جانور راج- قیادت کے لئے کھانے پینے کی اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

البتہ، تعلیمِ بالغاں کی جماعتیں بہت کامیاب رہیں۔ خزاں کی آمد تک، باڑے کا ہر جانور کسی نہ کسی حد تک خواندہ ہو ہی گیا۔ جہاں تک سوؤروں کا تعلق ہے وہ تو پہلے ہی بڑے پڑھے لکھے تھے۔ کتوں نے بھی خوب پڑھنا سیکھ لیا مگر انہیں، سات نکات کے علاوہ کچھ بھی پڑھنے میں کچھ خاص دلچسپی نہ تھی۔

میوریل بکری، کتوں سے کچھ بہتر پڑھ لیتی تھی اور کبھی کبھار دوسروں کو اخباروں کے وہ ٹوٹے پڑھ کے سناتی تھی جو اسے کوڑی پہ ملے۔ بنجامن گدھا، کسی بھی سؤر کی طرح پڑھ سکتا تھا لیکن اس نے اپنی یہ صلاحیت کبھی استعمال نہ کی۔ وہ کہتا، اس کے نزدیک کچھ بھی پڑھنے کے قابل نہ تھا۔ کلوور نے تمام حروفِ تہجی یاد کر لئے، لیکن جوڑ کر الفاظ نہیں بنا سکتی تھی۔ باکسر، حرف ’د‘ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ وہ اپنے بڑے سے کھر سے خاک پہ ’ا، ب، ج، د‘ لکھتا پھر کبھی کنوتیاں کسے انہیں گھورا کرتا، کبھی اپنے ماتھے پہ آئی ایال جھلاتا اور اپنی پوری قوت سے کوشش کرتا کہ یاد آجائے آگے کیا ہے؟ مگر کبھی کامیاب نہ ہوا۔

بہت سے مواقع پہ، اس نے، ج، چ، ح، خ بھی یاد کیے۔ مگر جب تک وہ انہیں رٹتا، اسے، ’ا، ب، ج، د‘ ، بھول چکے ہوتے۔ آخر کار اس نے ابجد پہ قناعت کی ٹھانی اور وہ دن میں ایک یا دو بار انہیں لکھ کر پکا کرتا تھا۔ مولی، نے اپنے نام کے چارحروف کے سوا کچھ بھی یاد کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ نہایت نفاست سے، ڈالیوں سے اپنا نام لکھتی، اور پھر ایک یا دو پھولوں سے سجا کے اسے سراہتے ہوئے اس کا طواف کرتی۔ باڑے کے باقی کسی بھی جانور نے الف، ’آم‘ سے آگے پڑھ کے نہ دیا۔ یہ پتا چلا کہ احمق جانور جیسا کہ بھیڑیں، مرغیاں اور بطخیں، سات نکات بھی زبانی یاد نہیں کر سکتے۔

بہت سوچ بچار کے بعد، سنو بال نے اعلان کیا کہ سات نکات کو ایک واحد نعرے میں سمویا جاسکتا ہے، یعنی، ’چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں‘ ۔ یہ، اس نے کہا کہ حیوانیت کے حقیقی اصول کا حامل ہے۔ جو کوئی اسے مکمل طور پہ سمجھ لے گا، انسان کے شر سے محفوظ رہے گا۔ پرندوں نے پہلے تو احتجاج کیا کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی بھی دو لاتیں ہیں مگر سنو بال نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہے۔

” ایک پرندے کے پر کامریڈز“ اس نے کہا، ”اڑنے کا عضو ہے نہ کہ جوڑ توڑ کا؟ تو اسے، لات ہی سمجھا جائے۔ انسان کا امتیازی نشان ’ہاتھ‘ ہے، وہ ہتھیار جس سے وہ سارا شر پھیلاتا ہے۔“

پرندوں کو سنو بال کی طولانی تقریر تو سمجھ نہ آئی مگر انہوں نے اس کی وضاحت کو قبول کر لیا اور تمام بھولے جانور، نئے نعرے کو رٹنے میں جت گئے۔ ’چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں‘ ، گودام کی آخری دیوار پہ سات نکات سے اوپر مزید جلی حروف میں لکھ دیا گیا۔ جب ایک بار انہوں نے اسے رٹ لیا تو بھیڑوں کو یہ قول ایسا بھایا کہ اکثر جب وہ کھیتوں میں سستا رہی ہوتی تھیں تو سب کی سب اکٹھی ممیانا شروع کردیتی تھیں، ’چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں! چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں‘ اور گھنٹوں تک بنا اکتائے دہرائے چلی جاتی تھیں۔

نپولین نے، سنو بال کی کمیٹیوں میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ اس نے کہا کہ بچوں کی تعلیم بڑوں کے لئے کیے جانے والے کسی بھی اقدام سے زیادہ اہم ہے۔ ایسا ہوا کہ، جیسی اور بلیو بیل، دونوں ہی نے جئی کے کٹتے ہی نو اور دس صحت مند، پلوں کو جنم دیا۔ جوں ہی ان کا دودھ چھٹا، نپولین یہ کہتے ہوئے انہیں ان کی ماؤں سے دور لے گیا کہ وہ ان کی تعلیم کا ذمہ دارہے۔ وہ انہیں ساز و رخت رکھنے کے کمرے کی ایک ایک مچان پہ لے گیا جس تک ایک بانس کی سیڑھی سے ہی پہنچا جا سکتا تھا اور انہیں ایسا گوشہ گیر کیا کہ جلد ہی باقی باڑہ ان کے وجود ہی سے غافل ہو گیا۔

دودھ کے غیاب کا اسرار بھی جلد ہی عیاں ہو گیا۔ یہ روزانہ سوؤروں کے راتب میں ڈالا جاتا تھا۔ سیب کی اگیتی فصل پکنے کو تھی اور پھلوں کے باغ کی گھاس، ٹپکے کے سیبوں سے بھری پڑی تھی۔ جانوروں نے فرض کر لیا تھا کہ اصولی طور پہ یہ سب میں برابر تقسیم ہو جائیں گے ؛ مگر ایک روز حکم آیا کہ یہ سب ٹپکے کے سیب اکٹھے کر کے سؤروں کے لئے ساز و رخت رکھنے کے کمرے میں پہنچا دیے جائیں۔ اس پہ کچھ جانوروں نے کھسر پھسر کی، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ تمام سؤروں کا اس نکتے پہ مکمل اتفاق تھا یہاں تک کہ سنو بال اور نپولین بھی متفق تھے۔ چیخم چاخ کو دوسروں کو وضاحت دینے کے لئے بھیجا گیا۔

’ کامریڈز!‘ وہ چلایا۔ ’مجھے امید ہے کہ تم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ہم سؤر یہ، خود غرضی کے تحت اور کسی طرح کا استحقاق جتانے کے لئے کر رہے ہیں؟ ہم میں سے اکثر کو تو دودھ اور سیب پسند بھی نہیں۔ میں خود انہیں نا پسند کرتا ہوں۔ ان اشیاء کو استعمال کرنے کا ہمارا واحد مقصد اپنی صحت بر قرار رکھنا ہے۔ دودھ اور سیب، یہ تو سائنس ثابت کر چکی ہے کامریڈز، میں وہ اجزأ پائے جاتے ہیں جو سوؤروں کی صحت قائم رکھتے ہیں۔ ہم سؤر دماغی کام کرتے ہیں۔ اس باڑے کی تمام تر تنظیم اور بندو بست ہم پہ منحصر ہے۔ ہم دن رات آپ کی فلاح و بہبود میں مصروف ہیں۔ یہ آ پ ہی کی خاطرہے کہ ہم وہ دودھ پیتے اور یہ سیب کھاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر ہم سؤر اپنے فرائض میں ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا؟ آدم جانی دوبارہ آ گھسے گا! ہاں، جانی صاحب دوبارہ آ جائے گا! سچ مچ کامریڈز!‘ چیخم چاخ چلایا، جیسے وکالت کر رہا ہو، دم ہل رہی تھی اور ادھر سے ادھر پھدک رہا تھا۔ ’ یقیناًتم میں سے کوئی بھی جانی صاحب کو واپس آتے نہیں دیکھنا چاہتا؟ ‘

اب اگر کسی بھی بات پہ جانوروں کو یقین کامل تھا تو وہ یہ کہ وہ جانی کوواپس نہیں لانا چاہتے تھے۔ جب یہ سب ان کے سامنے اس روشنی میں پیش کیا گیا تو ان کے پاس کہنے کومزید کچھ نہیں رہ گیا۔ سؤروں کو صحت مند رکھنا بہت واضح ہو گیا۔ چنانچہ مزید بحث کے بغیر یہ مان لیا گیا کہ دودھ اور ٹپکے کے سیب ( اور سیبوں کی ساری فصل بھی جب وہ پک گئی ) صرف سؤروں کے لئے مخصوص ہو نی چاہیے۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: ”اب سب جانور کامریڈز ہیں“۔جانور راج! تبدیلی کی ہوا چل پڑی
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •