رینجرز، اسٹیل کے چمچے اور بابا رحمت کے نام ایک اور خط۔


بخدمت جناب عالی شان محترم چیف جسٹس آف پاکستان،
السلام علیکم،
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ خداوند سے آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے۔
سرکار عالی شان ہر بار طرح اس مرتبہ بھی آپ کو مخاطب کرنے کی جسارت کر رہی ہوں، اور حسب روایت اس دفعہ بھی کچھ قصے عرض کررہی ہوں۔
یہ کچھ برس پرانی بات ہے جب ہم جامعہ کراچی کے طالب علم ہوا کرتے تھے۔ ہر طرف چین ہی چین تھا ۔ پوائنٹس اپنے وقت پہ جامعہ آتے، منی بس اور بڑی بسس بھی چیک پوسٹ تک آتیں ۔ نا بیگ چیک ہوتے نا ہی اسٹوڈنٹ کارڑز سب کچھ مزے سے رواں دواں تھا کہ ایک روز ایک میٹنگ ہوئی جس میں آرڈر جاری ہوئے کہ جامعہ میں "رینجرز”کی سکیورٹی کی اب ضرورت نہیں ہے، جلد از جلد پاکستان رینجرز کے تمام اہلکار جامعہ سے اپنا سامان باندھ کر واپس چلے جائیں”۔
تمام طلبہ وطالبات اور دیگر بہت خوش تھے کہ جامعہ کراچی آخر کار جنگ زدہ کیفیت سے آزاد ہونے والی ہے۔ تعلیمی ادارہ اب اسلحہ بردار محافظوں سے پاک ہو گا۔ ابھی اس فیصلے کو دو دن ہی گزرے تھے کہ ایک روشن صبح جب ہم آرٹس لابی سے گزر رہے تھے تو دیکھا دو کونوں پر دو مختلف سیاسی جماعتوں کے نوجوان پتھر اور ڈنڈے کے ڈھیر بنانے میں مصروف ہیں۔ صبح کے دس بجے تک جامعہ میں شور مچا بھاگو اپنے، اپنے گھر ہنگامے شروع ہوگئے ہیں۔ دونوں گروہ ایک دوسرے کو پتھر اور ڈنڈوں سے دوڑا، دوڑا کر مار رہے ہیں۔
اس روز ہماری پوری کلاس گیٹ نمبر تین سے باہر آئی اور جو پہلی بس نظر آئی اس میں سوار ہو کر اپنے گھروں کو واپس ہوئی۔ دوسری صبح ہی نوٹس جاری ہوئے کہ ” جامعہ کراچی کے حالات کی مناسبت سے "پاکستان رینجرز” کا جامعہ میں موجود رہنا نہایت ہی ضروری ہے، غیر معینہ مدت کے لیے رینجرز کو جامعہ کی سکیورٹی پر تعینات کیا جاتا ہے”
بس پھر کیا تھا، تمام بسس اب ہمیں جامعہ کے دروازے تک لآتیں۔ سارے طلبہ وطالبات سخت گرمی میں دو کلومیٹر چلنے پہ مجبور، بیگ چیک ہونے لگے اسٹوڈنٹ کارڑز کو بھی دیکھا جاتا ۔ اور وہ غیر معینہ مدت آج تک جاری ہے۔
سرکار عالی مقام! یہ تھا پہلا قصہ۔ ذیل میں دوسرا اور تازہ قصہ عرض ہے۔
گزشتہ سنیچر کی صبح کی بات ہے ۔ سینٹرل جیل میں ابھی بیرکوں کے کھلنے کا وقت تھا، کہ اچانک فوجی بوٹوں کی چاپ اور ساتھ ہی کتوں کے ہانپنے کی آوازیں سنائی دیں، معلوم ہوا کہ آج رینجرز کے چھاپے کا دن ہے، سارے قیدی اٹینشن ہو جائیں، آج سب کی تلاشی لی جائے گی، سارے ملاقاتوں کو بھی واپس لوٹا دیا گیا ۔ رینجرز کے سپاہی کتوں کے ساتھ ایک ایک بیرک اور بی کلاس کی کھولی میں گئے ہر قیدی کی تلاشی لی اور جب کہیں سے کچھ نہیں ملا تو بیچارے سب قیدیوں کے اسٹیل کے چمچے اپنے ساتھ لے گئے۔ یقیناً چمچوں کی بنیاد پر اس روز جیل میں یہ فرمان جاری ہوئے ہوں گے کہ چمچوں کی وجہ سے جیل کو سکیورٹی کا خطرہ ہے لہذا "غیر معینہ مدت تک رینجرز کو جیل سکیورٹی پر مامور کیا جاتا ہے”
سرکار!
آپ تو یوں بھی اب ریٹائرمنٹ کے نزدیک ہیں، اور بعد از ریٹائرمنٹ آپ کو بھی ڈیم پہ چوکیدار بننا ہے۔ کیا آپ کو اپنے کام میں یوں ٹانگ اڑانا اچھا لگے گا؟
نہیں نا؟ کسی کو بھی نہیں لگتا ۔ چاہے وہ کراچی شہر کی انتظامیہ ہو، جامعہ کراچی کی یا کراچی سینٹرل جیل کی۔
چھوٹا منہ بڑی بات لیکن، سب کا اپنا سسٹم ہے سب کے اپنے گارڈز اور چوکیدار۔ یہ کہاں کا انصاف ہے سرکار؟
اب آپ کی روانگی میں فقط دو ماہ باقی ہیں اس دوران پینڈگ کیسسز اور انڈر ٹرائل قیدوں کے لیے کچھ تو کر جائیں۔ پیسے لے لیں، سزا ہی لگا دیں، سولی ہی چڑھا دیں لیکن انتظار سے تو نکال دیں ۔
سرکار ایک قیدی کے ساتھ پورا خاندان تباہ ہوتا ہے، صرف ایک جیل میں پانچ ہزار انڈر ٹرائل قیدی ہیں، تو پانچ ہزار خاندان تھوڑی سی توجہ چاہتے ہیں ۔ بہت سے تو سزا سے اوپر کا وقت سزا کے ثابت ہونے سے پہلے ہی گزار چکے۔ رحم جہاں پناہ رحم ۔
فقط،
آپ کی توجہ کی طالب۔

Facebook Comments HS