امت کے لیے مولوی سے زیادہ اہم کون ہے؟


سوشل میڈیا پر بارہا دیکھا ہے کہ مولوی حضرات کے پاس جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے بتاتے ہیں کہ وہ نکاح اور جنازے پڑھاتے ہیں۔ یعنی خدانخواستہ اگر وہ نہ رہے تو لوگ شادی کرنے اور فوت ہونے سے محروم رہ جائیں گے۔ ہم ہمیشہ اس دلیل سے مرعوب ہو جاتے تھے اور سوچ میں پڑ جاتے تھے کہ مولوی نہ رہے تو امت بغیر نکاح کے زنا میں ملوث ہو جائے اور اس حالت میں اس کا جنازہ پڑھانے والا بھی کوئی نہ ہو گا۔

لیکن آج ایک صاحب نے مولوی حضرات پر اپنی پیشہ وارانہ برتری ثابت کر دی ہے۔ انہوں نے ایک مولوی صاحب کا ایسا ہی دعوی سن کر کہا کہ امت پیشہ ور مولوی کے بغیر تو گزارا کر لے گی لیکن ہمارے بغیر اس کا گزارا نہیں ہے۔ وہ صاحب نائی ہیں۔

ہم نے ان کے دعوے پر غور کیا تو اسے سچا پایا۔ یعنی وہ نہ رہے تو نہ بچے کی مسلمانی ہو گی، نہ اس کے ولیمے کی دیگ چڑھے گی اور نہ امت کو قلوں اور چالیسویں کی پلاؤ ملے گی۔ نیز مولوی حضرات بھی عید شب برات پر حلوے کی دیگ سے محروم رہ جائیں گے۔

آپ مولوی کی جگہ خود امامت کر سکتے ہیں یا کسی برگزیدہ شخص سے کروا سکتے ہیں۔ کوئی غلطی بھی ہو گئی تو سجدہ سہو کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ لیکن کیا آپ کسی اناڑی سے ختنہ کروانے پر تیار ہوں گے؟ اس اناڑی نے ذرا سی خطا کر دی تو امت میں اضافے کی مہم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ پیشہ ور مولوی نہ ہو تو مسلمانی ہو جاتی ہے، لیکن پیشہ ور نائی نہ ہو تو بھانک نتائج نکل سکتے ہیں۔

یہی معاملہ پکوائی کا ہے۔ آپ خود پلاؤ، زردے، متنجن وغیرہ کی دس بارہ کلو کی دیگ چڑھا کر دیکھ لیں۔ یا تو کچی رہ جائے گی یا جل کر کوئلہ ہو جائے گی، یا ان دونوں صورتوں سے بچ بھی گئی تو توقع یہی ہے کہ اس کا ذائقہ ایسا ہو گا کہ اسے رات کے اندھیرے میں کسی دور دراز کے علاقے میں ویسے ہی ٹھکانے لگانا پڑے گا جیسے فلموں میں قاتل لاش کو ٹھکانے لگاتے ہیں۔

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اسلام میں عالم کا تصور تو ہے جس سے دینی مسائل پوچھے جا سکیں لیکن پیشہ ور مولوی کا تو تصور ہی نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص امامت کروا سکتا ہے۔ کوئی شخص بھی جنازہ پڑھا سکتا ہے۔ اور کوئی شخص بھی خود اپنا نکاح اردو یا انگریزی یا اپنی علاقائی زبان میں خود پڑھا سکتا ہے۔ اب آپ کو اس بات پر یقین نہیں آئے گا کہ کوئی شخص خود اپنا نکاح بھی پڑھا سکتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ کے مطابق نکاح کی شرط صرف ایجاب و قبول ہے۔ ایجاب نکاح کی پیشکش کو کہتے ہیں جو لڑکے یا لڑکی کسی کی طرف سے بھی کی جا سکتی ہے اور دوسری پارٹی اسے قبول کر لے تو نکاح ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ہی مجلس میں کیا جانا ضروری ہے۔ یعنی جن لوگوں کے سامنے کہا جائے کہ ”میں نے آپ سے اتنے مہر کے عوض نکاح کیا“ اور دوسری پارٹی یوں قبول کرے کہ ”ہاں میں نے قبول کیا“ تو نکاح ہو گیا۔ یعنی ایک شخص گواہوں کی موجودگی میں اردو یا انگریزی زبان میں خود اپنا نکاح ”پڑھا“ سکتا ہے۔

ایجاب و قبول کی شرط ہے کہ وہ کم از کم دو ایسے مسلمان عاقل و بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ہو، جو فریقین کے ایجاب وقبول کے الفاظ کو سن سکیں۔ کورٹ میریج کی صورت میں اگر ایجاب وقبول کی یہ شرطیں موجود ہوں تو مولوی صاحب کے بغیر ہی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ہماری فہم کے مطابق اس شرط کے مطابق تو یہ بھی ممکن ہے کہ ایک غیر مسلم مجسٹریٹ بھی نکاح خوانی کر سکتا ہے بشرطیکہ اس کے سامنے دو مسلمان گواہ موجود ہوں۔

خطبہ مسنونہ، نکاح کی مجلس میں پند و نصائح بھری تقریر، ولیمہ وغیرہ نکاح کے فرائض میں شامل نہیں ہیں۔ ہو تو بہتر ہے۔ ورنہ بھی نکاح کی شرائط پوری ہو جاتی ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دارالعوام دیوبند کی ویب سائٹ دیکھ لیں۔

اس ساری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیشہ ور مولوی کو اپنے وجود کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے یہ کہنا کافی نہیں کہ ”مولوی نکاح اور جنازے پڑھاتے ہیں“۔ انہیں کوئی بہتر دلیل پیش کرنی ہو گی۔ ورنہ پھر نائی کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar