جانور راج! مت کیجیو اعتبار ہستی، ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ آخری قسط
گرمیوں کے اوائل میں ایک روز، چیخم چاخ نے بھیڑوں کو اپنے پیچھے آنے کا کہا اور انہیں، فارم کے آخری حصے میں ایک اجاڑ قطعۂ زمین کی طرف لے گیا، جہاں سفیدے کے خود رو پودے تھے۔ بھیڑوں نے پورا دن چیخم چاخ کی نگرانی میں ان کے پتوں کو چرتے گزارا۔ شام کو وہ خود تو فارم ہاؤس لوٹ آیا مگر چونکہ موسم گرم تھا، اس لئے بھیڑوں کو وہیں رکنے کو کہا۔ یہ قیام کہیں ایک ہفتے میں جا کے تمام ہوا، جس کے دوران کسی جانور نے ان کو نہ دیکھا۔ چیخم چاخ ہی دن کا بڑا حصہ ان کے ساتھ گزارتا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ ان کو ایک نیا ترانہ سکھا رہا تھا، جس کے لئے رازداری ضروری تھی۔
یہ، بھیڑوں کے واپس آنے کے فوراً بعد کی ایک خوشگوار شام تھی جب، جانور کام سے فارغ ہو کے باڑے کو لوٹ رہے تھے کہ احاطے کی طرف سے ایک گھوڑے کی خوفزدہ ہنہناہٹ سنائی دی۔ چوکنے جانور اپنے قدموں پہ ساکت ہو گئے۔ یہ کلوور کی آواز تھی۔ وہ دوبارہ ہنہنائی اور تمام جانور، دڑکی لگا کر احاطے میں گھسے۔ تب انہوں نے وہ دیکھا جو کلوور دیکھ چکی تھی۔
یہ ایک سؤر تھا جو اپنی پچھلی دو ٹانگوں پہ چل رہا تھا۔







