جانور راج: روفے جٹ کی دغا بازی

This entry is part 23 of 23 in the series جانور راج

موسم خزاں میں تھکا دینے والی، سخت مشقت کے بعد ( کیونکہ ساتھ کے ساتھ کٹائی بھی جاری تھی ) پون چکی مکمل ہو ہی گئی۔ مشین ابھی لگنے والی تھی اور جناب نوید مسرت اس کی خرید کے لئے بات چیت کر رہے تھے، مگر عمارت بن چکی تھی۔ ہر مشکل، ناتجربہ کاری، پہلا پہلا کار، بد نصیبی اور سنو بال کی حرمزدگی کے باوجود، کام عین مقررہ دن پہ مکمل ہوا! تھکن سے چور مگر سرخرو، جانور اپنے شاہکار کا طواف پہ طواف کرتے رہے جو کہ ان کی نظروں میں اس سے زیادہ خوبصورت تھا جو انہوں نے پہلے بنایا تھا۔ مزید برآں دیواریں پہلے سے دوگنی موٹی تھیں۔ بم سے ہلکی کوئی شے اس بار ان کی محنت کو مٹی میں نہیں ملا سکتی تھی۔

Read more

جانور راج! ”مرگ بر انسان“ سے ”مرگ بر روفا جٹ“ تک

This entry is part 22 of 23 in the series جانور راج

نپولین کو یہ نظم بھائی اور اس نے اسے بڑے گودام کی دیوار پہ سات نکات سے بالکل پرلے سرے پہ لکھنے کا کہا۔ اس سے اوپر چیخم چاخ نے نپولین کی رسمی لباس میں تصویر، سفید روغن سے بنائی۔

اسی دوران، جناب نویدِ مسرت کی وساطت سے، نپولین مسٹر اللہ دتہ اور روفے جٹ کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات میں مصروف رہا۔ لکڑیوں کا ڈھیر ابھی تک نہ بکا تھا۔ دونوں میں سے روفا جٹ، اسے حاصل کرنے کا زیادہ خواہش مند تھا، مگر وہ اچھی قیمت نہیں دیتا تھا۔ اسی موقعے پہ یہ افواہ بھی اڑ رہی تھی کہ روفا جٹ اور اس کے گرگے، جانوروں کے باڑے پہ حملہ کرنا اور پون چکی کو ڈھانا چاہتے تھے کیونکہ اس کی تعمیر نے اسے جلا جلا کر خاک کر دیا تھا۔

Read more

جانور راج: عظیم لیڈر نپولین

This entry is part 21 of 23 in the series جانور راج

چند روز بعد، جب گردن زدنیوں سے پھیلی دہشت، ختم ہوئی، کچھ جانوروں کو یاد آیا، یا انہیں لگا کہ انہیں یاد آیا کہ چھٹا نکتہ یہ کہتا تھا، ”کوئی بھی جانور، کسی بھی جانور کو قتل نہ کرے“۔ اور گو کہ کسی نے یہ بات سؤروں اورکتوں کے کان میں ڈالنے کی ضرورت محسوس نہ کی، مگر یہ لگا کہ جو ہلاکتیں کی گئی ہیں وہ اس کے ساتھ لگا نہیں کھاتیں۔ کلوور نے بنجامن گدھے سے کہا کہ اسے چھٹا نکتہ پڑھ کر سنائے۔ اور جب بنجامن نے ہمیشہ کی طرح کہا کہ وہ ان معاملوں میں نہیں پڑنا چاہتا، وہ میوریل بکری کو لے آئی۔

Read more

جانور راج: انقلاب دشمنوں کا قتل اور آزادی اظہار پر پابندی

This entry is part 20 of 23 in the series جانور راج

نپولین نے سنجیدگی سے کھڑے ہو کے اپنے سامعین کا جائزہ کیا؛ پھر اس نے ایک کریہہ اور عنیف، عف عف بلند کی۔ اچانک ہی کتے آگے جھپٹے اور چار سؤروں کو کان سے پکڑ ا، درد اور دہشت سے چلاتے ان سؤروں کو گھسیٹتے ہوئے نپولین کے قدموں میں لا ڈھیر کیا۔ سؤروں کے کانوں سے خون بہہ رہا تھا اور کتوں کے منہ کو خون لگا چند ثانیوں کے لئے وہ ہلکا (پاگل) سے گئے۔ سب کو ششدر کرتے ہوئے ان میں سے تین، باکسر پہ جھپٹے۔ باکسر نے انہیں جھپٹتے ہوئے دیکھا اور اپنا جسیم کھر لہرایا، ایک کتے کو ہوا ہی میں جالیا اور زمین چٹائی۔

Read more

جانور راج: باکسر کا اختلاف اور چیخم چاخ کا کینہ

This entry is part 19 of 23 in the series جانور راج

یہ بات ہضم کرنے میں مگرانہیں کچھ وقت لگا۔ ان سبھوں کو یاد تھا یا پھر انہیں لگا کہ انہیں یاد تھا کہ کیسے سنو بال ان سے آگے، بڑھ کے حملہ کر رہا تھا اور کیسے اس نے ہر موقعے پر انہیں مجتمع کیا اور بڑھاوا دیا اور کس طرح وہ ایک لحظے کو بھی نہ تھما حتیٰ کہ جانی صاحب کی بندوق کے چھروں نے اس کی پشت کو گھائل کر دیا تب بھی۔ شروع میں یہ سمجھنا مشکل تھا کہ یہ سب اس کے جانی صاحب کے ساتھ ہونے کے کھانچے میں کیسے بیٹھتا ہے۔ حد یہ کہ باکسر جو کہ شاذ ہی سوال کرتا تھا، گڑبڑا گیا۔ وہ اپنے کھر جسم تلے سمیٹ کے دراز ہوا، آنکھیں موندیں اور بڑی مشقت سے اپنی سوچوں کو مجتمع کیا۔

Read more

جانور راج: سنوبال کی سازشیں

This entry is part 18 of 23 in the series جانور راج

جانی صاحب کے نکلنے کے بعد پہلی بار کچھ ایسا ہوا جو انقلاب جیسا ہی تھا۔ تین کالی اصیل مرغیوں کی سرکردگی میں مرغیوں نے نپولین کی خواہشوں کا تیا پانچہ کرنے کے لئے بہت جم کے کوشش کی۔ ان کا طریقۂ کاریہ تھا کہ وہ اڑ کر شہتیروں تک جاتیں اور وہاں بیٹھ کر انڈا دیتیں جو فرش پہ گر کے، ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ نپولین نے سرعت اور سفاکی سے قدم اٹھایا۔ اس نے مرغیوں کا دانہ بند کردیا اور حکم دیا کہ اگر کوئی جانور انہیں مکئی کا ایک دانہ بھی دیتا ہوا پایا گیا تو اس کی گردن مار دی جائے گی۔

Read more

جانور راج: معاشی بحران اور مرغیوں کے انڈے

This entry is part 17 of 23 in the series جانور راج

بڑی ہی سخت جاڑا تھا۔ طوفانی آندھیوں کے بعد، اولے اور برف پڑتی رہی اور پھر بڑا بھاری کہرہ، جو فروری تک چھایا رہا۔ جانور جس حد تک کر سکتے تھے، پون چکی کی تعمیر میں جتے رہے، جانتے تھے کہ باہر کی دنیا دیکھ رہی ہے اور حاسد انسان چکی کے وقت سر تعمیر نہ ہونے پہ خوش ہو ں گے۔

Read more

جانور راج: پون چکی کی تباہی

This entry is part 16 of 23 in the series جانور راج

یہ ہی وہ وقت تھا جب سؤر، رہائشی عمارتوں میں جابسے۔ جانوروں کو ایک بار پھر ایسا لگا کہ شروع میں اس کے خلاف بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی اور ایک بار پھر چیخم چاخ انہیں یہ سمجھانے میں کامیاب رہا کہ معاملہ یہ نہیں تھا۔ یہ بے حد ضروری تھا کہ سؤروں کو، اس نے کہا، جو کہ باڑے کا دماغ ہیں، کام کرنے کو ایک پر سکون جگہ ملے۔ یہ ’لیڈر‘ کی عظمت کو خاص تھا (کچھ عرصے سے اس نے نپولین کو ’لیڈر‘ کے خطاب سے پکارنا شروع کر دیا تھا) کہ وہ سؤروں کے باڑے کی بجائے مکان میں رہے۔

Read more

جانور راج: انسانوں سے تجارت کی شروعات

This entry is part 15 of 23 in the series جانور راج

ایک اتوار کی صبح، جب جانور اپنے احکامات وصول کرنے کے لئے جمع ہوئے تو نپولین نے اعلان کیا کہ اس نے ایک پالیسی وضع کی ہے۔ اب سے جانوروں کا باڑہ، پڑوس کے باڑوں کے ساتھ تجارت، کیا کرے گا:ظاہر ہے کمانے کے مقصد سے نہیں، بس کچھ ایسی اشیاء کے حصول کے لئے جو کہ ازحد ضروری تھیں۔ پون چکی کی اہمیت، ہر ایک شے سے سوأ ہونی چاہییے، اس نے کہا۔ چنانچہ، وہ، توڑی کی ایک دھڑ، اور اس سال کی گندم میں سے کچھ حصہ بیچنے کی بات چیت کر رہا ہے۔ اگر مزید رقم درکار ہوئی تو وہ انڈوں کی فروخت سے پوری کی جائے گی جن کی ڈھپئی میں ہمیشہ ہی بڑی مانگ رہی ہے۔ مرغیوں کو یہ قربانی، پون چکی کی تعمیر میں اپنا حصہ سمجھ کے قبول کرنی چاہیے، نپولین نے کہا۔

Read more

جانور راج! کرپٹ انسانوں سے نجات کے بعد

This entry is part 14 of 23 in the series جانور راج

اس پورے برس، جانوروں نے غلاموں کی طرح بیگار کاٹی۔ مگر وہ اپنے کام میں خوش تھے ؛ انہیں اپنی کاوشوں اور قربانیوں کا کوئی ملال نہ تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ یا تو ان کے بھلے کے لئے ہے یا ان کے بعد آنے والے ان ہی جیسوں کے لئے، نا کہ نکمے، اچکے، کرپٹ انسان نامی گروہ کے لئے۔

Read more