان کو بھگا بھگا کر مار دینے میں سب ہی کو سکون ملتا ہے۔ حالانکہ سب کیڑے مکوڑے مضر خلائق اور انتہا پسند بھی نہیں ہیں۔ عوام الناس میں سے بعض سرپھرے ہر وقت حق اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔ سارا دن چر چر کرتے ہیں۔ اور ہر جگہ بے موقع ”ساڈا حق“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اچھلتے بہت ہیں۔ اسی لئے انھیں غالباً باسی اصطلاح ”میں پتلی ذہنیت والے اور کیڑے مکوڑے جیسے ستم ظریفانہ القابات سے نوازا جاتا ہے۔
اب آپ خود سوچیں کہ حق مانگنے کی پاداش میں آپ کو کیڑے مکوڑے کا لقب مل سکتا ہے۔ تو حق چھیننے کی مستی کو صحیح طور پر ماپنے کے لئے آپ پتہ نہیں کیا کیا القابات تشکیل دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ القابات تشکیل دینا ناممکن اور دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہی لگتا ہے۔ بشرطیکہ آپ نے باسی شراب کا جام نہیں چڑھایا ہو۔ اور ویسے بھی آپ یعنی عوام الناس کے القابات کو فی الفور مغلضات کی صنف میں ہی گردانا جاسکتا ہے۔ اور آپ کو لفات کا صیحح سبق یاد دلانے کے لئے باس کی جادو کی چھڑی کسی وقت بھی گھوم سکتی ہے۔ اور نہیں تو انصاف کی دیوی کی بانہیں بے رحمانہ طریقے سے آپ کو قانون کی گرفت میں لے سکتی ہیں۔ اور باقی تو عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے کہ قانون کا نزلہ ہمیشہ آخر کار کس پہ آکہ ہی گرتا ہے؟


