اور اب جنوبی پنجاب کے نام پر شہباز شریف کی سیاست…
اس کی ایک ہی وجہ بیان کی جا سکتی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے حال ہی میں نیب میں جاری مقدمات کے حوالے سے مشاورت کی ہے اور سوموار کو نواز شریف کے خلاف دو ریفرنسز میں غیر موافق فیصلہ آنے کی صورت میں عوامی رابطہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت آئینی حکمرانی اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے اصولوں پر سیاست کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کررہی ہے۔ اس صورت میں اسے کسی بھی عوامی رابطہ مہم کے لئے بعض ایسے سیاسی معاملات کی ضرورت ہوگی جن سے عوام جذباتی طور سے وابستہ ہوں۔ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا معاملہ ایسی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ پیچیدہ اور مشکل ہے۔ پنجاب کے مختلف علاقوں کے علاوہ سندھ میں کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کا آئین چونکہ وفاقی ہے جس میں تمام صوبائی اکائیوں کو سینیٹ میں مساوی نمایندگی دی گئی ہے۔ اگر پنجاب میں ایک یا اس سے زیادہ صوبے قائم ہوتے ہیں تو صرف صوبے کی ساخت ہی تبدیل نہیں ہو گی بلکہ سینیٹ میں بھی نئے صوبوں کو مساوی نمائیندگی دینے کا سوال پیدا ہوگا۔
موجودہ پنجاب کے تین صوبے بننے کی صورت میں اگر سینیٹ میں اس خطہ کو موجودہ 25 کی بجائے 75 نشستیں حاصل ہوگئیں تو سینیٹ کی نشستوں کو ایک سو سے بڑھا کر ڈیڑھ سو کرنے کے باوجود موجودہ پنجاب سے کے علاقے کو ایوان بالا میں نصف نشستیں حاصل ہو جائیں گی۔ اس صورت حال کا باقی صوبوں کی سیاست پر گہرا اثر مرتب ہوگا۔ عام طور سے سندھ سمیت باقی سب چھوٹے صوبے پنجاب کو اپنے مسائل کا سبب قرار دیتے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے اور اور اس خطہ کے لوگوں نے خود کو بیورو کریسی اور فوج میں نمائیندگی کی بنیاد پر دوسرے صوبوں پر مسلط کیا ہؤا ہے۔
نئے صوبوں کا قیام ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ ملک میں نئے صوبے بنانے سے عوام کو مقامی سطح پر انتظامی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ بائیس کروڑ آبادی کے ملک کو بہتر انتظام میسر آسکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر مباحث اور معلومات کی فراہمی کے ذریعے رائے بنانا اور عوام کو آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔ ماضی قریب سے لے کر اب تک سیاسی جماعتیں اس سوال پر سیاست تو کرتی رہی ہیں لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہوم ورک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صوبوں کو وسائل اور اختیارات کا معاملہ پاکستان میں شروع سے وجہ نزاع بنا رہا ہے۔ جب موجودہ صوبوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی تقسیم پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے تو ایک یا دو نئے صوبے بننے سے سامنے آنے والے چیلنجز سے کیسے نمٹا جائے گا۔ کوئی سیاسی لیڈر یا پارٹی اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔
شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں یہ بھی کہا ہے کہ ان کی پارٹی پنجاب کی انتظامی تقسیم کے لئے تجویز پیش کرے گی۔ حکومت کو اس تجویز کی حمایت کرکے انتخابات میں عوام سے کیے گئے وعدہ کو پورا کرنا چاہیے۔ حیرت ہے کہ پنجاب میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے جو کام مسلم لیگ (ن) خود طویل عرصہ تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کرنے میں ناکام رہی ہے، اب وہ تحریک انصاف کے کندھے پر بندق رکھ کر کرنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر نے پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے جو اشارے دیے ہیں ان کے مطابق سابق بہاولپور کو علیحدہ صوبہ بنانے کے علاوہ سرائیکی بیلٹ پر مشتمل اضلاع کا ایک نیا صوبہ بنانے کی تجویز سامنے لائی جائے گی۔
اس قسم کی تجویز سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے، مزید اختلاف اور سیاسی انتشار پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔ جنوبی پنجاب کے حامی ریاست بہاولپور کے علاقوں کو اپنے مجوزہ صوبہ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس سے بھی واضح ہو تا ہے کہ شہباز شریف کسی عوامی مطالبہ کی تکمیل کے لئے فن تقریر کو استعمال نہیں کررہے بلکہ وہ پنجاب کی تقسیم کے سوال پر ایک طرف خود کوئی مقبول سیاسی نعرہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف اس بنیاد پر حکمران جماعت اور اتحاد میں افتراق پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
اہم اور دیرنہ سیاسی مطالبات کے ساتھ اختیار کیا جانے والا یہ رویہ خواہ کسی لیڈر یا جماعت کی طرف سے سامنے آئے اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ پنجاب میں نئے صوبے قائم کرنے کے لئے سیاسی اتفاق رائے سے پہلے عوامی رائے ہموار کرنے اور وہ اصول طے کرنے کی ضرورت ہے جن کی بنیاد پر نئے صوبے قائم ہوں گے۔ یہ تفہیم پیدا کرنے سے پہلے صوبے بنانے کی سب باتیں سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔

