جانور راج: معاشی بحران اور مرغیوں کے انڈے

This entry is part 17 of 17 in the series جانور راج

بڑی ہی سخت جاڑا تھا۔ طوفانی آندھیوں کے بعد، اولے اور برف پڑتی رہی اور پھر بڑا بھاری کہرہ، جو فروری تک چھایا رہا۔ جانور جس حد تک کر سکتے تھے، پون چکی کی تعمیر میں جتے رہے، جانتے تھے کہ باہر کی دنیا دیکھ رہی ہے اور حاسد انسان چکی کے وقت سر تعمیر نہ ہونے پہ خوش ہو ں گے۔

Read more

جانور راج: پون چکی کی تباہی

This entry is part 16 of 17 in the series جانور راج

یہ ہی وہ وقت تھا جب سؤر، رہائشی عمارتوں میں جابسے۔ جانوروں کو ایک بار پھر ایسا لگا کہ شروع میں اس کے خلاف بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی اور ایک بار پھر چیخم چاخ انہیں یہ سمجھانے میں کامیاب رہا کہ معاملہ یہ نہیں تھا۔ یہ بے حد ضروری تھا کہ سؤروں کو، اس نے کہا، جو کہ باڑے کا دماغ ہیں، کام کرنے کو ایک پر سکون جگہ ملے۔ یہ ’لیڈر‘ کی عظمت کو خاص تھا (کچھ عرصے سے اس نے نپولین کو ’لیڈر‘ کے خطاب سے پکارنا شروع کر دیا تھا) کہ وہ سؤروں کے باڑے کی بجائے مکان میں رہے۔

Read more

جانور راج: انسانوں سے تجارت کی شروعات

This entry is part 15 of 17 in the series جانور راج

ایک اتوار کی صبح، جب جانور اپنے احکامات وصول کرنے کے لئے جمع ہوئے تو نپولین نے اعلان کیا کہ اس نے ایک پالیسی وضع کی ہے۔ اب سے جانوروں کا باڑہ، پڑوس کے باڑوں کے ساتھ تجارت، کیا کرے گا:ظاہر ہے کمانے کے مقصد سے نہیں، بس کچھ ایسی اشیاء کے حصول کے لئے جو کہ ازحد ضروری تھیں۔ پون چکی کی اہمیت، ہر ایک شے سے سوأ ہونی چاہییے، اس نے کہا۔ چنانچہ، وہ، توڑی کی ایک دھڑ، اور اس سال کی گندم میں سے کچھ حصہ بیچنے کی بات چیت کر رہا ہے۔ اگر مزید رقم درکار ہوئی تو وہ انڈوں کی فروخت سے پوری کی جائے گی جن کی ڈھپئی میں ہمیشہ ہی بڑی مانگ رہی ہے۔ مرغیوں کو یہ قربانی، پون چکی کی تعمیر میں اپنا حصہ سمجھ کے قبول کرنی چاہیے، نپولین نے کہا۔

Read more

جانور راج! کرپٹ انسانوں سے نجات کے بعد

This entry is part 14 of 17 in the series جانور راج

اس پورے برس، جانوروں نے غلاموں کی طرح بیگار کاٹی۔ مگر وہ اپنے کام میں خوش تھے ؛ انہیں اپنی کاوشوں اور قربانیوں کا کوئی ملال نہ تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ یا تو ان کے بھلے کے لئے ہے یا ان کے بعد آنے والے ان ہی جیسوں کے لئے، نا کہ نکمے، اچکے، کرپٹ انسان نامی گروہ کے لئے۔

Read more

جانور راج: پون چکی ناگزیر ہے!

This entry is part 13 of 17 in the series جانور راج

تمام جانور، سہمے ہوئے اور خاموش، واپس باڑے میں کھسک آئے۔ ایک ساعت ہی میں کتے بھی لپکتے ہوئے آئے۔ ذرا دیر تو کوئی بھی نہ سمجھ سکا کہ یہ مخلوق آئی کہاں سے؟ مگر جلد ہی یہ عقدہ بھی حل ہو گیا: یہ وہی پلے تھے، جنہیں نپولین نے ان کی ماؤں سے لے لیا تھا اور علیحدگی میں پالا تھا۔ گو ابھی ان کی بڑھوار پوری نہ ہوئی تھی مگر وہ بڑے جثے کے کتے تھے اور دیکھنے میں بھیڑیوں جیسے خوفناک لگتے تھے۔ وہ نپولین کے قریب ہی کھڑے تھے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ وہ اسی طرح دمیں ہلا رہے تھے جیسے دوسرے کتے، جانی صاحب کو دیکھ کے ہلاتے تھے۔

Read more

جانور راج: سنو بال کا فرار

This entry is part 12 of 17 in the series جانور راج

پورا باڑہ، پون چکی کے سوال پہ بری طرح منقسم ہو چکا تھا۔ سنو بال اس بات سے منکر نہیں تھا کہ پون چکی کی تعمیر بڑی مشقت طلب ہو گی۔ پتھر اٹھانے پڑیں گے، دیواروں میں چننے پڑیں گے، دھرے بنانے پڑیں گے اور پھر، ڈائنموز اور تاروں کی ضرورت پڑے گی۔ ( یہ سب کیسے ہوگا، سنو بال نے کچھ نہ کہا تھا) مگر وہ اس بات پہ قائم تھا کہ یہ سب ایک سال کی مار ہے۔ اور اس کے بعد اس نے اعلان کیا کہ اتنی مشقت بچ جائے گی کہ جانوروں کو فقط ہفتے کے تین دن کام کرنا پڑے گا۔

دوسری طرف نپولین کا کہنا تھا کہ خوراک کی پیداوار بڑھانا، لمحہء موجود کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اگر جانوروں نے پون چکی پہ وقت ضائع کیا تو وہ سب فاقوں مریں گے۔ ’سنو بال کو ووٹ دو، ہفتے میں تین روز کام کرو‘ اور ’نپولین کو ووٹ دو، پورا ہفتہ خوراک اگاؤ ‘ کے نعروں کے تحت، جانوروں نے دو دھڑے بنا لئے۔ بنجامن گدھا، واحد جانور تھا، جو کسی دھڑے میں شامل نہیں ہوا۔ اس نے خوراک کی پیداوار اور پون چکی کے مشقت بچانے کی بات، دونوں ہی میں یقین کرنے سے انکار کردیا۔ پون چکی ہو یا نہ ہو، اس نے کہا، زندگی یوں ہی چلتی رہے گی جیسا کہ سدا چلتی آئی ہے، یعنی، بے ڈھنگی۔

Read more

اینمل فارم! پون چکی کا منصوبہ

This entry is part 11 of 17 in the series جانور راج

کلوور کے دماغ میں ایک خیال کا کوندا لپکا۔ دوسروں سے کچھ بھی کہے بغیر، وہ مولی کے تھان کو گئی اوراپنے کھر سے پیال الٹی۔ پیال کے نیچے، شکر کی بھیلیوں کی ایک ڈھیری اور گڈا کے گڈا، مختلف رنگ کے موباف چھپے ہوئے تھے۔

تین روز بعد مولی غائب ہوگئی۔ کچھ ہفتوں تک، کسی کو اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا، تب کچھ کبوترو ں نے خبر دی کہ انہو ں نے اسے ڈھپئی کے دوسری طرف دیکھا ہے۔ وہ ایک سرخ اور سیاہ رنگی، ٹم ٹم نما منی سی گھوڑا گاڑی میں جتی ہوئی تھی جو ایک شراب خانے کے باہر کھڑی تھی۔ ایک موٹا، سر خ چہرے والاآدمی جو کلال لگ رہا تھا، ڈبیوں والی برجیس اور چمڑے کے لمبے بوٹ ڈانٹے، اس کی تھوتھنی سہلا رہاتھا اور اسے شکر کی بھیلیا ں کھلا رہا تھا۔ اس کی تازہ تازہ حجامت بنی ہوئی تھی اور ایال میں چہچہاتے سرخ رنگ کا موباف گوندھا ہوا تھا۔ وہ مزے میں تھی، ایسا کبوتروں نے کہا۔ کسی بھی جانور نے دوبارہ مولی کا تذکرہ نہیں کیا۔

Read more

جانور راج۔ جنگ کے بعد

This entry is part 10 of 17 in the series جانور راج

سب انسان دفعان ہوگئے ماسوائے ایک کے۔ پیچھے، صحن میں، باکسر اپنے کھر سے، لید اٹھانے والے لڑکے کو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو منہ کے بل، کیچڑ میں گرا پڑا تھا۔ لونڈا نہ ہلا۔
” یہ مر چکا ہے۔ “ باکسر نے تاسف سے کہا۔ ”میرا یہ مقصد نہیں تھا۔ میں بھول گیا تھا کہ میرے نعل ٹھکے ہوئے ہیں۔ کون مانے گا کہ میں نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا؟ “

” جذباتیت نہیں کامریڈ! “ سنو بال چلایا جس کے زخموں سے ابھی تک خون ٹپک رہا تھا۔ ”جنگ، جنگ ہوتی ہے، واحد اچھا انسان، ایک مردہ انسان ہے۔ “
” میں کسی کی جان نہیں لینا چاہتا، حد یہ کہ ایک انسان کی جان بھی۔ “ باکسر نے آنسو بھری آنکھوں سے دہرایا۔
” مولی کہاں ہے؟ “ کسی نے پوچھا۔

Read more

جانور راج! انسانوں سے پہلی جنگ

This entry is part 9 of 17 in the series جانور راج

اکتوبر کے اوائل میں، جب مکئی کی کٹائی ہو کے ڈھیریاں لگ چکی تھیں اور کچھ مکئی گاہ بھی لی گئی تھی، کبوتروں کی ایک ٹکڑی، ہوا میں ڈولتی، ہڑبڑائی ہوئی باڑے کے چوگان میں اتری۔ جانی صاحب اور اس کے گماشتے، ’بوہڑ والا‘ اور ’خالصہ کلاں‘ کے قریبا نصف درجن انسانوں کے ساتھ بڑے پھاٹک سے اندر داخل ہو کے بڑی وٹ کی طرف گامزن تھے جو سیدھی باڑے میں پہنچتی تھی۔ سبھوں نے ماسوأ جانی کے لاٹھیاں پکڑی ہوئی تھیں، جانی بندوق لئے سب سے آگے دندناتا آرہا تھا۔ ظاہر ہے وہ فارم پہ دوبارہ قبضہ کرنے کے چکر میں آئے تھے۔

اس واردات کا عرصے سے اندیشہ تھا اور سب تیاریاں کر لی گئی تھیں۔ سنو بال، جس نے جولیس سیزر کی مہمات پہ ایک پرانی کتاب پڑھی تھی، جو اسے رہائشی مکان سے ملی تھی، دفاعی مہم کا منتظم تھا۔ اس نے سرعت سے احکامات جاری کیے اور دو ہی منٹوں میں ہر جانور نے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔

Read more

جانور راج! تبدیلی کی ہوا چل پڑی

This entry is part 8 of 17 in the series جانور راج

موسمِ گرما کے آخر تک آدھے ملک میں خبر پھیل چکی تھی کہ جانوروں کے باڑے پہ کیا ہوا۔ ہر روز، نپولین اور سنو بال کبوتروں کی ٹکڑیاں بھیجا کرتے تھے، جنہیں ہدایات دی جاتی تھیں کہ پڑوسی مزرعوں کے جانوروں میں گھل مل جائیں، انہیں انقلاب کی داستان سنائیں اور ’وحوشِ انگلستان‘ کے ترانے کی دھن سکھائیں۔

یہ وقت، جانی صاحب نے زیادہ تر، ڈھپئی میں چھجو کے چوبارے کے دارو والے کمرے میں جمے، ہر کس و ناکس سے اپنے ساتھ، کسی نہ جوگے جانوروں کے ہاتھوں اپنی جائیداد سے بے دخل ہونے والی عظیم نا انصافی پہ شکوہ کناں گزارا۔ دوسرے کسانوں نے اصولی طور پہ تو اس سے ہمدردی جتائی مگر ابتدأ میں اس کی کوئی خاص مدد نہ کی۔ درونِ دل، ان میں سے ہر کوئی یہ خواہش پال رہا تھا کہ وہ جانی کی بد قسمتی کو اپنے فائدے میں کیسے بدل سکتا ہے؟ یہ بھی خوش قسمتی تھی کہ جانوروں کے باڑے سے لگواں دونوں مزرعوں میں پکی دشمنی چلی آرہی تھی۔

Read more