اداکار علی اعجاز انتقال کر گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

فلم، ریڈیو، ٹی وی کے اداکار علی اعجاز77برس کی عمرمیں لاہور میں انتقال کرگئے، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

اداکارعلی اعجاز کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، وہ مزاحیہ ہیرو کے طور پر بہت مقبول ہوئے،انہوں نے 1961ء میں فلم انسانیت سے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔

 علی اعجاز کی مشہور فلموں میں سالا صاحب اور دبئی چلو کا شمار ہوتا ہے جبکہ مشہور ٹی وی ڈراموں میں خواجہ اینڈ سنز، کھوجی اور شیدا ٹلی شامل ہیں۔ اداکار علی اعجاز مرحوم کی 1979 ءمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی سماجی فلم دبئی چلو سپرہٹ رہی۔

 علی اعجاز کی پنجابی فلموں مفت بر اور دادا استاد نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے، پیار دا بدلہ، بھائیاں دی جوڑی، یملا جٹ، بد نالوں بدنام برا ،عشق میرا ناں، سادھو اور شیطان، لیلیٰ مجنوں، ظلم کدی نئیں پھلدا ، سدھا رستہ، بادل، سوہرا تے جوائی، مسٹر افلاطون، نوکر تے مالک، ووہٹی دا سوال اے، باؤ جی، دشمن پیارا، اندھیر نگری، دھی رانی، چور مچائےشور، عشق میرا ناں، بھروسہ، اتھرا پتر، آپ سے کیا پردا، عشق سمندر مشہور پنجابی فلموں میں شامل ہیں۔

 اداکار ننھا اور علی اعجاز کی جوڑی 80ء کی دہائی میں مقبولیت کی بلندیوں پر رہی، حکومت نےانہیں 14اگست 1993ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ اداکار علی اعجاز کی خدمات کے اعتراف میں انہیں نگارا ایوارڈ بھی عطا کیا گیا،انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامہ سیریل لاکھوں میں تین میں کام کر کے بھی شہرت سمیٹی۔

 اداکار علی اعجاز نے89 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،اپنی مزاحیہ اداکاری کے علاوہ سنجیدہ کرداروں میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔

 علی اعجاز نے معمر شہریوں کے حقوق کیلئے علی اعجاز فاؤنڈیشن کےنام سےاین جی او بھی بنائی، وہ عمر کے آخری حصے میں حکومت اور معاشرے کی بے اعتنائی کا شکوہ کرتے رہے، اداکاری سے کنارہ کشی کے بعد ان کا زیادہ وقت ادبی کتب کے مطالعے میں گزرا۔

 علی اعجاز مرحوم نے سوگواروں میں بیوہ کشور اور 2 بیٹے بابر اور یاسر چھوڑے ہیں، ان کا جنازہ ان کی رہائش گاہ 41 ڈی نیو مسلم ٹاؤن لاہور سے اٹھایا جائے گا۔ علی اعجاز کی نمازجنازہ بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی جبکہ انہیں مقامی قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا۔

 اداکار علی اعجاز کو 12 برس قبل فالج ہوا تھا، وہ قلب کے عارضے میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے مقامی نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں