کمی سیدھا اور حاسد باجی

”کمی سیدھا“ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ وہ کہنے کو تو لڑکا تھا لیکن ادھورا، اس کے گھر والوں نے اسے لڑکا بنا کر پرورش کی۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھی وہ اپنے اندر کا ادھورا پن زیادہ محسوس کرنے لگا۔ یوں تو اس کا نام کامران تھا۔ لیکن گھر میں اسے کمی…

Read more

اچھی لڑکی کی نئی ڈیفینیشن ”جنت کی چڑیا“

پہلی کہانی! پرانے زمانے کی بات ہے ایک لڑکی ایک سرکاری ملازم کے گھر پیدا ہوئی۔ یہ جب کی بات ہے جب پاکستان بھی نومولود تھا، اس وقت وہ بھی نومولود تھی۔ اس کی اماں نے اس کے ابا کو کبھی بھی اپنی پوسٹنگ کسی بڑے شہر میں نہ کروانے دی۔ چونکہ چھوٹے شہروں میں…

Read more

پاکستان میں حاجی بوٹے کی شاندار کامیابی کا راز

حاجی بوٹا کاغذی اعتبار سے انیس سو ستر میں اس دنیا میں آیا چونکہ اس کا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں عمر کے معاملے میں جھوٹ بولنا فرض کے برابر تھا۔ اس لیے اس کی عمر میں کوئی چھ سات برس کم تھے۔ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نزدیکی قصبہ میں پیدا ہوا۔ یوں…

Read more

بساطی، نائیکہ اور کنواری لڑکی

قدیم زمانے میں لڑکیوں کے رشتے کروانے کے لیے بساطی سے مدد لی جاتی تھی۔ بساطی یوں تو کنگھی، پراندے، رنگ برنگے زلفوں کی سجاوٹ کی اشیا بیچا کرتی لیکن یہ دراصل اس کا سائیڈ بزنس تھا۔ اصل دھندہ تو اس کا شہر بھر کی نوجوان لڑکیوں پہ نظر رکھنا تھا۔ وہ ایک گھر سے…

Read more

جب زیادہ بارش آتا ہے، تو زیادہ پانی آتا ہے

غریبوں کی زندگی بھی عجیب ہی ہوتی ہے۔ ان کے پاس کسی نومولود کی پیدائش کی خوشی یا کسی جوان کی موت کو celebrate کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ بہت ہی بڑی دعوت چنے والی بریانی کی دیگ کا لنگر کر دینا، اس سے آگے وہ کچھ کر ہی نہیں پاتے۔ جو غریب گھرانے میں پیدا ہوتے ہیں، ان کو بل گیٹس کا یہ مشہور مقولہ کبھی پلے ہی نہیں پڑتا کے، ”اگر کوئی غریب پیدا ہوا تو اس کی غلطی نہیں لیکن غریب مرا تو یہ اس کا قصور ہے۔

Read more

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے!

کئی دن سے لکھنا چاہ رہی تھی لیکن مجھ سے لکھا نہیں جاتا، جیسے میرے لکھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو گئی ہے۔ چاہوں تو بھی میرے پاس جیسے الفاظ ہی ختم ہو گئے ہیں۔ آج ہم سب پہ ایک تحریر پڑھنے کو ملی۔ دل اور بھی بے چین ہو گیا۔ اداسی آسمان سے باتیں کرنے…

Read more

ناقابل اشاعت تحریر اور انسانی حقوق کا معما

گزشتہ ماہ میں نے ایک تحریر" ہم سب" پہ ارسال کی۔ وہ تحریر میں نے انتہائی غصے اور مایوسی میں لکھی۔ رمضان المبارک گرمی اور دفتر کی بھاگ دوڑ میں یہ دیکھنا بھول ہی گئی کہ تحریر شائع ہوئی یا نہیں۔ کوئی دو ہفتے بعد میں نے دوبارہ ارسال کی تو محترم وجاہت مسعود صاحب…

Read more

جامعہ کراچی پہ می ٹو وائرس کا نیا حملہ

عزیز قارئین جب سے می تو کی وبا عام ہوئی ہے اس کی لپیٹ میں ناجانے کتنے افراد آ چکے ہیں اور ناجانے اور کتنوں کو ابھی آنا ہے۔ سوچ کہ بھی روح لرز جاتی ہے۔ اس وائرس کی لپیٹ میں آنے والوں سے ہوں اس لیے جو کوئی بھی اس ذلت ورسوائی کی لپیٹ میں آتا ہے میں اس کے ساتھ ہوں اس کی بہن کی طرح بالکل ویسے ہی جیسے میں اپنے بھائی کے ساتھ ہوں۔

Read more

نئے چیف جسٹس صاحب کے نا م رحم کی اپیل

محترم، عالی مقام، جناب چیف جسٹس آف پاکستان،

بعد از سلام عرض یہ ہے کہ آج پہلی بار آپ سے مخاطب ہو نے کی جسارت کر رہی ہوں اس یقین کے ساتھ کہ آپ اس ناچیز کو چھوٹا سنمجھ کہ معاف کر دیں گے۔

سرکار عرض یہ ہے کہ ہم نے بہت سے مراسلے سابقہ چیف جسٹس صاحب کو تحریر کیے، لیکن ڈیم کی ٹینشن میں بے چارے وہ خطوط پڑھنے سے قاصر رہے۔ اس لیے ناچیز اب آپ سے ہی مخاطب ہو رہی ہے، جانتے ہوئے بھی کہ آپ سابقہ چیف جسٹس صاحب اور میری طرح سوشل میڈیا سلیبرٹی بنبے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

یوں تو آپ سب کچھ ہی جانتے ہیں، لیکن ہم پھر بھی آپ کی توجہ حال ہی پیش آنے والی ایک خبر کی طرف کروانا چاہتے ہیں۔ چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ڈی اے محمد ناصر سول ہسپتال کراچی میں انتقال کر گئے۔ یہ خیر شاید اتنی اہم نہیں جسے کوئی بڑی حیثیت والا توجہ دے۔

Read more

میں بھی بریگیڈیئر اسد منیر کی طرح خودکشی کرنا چاہتی تھی

خودکشی کہ بارے میں میں نے پہلی بار شاید آٹھ یا نو برس کی عمر میں پہلی بار سنا تھا۔ ایک صبح محلے میں شور مچا کہ ایک بچے نے میٹرک کے امتحان میں خراب نتیجے کے خوف سے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ہے۔ اس روز مجھے پتا چلا کہ اپنے…

Read more