جامعہ کراچی پہ می ٹو وائرس کا نیا حملہ

عزیز قارئین جب سے می تو کی وبا عام ہوئی ہے اس کی لپیٹ میں ناجانے کتنے افراد آ چکے ہیں اور ناجانے اور کتنوں کو ابھی آنا ہے۔ سوچ کہ بھی روح لرز جاتی ہے۔ اس وائرس کی لپیٹ میں آنے والوں سے ہوں اس لیے جو کوئی بھی اس ذلت ورسوائی کی لپیٹ میں آتا ہے میں اس کے ساتھ ہوں اس کی بہن کی طرح بالکل ویسے ہی جیسے میں اپنے بھائی کے ساتھ ہوں۔

Read more

نئے چیف جسٹس صاحب کے نا م رحم کی اپیل

محترم، عالی مقام، جناب چیف جسٹس آف پاکستان،

بعد از سلام عرض یہ ہے کہ آج پہلی بار آپ سے مخاطب ہو نے کی جسارت کر رہی ہوں اس یقین کے ساتھ کہ آپ اس ناچیز کو چھوٹا سنمجھ کہ معاف کر دیں گے۔

سرکار عرض یہ ہے کہ ہم نے بہت سے مراسلے سابقہ چیف جسٹس صاحب کو تحریر کیے، لیکن ڈیم کی ٹینشن میں بے چارے وہ خطوط پڑھنے سے قاصر رہے۔ اس لیے ناچیز اب آپ سے ہی مخاطب ہو رہی ہے، جانتے ہوئے بھی کہ آپ سابقہ چیف جسٹس صاحب اور میری طرح سوشل میڈیا سلیبرٹی بنبے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

یوں تو آپ سب کچھ ہی جانتے ہیں، لیکن ہم پھر بھی آپ کی توجہ حال ہی پیش آنے والی ایک خبر کی طرف کروانا چاہتے ہیں۔ چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ڈی اے محمد ناصر سول ہسپتال کراچی میں انتقال کر گئے۔ یہ خیر شاید اتنی اہم نہیں جسے کوئی بڑی حیثیت والا توجہ دے۔

Read more

میں بھی بریگیڈیئر اسد منیر کی طرح خودکشی کرنا چاہتی تھی

خودکشی کہ بارے میں میں نے پہلی بار شاید آٹھ یا نو برس کی عمر میں پہلی بار سنا تھا۔ ایک صبح محلے میں شور مچا کہ ایک بچے نے میٹرک کے امتحان میں خراب نتیجے کے خوف سے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ہے۔ اس روز مجھے پتا چلا کہ اپنے…

Read more

قاسم علی شاہ کے لیے خصوصی تحریر: کمزور دل والے نہ پڑھیں

چند ماہ قبل ایک خبر گردش میں رہی کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کسی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ پھر وہ خاتون باحفاظت شاہراہِ فیصل پہ چلتی گاڑی سے کود گئیں۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ وہ موٹیوشنل اسپیکر بھی ہیں۔ موٹیوشنل اسپیکر چند سال قبل پاکستان میں تقریباً نہیں کے برابر…

Read more

پاکستان بھارت جنگ کی فینٹسی اور بھولے عوام

آج کل جہاں دیکھو وہاں جنگ کی باتیں ہوتی نظر آتی ہیں۔ دفتر میں گھر میں، ٹی وی پر واٹس ایپ فیس بک اور ٹوئٹر سب جگہ کوئی اور بات ہی نہیں ہے۔ پورا پاک و ہند جنگ کی فینٹسی میں ہے، جنگ کوئی ایسی دل فریب چیز نہیں جس کی فینٹسی کی جائے۔ محاز چھوٹے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو سکون اور اطمینان چھین لیتا ہے۔مجھے آج بھی یاد ہے جب کبھی اسکول میں کسی سے جھگڑا ہو جاتا تو اسکول سے گھر کے راستے میں ایک خوف کا احساس رہتا کہ کہیں دشمن پارٹی کوئی چپکے سے وار ہی نہ کر دے۔

Read more

کاف سے کچی پ سے پخ

ہر زمانے میں بچوں کے اپنے کھیل اور محاورے ہوا کرتے ہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے پاس بھی اپنے کوڈ ورڈز اور محاورے تھے۔ اسکول کی بریک کے دوران اور شام کے وقت جب سارے بچے کھیلنے کے لیے اکٹھے ہوتے تو برف پانی، پکڑم پکڑائی، آنکھ مچولی اور بہت سے کھیل کھیلے جاتے ایسے میں اگر کوئی بچہ کھیل کو سمجھنے میں غلطی کرتا اور باقی بچوں سے پیچھے رہ جاتا تو عام حالات میں باقی ساتھی سارا وقت اسے چور ہی بناتے چلے جاتے یہاں تک کہ یا تو وہ رونے لگتا یا پھر بھاگ جاتا۔

مگر کبھی ایسا بچہ گلے میں ہڈی کی مانند پھنس جاتا۔ نا آپ اسے چور بنا کر تھکا پاتے نا ہی بھگا پاتے۔ یہ بچے عام طور پر کسی دوست کے چھوٹے بہن بھائی یا رشتے دار ہوتے ایسے میں جب جان چھڑانے کی ہر طرح کی کوشش ناکام ہوتی تو اس بچے کو کھیل میں شامل کر لیا جاتا اور اس کے بارے میں یہ علان کر دیا جاتا کہ اس کی ”کچی“ ہے، یہ ابھی ”کاف“ ہے۔

Read more

سوری جی! غلطی سے مسٹیک ہو گئی

بھولا جب پیدا ہوا تو اس کا وزن پیدائش کے وقت ہی سات کلو کا تھا۔ وہ اپنے گاؤں کا پہلا بچہ تھا جو آپریشن سے ہوا۔ بھولے کے نقوش نہایت ہی عجیب تھے۔ جب بھولے کے نقوش پر زیادہ بات ہوتی تو بھولے کی ماں بات کاٹ دیا کرتی۔ بھولا صرف اس لیے بھولا…

Read more

صرف بالغوں کے لئے تحریر کی گئی “سچی کہانی”

  دور قدیم کی بات ہے، فتح محمد نام کا ایک گورکن مکلی کے قبرستان میں رہتا تھا۔ تب سمّا حکمرانوں کی سندھ میں سلطنت قائم تھی۔ آس پڑوس کے حکمرانوں کے دل سمّا حکمرانوں کے جلال سے کانپتے تھے۔ قبرستان میں بڑے بڑے مقابر تعمیر ہوتے اور فتح محمد (جسے سب برفی کہتے تھے)…

Read more

چنگیز خان، عمران خان اور شیشے کا ورلڈ کپ

انیس سو بانوے میں گڈو چوتھی جماعت کا طالب علم تھا یوں تو وہ محض نو سال کا ہی تھا لیکن وہ اپنے آپ کو بہت بڑا اور عقلمند سمجھنے لگا تھا۔ پڑہائی میں بھی میں بھی مناسب تھا اس لیے اس کے کرکٹ کے شوق پہ کوئی پابندی عائد نہیں تھی ۔ دادا اور…

Read more

ببل سے ببل گم تک

ببل کی پیدائش ایک عام سے متوسط طبقے کے گھر ہوئ۔ ببل کی ماں نے ببل کا نام ایک فلمی کردار پہ" ببل" رکھا۔ حقیقت میں اسکا نام جمیل آ را تھا۔ اسکول میں وہ اپنی ہم جماعت بچیوں سے اکثر اس با ت پہ ناراضگی کا اظہار کرتی پائی جاتی کہ کوئی اسےببل کے نام…

Read more