بلوچستان میں حوا کی بیٹی قانون سازی کی منتظر


بلوچستان جہاں تعلیمی اور سماجی ترقی کے عمل میں دیگر صوبوں سے پسماندہ ہے۔ وہاں انسانی حقوق خصوصا خواتین پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں بدستور سندھ کے مساوی اعداد و شمار میں جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں غیر سرکاری ادارے عورت فاؤنڈیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ بلوچستان میں 2018 کے دوران 51 خواتین اور 25 مرد قتل ہوئے جن میں 30 خواتین اور 19 مرد غیرت کے نام پر قتل ہوئے 14 عورتوں نے گھریلو حالات سے تنگ آکر خودکشی کی۔

21 خواتین اور 8 مردوں پر تشدد کیا گیا 13 خواتین اغواء کی گئیں خواتین پر جنسی زیادتی کے 4 اور تیزاب پھینکنے کے دو واقعات رپورٹ ہوئے غیرت کے نام پر قتل ہونے کے اکثر واقعات سندھ بارڈر کے قریب اضلاع نصیر آباد جعفر آباد جھل مگسی کچھی میں رونما ہوئے۔ عورت فاؤنڈیشن کے پروگرام افسر محمد اشفاق مینگل کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد پولیس میں رپورٹ کردہ واقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ اکثر معاملات میں فیصلہ قبائلی سطح پر کردیا جاتا ہے۔ اور پولیس تک واقعات کی رپورٹ نہیں پہنچتی جبکہ لیویز کے زیر انتظام علاقوں میں سرے سے ایسے واقعات کی رپورٹ ہی درج نہیں ہوتی جو غیرت کے نام پر رونماء ہوتے ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن کی سالانہ رپورٹ بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی سنگین صورتحال پیش کررہی ہے۔ گو کہ سابق ادوار میں ایسے واقعات کی سزا سخت کرتے ہوئے غیرت کے نام پر قتل کی ایف آئی آر عام حالات میں قتل ہونے والے واقعات سے ہٹ کر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 سی کے تحت اندراج کرنے کی قانون سازی کی گئی 302 سی دفعہ میں پسماندگان کی رضامندی اور خون بہا معافی کے باوجود راضی نامہ ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔

اس کے باوجود گزشتہ دو دہائیوں کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی ایسی صورتحال نہ صرف نفاذ قانون پر متعین ریگولر اداروں کے لئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ بلکہ تین دہائیوں سے کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ جو بھاری بھرکم بجٹ کے ساتھ شعوری آگاہی کے لئے کام کررہے ہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو تفویض کردہ اختیارات کی فعالیت کے لئے بلوچستان حکومت نے ماضی میں اس ذمہ داری کے ساتھ اپنا متحرک کردار ادا نہیں کیا جو دیگر صوبوں نے اختیار کیا نتیجتاً بلوچستان کو تفویض کردہ بہت سے شعبے بدستور مفلوج ہیں اور اکثر ادارے 2007 کے بعد تاحال اپنی پالیسی تشکیل دینے میں ناکام نظر آتے ہیں ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بہت سے غیر سرکاری ادارے اراکین پارلیمنٹ کو قانون سازی کے لئے بل ڈرافٹ کرکے دے رہے ہیں اور خواتین کی پسماندگی کے خاتمے اور چھوٹی عمر کی شادیوں کی حوصلہ شکنی سمیت معاشرتی مسائل کے ادراک کے متعدد بل زیر التواء ہیں غیر ضروری التواء کی ایک بڑی وجہ قائمہ کمیٹیوں کی عدم تشکیل ہے۔

اور قائمہ کمیٹییاں اس لئے نہیں بن پاررہی کہ بلوچستان اسمبلی میں اب تک لیڈر آف دی اپوزیشن کا چناؤ نہیں ہوسکا ضرورت اس بات کی ہے۔ کہ بلوچستان اسمبلی میں موثر قانون سازی کرکے خواتین کے ساتھ ہونے والے استحصال کی روک تھام کی جائے اور اس مقصد کے لئے اولین ترجیح میں دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی صوبائی کمیشن فار وویمن تشکیل دے کر تحفظ نسواں کی سمت کا تعین کر دیا جائے تاکہ حکومتی اور غیر سرکاری ادارے بہتر طور پر اشتراکی خدمات سرانجام دے سکیں۔

Facebook Comments HS