ہم دنیا کے ساتھ مل کر نہیں چلنا چاہتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18 دسمبر کا دن ایک تاریخ ساز دن  تھا، کم از کم ان چند گھنٹوں تک جب تک دفتر خارجہ نے ایک “یو ٹرن ” کے ذریعے خود کو دنیا کے دیگر 120 ممالک سے علیحدہ نہیں کر لیا۔ پاکستان نے آج اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سزائے موت پر عارضی پابندی عائد کرنے کی قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔  یہ اس نوعیت کی ساتویں قرارداد تھی جو  برازیل نے  بین العلاقائی ٹاسک فورس کی جانب سے پیش کی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے تاریخ میں پہلی مرتبہ سزائے موت پر عارضی پابندی (Moratorium) عائد کرنے حمایت کی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان نے اس وقت بھی اس قرارداد کی حمایت نہیں کی تھی جب پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں بھی عملاً سزائے موت پر عملدرامد پر غیر رسمی پابندی عائد تھی۔  پاکستان کے علاوہ پہلی مرتبہ اس قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک  میں ملائیشیا، ڈومینیکا اور لیبیا بھی شامل ہیں۔

لیکن پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور تنظیموں کے لیے یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی کیوں کہ کچھ ہی دیر بعد دفتر خارجہ کی جانب سے اقوام متحدہ پر “ووٹ ریکارڈ کرنے میں غلطی ” کا الزام عائد کیا گیا۔ ایکسپریس ٹریبون کی خبر کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے سزائے موت پر پابندی کی قرارداد کی حمایت میں ووٹ دینے کی تردید کر دی گئی۔ اس موقع پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اقوام متحدہ کی جانب سے “ووٹ ریکارڈ کرنے میں غلطی” ہوئی ہے، ہاں یہ ممکن ہے کہ پاکستان کے مندوب نے غلطی سے اس کے حق میں ووٹ دے دیا ہو۔

قطع نظر اس کے کہ کیا حقیقت ہے، پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھنے کی ٹویٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کو تیار نہیں۔ پاکستان نے دنیا کہ ان 120 ممالک کے ساتھ نہ چلنے کا فیصلہ کیا ہے جو سزائے موت کو غیر منصفانہ اور ظالمانہ سزا قرار دیتے ہیں۔ اس کی بجائے پاکستان نے ان 35 ممالک کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس غیر منصفانہ سزا کو جرم اور دہشت گردی کا سدباب خیال کرنے کے مغالطے میں مبتلا ہیں۔

معاملہ محض یہ نہیں کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک اجلاس میں ایک قرارداد کی حمایت کے بعد “یوٹرن” لے لیا ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ دنیا بھر میں سزائے موت کے کل قیدیوں  کا چھبیس فیصد پاکستانی قیدیوں پر مشتمل ہے(یہ تناسب صرف ان ممالک کے سزائے موت کے قیدیوں کی کل تعداد کے مطابق ہے جو اپنے قیدیوں سے متعلق معلومات عام کرتے ہیں) ۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی رپورٹ Counting the Condemned کے مطابق پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 4688 ہے۔   اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں سزائے موت پانے والا ہر ساتواں قیدی پاکستانی ہے ۔  اس سے زیادہ تشویش ناک امر پاکستان میں گزشتہ حکومت کے دوران سزائے موت کا سیاسی استعمال ہے۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ایک اور رپورٹ Counting Executions کے مطابق  پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں پنجاب میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد پھانسیوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ گویا سزائے موت کو دہشت گردی کے خلاف  خود کو سخت گیر ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

پاکستان کے پاس یہ دنیا کے ساتھ چلنے کا ایک نادر موقع تھا۔ پاکستان اس موقع پر یہ ثابت کر سکتا تھا کہ پاکستان انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں کی پاسداری میں سنجیدہ ہے، یہ پاکستان میں نظام انصاف کی اصلاح کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا تھا  تاہم پاکستان کی جانب سے اس تاریخ ساز موقع کو گنوا دیا گیا۔ پاکستان دنیا کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •