ڈراموں کے مکالمے اور ہیروئینز کے لباس جذبات کو برانگیختہ کرنے کا کام بلا روک ٹوک ہو رہا ہے۔ محکمہ داخلہ، مقامی حکومت اور آرٹس کونسلیں مکھی پہ مکھی مارنے کے علاوہ کچھ نہیں کررہی ہیں۔
کاغذی کارروائی کے طور پر ہر سال روٹین کے مطابق اداکاراؤں کو محض فحش اشارے کرنے کے الزام میں نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور پھر شکایت داخل دفتر ہوجاتی ہے آج تک کسی ایک بھی اداکارہ پر ہمیشہ کے لئے پابندی نہیں لگائی گئی۔ نہ کسی سکرپٹ رائٹر کو ذومعنی مکالمے لکھنے پر سزا ہوئی کیونکہ جو سکرپٹ منظور ہوا ہوتا ہے اس پر فنکار عمل ہی نہیں کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر ثقافت فیاض الحسن چوہان کی بڑھکوں کے باوجود ننگ آدمیت کی یہ دکانداری شد و مد سے جاری و ساری ہے۔ میں یہاں پر فیصلہ سازوں کی نذر کر رہا ہوں ہیں صرف ایک سٹیج ڈرامے کے گانوں اور مکالموں کی جھلکیاں جو چیخ چیخ کر بتلا رہی ہیں کہ ہمارے اداروں، پروڈیوسرز اور فنکار وں کی آنکھوں میں زیادہ اور زیادہ پیسے کمانے کا موتیا اتر آیا ہے جس کا وہ آپریشن ہرگز نہیں کروانا چاہتے ہیں۔ مخرب الاخلاق پیرہن میں ملبوس سٹیج ڈانسرزجن چند گیتوں سے ہمارے اجتماعی اخلاق کا جنازہ اٹھا رہی ہیں ان گانوں کے بول کچھ یوں ہیں۔
Read more