کیا وزرا اپنے محکموں کے بارے میں متعلقہ مہارت رکھتے ہیں؟


کچھ روز پہلے ایک تقریب میں ایک سرکاری افسر سے ملاقات کا موقع ملا، ان کے ساتھ پہلے سے ہلکی پھلکی جان پہچان تھی کہنے لگے آج کا دن تھکا دینے والا تھا۔ استفسار کرنے پر بتایا کہ ایک منسٹر صاحبہ آئی تھیں تو پورا دن اس نے دماغ کی دہی کی۔ کچھ معاملات تھے اس پر کام کرنا تھا تو موصوفہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔

میں نے پوچھا کہ موصوفہ کے پاس جو وزارت ہے کیا اان کے پاس ان سے متعلق تعلیم و تربیت اور تجربہ ہے؟ کہنے لگے نہیں تبھی ان کو سمجھانے میں وقت لگ رہا تھا۔

تو میں بہت حیران ہوئی حالانکہ ہمارے ملک کے حساب سے یہ حیران ہونے والی بات نہیں تھی ہمارے حکمران اور عوام کے لئے یہ ایک معمولی بات ہے، لیکن پتا نہیں جب میں نے اس پر گہرائی میں سوچا تو مجھے یہ بات بہت بڑی لگی، اور میں نے کئی لوگوں سے یہ سوال پوچھا کہ اگر ایک بندہ ایک ملک کا صدر، وزیراعظم، وزیر، ایم این اے، ایم پی اے، اور یا کسی ادارے کا سربراہ بنتا ہے تو اس کے لئے متعلقہ تعلیم اور تجربہ کیوں ضروری نہیں ہوتا؟۔

ایک ڈاکٹر میڈیکل پڑھے بغیر ڈاکٹر نہیں بن سکتا، وکیل لاء کیے بغیر وکالت نہیں کر سکتا، آرمی کی تربیت لیے بغیر کیپٹن اور میجر نہیں بن سکتا، وہ تو بڑی باتیں ہیں کوئی انسان کپڑے سینا سیکھے بغیر درزی نہیں بن سکتا، اگر وہ کپڑے سینے کی کوشش کرے گا تو اس کا ستیاناس مار دے گا، کوئی تربیت و تجربہ کے بغیر بال نہیں کاٹ سکتا، ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کے لئے متعلقہ تعلیم، ہنر، تربیت و تجربہ حاصل کرنا بہت ضروری ہے، تو اتنے بڑے ملک اور اس کے اداروں کو چلانے کے لئے متعلقہ تعلیم اور تجربہ کیوں ضروری نہیں؟۔

کچھ لوگوں نے میرے ساتھ اتفاق کیا اور کہا کہ بس کیا کرے ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ باقی کافی ممالک کا بھی یہ المیہ ہے کچھ نہیں ہو سکتا۔

کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں پہلے زمانے میں بادشاہ اور وزیر پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے لیکن ریاست چلاتے تھے۔ان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کیا بھئی ایک تو وہ سادہ دور تھا دوسرا ٹیکنالوجی اتنی آگے نہیں تھی وہ اس وقت کا تقاضا تھا، آج کا دور جدید دور ہے دنیا بہت آگے نکل چکی ہے بہت سے ایجادات ہوچکی ہیں جو اس وقت تھیں ہی نہیں بہت سے ادارے جن کا ان وقتوں میں نام و نشان نہیں تھا۔

دوسرا ایک بادشاہ جب شہزادہ ہوتا تھا تو بچپن سے اس کو جنگ و فنون اور باقی تعلیم و تربیت دی جاتی تھی، حتیٰ کہ بات چیت سے لے کر کھانا کھانے تک کے آداب سکھائے جاتے تھے۔ اگر کوئی جاہل بندہ بادشاہ بنتا تھا تو اس کے کچھ سہی فیصلوں کے ساتھ ساتھ غلط اقدامات اور فیصلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا تھا۔

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں، معمولی سی معمولی نوکری کے لئے ٹیسٹ لیے جاتے ہیں اور تجربہ مانگا جاتا ہے تو پورے ملک اور اداروں کو چلانے کے لئے ایسی کوئی شرط کیوں نہیں؟

اگر آئی ٹی منسٹر کے پاس آئی ٹی کی تعلیم و تربیت اور تجربہ نہیں ہے تو وہ آئی ٹی ماہرین کی ٹیم رکھے گا اور اس طرح باقی وزراء اور اداروں کے سربراہان ماہرین کی فوج اکٹھی کریں گے جو ان کے لئے کام کریں گے حتیٰ کے فیصلے تک کریں گے، وزیر یا سربراہ چونکہ متعلقہ فیلڈ کے الف، ب سے ناواقف ہے تو ان کو تو پتا ہی نہیں کہ سہی چیز کیا ہے وہ تو ان کی رائے کا محتاج ہے، اس کا مطلب کہ وہ صرف ایک کٹھ پتلی اور ڈمی ہے، تو دوسروں کے عقل سے چلنے والے کو کیا پتا کہ ملک کے لئے کیا صحیح ہے تو بہت سے فیصلے ملک کے بجائے ان کے اپنے مفاد میں ہوں گے۔

تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اگر متعلقہ وزیر اور سربراہان متعلقہ تعلیم و تربیت لے چکا ہو اور اپنے فن کا ماہر ہو؟ ایک تو ماہرین کی فوج کم ہوگی جس س ملک کے خزانے پر کم بوجھ پڑے گا دوسرا موصوفہ/ موصوف کو پتا ہوگا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور ملک کے حق میں نئے تجربات بھی کر سکتا ہے اور کسی بھی وقت کسی پر بھی انحصار کیے بغیر کوئی بھی کام اور اقدام کر سکتا ہے جس کی ان کو مکمل سمجھ بوجھ ہوگی۔
ترقی پذیر ممالک اگر صدر، وزیراعظم، وزراء، ایم این ایز، ایم پی ایز، باقی اہم اداروں کے سربراہان اور ان کے اندر کام کرنے والوں کے لئے ایک مخصوص تعلیم کی ڈگری اور تربیت و تجربہ لازمی قرار دے تو شاید وہ بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہو، کیونکہ یہ چند افراد کی نہیں پورے ملک کی عوام کی حق کی بات ہے…..

Facebook Comments HS