حافظ نعیم کے آنسو

کہانی ایک شہر کی ہے جس کا دل سمندر کے کنارے دھڑکتا ہے، جس کی گلیاں ماضی میں احتجاجوں، دعووں اور وعدوں کی گواہ رہی ہیں۔ کہانی اُس شخص کی ہے جسے کراچی نے امید کی آخری شمع سمجھا تھا حافظ نعیم الرحمٰن۔ کراچی کے باسیوں نے جب ”حق دو کراچی“ کی آواز سنی تو اُسے اپنا درد لگا۔ جب پانی، شناختی کارڈ، کوٹہ سسٹم، کے فور پر آواز بلند ہوئی، تو لگا شاید کوئی ہے جو صرف بولتا نہیں،

Read more

مفتی عبدالقوی، قندیل بلوچ، اور معاشرتی کینسر

جب ایک طرف مذہب کے خودساختہ ٹھیکیدار مفتی عبدالقوی اپنی عاجزی اور پرہیزگاری کا ڈھونگ رچا رہے تھے، تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایک بے باک، بے خوف لڑکی قندیل بلوچ معاشرے کے دوغلے پن کا آئینہ لیے کھڑی تھی۔ ایک ہاتھ میں تسبیح، دوسرے میں موبائل۔ اور نیت میں کچھ اور۔ جب یہ دونوں کردار ایک ہی فریم میں آئے، تو پوری قوم کا اخلاقی کمپاس ہل کر رہ گیا۔ یہ کہانی صرف ایک ملاقات کی نہیں تھی، بلکہ

Read more

چاند حاجی: دکان چنا چور کی، باتیں جنت کی!

اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک، حج، ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ لاکھوں لوگ ہر سال خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کی مقدس سرزمین پر قدم رکھتے ہیں، اور اللہ کے حضور جھکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان سے صبر، اخلاص اور مکمل بندگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ حج سے واپس آتے ہیں تو صرف احرام اتارتے ہیں، ”انا“ نہیں۔ ان کے

Read more

پاکستان کی سب سے بڑی تفریح: جلسے اور دھرنے

دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ تفریح کے لیے ساحلوں پر جاتے ہیں، پارکوں میں پکنک مناتے ہیں یا شاپنگ مالز کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ پاکستان، خاص طور پر کراچی، کی عوامی تفریح پر نظر ڈالیں، تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں جلسے اور دھرنے ہی وہ مقامات ہیں جہاں عوام اپنی بوریت کا بہترین علاج ڈھونڈتی ہے۔ جلسے، جو بظاہر سیاسی تبدیلی کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں، درحقیقت عوام کے لیے وہ میلہ

Read more

چار بیرنگ خط جو کوئٹہ نہیں پہنچے

میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑی تھی، تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے پچھلے والی گلی میں ایک بہت پرانا، شاید پچاس سال پرانا لیٹر باکس تھا۔ کسی نے اس کا دروازہ کسی نے توڑ دیا تھا۔ بلندی سے صاف سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اندر خطوط ہیں یا نہیں میرے لیے یہ کافی حیرت انگیز منظر تھا۔ بچپن سے ہی یہ لیٹر باکس میرے لیے ایک فینٹسی جیسا تھا۔ جب بھی میں اسے دیکھتی تھی، سوچتی

Read more

بے شرم

چند روز قبل ہم لاہور سے کلر کہار جا رہے تھے میں، امی اور اسمرہ میری بیٹی یہ ہم دونوں کی اسمرہ کی پیدائش کے بعد پہلی سیر تھی، سکیکھی کے قیام و طعام والے حصے میں ہم کچھ دیر کے لیے ٹھہرے تو سوچا کیوں نہ کچھ کھایا جائے، سامنے ہی امی کے پسندیدہ فاسٹ فوڈ کا آؤٹ لیٹ تھا ہم وہاں سے کھانے کا سامان لے کر کھلے ہوئے حصے میں بیٹھ گئے۔ جوں ہی ہم نے کھانے

Read more

یتیم خانے کے مسافر

چند روز قبل ہم لاہور سے کلر کہار جا رہے تھے میں، امی اور اسمرہ میری بیٹی یہ ہم دونوں کی اسمرہ کی پیدائش کے بعد پہلی سیر تھی، سکیکھی کے قیام و طعام والے حصے میں ہم کچھ دیر کے لیے ٹھہرے تو سوچا کیوں نہ کچھ کھایا جائے، سامنے ہی امی کے پسندیدہ فاسٹ فوڈ کا آؤٹ لیٹ تھا ہم وہاں سے کھانے کا سامان لے کر کھلے ہوئے حصے میں بیٹھ گئے۔ جوں ہی ہم نے کھانے

Read more

ململ کی بیلٹ اور بدزبان بڈھا: ایک دکھ بھری یاد

کچھ لوگ شاید ہمیشہ یاد رہیں گے ان میں سے ایک وہ دکاندار بھی ہے، بدمزاج، لمبی داڑھی والا وہ بوڑھا اس قدر بدتمیز تھا کہ شاید ہی اس درجے کے بدمزاج لوگ اس دنیا میں بہت کم ہی اترے ہوں گے۔ یہ جب کی بات ہے جس وقت ابو کی بیماری آخری مراحل میں تھی۔ جولائی کا آخری ہفتہ ابو جب اس مرتبہ ہسپتال سے گھر آئے تو ان کا پیٹ فوراً ہی پھولنے لگا ان کے گردوں نے

Read more

جاوید چودھری کے طارق عزیز اور ابن خلدون کے بارے میں انکشافات

سن 2015 میں ہم ایک یوتھ کیمپ کے لیے مکشپوری کی طرف رواں تھے، سب ہی اپنے انداز سے تفریحی موڈ میں تھے، کے کچھ لڑکوں نے باری باری لطائف سنانا اور مشہور لوگوں کی نقل اتارنا شروع کیں، کسی نے کچھ سنانا کسی نے کچھ، پھر ایک لڑکے نے ایک دم طارق عزیز صاحب کی آواز میں سب کو مخاطب کیا، ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام“ پھر اس نے طارق عزیز شو کے آغاز کی

Read more

چوڑیوں کا ڈبہ

آج صبح شمیم کے ساتھ چوڑیوں کا ڈبہ بھی ان کی قبر میں ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن کر دیا گیا، دونوں میرے ساتھ پینتالیس سال رہے۔ ہر دکھ اور زخم وقت کے ساتھ رفو ہو جاتا ہے ، شاید میرا اور شمیم کا بھی دکھ کچھ کم ہوا تھا، ہم نے ساتھ بہت سی خوشیاں اور بہاریں دیکھیں لیکن کبھی ہم نہ ہی کھل کر ہنسے نہ ہی روئے بس جیسے کوئی اداکاری تھی۔ صبح جب شمیم

Read more

منی کی شادی

منی نے جس گھر میں جنم لیا وہ کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا کا ایک سو بیس گز کا گھر تھا، جہاں اس کے ابا اور چچا رہتے تھے، چار بہنیں اور ایک بھائی منی سب سے بڑی بہن۔ بچپن سے ہی اس نے یہ ہی سنا زیادہ بچی مت بنو، یہ سب تم سے چھوٹے ہیں۔ منی جاؤ فلاں کام کر دو، اچھا ابو کو چائے دے آؤ، چولہے پہ سالن ہے دیکھتی آنا۔ اور واپسی پہ پانی

Read more

میرے ابو: شاہد کامرانی

جس روز ہماری سب سے بڑی بہن کی پہلی اولاد اس دنیا میں آئی اس وقت میں اور میرا چھوٹا بھائی اسکول میں تھے۔ جب ہم گھر پہنچے تو دیکھا ابو سگار پی رہے ہیں اور گھر پر اکیلے بھی ہیں، ہماری حیرت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ابھی ہم تینوں ہاسپٹل جائیں گے تم لوگ تیار ہو جاؤ۔ راستے میں ہم اپنی گاڑی بھی دیکھ لیں گے۔ ہم دونوں کافی خوش ہو گئے کے آج ہم اپنی

Read more

انتہائی غیر سیاسی اور جھوٹی کہانی

ہیلو؟ ہیلو؟ جی کون صاحب ہیں آپ کی آواز صاف سنائی نہیں دے رہی اونچا بولنے کی کوشش کریں۔ کون ہے بیٹا؟ ابا جان صبح سے فون بج رہا ہے آپریٹر کہتی ہے ٹرنک کال ہے، لیکن آواز نہیں آتی یوں لگتا ہے جیسے کتے کے غرانے یا بھونکنے کی آواز ہے۔ اللہ جانے کون ہے۔ ارے بیٹا یہ ٹرنک کال ہے، برطانیہ کے نمبر سے ہو گی کال تمہارے انکل کی، ان کے گھر نسلی کتوں کے جوڑے ہیں۔

Read more

فرعون کا دوسرا جنم!

ضروری انتباہ! یہ کہانی قبل از تاریخ ہندو مت کے ماننے والے لوک فنکار کی تحریر کردہ لوک داستان سے ماخوذ سے، اور تمام کردار اور واقعات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ فرعون کی روح جب اس کے جسم سے نکلی تو وہ تھوڑا سا حیران تھا کہ یہ کیا ہو گیا ہے، میں تو ہٹاکٹا ہوں پھر بھی یہ لوگ مجھ سے ڈر کیوں نہیں رہے؟ آخر میری ساری طاقت اور جلال ایک دم سے سب کو دکھائی دینا بند

Read more

ہم فقیر خانہ میوزیم کیوں نہیں دیکھ سکے؟

فقیر خانہ میوزیم پاکستان کے چند پرائیویٹ میوزیم میں سے ایک ہے۔ لاہور چونکہ اکثر جانا ہوتا ہے، تو ہم واپسی سے قبل ایک دن لاہور کی سیر کی کوشش کرتے ہیں اگر موسم اچھا ہو اور ایک دن اضافی بھی ہو۔ یہ کورونا کی پاکستان آمد سے چند دن پہلے کی بات ہے۔ مارچ کی ابتدائی تاریخیں تھیں اور موسم بھی خوشگوار۔ ہم نے کچھ وقت گوگل پہ لاہور کی تاریخی جگہوں کی تلاش کی تو ”فقیرخانہ میوزیم“ کے حق

Read more

ایک کانفرنس کا احوال: بڑے لوگوں کی چھوٹی باتیں

میرے بچپن کا کچھ حصہ کوئٹہ میں گزرا، یہ اسی سال کی بات ہے جب ڈرامہ سیریل دھواں بن رہا تھا۔ پی ٹی وی کوئٹہ کا وہ شاید سب سے بڑا ہٹ تھا۔ ہم پی ٹی وی سوسائٹی میں ہی رہتے، اور سوسائٹی میں کوئی دکان نہیں تھی، تو شام میں میں اور میرا بھائی ٹی وی اسٹیشن کی کینٹین جاتے، اس کینٹین میں ہمیں کوئی نہ کوئی اداکار یا اداکارہ ضرور ٹکرا جاتے۔ یوں بھی کوئٹہ اداکاروں کے معاملے

Read more

ملا حلیم، خارش چودھری اور نیا پاکستان سوسائٹی

کراچی کے ایک علاقے کی ایک چھوٹی سی آبادی کا نام نیا پاکستان تھا۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے نئے نئے اپر مڈل کلاس میں داخل ہونے والے مڈل کلاس گھرانے یہاں آباد تھے۔ سبھی بالکل عام سے لوگ تھے، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے والے جیسے کہ ہمارے آس پاس ہوتے ہیں۔ ان کے پیٹ نکلے ہوئے، ٹیڑھے میڑھے، آڑے ترچھے، مختلف قوموں کے مختلف رنگوں کے۔ ان میں محض ایک بات مشترک تھی جو کہ سبھی میں

Read more

چودھری الحاج شیخ شجاعت حسین، سی ای او، چیف ایگزیکٹو، وی سی

الحاج شیخ صاحب، جنوبی پنجاب کے درمیانے درجے کے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، گھرانے میں سب ہی پیٹ بھر کے کنجوس مکھی چوس، یعنی کنجوس ہونے کی انتہا یہ کہ بڑے شیخ صاحب کی دھوتی کئی جگہ سے پھٹی ہوئی ہوتی۔ لیکن جب تک وہ تار تار نہ ہو جائے نئی دھوتی حرام۔ بچوں کو وہ صرف لنڈے کے کپڑے ہی پہناتے، ان کا عقیدہ تھا کہ کپڑوں پہ پیسا بیوقوف لوگ خرچ کرتے ہیں۔ عقل مند جمع کرنے

Read more

غفور فرشتے کی موت کیسے واقع ہوئی؟

جب سے فرشتہ انسانیت کو امن کا نوبل پرائز ملا وہ زمین سے دو انچ اوپر چلتا، جیسے اڑنے ہی لگا تھا۔ کئی دن تک تو وہ اپنے آپ کو اصلی فرشتوں کی طرح ہی دیکھتا رہا۔ کبھی کبھی وہ تنہائی میں خود کلامی کرتے ہوئے طاہر شاہ کا گانا بھی گنگنانے لگتا۔ ” میں ہوں ایک فرشتہ، پیارا فرشتہ، انسان فرشتہ“ آئنہ دیکھتے ہوئے وہ اپنے کاندھوں پر دو سفید پر دیکھتا، لیکن پھر دکھی ہو جاتا کہ یہ

Read more

کنجوس ابا میاں اور ان کی کنجوس تر اولاد: جھوٹی کہانی

بڑا داماد۔ صبح صبح کس منحوس نے فون کیا ہے۔

کس سے بات ہو رہی ہے۔

ہو گا کوئی تمہارے میکے سے۔ ارے بھائی بولو بھی؟

بڑی بیٹی۔ میرے ابا بیہوش ہو گئے ہیں۔ تین دن سے بخار تھا شاید کرونا ہے، رات ہسپتال لے کر گئے۔

بڑا داماد۔ اور تم کو کسی نے نہیں بتایا؟

یہ تمہارا خاندان ہے یا پاگل خانہ؟

ایک میسج ایک کال؟ ارے بھائی تمہارے بھائی جس قسم کے ہیں ہسپتال میں داخل کروا کے گھر آ کے سو گئے ہوں گے، جب صبح تک آبا مرے نہیں تو سوچا بتا ہی دیا جائے۔ جب تین دن سے بیمار تھے تو تمہیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ میں لے جاتا ہسپتال۔

Read more

مڈل کلاس ماڈرنزم اور سیکرٹ سپر اسٹارز

چند سال قبل ایک ہندوستانی فلم منظر عام پر آئی جس کا نام تھا سیکرٹ سپر اسٹار، اس فلم کی بدولت ہمیں ایک ایسا جملہ ملا جو موجودہ دور کے بہت سے گھٹن زدہ لوگوں پہ چپک گیا۔
اب ہم جب کسی یوٹیوب ویڈیو کو دیکھتے جس کے پندرہ، بیس، یا دو چار سو ویوز ہوتے تو یہ نام سہولت فراہم کرتا۔ جیسے ”فلاں شخص بھی سیکرٹ سپر اسٹار ہے“ ۔ یوں تو ایسے ہزاروں سے بھی زیادہ افراد ہوں گے لیکن، کچھ عرصہ قبل ہماری ملاقات بھی ایک خاص کردار سی ہوئی۔ آج آپ سے کرواتے ہیں۔

Read more

شکریہ عظمیٰ خان، آمنہ عثمان، عثمان ملک، صدف کنول اور شہروز سبزواری

جس وقت اکتیس دسمبر 2019 اختتام پذیر ہوا اس وقت زیادہ تر لوگوں نے ایسا کبھی بھی نہیں سوچا ہو گا کے یہ سال اس قدر خوفناک ہو جائے گا۔ عوام کی خواہش تھی کہ تیسری جنگ چھڑ جائے گی اور وہ جنگ عظیم سوئم کہلائے گی، اس سے زیادہ ہم جیسے عام لوگوں نے نہیں سوچا تھا۔ بیماری اور ایک ایسی بیماری جو آئے گی اور چھا جائے گی۔ اس کا خیال بھی نہ آیا تھا۔ آج کل سوشل

Read more

کامریڈ شہنشاہ بلبل بیگ

با ادب با ملاحظہ ہوشیار، شہنشاہ معظم بلبل بیگ تشریف لا رہے ہیں۔ زوردار دھماکہ اور پھر ایسا سناٹا جیسے حضرت اسرافیل علیہ السلام نے ابھی ابھی صور پھونکا ہو۔ مرسڈیز بینز کا دروازہ کھلا اندر سے ایک چھوٹے قد اور بڑے پیٹ والا شخص برآمد ہوا، تمام ملازمین سر جھکائے لائن میں کھڑے ہو گئے۔ بچے اپنی اپنی جماعتوں میں گہرا سانس بھر کے سیدھے کھڑے ہو گئے، ساری استانیوں نے سر سے دوپٹے اوڑھے، اسی دوران بلبل بیگ

Read more

آئیے انگریزی بول کے مکئی بیچیں!

جب میرے والد حیات تھے تو اس زمانے میں ہمارے گھر میں ادبی محافل ہوا کرتیں۔ جس میں شہر بھر سے ادیب، شاعر، ادب پرور ادب نواز خواتین و حضرات آیا کرتے۔ جب سوشل میڈیا موجود نہ تھا، ان محافل کی خاص بات یہ تھی کہ اکا دکا ادیب ٹائپ افراد ہوتے زیادہ تر جعلی ادیب اور جعلی شاعر تھے۔ ادبی محافل کو اگر دوسرے الفاظ میں اور حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو وہ انجمن ستائش باہمی کی محافل ہوتی ہیں۔ جس میں ٹولیاں ہوا کرتیں۔ ایک ٹولی والے دوسری ٹولی کے لتے لینا اپنا فرض عین سمجھتے۔

Read more

کویٹہ مجھے اداس کر دیتا ہے

جب ابو کی پوسٹنگ کویٹہ ہوئی میں چوتھی جماعت میں تھی۔ ابو کی نوکری اس نوعیت کی تھی کے وہ اکثر کراچی سے دور ہی رہتے تھے۔ کبھی سکھر بھی حیدرآباد، لیکن وہ جگہیں کراچی سے زیادہ دور نہیں اس وجہ سے وہ نسبتاً جلدی جلدی گھر کے چکر لگا لیا کرتے تھے۔ کویٹہ کی پوسٹنگ تک میں چوتھی جماعت میں آ چکی تھی، ابو کا کراچی جلدی آ نا نسبتاً مشکل ہو گیا تو وہ ہمیں اپنے پاس بلا

Read more

کمی سیدھا اور حاسد باجی

”کمی سیدھا“ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ وہ کہنے کو تو لڑکا تھا لیکن ادھورا، اس کے گھر والوں نے اسے لڑکا بنا کر پرورش کی۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھی وہ اپنے اندر کا ادھورا پن زیادہ محسوس کرنے لگا۔ یوں تو اس کا نام کامران تھا۔ لیکن گھر میں اسے کمی سیدھا کہا جاتا اور کمی ہی سمجھا بھی جاتا۔ وہ اپنے گھر میں اپنے بھائی اور باپ کے بیچ مس فٹ تھا۔ ان کی باتوں

Read more

اچھی لڑکی کی نئی ڈیفینیشن ”جنت کی چڑیا“

پہلی کہانی! پرانے زمانے کی بات ہے ایک لڑکی ایک سرکاری ملازم کے گھر پیدا ہوئی۔ یہ جب کی بات ہے جب پاکستان بھی نومولود تھا، اس وقت وہ بھی نومولود تھی۔ اس کی اماں نے اس کے ابا کو کبھی بھی اپنی پوسٹنگ کسی بڑے شہر میں نہ کروانے دی۔ چونکہ چھوٹے شہروں میں اور قصبوں میں رشوت جسے وہ ”آمدنی“ کہا کرتے تھے اس کے مواقع زیادہ تھے۔ بچی جنگلوں اور باغوں میں کھیلتی جوانی کی دہلیز کو

Read more

پاکستان میں حاجی بوٹے کی شاندار کامیابی کا راز

حاجی بوٹا کاغذی اعتبار سے انیس سو ستر میں اس دنیا میں آیا چونکہ اس کا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں عمر کے معاملے میں جھوٹ بولنا فرض کے برابر تھا۔ اس لیے اس کی عمر میں کوئی چھ سات برس کم تھے۔ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نزدیکی قصبہ میں پیدا ہوا۔ یوں تو اس کا نام سرور تھا لیکن بچپن سے ہی سب نے اسے بوٹا ہی پکارا جاتا۔ اب تو وہ اپنا اصلی نام خود بھی

Read more

بساطی، نائیکہ اور کنواری لڑکی

قدیم زمانے میں لڑکیوں کے رشتے کروانے کے لیے بساطی سے مدد لی جاتی تھی۔ بساطی یوں تو کنگھی، پراندے، رنگ برنگے زلفوں کی سجاوٹ کی اشیا بیچا کرتی لیکن یہ دراصل اس کا سائیڈ بزنس تھا۔ اصل دھندہ تو اس کا شہر بھر کی نوجوان لڑکیوں پہ نظر رکھنا تھا۔ وہ ایک گھر سے دوسرے گھر رپورٹر کے فرائض بھی انجام دینا اپنا فرض عین سمجھتی۔ تھوڑی بہت رقم کے عوض وہ تیسری، چوتھی بار دولہا بننے کے خواہش

Read more

جب زیادہ بارش آتا ہے، تو زیادہ پانی آتا ہے

غریبوں کی زندگی بھی عجیب ہی ہوتی ہے۔ ان کے پاس کسی نومولود کی پیدائش کی خوشی یا کسی جوان کی موت کو celebrate کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ بہت ہی بڑی دعوت چنے والی بریانی کی دیگ کا لنگر کر دینا، اس سے آگے وہ کچھ کر ہی نہیں پاتے۔ جو غریب گھرانے میں پیدا ہوتے ہیں، ان کو بل گیٹس کا یہ مشہور مقولہ کبھی پلے ہی نہیں پڑتا کے، ”اگر کوئی غریب پیدا ہوا تو اس کی غلطی نہیں لیکن غریب مرا تو یہ اس کا قصور ہے۔

Read more

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے!

کئی دن سے لکھنا چاہ رہی تھی لیکن مجھ سے لکھا نہیں جاتا، جیسے میرے لکھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو گئی ہے۔ چاہوں تو بھی میرے پاس جیسے الفاظ ہی ختم ہو گئے ہیں۔ آج ہم سب پہ ایک تحریر پڑھنے کو ملی۔ دل اور بھی بے چین ہو گیا۔ اداسی آسمان سے باتیں کرنے لگی تین سال سے میں زیادہ تر وقت اداس ہی رہتی ہوں۔ جب سے میں اپنی تحریر ارسال کرنے لگی ہوں میری بیماری بھی کچھ

Read more

ناقابل اشاعت تحریر اور انسانی حقوق کا معما

گزشتہ ماہ میں نے ایک تحریر” ہم سب” پہ ارسال کی۔ وہ تحریر میں نے انتہائی غصے اور مایوسی میں لکھی۔ رمضان المبارک گرمی اور دفتر کی بھاگ دوڑ میں یہ دیکھنا بھول ہی گئی کہ تحریر شائع ہوئی یا نہیں۔ کوئی دو ہفتے بعد میں نے دوبارہ ارسال کی تو محترم وجاہت مسعود صاحب کی ای میل موصول ہوئی کہ نبیلہ بہن، تحریر نفرت انگیز ہے، اس لیے شائع نہیں کر سکتے۔ ان کی ای میل کے بعد ہم

Read more

جامعہ کراچی پہ می ٹو وائرس کا نیا حملہ

عزیز قارئین جب سے می تو کی وبا عام ہوئی ہے اس کی لپیٹ میں ناجانے کتنے افراد آ چکے ہیں اور ناجانے اور کتنوں کو ابھی آنا ہے۔ سوچ کہ بھی روح لرز جاتی ہے۔ اس وائرس کی لپیٹ میں آنے والوں سے ہوں اس لیے جو کوئی بھی اس ذلت ورسوائی کی لپیٹ میں آتا ہے میں اس کے ساتھ ہوں اس کی بہن کی طرح بالکل ویسے ہی جیسے میں اپنے بھائی کے ساتھ ہوں۔

Read more

نئے چیف جسٹس صاحب کے نا م رحم کی اپیل

محترم، عالی مقام، جناب چیف جسٹس آف پاکستان،

بعد از سلام عرض یہ ہے کہ آج پہلی بار آپ سے مخاطب ہو نے کی جسارت کر رہی ہوں اس یقین کے ساتھ کہ آپ اس ناچیز کو چھوٹا سنمجھ کہ معاف کر دیں گے۔

سرکار عرض یہ ہے کہ ہم نے بہت سے مراسلے سابقہ چیف جسٹس صاحب کو تحریر کیے، لیکن ڈیم کی ٹینشن میں بے چارے وہ خطوط پڑھنے سے قاصر رہے۔ اس لیے ناچیز اب آپ سے ہی مخاطب ہو رہی ہے، جانتے ہوئے بھی کہ آپ سابقہ چیف جسٹس صاحب اور میری طرح سوشل میڈیا سلیبرٹی بنبے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

یوں تو آپ سب کچھ ہی جانتے ہیں، لیکن ہم پھر بھی آپ کی توجہ حال ہی پیش آنے والی ایک خبر کی طرف کروانا چاہتے ہیں۔ چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ڈی اے محمد ناصر سول ہسپتال کراچی میں انتقال کر گئے۔ یہ خیر شاید اتنی اہم نہیں جسے کوئی بڑی حیثیت والا توجہ دے۔

Read more

میں بھی بریگیڈیئر اسد منیر کی طرح خودکشی کرنا چاہتی تھی

خودکشی کہ بارے میں میں نے پہلی بار شاید آٹھ یا نو برس کی عمر میں پہلی بار سنا تھا۔ ایک صبح محلے میں شور مچا کہ ایک بچے نے میٹرک کے امتحان میں خراب نتیجے کے خوف سے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ہے۔ اس روز مجھے پتا چلا کہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ہم نے کئی خودکشیوں کی خبریں سنی اور پڑھیں، لیکن

Read more

قاسم علی شاہ کے لیے خصوصی تحریر: کمزور دل والے نہ پڑھیں

چند ماہ قبل ایک خبر گردش میں رہی کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کسی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ پھر وہ خاتون باحفاظت شاہراہِ فیصل پہ چلتی گاڑی سے کود گئیں۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ وہ موٹیوشنل اسپیکر بھی ہیں۔ موٹیوشنل اسپیکر چند سال قبل پاکستان میں تقریباً نہیں کے برابر تھے لیکن کچھ عرصہ سے جسے دیکھو وہ کہیں نا کہیں مائک تھامے اپنی زندگی کی ناکامیوں کی کہانی سناتا نظر آ جاتا ہے۔ عام

Read more

پاکستان بھارت جنگ کی فینٹسی اور بھولے عوام

آج کل جہاں دیکھو وہاں جنگ کی باتیں ہوتی نظر آتی ہیں۔ دفتر میں گھر میں، ٹی وی پر واٹس ایپ فیس بک اور ٹوئٹر سب جگہ کوئی اور بات ہی نہیں ہے۔ پورا پاک و ہند جنگ کی فینٹسی میں ہے، جنگ کوئی ایسی دل فریب چیز نہیں جس کی فینٹسی کی جائے۔ محاز چھوٹے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو سکون اور اطمینان چھین لیتا ہے۔مجھے آج بھی یاد ہے جب کبھی اسکول میں کسی سے جھگڑا ہو جاتا تو اسکول سے گھر کے راستے میں ایک خوف کا احساس رہتا کہ کہیں دشمن پارٹی کوئی چپکے سے وار ہی نہ کر دے۔

Read more

کاف سے کچی پ سے پخ

ہر زمانے میں بچوں کے اپنے کھیل اور محاورے ہوا کرتے ہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے پاس بھی اپنے کوڈ ورڈز اور محاورے تھے۔ اسکول کی بریک کے دوران اور شام کے وقت جب سارے بچے کھیلنے کے لیے اکٹھے ہوتے تو برف پانی، پکڑم پکڑائی، آنکھ مچولی اور بہت سے کھیل کھیلے جاتے ایسے میں اگر کوئی بچہ کھیل کو سمجھنے میں غلطی کرتا اور باقی بچوں سے پیچھے رہ جاتا تو عام حالات میں باقی ساتھی سارا وقت اسے چور ہی بناتے چلے جاتے یہاں تک کہ یا تو وہ رونے لگتا یا پھر بھاگ جاتا۔

مگر کبھی ایسا بچہ گلے میں ہڈی کی مانند پھنس جاتا۔ نا آپ اسے چور بنا کر تھکا پاتے نا ہی بھگا پاتے۔ یہ بچے عام طور پر کسی دوست کے چھوٹے بہن بھائی یا رشتے دار ہوتے ایسے میں جب جان چھڑانے کی ہر طرح کی کوشش ناکام ہوتی تو اس بچے کو کھیل میں شامل کر لیا جاتا اور اس کے بارے میں یہ علان کر دیا جاتا کہ اس کی ”کچی“ ہے، یہ ابھی ”کاف“ ہے۔

Read more

سوری جی! غلطی سے مسٹیک ہو گئی

بھولا جب پیدا ہوا تو اس کا وزن پیدائش کے وقت ہی سات کلو کا تھا۔ وہ اپنے گاؤں کا پہلا بچہ تھا جو آپریشن سے ہوا۔ بھولے کے نقوش نہایت ہی عجیب تھے۔ جب بھولے کے نقوش پر زیادہ بات ہوتی تو بھولے کی ماں بات کاٹ دیا کرتی۔ بھولا صرف اس لیے بھولا کہلاتا تھا کیونکہ اس کی ماں کو وہ بھولا لگتا تھا۔ حقیقت میں تو بھولا اپنے نام کا الٹ تھا۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا

Read more

صرف بالغوں کے لئے تحریر کی گئی "سچی کہانی”

  دور قدیم کی بات ہے، فتح محمد نام کا ایک گورکن مکلی کے قبرستان میں رہتا تھا۔ تب سمّا حکمرانوں کی سندھ میں سلطنت قائم تھی۔ آس پڑوس کے حکمرانوں کے دل سمّا حکمرانوں کے جلال سے کانپتے تھے۔ قبرستان میں بڑے بڑے مقابر تعمیر ہوتے اور فتح محمد (جسے سب برفی کہتے تھے) ان میں مزدوری کیا کرتا۔ مگر عام طور پر تو وہ غریب غرباء کی ہی قبریں تعمیر کیا کرتا۔ برفی کا مکان قبرستان میں ہی

Read more

چنگیز خان، عمران خان اور شیشے کا ورلڈ کپ

انیس سو بانوے میں گڈو چوتھی جماعت کا طالب علم تھا یوں تو وہ محض نو سال کا ہی تھا لیکن وہ اپنے آپ کو بہت بڑا اور عقلمند سمجھنے لگا تھا۔ پڑہائی میں بھی میں بھی مناسب تھا اس لیے اس کے کرکٹ کے شوق پہ کوئی پابندی عائد نہیں تھی ۔ دادا اور ابا دونوں ہی اس کے لیے کھیل کا سامان لاتے ۔ یہ ورلڈ کپ یوں بھی اس کی زندگی کا پہلا ورلڈ کپ تھا ۔

Read more

ببل سے ببل گم تک

ببل کی پیدائش ایک عام سے متوسط طبقے کے گھر ہوئ۔ ببل کی ماں نے ببل کا نام ایک فلمی کردار پہ” ببل” رکھا۔ حقیقت میں اسکا نام جمیل آ را تھا۔ اسکول میں وہ اپنی ہم جماعت بچیوں سے اکثر اس با ت پہ ناراضگی کا اظہار کرتی پائی جاتی کہ کوئی اسےببل کے نام سے نہیں پکارتا ۔ بلکہ سب ہی اسے جملو کہتے ۔ جب وہ اسکول کے کاریڈور سے گزرتی تو لڑکیوں کی ٹولی میں سے کوئی

Read more

رینجرز، اسٹیل کے چمچے اور بابا رحمت کے نام ایک اور خط۔

بخدمت جناب عالی شان محترم چیف جسٹس آف پاکستان، السلام علیکم، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ خداوند سے آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ سرکار عالی شان ہر بار طرح اس مرتبہ بھی آپ کو مخاطب کرنے کی جسارت کر رہی ہوں، اور حسب روایت اس دفعہ بھی کچھ قصے عرض کررہی ہوں۔ یہ کچھ برس پرانی بات ہے جب ہم جامعہ کراچی کے طالب علم ہوا کرتے تھے۔ ہر طرف چین ہی چین تھا ۔ پوائنٹس اپنے

Read more

زرداری، بنگالی، بہاری اور بھکاری

یوں تو میری پیدائش بھی کراچی کی ہی ہے، ابھی تک رہائش بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں ہی رہی۔ تعلیم اور کام کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہے کہ ایک عام گھریلو خاتون کے مقابلے میں شہر کے کونے کونے میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے، لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ میں نے پورا کراچی دیکھ لیا ہے۔ میرے دفتر کا راستہ ملیر سٹی کورٹ کے پیچھے کی جانب ہے۔ ریل کی پٹڑی کے نتیجے سے جب میری سواری گزر رہی ہوتی ہے تو وہاں بیٹھے غریب بھکاریوں کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

Read more

بیوٹی پارلر ، کتھک ناچ ، پبلسٹی اور ہیش ٹیگ می ٹو

مشاطہ اور رقاصہ ہر دربار کی ضرورت ہوا کرتی تھیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے بھانڈ میراثی ، بونے، نائی اور خواجہ سرا۔ سب کی اپنی ذمہ داری اور اپنے خاص نوعیت کے کام ہوتے ہیں ۔ اسی طرح قدیم زمانے کے میلے میں ایک دیہاتی سرکس بھی ہوا کرتا تھا۔ اس سرکس کی خاص بات اس میں موجود مختلف نوع کے معذور ہوا کرتے تھے۔ شائد آپ کو بھی ڈرامہ خواہش یاد ہو۔ اس میں” روڑیا” نامی کردار ایک خاص

Read more

قرض اتارو ملک سنوارو: آئیے ڈیم بناتے ہیں

جمرات کی رات ہمارے بچپن میں سب سے بد مزا رات ہوتی۔ ایک تو ٹی چینل صرف دو اوپر سے جب تک جمعرات ویک اینڈ رہا ہم نیلام گھر دیکھنے پہ مجبور پھر ابھی ہم اسکول میں ہی تھے کہ نواز شریف دوسری بار بھی وزیر اعظم بنے اور جمعرات کی جگہ ہفتہ (سنیچر ) ویک اینڈ بنا لیکن ٹی وی چینل وہی دو۔ ایک رات ہم نہایت بیزاری کے عالم میں ٹی وی دیکھ رہے تھے تو جیسے ہی پروگرام کا آغاز ہوا طارق عزیز نے اپنے مخصوص انداز میں وہی رائن ادا کیں جو آج بھی کرتے ہیں۔

”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، اس نے ووٹ مانگے آپ نے ووٹ دیے، اس نے نوٹ مانگے آپ نے نوٹ دیے“، یہ کچھ عجیب سا تھا بالکل نیا۔ آج تک ہم نے ایسا دیکھا نہ تھا کہ پرائم ٹائم پہ بھی حکومت کا اشتہار آ سکتا ہے۔ یوں تو صبح شام ہم اشتہار دیکھنے کے عادی تھے۔ ”قرض اتارو ملک سنوارو پاک وطن کے پیارو سینا چیرو دل نکالو“۔

Read more

بینا کی نابینا لاٹھی

بینا ایک چھوٹے سے قصبے میں انیس سو پچاس میں پیدا ہوا۔ بینا کا نام بینا نہ تھا یہ نام تو معاشرے نے اسے عطا کیا۔ اس کا اصلی نام جو اس کے والد نے اس کی پیدائش پہ رکھا وہ فقیر محمد رکھا تھا۔ بچپن سے اسے اپنے نام سے شدید نفرت تھی۔ اس کے نزدیک یہ نام طوق کی طرح محسوس ہوتا۔ وقت گزرتا گیا فقیر جوان ہوا اس نے بہت محنت سے اپنے نام کو چھوٹا کیا

Read more

آسیہ بی بی اور شاہ رخ جتوئی کے لیے بابا رحمت کے نام ایک اور خط

بنام جناب عالی مرتبہ چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب۔ سرکار بعد از سلام ایک بار دوبارہ عرض ہے، دراصل آپ سے جیسے ہی مخاطب ہوتی ہوں آپ کی پرسنلٹی کے حساب سے کوئی کہانی گھومنے لگتی ہے۔ آپ بھی ماشاءاللہ فنون لطیفہ کے شائق اور میں بھی آپ کو کہانی میں ٹوئسٹ پسند اور مجھے بھی بس فلموں میں سارے کیس تیزی سے چلتے ہیں اور آپ کے پاس محض ہائی پروفائل کیسسز۔ حال ہی میں آپ کے دو

Read more

آسیہ بی بی اور شاہ رخ جتوئی کے لیے بابا رحمت کے نام ایک اور خط

بنام جناب عالی مرتبہ چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب۔ سرکار بعد از سلام دوبارہ عرض ہے، دراصل آپ سے جیسے ہی مخاطب ہوتی ہوں آپ کی پرسنلٹی کے حساب سے کوئی کہانی گھومنے لگتی ہے۔ آپ بھی ماشاءاللہ فنون لطیفہ کے شائق اور میں بھی۔ آپ کو کہانی میں ٹوئسٹ پسند ہے اور مجھے بھی، بس فلموں میں سارے کیس تیزی سے چلتے ہیں اور آپ کے پاس محض ہائی پروفائل کیسسز۔ حال ہی میں آپ کے دو فیصلوں

Read more

پائڈ پائپر، خوفزدہ اساتذہ اور ڈاکٹر مجاہد کامران

گزرے زمانے کا ذکر ہے! ایک چھوٹے سے قصبے میں انسانی آبادی سے زیادہ چوہے آباد تھے۔ وہاں کے لوگوں کی زندگی مشکل ہو گئی تھی۔ گھر کے ہر کونے میں چوہے۔ جوتوں اور ٹوپیوں تک میں چوہے رہا کرتے۔ بچوں کو کاٹتے کھانا کھا جاتے کپڑے چبا جاتے۔ بچے، جوان اور بوڑھے سب ہی چوہوں سے تنگ۔ ہر کوشش کے باوجود چوہے قابو سے باہر۔ ایک روز قصبے کی تمام افراد جلوس کی صورت میں علاقے کے حاکم کہ

Read more

سرکاری کوارٹر، مفت کا چندن

وطن عزیز میں ہمیشہ سے ہی ہر سرکاری چیز ویسے تو عوام کے لئے مال مفت رہی ہی ہے اور مثل مشہور ہے، مال مفت دل بے رحم۔ ہمارا دل مال مفت پر بہت بے رحم ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے قومی مزاج کے حوالے سے سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اب ذرا غور سے اس شہر کراچی کو دیکھئے اور تحقیق کیجئے کہ کہاں کہاں سرکاری کوارٹرز موجود ہیں اور لوگوں نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے۔ جہانگیر

Read more

جامعہ کراچی کے اساتذہ تر نوالہ کیوں؟

اس واقعے کو کافی عرصہ گزر گیا، اس لئے قارئین کو یاد دلا دیں کہ اس شہر کے ایک پارک میں رینجرز کے کچھ اہلکاروں نے ایک لڑکے کو کھڑا کر کے گولی مار دی تھی۔ اس واقعے کی ایک ٹی وی چینل نے عکس بندی کر لی تھی کیونکہ اتفاق سے وہ اس سانحے کے وقت اس پارک میں کسی پروگرام کی ریکارڈنگ کر رہے تھے۔ بس یہ منظر جب ذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگا تو قیامت ہی آ

Read more

مملکت خداداد پاکستان اور مقدس عدالتیں

پاکستان انیس سو سینتالیس میں معرضِ وجود میں آیا۔ ہم سبھی جانتے ہیں۔ جب سے لے کر آج تک یہاں اصولوں کو بنایا جاتا ہے، بلکہ نہیں اصولوں کو بنایا نہیں جاتا، بنے بنائے اصولوں کو چلایا جاتا ہے۔ یعنی وہی قوانین جو برٹش انڈیا کے دور میں گورے نے بنائے وہی رواں دواں ہیں۔ قوانین کا احترام ہر پاکستانی شہری پے فرض ہے۔ اگر وہ اصول اور قوانین توڑے تو اس پہ سزا کی حد لگے گی، رنگ، نسل،

Read more

میرا کتا مجھ سے خفا ہے

محترمہ بانو قدسیہ صاحبہ کی شہرہ آفاق کتاب راجہ گدھ میں جانوروں کی مجلسِ شوریٰ دکھائی گئی ہے۔ اس ناول میں دو کہانیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ ایک کہانی شہر کی ہے دوسری جنگل کی۔ جنگل میں ایک مقدمہ چل رہا ہے جو گدھ کے خلاف ہے۔ سارے جانور ایک طرف اور غریب گدھ برادری ایک طرف۔ آج کے فیصلے کو سنے کے بعد سے مسلسل راجہ گدھ دوبارہ پڑھنے کو دل چاہ رہا ہے۔ سارے جانور مل کر

Read more

محترم عمار مسعود کا جیل کی دنیا میں پہلا قدم!

عمار مسعود صاحب نے بڑے ہی دکھ سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی تفصیل بیان کی ہے۔ کہ وہ کتنا پیدل چلے پھر کہاں ان کا اور ان کے ساتھیوں کا موبائل جمع ہوئے، رجسٹر میں اندراج اور اس کے بعد دھوپ میں انتظار کرنا پڑا پھر پرچی اندر گئی اور وہ ایک انتظار گاہ میں ایک مریل پنکھے کے نیچے کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ سوال یہ ہے کہ تین بار وزیر اعظم بنے

Read more

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی اور سرمایہ دارانہ نظام کے گماشتے "نجی ٹی وی چینلز”

سن انیس سو اکتالیس میں ہالی وڈ میں Frank Capra نے ایک فلم بنائی جسکا نام ہے۔۔ “Meet John Doe ” اس فلم کا ہندی ورژن سن 1989 میں جاوید اختر نے ” میں آزاد ہوں” کے نام سے ہندوستانی پسمنظر میں تحریر کیا۔ یہ کہانی مارکسسٹ نظریہ پہ مبنی ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ کل شب جس وقت میں یہ فلم دیکھ رہی تھی تو زہن میں کچھ سوال ابھرے اور پھر انکے جواب بھی ، لیکن بات

Read more

کراچی والے اور ڈھاکہ

میں کراچی والی ہوں ! جی ہاں مجھے اپنے کراچی والے ہونے پہ بہت فخر ہے۔ کراچی والے اپنے آپ کو کراچی والا کہنے پہ بہت حد تک مجبور بھی ہیں، کیونکہ جب کراچی والوں کو کراچی میں بسایا گیا تو کراچی دارلخلافہ تھا، لیکن پاکستان کے پہلے ڈکٹیٹر نے فساد کا بیج بویا اور ایک نئے ملک کو ایک نیا دارلخلافہ عطا کیا۔ حال ہی میں دو روز کے لئے اسلام آباد جانا ہوا ، واپسی پر ٹیکسی سے

Read more

بابا رحمتے کے نام دوسرا مراسلہ

بنام محترم جناب عالی قدر چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار صاحب، بعد از سلام عرض یہ ہے کہ آپ کے حضور دوسرا خط لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں، اس امید پر کہ سرکاری اس بار ہم عام لوگوں کی بات کو تھوڑی سی توجہ دیں تو بڑی ہی عنایت ہوگی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک میں کہانی نہ سناؤں بات شروع نہیں کر پاتی، اب آپ کیونکہ فنون لطیفہ کے دلدادہ ہیں تو اسی مناسبت سے

Read more

ابو کے جوتے پہن کر انتخاب لڑنا

آج ناجانے کیوں زمانوں کے بعد ابو کی مری بگٹی چپل بار بار یاد آ رہی ہے۔ جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا ہے علاقائی اشیاء بھی مخصوص علاقوں کی محتاج نہیں رہی ہیں۔ ایک زمانے تک جو چیز جہان کی ہوتی وہ اس علاقے کی خصوصی سوغات کی طور پہ لی جاتی، اور مخصوص جگہ کے علاؤہ کہیں اور نہ ملتی۔ ہمارے ابو کیونکہ پی ٹی وی میں نیوز پروڈیوسر تھے اس لیے وہ پاکستان کے کونے کھدروں میں

Read more

اساتذہ، جنسی ہراسانی کا معمہ اور عہد حاضر کی ”ہیرا منڈی“

معمے بڑی عجیب چیز ہوتے ہیں،انسان اگر اُن میں الجھ جائے تو اسے اُس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک وہ اِن کو حل نہ کر لے۔ اب معمے، پہیلیاں ہیں بھی کئی اقسام کی۔ اہل پاکستان ابھی تک لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو نہیں جان پائے۔ اہل امریکا کئی دہائیوں سے معروف زاڈویک(Zodliac)  سیرئل کلر کے معمے کے حل کی تلاش میں ہیں۔۔ یہ سوال بھی لاینحل ہے کہ کینیڈا کے ساحلوں پر

Read more

بابا رحمت کے نام خصوصی مراسلہ

بنام محترم جناب عالی قدر چیف جسٹس آف پاکستان، بعد از سلام مسنونہ، عرض یہ ہے کہ میں آپ کو آج اپنے پرنانا کی کہانی سنانا چاہتی ہوں۔ سرکار چھوٹا منہ اور بڑی بات والا معاملہ ہے، لیکن بچپن سے ہی کہانی بنانا اور سنانا میرا مشغلہ ہے۔ اس لیے جسارت کر رہی ہوں۔ انیسویں صدی کے اواخر میں ایک بچےسید  ولی اللہ نے صوبہ بہار کے چھوٹے سے قصبے”گیا” میں جنم لیا، جی یہ وہی گیا ہے جہا ں

Read more

جنسی ہراسانی کا طلسم اور اکیسویں صدی کی جادوگرنیاں

  ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک گھرانہ آباد تھا، میاں بیوی اور چار بچے۔ جوڑے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کچھ بھی خاص نہ تھا۔ شوہر پیشے کا مالشیہ تھا، اس کا قد سات فٹ اور ماتھے پر گومڑ، چھدری داڑھی رنگت بھوسلی آنکھیں بھینگی۔ بیوی کا قد پانچ فٹ، جسم بے ڈول رنگت گہری بال پیلے، آنکھیں چھوٹی اور گڑھوں میں دھنسی ہوئی، ناک ٹیڑھی، اور چھرے پہ چیچک کے

Read more

گلی گلی میں ہے یہ پکار شہزادے کے گدھے کے کان

آؤ بچوں سنو کہانی ! ایک تھا راجہ ایک تھی رانی۔ راجہ بیٹھا  بین بجائے۔ رانی گانا گاتی جاے۔ نوکر لے کر حلوہ آیا۔ طوطے کا بھی جی للچایا۔ نوکر حلوہ کھاتا جائے۔ طوطا شور مچاتا جائے ۔ راجہ بین بجاتا جائے۔ رانی گانا گاتی جائے ۔۔۔۔ آج ناجانے کیوں کے جی میں پڑھی یہ نظم بہت یاد آ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ نظم عمران خان، ریحام خان، سلمان احمد اور حمزہ علی عباسی کے لیے تحریر

Read more

 ہماری این جی اوز اور بیچارے سی کلاس قیدی

جب بھی کبھی کسی علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں وہ کسی ایک شخص، ایک گھر یا محلہ تک نہیں رکتے ۔ وہ  ایک طویل پٹی کو متاثر کرتے ہیں ، سن 2005 کا زلزلہ میری زندگی یا میری یاداشت کا پہلا زلزلہ تھا، جب زلزلے کی خبر آئی ہماری کلاس نے اسے ایک لطیفہ سمجھا، گھر آکے معلوم ہوا کہ قیامت آ چکی ہے ۔  لوگ بدحواس ہیں موبائل کے نیٹ ورک نہیں آ رہے۔ لیکن

Read more

میں نامرد عورت ہوں!

میں ایک عورت ہوں۔ جی ہاں میں واقعی عورت ہوں! اپنی پیدائش سے لے کر آج تک میں نے اپنے عورت ہونے کے بے شمار فوائد حاصل کئے، جب میں چھوٹی تھی تو بھی گھر کے وہ سارے کام جن میں زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی تھی وہ میں نے کبھی نہ کیے۔ نہ ہی مجھ پر باہر کے کاموں کی زمہ داری ڈالی گئی۔ اسی طرح جیسے جیسے وقت گزرتا گیا میرے سر پر feminism کا بخار چڑھتا گیا،

Read more

می ٹو وائرس کا میشا شفیع پر حملہ

دو ماہ قبل میری ایک تحریر“ می ٹو وائرس کا حرم پاک پر حملہ“ کے نام سے ہم سب پہ شایع ہوی، میری وہ تحریر می ٹو کے خلاف تھی۔ اس مختصر سے بلاگ پر اس قدر ذاتی قسم کی تنقید آئی کہ یوں محسوس ہوا اگر ان تمام لوگوں کا بس چلے تو کم از کم ایک، ایک تماچہ تو سب ضرور مارتے۔ یا جیسے اراکان حج میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں اس طرح میرے اوپر کنکریاں مارتے،

Read more