لاہور کے فحش سٹیج ڈرامے اور ٹی وی پر نشر ہونے والی پنجابی فلمیں
کہانی کا آغاز ہوتا ہے 2016 سے جب پیمرا نے بھارتی مواد کو ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے نشر کرنے پرپابندی عائد کی تھی۔ بعد ازاں 2017 میں لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کی پابندی کو معطل کرتے ہوئے یہ پابندی اٹھا لی۔ 2018 میں یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اکتوبر میں ٹی وی پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ اپنے حکم میں چیف جسٹس نے پیمرا کو ہدایت کی تھی کہ وہ مناسب مواد کو نشر کرنے کی اجازت دی جائے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مناسب مواد کی تعریف کیا ہے؟ پیمرا کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق ایسا کوئی موادجو دین اسلام، پاکستانی قوانین اور ثقافت کے برخلاف ہو وہ ٹی وی اور کیبل چینلز پر نشر نہیں ہوسکتا ہے۔ تاہم تب سے لے کر اب تک پیمرا کوڈ آف کنڈکٹ پر کسی طریقے سے بھی عمل نہیں پایا ہے۔
سوشل میڈیا پر پنجابی چسکہ، پنجابی مجرے، پنجابی ڈانس شوز کے نام سے موجود صفحات اور ویڈیو چینلز پر ڈانس اور سٹیج ڈراموں کے نام پر جس طریقہ سے اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں کہ الامان الحفیظ۔ یہ محض ایک سٹیج ڈرامے کا سکرپٹ نہیں بلکہ کوئی بھی تازہ ترین ڈرامہ دیکھ لیں ان کا آغاز قومی ترانے اورخدا کے نام سے کرتے ہیں۔ اس کے فوراً بعد ہی وہ طوفان بدتمیزی ابھرتا ہے جس کو برداشت کرنا ممکن نہیں۔
ڈراموں کے مکالمے اور ہیروئینز کے لباس جذبات کو برانگیختہ کرنے کا کام بلا روک ٹوک ہو رہا ہے۔ محکمہ داخلہ، مقامی حکومت اور آرٹس کونسلیں مکھی پہ مکھی مارنے کے علاوہ کچھ نہیں کررہی ہیں۔
کاغذی کارروائی کے طور پر ہر سال روٹین کے مطابق اداکاراؤں کو محض فحش اشارے کرنے کے الزام میں نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور پھر شکایت داخل دفتر ہوجاتی ہے آج تک کسی ایک بھی اداکارہ پر ہمیشہ کے لئے پابندی نہیں لگائی گئی۔ نہ کسی سکرپٹ رائٹر کو ذومعنی مکالمے لکھنے پر سزا ہوئی کیونکہ جو سکرپٹ منظور ہوا ہوتا ہے اس پر فنکار عمل ہی نہیں کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر ثقافت فیاض الحسن چوہان کی بڑھکوں کے باوجود ننگ آدمیت کی یہ دکانداری شد و مد سے جاری و ساری ہے۔ میں یہاں پر فیصلہ سازوں کی نذر کر رہا ہوں ہیں صرف ایک سٹیج ڈرامے کے گانوں اور مکالموں کی جھلکیاں جو چیخ چیخ کر بتلا رہی ہیں کہ ہمارے اداروں، پروڈیوسرز اور فنکار وں کی آنکھوں میں زیادہ اور زیادہ پیسے کمانے کا موتیا اتر آیا ہے جس کا وہ آپریشن ہرگز نہیں کروانا چاہتے ہیں۔ مخرب الاخلاق پیرہن میں ملبوس سٹیج ڈانسرزجن چند گیتوں سے ہمارے اجتماعی اخلاق کا جنازہ اٹھا رہی ہیں ان گانوں کے بول کچھ یوں ہیں۔
حسن دی سیج میں سجائی تیرے لئی۔ بیڑا کرتی دا تیرے کھولیا۔ لاچا وی گیلا گیلا۔ پنڈے تے پھیریا ماہیا۔ ہتھ تیرا ڈھیلا ڈھیلا۔ بدلاں توں پانی اج چو گیا۔ میری ہک اتے قطرہ کھلو گیا۔ دودھ بن جاواں گی ملائی بن جاواں گی۔ اتے مینوں لے لے میں رضائی بن جاواں گی۔ جام بن جاواں گی صراحی بن جاواں گی۔
ٹکرا گئے جے دونویں۔ کجھ ہوجائے گا بے ایمانا۔ تیرے صدقے کراں جوانی پادے جنا مرضی پانی۔
تیرے میرے سانواں دیاں پین جپھیاں۔ سواد آگیا میریاں محبتاں دا مل پے گیا۔
مدتاں دا پنا تھیکواں لے گیا۔ کئی منجیاں ٹپنی پئی آں۔ وے تیرے کول آن لگیاں۔
زور لگ گیا میرا اج سارا۔ ادھی رات ہوگئی اے کجھ کر وے خیال وے۔
ایک سٹیج ڈرامے کے چند مکالمے درج ذیل ہیں۔
لڑکی کہتی ہے :میں تمہیں تعلیم دوں گی۔
لڑکا : نال تعلیم وی کہی جاؤ۔
لڑکا :جتنی آپ سیکسی ہیں نا آپ یقیناً چومسٹری پڑھاتی ہوں گی؟
لڑ کی :یہ کیا ہوتی ہے؟
لڑکا :یہ سیکسیالوجی کی کوئی برانچ ہے۔
عورت :نہ کڑی دے اگے کچھ۔ نہ کڑی دے پچھے کچھ۔
لڑکا : فیر ویاہ دا فائدہ کی اے۔
یہ ہے ریاست مدینہ کے دعوے داروں کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والے محض ایک سٹیج ڈرامے میں پیش کی جانے والی ثقافت کا آنکھوں دیکھا حال۔ ابھی ان اشاروں کا ذکر کرنا محال ہے جو اداکارائیں اپنے اعضا کی شاعری کی تھر تھراہٹ کے دوران شائقین کی طرف اچھالتی ہیں۔
تین محکموں کے مانیٹرنگ کلرک فائلوں کو پیٹ بھرنے کے لئے رقصاؤں کو شوکاز نوٹس بھیجتے ہیں اور بعد ازاں این آر او کرکے وہ ایک شہر سے دوسرے شہر دھماچوکڑی مچاکر قانون، ثقافت کی آبروریزی کرنے میں مصروف ہیں۔ امید واثق ہے کہ حکام بالا شتر مرغ کی مانند ریت میں سردبائے رکھیں گے اور وہ نہ ہی سٹیج ڈراموں اور نہ ہی کیبل پر فحش پاکستانی پنجابی فلموں کے نشر ہونے سے بپا ہونے والی معاشرے کی تباہی کا نوٹس لیں گے۔


