ایک شام میاں نواز شریف کے ساتھ.
میاں صاحب آپ ہمارے قارئین کو کچھ اپنے بارے میں بتائیں گے، میرا مطلب کہ اپنے حسب نسب کے بارے میں؟
میان نواز شریف:۔ میں محمد نواز شریف بن پاکستان بن اسلام ہوں، یہ میری پہچان ہے۔ شاید آپ کو عجیب لگا ہو لیکن نوازشریف کو پہچان پاکستان نے دی، اس لئے نواز بن پاکستان کہا۔ اور آتے وقت میرے کان میں پہلی آواز اذان کی تھی اور دنیا سے جاتے وقت بھی آخری کلام لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ، ہوگا، آنکھ کھلنے سے بند ہونے کے بیچ میں میری شہرت، پہچان سب عارضی تھے۔ اس لئے نواز بن پاکستان بن اسلام کہا۔
میان صاحب، بھلا وہ سونے والا کموڈ کہاں ہے جس کا سوشل میڈیا پر بڑا چرچا ہے مجھے تو کہیں نظر نہیں آیا۔
میاں نواز شریف۔ ہنستے ہوئے، ان بیوقوف لوگوں کو یہ پتہ نہیں کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔
سوال۔ میان صاحب اس وقت آپ کی خاموشی کو کیا نام دیں؟ ڈر، ڈیل، یا تماشہ دیکھ رہے ہیں قوم کا؟
میاں نواز شریف۔ (مسکراتے ہوئے) نواز شریف اس وقت نہیں ڈرا جب جنرل محمود کنپٹی پر پستول رکھ کر استعفیٰ مانگ رہا تھا۔ ڈیل کرنی ہوتی تو یوں پیشیاں نہ بھگت رہا ہوتا۔ اس لئے ڈر اور ڈیل کو میں نے ھمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے۔
لیکن میان صاحب آپ کی حکومت گئی آپ کو جیل میں ڈالا گیا مریم صاحبہ کو بھی جیل میں بند کیا گیا آپ کے مخلص دوستوں اور بھائی کو آپ سے وفا کی پاداش میں زندان میں قید کیا گیا لیکن آپ پھر بھی خاموش ہیں۔ اس کو کیا سمجھیں؟
میاں نواز شریف۔ مسعود صاحب نواز شریف نے ھمیشہ عوام اور پاکستان کے لئے قربانی دی ہے کسی سے اپنی ذات کیلئے قربانی لی نہیں ہے، کبھی اپنی ذات کی خاطر میں نے کسی ورکر کو سڑکوں پر نکلنے کے لئے نہیں کہا۔
اگر میں چاہتا تو 13 جولائی کو گرفتاری بھی رکوا سکتا تھا، لوگون کو کال دیتا لوگ نکلتے، انتظامیہ لا اینڈ آرڈر کی خاطر گولی چلاتی اور کارکن شہید ہوتے اور پھر انتظامیہ مجھے منتیں کرتی حالات کو سنبھالنے کے لئے۔
لیکن الحمدللہ نواز شریف اور باقی لیڈرز میں یہی فرق ہے۔ 2014 میں کچھ لوگ اپنے لوگ مروانے کے لئے انتظامیہ کو طیش دلا رہے تھے جس طرح ماڈل ٹاؤن والوں نے کیا۔ لیکن ہم نے پولیس کو غیر مسلح کرکے ان کی خواہش پر پانی پھیر دیا۔
مجھے معلوم ہے مریم کو جیل بھیجنا صرف مجھے جھکانے کے لئے تھا لیکن اللہ کا شکر ہے ہم نہیں جھکے اور جھکانے والوں کا چہرہ عوام کے سامنے کھل کے آگیا۔
زرداری صاحب نے گورنر رول امپوز کیا لیکن میں نے عوام کو کال نہ دی، آج میرا بھائی بھی ناحق بند ہے لیکن میاں نواز شریف عوام کو کال نہیں دیگا۔ جس دن مجھے لگا میرے پاکستان اور عوام کو اب میری ضرورت ہے تو میں میدان میں اتروں گا۔ میان نواز شریف کی جان اور مال پاکستان اور اس کی عوام کے لئے ہیں۔ مجھ پر جو گزر رہی ہے برداشت کر لوں گا لیکن اپنی ذات کے لئے عوام کو نہیں بولوں گا۔ نواز شریف کو یہ بھی یقین ہے اگر نواز شریف اکیلا ہی نکل پڑے تو بغیر کال کے سارا پاکستان امڈ آئے گا اور اسلام آباد پہنچنے سے پہلے مسلط شدہ حکومت گھر چلی جائے گی، لیکن میں یہ سب نہیں کروں گا۔
میان صاحب آپ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو باہر کے لوگوں کو پاکستان میں انویسٹ مینٹ کرنے کو کہتے ہیں جبکہ خود کے بچوں کو باہر سیٹل کیا ہوا ہے۔
میان نواز شريف۔ (لمبی سانس لیتے ہوئے) مسعود صاحب لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکمرانوں کا کاروبار نہیں ہونا چاہئے، لیکن میان نواز شریف کسی پر بوجھ بننا پسند نہیں کرتے ہیں، جب آپ دوسروں کے پیسوں پر سیاست کرو گے ان کے جہازوں پر کیمپین چلاؤ گے اور عمرے کرو گے تو آپ کو انہیں مشیر بنانا پڑے گا کیبینٹ میٹنگ میں بٹھانا پرے گا، آپ ان کے احسانات کابدلہ سرکاری خزانے سے ادا کروگے۔ لیکن اگر آپ خود دار ہیں کسی کے ٹکڑوں پر نہیں پلتے ہیں تو کوئی آپ کو مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ ان میں اور نواز شریف میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہ کر قومی خزانے سے تنخواہیں لیں جبکہ میں نے دن رات کام کر کے اپنی تنخواہ نہیں لی، اپنا علاج بھی سرکاری خرچے پر نہیں کروایا، لوگ تو اپنے کتے بلوں کو بھی سرکاری جہاز پر گھماتے ہیں۔
مجھے بھی شوق ہے میں یہاں سرمایہ کاری کروں لیکن افسوس یہاں کسی کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا ہو تو اس کے کاربار پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے، ساؤتھ پنجاب کے لوگ ٹکٹ واپس نہ کرتے تو بھوک مرتے ٹی وی چینلز والے چپ کس لئے ہیں؟ اگر سچ بولتے ہیں تو بھوک مر جائیں گے، اب تو عدلیہ بھی لوگوں کو جھکانے کے لئے ان کی جائیدادیں ہتھیانے لگی ہے۔
میان صاحب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس پر آپ نے کوئی تحریک شروع نہیں کی۔
میاں نواز شریف۔ صالح صاحب ججز بحالی تحریک کے بعد جو کچھ افتخار محمد چوہدری نے کیا تو پھر میں نے سوچا اب افراد کے لئے نہیں اداروں کے لئے کام کرنا ہے۔ ان شاء اللہ حکومت میں آکر عدلیہ میں اصلاحات لائیں گے جس کے ثمرات سے عوام اور ججز سب مستفیض ہوں گے۔
میاں صاحب کیا سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی اس جدوجہد میں کامیاب ہو جائیں گے؟ کیا یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ الیکٹیڈ حکومت کے تحت کام کرے گی، آئ ایس پی آر ٹوئیٹ کے ذریعے وزیراعظم کو سیکورٹی کاؤنسل کا اجلاس بلانے کا نہیں کہے گی؟
میان نواز شریف۔ (ہنستے ہوئے) چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ چائے لیں۔
اور میرے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہتے ہیں برخوردار ان باتوں میں نہ پڑو، ان باتوں کی وجہ سے تین بار کے وزیر اعظم کا جو حال ہوا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔
اور آپ نے بسکٹ تو لئے نہیں، اور یوں میاں صاحب اپنی روایتی ظرافت کے ساتھ میرا سوال ٹال گئے۔
(اسی خیالی انٹرویو اور جاتی عمرہ میں میان صاحب کی چائے کی چسکیوں میں مگن تھا کہ چھوٹی شانزے مجھے جھنجھوڑ کے کھپرو کی فضاؤں میں واپس لائیں اور کہا بابا چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔)


