مائی لارڈ: عوام سے ان کا حق نا چھینیں

ڈپٹی اسپیکر مزاری رولنگ کیس کی سماعت کے دوران چودھری شجاعت حسین کے وکیل نے ججز سے مخاطب ہو کر جو بات کہی وہ سونے کی حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ ‏ ”کچھ دیر پہلے ہم نے ماڈل ٹاؤن کے شریفوں کے ونڈرز دیکھے اور گجرات کے چوہدریوں کا عظیم ماضی۔ کوئی تباہی نہیں ہوگی اگر کوئی بھی وزیراعلیٰ بن گیا ہاں اگر یہ تاثر چلا گیا کہ سیاسی اہمیت کے کیسوں کا فیصلہ چند جج ہی کرتے ہیں

Read more

کھپرو کی جیالی میڈم شاہین: پارٹی قیادت کی نظروں سے اوجھل

پاکستان پیپلز پارٹی سے درجنوں شکوہ شکایات کے باوجود اس کے چند کارناموں کو سراہے بغیر رہ نہیں سکتا۔ پاکستان کی واحد لبرل اور ڈیموکریٹک پارٹی ہے۔ عدم تشدد کے داعی تو بہت سی جماعتیں ہیں لیکن جب بھی امتحان آیا تو سب نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ پی پی واحد پارٹی ہے جو آج تک عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ بھٹو کا تابوت ملا پر امن جمہوری جدوجہد جاری رکھی تشدد کا راستہ اختیار نہ

Read more

ملک ریاض: بلڈر سے کنگ میکر

تئیس مارچ کی صبح کو اسکول بچوں کے ساتھ کراچی کی جانب عازم سفر ہوئے۔ کووڈ کے بعد یہ پہلا تفریحی سفر تھا۔ بچے اساتذہ سب بہت خوش اور پرجوش تھے۔ بابائے قوم کو سلام کرنا تھا، پی اے ایف میوزیم میں یادگار شہداء پر پھول رکھنے تھے اور آخر میں بحریہ ٹاؤن کی سیر بھی کرنی تھی، اس لیے پانچ گھنٹوں کے سفر کا پتا ہی نا چلا اور کراچی پہنچ گئے۔ باقی مقامات سے ہوتے ہوئے جیسے بحریہ

Read more

قوم سے اپیل

سر نسریا پاند، اتر لڳا، آء پرین! مون تو ڪارڻ، ڪانڌ! سھسین سکاؤن ڪیون۔ ترجمہ۔ موسم سرما کے پودوں نے کونپلیں نکالی ہیں، شمالی ہوائیں شروع ہو گئی ہیں، میرے محبوب اب تو آ بھی جا۔ جانتے ہو میں نے تیرے لیے کتنی منتیں مانی ہیں۔ ؟ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے جہاں وفا، عزم استقلال کی پیکر خواتین، ماروی، سسئیء، مومل، لیلاں، سوہنی کو سراہا ہے وہاں ان تاجروں کی بیویوں کو بھی سراہا ہے جو ایک ایک سال شوہر

Read more

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی خدمت میں

جناب اعلیٰ، میں پاکستان کا ایک ادنیٰ سا شہری، آپ کا سپورٹر سندھ سے چند گزارشات پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا۔ مائی لارڈ، میں حامد میر، وسعت اللہ خان، جاوید چوہدری جیسا لکھاری تو نہیں لیکن پھر بھی اپنے ٹوٹے، پھوٹے، ناقص جملوں سے سندھ کے چیف جسٹس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر لکھا اور آواز بلند کی ہے۔ مائی لارڈ۔ سندھ کی عدلیہ کی تاریخ نہایت شاندار رہی ہے۔ سندھ کے ججز کے چند تاریخی فیصلوں نے

Read more

6 جون کا بحریہ ٹاؤن دھرنا: انتشار اور آتشزدگی کا آنکھوں دیکھا حال

سب نے بحریہ ٹاؤن کا نام تو سنا ہی ہوگا، جسے کچھ دل جلے بھیڑیا ٹاؤن بھی کہتے ہیں۔ اگر بحریہ ٹاؤن کا نام نہیں سنا تو ملک ریاض کا نام تو ضرور سنا ہوگا۔ جن کا نام لینے سے ہماری میڈیا پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے۔ مذہب، سیاست، ریاست سب پر روانی سے تنقید کرنے والے اینکرز کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔ صحافت کے میر کارواں، ہر آمر کو للکارنے والے، جرنیلوں کے گھروں کی خبریں لیک کرنے والے

Read more

فیس بکی بلبلے اور رشتوں کی ڈوبتی ہوئی ناؤ

کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے جس کے ہمارے معاشرے پر حسب معمول مثبت سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ میں اپنا تجربہ شیئر کرتا ہوں۔ کتب بینی کا جنون کی حد تک شوق رکھتا تھا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے سابق ڈی جی شہید صدیق سالک لکھتے ہیں جب انڈین جیل میں تھے تو مجھے سب سے زیادہ تکلیف کتابوں سے دوری سے ہوئی۔ پھر یہ کرتا کہ ہمیں واش روم

Read more

متی استعبدتم الناس کی مشعل اور ہماری غافل انتظامیہ

مصر کا شہر ہے دوڑ کا مقابلہ ہے، ایک عام شہری گورنر کے بیٹے سے سبقت لے جاتے ہیں۔ یہ بات گورنر کے بیٹے کو بری لگی اور اس عام شہری کو کوڑوں سے مارنا شروع کیا۔ اور کہنے لگا۔ ”انا ابن الاکرمین“ میں معززین کا بیٹا ہوں۔ شہری فریاد لے کر مدینہ پہنچے، حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فریاد کرنے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ نے گورنر اور ان کے بیٹے کو طلب فرمایا۔ فریقین کے دلائل

Read more

تھر یاترا اور جام ساقی کا جنجھی

عمرکوٹ سے نکلتے ہی زونگ نیٹ ورک نے ساتھ چھوڑ دیا۔ ہماری منزل عمرکوٹ سے 150 کلومیٹر آگے ہیرار کے قریب تھی۔ کوئلے پر کام شروع ہونے کے بعد تھرپارکر کی قسمت جاگ اٹھی ہے۔ نوکوٹ سے نگر پارکر تک آپ کو کارپینٹڈ روڈ ملے گا مٹھی سے عمرکوٹ وایا چیلہار روڈ کسی موٹر وے سے کم نہیں ہے۔ اسلام کوٹ کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اسلام کوٹ اب انٹرنیشنل شہر بننے جا رہا ہے۔ اینگرو کے اسکول اور

Read more

زرد صحافت کا عروج و زوال

مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں پرانے زمانے میں کسے کو بدنام کروانا ہوتا تھا تو اس کے نام کی پرچی کسی طوائف کو پکڑوا دیتے تھے، پھر کیا تھا گلی کوچوں میں اس کی بدنامی کے چرچے ہونے لگے۔ لیکن جب سے میڈیا آیا ہے تو طوائفوں والا کام صحافیوں سے لیا جاتا ہے۔ لفافہ پکڑوائیں اور دیکھیں کیسے پرائیم ٹائم میں جھوٹی فائلیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اچھے اچھوں کو راتوں رات ولن بنا دیتے ہیں۔ اگر

Read more

میاں صاحب! یہ ریسلنگ رنگ ہے

کافی عرصہ پہلے میں بھی مرحوم جسٹس وقار سیٹھ کی طرح ریسلنگ بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔ ریسلنگ میں رومن رینس ہمیشہ میرے پسندیدہ پلیئر رہے تھے۔ پسندیدہ اس لیے کہ فیئر پلے پر یقین رکھتے تھے۔ کبھی بھی چیٹ کر کے نہیں جیتے تھے۔ لیکن جب میں ریسلنگ کے غیر منصفانہ کھیل کے داؤ پیچ سے واقف ہونے لگا تو مجھے رومن پر غصہ آتا تھا کہ جس کھیل میں کھلاڑی، تماشائی، ریفری، انتظامیہ سب موقعہ ملتے ہی چیٹ کرتے ہوں، مخالف کو دھوکے سے ہراتے ہوں وہاں اصولوں کی پاسداری حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور رومن کی اسی حماقت سے نالاں ہو کر میں نے ریسلنگ دیکھنا چھوڑ دی تھی۔

Read more

زرداری صاحب ذرا بچ کے، مالی کسی کا یار نہیں ہوتا

گاؤں میں چاچا محمد وارث مرحوم کے گھر کے بیک یارڈ میں بیری کا ایک درخت تھا، اس کے بیر بہت مشہور تھے، ہم اسکول کے بچے، ہائی اسکول یامین ہنگورجو سے واپس آ کر لسی کے ساتھ دو دو سوکھی روٹیاں توڑ کر فوراً کھانے کے اوپر فروٹ کھانے لئے جمع ہو جاتے تھے۔ ہمارے اس گروہ کا سرغنہ کامریڈ تھا۔

مٹی کی کمپاؤنڈ وال بڑی تھی ایک دوسرے کو سہارا دے کر دیوار پھلانگتے تھے۔ چچا محمد وارث کے قیلولے کا وقت ہوتا تھا، دبے پاؤں بیر کھانے کے لیے آنے والے بچوں کے پیٹ میں دوچار بیر جاتے تھے، تو آہستہ آہستہ شور شرابا شروع کر دیتے تھے، جس کی وجہ سے چچا کی نیند خراب ہو جاتی تھی اور چچا غصے سے ہماری طرف آتے تھے، بیر چوروں کا یہ گروہ ڈر کی وجہ واپسی پر بغیر کسی سہارے کے دیوار پھلانگ کر بھاگ جاتے تھے۔ چوری بیر کھانے کا یہ سیزن تقریباً ایک ماہ چلتا تھا۔ چچا محمد وارث مرحوم ولی انسان تھے، ان بیر چوروں کو ہر جمعہ کے روز ایک ایک روپیہ خرچی بھی دیتے تھے۔ ایک روپیہ ملنے کے بعد ہم خود کو ملک ریاض سمجھنے لگتے تھے۔ ہمارے کمانڈر صاحب بڑی دعائیں کرواتے تھے کہ اللہ کرے ہفتے میں سات جمعہ ہوا کریں۔

Read more

محمد ابراہیم کنبھر: کلال سے سائیں تک

کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک غریب کلال ایوب کے گھر میں جنم لینے والے محمد ابراہیم ایک دن ہمارے شہر کی پہچان بن جائیں گے، کھپرو کون سا شہر؟ وہ جہاں محمد ابراہیم کنبھر رہتے ہیں۔ کھپرو تعلقہ کے ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں پپراتلی میں جنم لینے والے محمد ابراہیم کنبھر محنت کرتے کراچی ڈویژن کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر بن گئے۔ لیکن ایاز کی طرح انہوں نے اپنی مٹی اور اصل کو نہیں بھلایا۔ یہی

Read more

وہ اتنظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

حضور والا! ہم بھی عدلیہ بحالی تحریک کے بڑے حامی تھے، ججز کے لیے مور پاور کے متمنی تھے، افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے لے کر عنایت اللہ بھٹو کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر ہر وقت ہم نے عدلیہ کا ساتھ دیا تھا۔ ہم نے اس کے دوراں اپنے اچھے اچھے دوست کھوئے، محبتوں کو نفرتوں میں بدلتے دیکھا۔ لیکن افسوس، وہ اتنظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں

Read more

حاجی شمس الدین: جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے 

پیپلزپارٹی سندھ کی بات کی جائے تو دو خاندانوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی کہلائے گا۔ دونوں خاندان حالات کے نشیب و فراز کے باوجود بھٹو خاندان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ ضیاء کا مارشل لا ہو یا مشرف کا آمرانہ اقتدار دونوں خاندان وفا کے پیکر بنے رہے۔ جی ہاں #ہالا کا مخدوم خاندان اور #جمال۔ آباد کا ہنگورجو خاندان۔ حاجی جمال الدین مرحوم حقیقی حر تھے، حر تو حریت پسند ہوتے ہیں۔ خلیفہ شاہی کے ناجائز فیصلوں، زیادتیوں اور

Read more

عدلیہ کی بے بسی، پولیس اسٹیٹ اور سائیں سرکار

عنایت اللہ بھٹو صاحب (ایڈشنل سیشن جج کھپرو) کے لیے مشہور ہے آپ Face دیکھ کر نہیں Case دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ دو تصاویر اس کی گواہ ہیں، ایک طرف گاؤں کا انپڑھ غریب چاچا مبارک (مقتول کا والد) تو دوسری طرف 19 گریڈ کا پولیس افسر ۔ (قاتل) جب چاچا مبارک اپنے بے گناہ بیٹے کی پولیس کے ہاتھوں جھوٹے مقابلے میں قتل کا مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کھپرو کے پاس لایا ( 22 اے کے تحت

Read more

وعدہ حور پر بہلائے ہوئے پاکستانی

احباب کو یاد ہوگا ڈیڑھ سال پہلے میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی ”مجھے ہے حکم اذاں“ ۔ مربی اعجاز حسن صاحب کا اصرار تھا کہ خان کو ایک سال کا وقت تو دیں، پھر کچھ نہ کریں تو بھلے تنقید کرنا، علی اظہر صاحب بھی ایسی نصیحت فرماتے تھے، انکل غفور کا حکم تھا کہ چھ ماہ تک مثبت رپورٹ کریں، حالات بہت بدل جائیں گا، ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ان سب کے مشوروں اور حکم پر میں

Read more

ریاست مدینہ کے داعی سے ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر کی اپیل

جناب وزیر اعظم پاکستان

مسند اقتدار پر بیٹھے آپ کیا جانیں، تین ماہ کے لاک ڈاؤن کی اذیت کیا ہے، لیکن اگر فرصت ملے تو قوم کی بیٹی کی اس فریاد اور داستان کرب کو پڑھ لیں۔

؎ انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

ہم دو بہنیں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ دونوں بہنوں کی ماہانہ تنخواہ ملا کر 30 ہزار تھی۔ اس سے دس ہزار گھر کا کرایہ دیتے تھے، دو ہزار دادی اماں کی دوائی کے لیے رکھتے تھے، تین چھوٹے بہن بھائیوں کی اسکول فیس، جیب خرچی کے تین ہزار رکھتے تھے، باقی کے 15000 سے پورا مہینہ گزارا کرتے تھے، سبزی اور بجلی بل کے لیے گھر پر پانچ ہزار کی ٹیوشن پڑھایا کرتی تھیں۔

میرے والد کی بھی کوئی ریگولر جاب نہیں ہے، کبھی مزدوری لگ جاتی تھی کبھی نہیں تھی، لیکن پچھلے تین ماہ سے گھر پر بیٹھے ہیں۔ آپ کے دور اندیشانہ فیصلے، کورونا کو پھیلنے سے تو نہیں روک سکے لیکن ہماری چھوٹی سے خوشیوں کو یقیناً برباد کر گئے ہیں۔

کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ریاست مدینہ میں ایسا وقت بھی آئے گا، رعایا بھوک سے خود کشی کرنے پر مجبور ہو گی، بیٹیوں کی عزت کی بولیاں لگیں گی اور راعی اپنی زوجہ کے ساتھ نتھیا گلی کی سیر کر رہا ہو گا۔

Read more

ماما اسلم اور مرشد کامل کی تلاش

کچھ روز پہلے میں نے ہمارے دوست سابق تعلقہ ناظم حاجی خدا بخش درس پر ایک مضمون لکھا تھا۔ جس کے بعد کل ایک دیرینہ دوست نے کال کر کے سرزنش کی کہ "یار ہمیں بھول گئے ہم بھی تو آپ کے دوست ہیں۔ دو لفظ ہم پر لکھ لیتے۔” میں نے اپنے دوست سے معافی طلب کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگلا مضمون آپ کی مرشد کامل کی جستجو پر لکھوں گا۔ تو آج اس وعدہ کو پورا کرتے

Read more

مولانا فضل الرحمان اور مدارس اصلاحات

پتا نہیں کیوں مولانا فضل الرحمان پاکستان کے سیاسی ڈرامے میں مجھے جے کانت شکرے لگتے تھے، ڈیزل پرمٹ ہو یا ایل ایف او پر ڈیل، کشمیر کمیٹی کی سربراہی ہو یا اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ مولانا ہمیشہ پرکشش جاب پر رہے ہیں، شاید مولانا سے میرے اختلاف کی یہی وجہ تھی۔ میں نے دو پشنگوئیاں کی تھیں کہ عمران خان جیسے سیدھے اور کھرے انسان کو قطعاً وزیراعظم نہیں بنایا جائے گا، یہ پریشر ٹول کے طور

Read more

میڈم شازیہ عطا مری اور ووٹ کی عقیدے سے آزادی

سانگھڑ کی سیاست میں انقلاب لانے والی میڈم شازیہ عطا مری صاحبہ۔ میں 92 سے سانگھڑ کی سیاست دیکھتا آرہا ہوں، ہمارا حلقہ اور عزیز آباد کراچی کا حلقہ ناقابل شکست رہے ہیں۔ مخالف پارٹی کے امیدوار فارم ہارنے کے لیے ہی بھراتے تھے، اور ووٹ آرڈر کے ذریعے لئے جاتے تھے۔ دونوں بڑی پارٹیوں کے نمائندوں کا منشور ایک ہوتا، ووٹ مرشد کی امانت ہے جو ان کے حکم پر دینا ہی ہے۔ ووٹرز اسے کسی وحی سے کم

Read more

چوٹیاریوں ڈیم اور ہماری زوال پذیر سیاحت و ثقافت

سانگھڑ سے کوئی تیس کلومیٹر دور اچھڑو تھر اور مکھی کے جنگلات کے بیچ بنے چوٹیاریوں ڈیم کی سیر کرنے کا اتفاق ہوا۔ ڈیم نے ہزاروں ایکڑ زرعی زمیں کو سیم زدہ کر دیا ہے، وہاں کے مقامی لوگوں کے لئے 58 کلومیٹرز پر مشتمل یہ ڈیم عذاب بن کر آیا ہے۔ ان کے گاؤں، فصلیں، باغات زمینیں زیرِ آب آچکے ہیں۔ لوگ کروڑ پتی سے ککھ پتی ہو گئے ہیں۔ (جب ڈیم کی تباہی کے مناظر دیکھتا ہوں تو

Read more

جب لال لال لہرائے گا

کل ننگرپارکر سے منتخب سندھ اسمبلی کے میمبر، مہا کرپٹ، لوٹا ابن لوٹا، سندھ کا سب سے بڑا کنٹریکٹر، FWO سے کارونجھر کی لیز چھڑوا خود تھر کے بے تاج بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے والا، عرب شہزادوں کا خاندانی غلام، جناب قاسم سراج سومرو نے خبر بریک کرنے سے پہلے لکھا ”جب سرخ  ہوگا”۔ مجھے اسی وقت لگا اب ہماری یوتھ کو گمراہ کرنے کا پلان تیار ہو چکا ہے۔ اور خبر ٹویٹ کی کہ ”سندھ کابینہ نے طلبہ

Read more

اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے

 اردو جیسی مہذب زبان کا جب اپنوں کے ہاتھوں ہوا حشر دیکھتا ہوں تو میں 8 جولائی 1972 والے فسادات بھول جاتا ہوں۔ اردو جس نے بڑے بڑے نام پیدا کیے ہیں۔ مرزا غالب لے کر انشاء تک اردو ادباء کی ایک نا ختم ہونے والی تاریخ ہے۔ لکھنوی ادب تو اپنی مثل آپ تھا۔ لکھنوی انداز میں اگر کوئی سر مانگے تو بندہ راء ڈیاچ (بادشاہ راء ڈیاچ، جو فن کا قدردان تھا اور بیجل کے سازوں پر فدا

Read more

میاں صاحب سے شکوہ و جوابِ شکوہ

میاں صاحب کی بگڑتی ہوئی صحت کی فکر مجھ سمیت ہر پاکستانی کو تھی لیکن اچانک پارٹی کی طرف سے یو ٹرن لیتے ہوئے غیر اعلانیہ یک طرفہ جنگ بندی کرنا۔ مریم نواز صاحبہ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا خاموش ہوجانا۔ مرد آہن خواجہ آصف کی دھواں دھار تقاریر کا دھیما پڑ جانا۔ اسلام آباد آزادی مارچ کی بنا کچھ حاصل کیے گھروں کو لوٹ جانا۔ پرویز رشید کی آئیڈیالوجی پر Game Changer کی تھیوری کو ترجیح دینا۔ ایکسٹنشن میں روڑے

Read more

لڑو اپنے حق کے لئے

اُس وقت میری عمر اتنی زیادہ نہ تھی، لڑکا تھا، اور پہلی بار حالات کے جبر سے ٹکر لے رہا تھا۔ گھر کے لیے بجلی کا کنکشن منظور کروانا تھا، ایس ڈی او واپڈا غلام نبی ملک سے ملا انہوں نے حسب دستور ہیڈ کلرک سندر کمار کھتری کی طرف بھیجا، اس نے کہا کہ سر آٹھ ہزار خرچہ آئے گا۔ میں حیسکو کی نیو کنیکشن پالیسی کا پرنٹ لے کر گیا تھا، اسے دکھایا جس میں تین سو روپے

Read more

کارونجھر کی سیر، سہولیات کا فقدان اور تھر پروپیگنڈہ

ننگرپارکر سندھ کا ایک تاریخی مقام ہے جہاں کارونجھر کی چوٹی، بھوڈیسر کی مسجد، جین دھرم کے مندروں سمیت درجنوں تاریخی اور سیاحتی مقامات ہیں۔ لیکن سندھ حکومت نے حسب روایت اس کی ترقی اور سیاحوں کی آسائش کے لیے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا ہے۔ صرف ایک ہی ریسٹورنٹ ہے ”روپلو کولہی“ ریسٹورنٹ، جس کے ڈبل بیڈ روم کی یومیہ چارجز چھ ہزار ہیں۔ جہاں عام سیاح ٹھہرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ تین دن میں تقریباً تین

Read more

علما اور دانشور حضرات سے اپیل

سندھ کے ہندو صدیوں سے یہاں آباد ہیں، خصوصاً شیڈول کاسٹ کے ہندوؤں کو تو سندھ کے مالک کہا جاتا ہے، باقی ذاتیں سید، قریشی، ہاشمی، بلوچ ہجرت کرکے سندھ منتقل ہوئی ہیں یا ان میں سے کنورٹ ہوئی ہیں۔ میرے کافی احباب ہندو ہیں جو روزے بھی رکھتے ہیں اور کچھ کو تو اسماء الحسنی سارے یاد ہیں (مجھ سمیت کافی مسلمانوں کو شاید اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام یاد نہ ہوں ) اور روزانہ ان کی تسبیح بھی پڑھتے

Read more

میرا گاؤں، سیاست اور ٹیکنالوجی

یہ ان دنوں کی بات ہے۔ جی ہاں یہ ان دنوں کی بات ہے، جب گاؤں کی نوے فیصد آبادی ان پڑھ تھی اور باقی کے دس فیصد کوئی گریجویٹ نہیں تھے، بس نماز کا طریقہ، اور تھوڑا بہت جمع تفریق کا حساب جانتے تھے۔ جب گھر کچے تھے، اور رشتے مضبوط تھے۔ نہ ریڈیو تھا اور نہ ٹی وی، موبائل کا تو دور دور تک تصور ہی نہ تھا۔ لیکن یہ ان پڑھ دیہاتی لوگ من کے اجلے تھے۔

Read more

استاد کا کردار نہ ہو تو مراعات کا مطالبہ کیسا

استاد، معلم معاشرے کا وہ مہذب انسان ہے جس کے کردار اور گفتار سے تہذیب کے پھول جھڑتے ہیں۔معلم کی شان بڑھانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایامجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔پیارے، استاد وہ تھے جو بے غرضی سے قوم کی خدمت کرتے تھے۔ ان کی نظر قصر شاہی پر نہ تھی وہ کبھی صفہ میں تو کبھی درخت کی چھاؤں کے نیچے بیٹھ کر شاہین بچوں کو پرواز سکھاتے تھے۔

Read more

شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

پی ٹی ایم والوں کے احتجاج اور کچھ لبرلز کے ایک ہی اعتراض کہ اس ملک میں وردی والے کوئی بھی جرم کریں انہیں جائز ہے، ان کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا وہ ہر قسم کے احتساب سے مستثنیٰ ہیں وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔ کو باربار سننے کے بعد میں نے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا شروع کیا، کیا واقعی یہ الزامات درست ہیں؟ کیا آرمی میں احتساب کا عمل نہیں، وہ اگر قتل کر دیں تو

Read more

تعلیم کی تباہی اور اس کا حل

مرحوم محمد خان جونیجو (سابق وزیر اعظم) وہ انسان تھے جس نے سندھ کی تعلیم کی بربادی کی بنیاد رکھی۔ مرحوم کے دور میں ہر ایرے غیرے کو ماسٹر بنایا گیا، سلیکشن کا کرائٹیریا میٹرک پاس، (وہ بھی جعلی ڈگری) نہ این ٹی ایس کے ذریعے ٹیسٹ اور نا ہی انٹرویو کا جھنجھٹ، امیدوار شام کو اپنی بھیڑ بکریاں باڑہ میں بند کر کے آتا تھا کہ اس کا ابا جان آرڈر لیے کھڑا ہوتا تھا، بیٹا پریشان کہ میں

Read more

فاطمہ علی کینسر کے ساتھ جنگ میں جان کی بازی ہار گئی

‏سابق اٹارنی جنرل اشتر آوصاف کی بیٹی فاطمہ علی کینسر کے ساتھ جنگ میں جان کی بازی ہار گئی ہیں یہ بین الاقوامی طور پر مشہور شیف تھیں۔ خبر۔ پتا ہے میں نے یہ خبر کیوں شیئر کی؟ سوشل میڈیا پر متحرک رہنے کے لئے؟ نہیں، اس خبر کے نیچے 500 کے قریب کمینٹس پڑھ کر مجھے فاطمہ کی وفات کے بجاب قوم کے ضمیر اور سوچ پر رونا آیا۔ جس جس نے خبر پڑہی نیچے ”انا للہ و انا

Read more

والیء ریاست مدینہ ثانی سے سندھ کی فریاد

قبلہ والیء ریاست مدینہ سندھ میں اس وقت کینسر کا مرض عام ہو چکا ہے۔ ہر گھر میں آئے روز اس مرض سے قیامت برپا ہوتی ہے۔ چالیس پینتالیس کے بعد تو یہ مرض عام ہے۔ اب اندرون سندھ کے لوگوں کی نارمل لائیف 45 سال تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ گندا پانی، زہریلا کھانا، سگریٹ چھالیہ گٹکا ، پلاسٹک بیگز، چپس، زہریلی ادویات والی سبزیاں، شہروں کے گٹر کے پانی سے پیدا ہونے والی سبزیاں، اور بھی بیشمار

Read more

صدر نہ ہی سہی گورنر تو بنا دیں

لیم فقیر درس ہمارے علاقے کے بہلول میاں تھے۔ قبر پرستی کے خلاف تھا کافی بار مار بھی کھائی لیکن اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹا، جہاں بھی جاتا رات کو قبرستان میں جا کر قبروں کی چادریں جلا دیتا تھا۔ ایک بار انہی حرکتوں کی وجہ سے کیس میں پھنسایا گیا، جج کے سامنے پیش کیا گیا جج نے پوچھا اپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش کریں گے؟

کہا میرے دو گواہ ہیں ان کو سمن جاری کریں وہ گواہی دیں گے۔
پوچھا نام بتائیں۔
کہا کہ ایک سید عبداللطیف شاہ ولد حبیب شاہ ساکن بھٹ شاہ۔
دوسرا عثمان مروندی ساکن سیہون۔

تو جج کو ریڈر نے بتایا سر یہ بندہ عدلیہ کا مذاق اڑا رہا ہے یہ تو کب کے وفات پاچکے ہیں۔
جج نے کہا فقیر یہ دونوں گواہ وفات پا چکے ہیں کیا گواہی دیں گے۔
علیم نے کہا کہ حضور لوگوں کو بیٹا دے سکتے ہیں لیکن مجھ غریب کے حق میں گواہی نہیں دیں گے؟
جج بھی سیانا بندہ تھا اس نے ہنس کر کہا کہ فقیر کو آزاد کیا جائے۔

Read more

شریف خاندان کا جرم

 پہلے اعلیٰ عدلیہ کے پانچ ججز تمام کیسز کو بالائے طاق رکھ کر صرف پانامہ کیس کو کھنگالتے رہے، کچھ نہ ملا تو پھر جے آئی ٹی کے پانچ ہیرے قوم کے کروڑوں روپے لٹا کر آئے لیکن یہ ثابت نہ کر پائے کہ میاں صاحب نے کک بیک یا کمیشن لی یا من پسند لوگوں کو ٹھیکے دلوا کر ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ بس یہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے کہ میاں صاحب کا باہر کاروبار اور پراپرٹی ہے۔

Read more

آج کے پاکستانی پوپ

بابا آج ہم نے ہسٹری میں پوپ کے بارے میں پڑھا۔
اچھا بیٹا کچھ مجھے بھی بتائیں پوپ کے بارے میں۔ میں نے سرمد مسعود کی حوصلہ افزائی کرتے پوچھا۔

بابا! پوپ دنیا کا طاقتور ترین شخص تھا، اس سے بادشاہ وزیر سب ڈرتے تھے،
اچھا بیٹا، اور کیا کرتا تھا پوپ۔

بابا پوپ لوگوں سے پیسے لے کر ان کے گناہ معاف کرتا تھا۔ جسے چاہتا اسے پھانسی چڑھا دیتا جسے چاہتا اسے پریسٹ بنا دیتا، اور ایک بار تو اس نے ایک بادشاہ کو تین دن ننگے پاؤں برفیلے پہاڑوں پر چلنے کی بھی سزا سنائی۔ لیکن پھر اس کا زوال آیا اور آج اس کے پاس پاورز نہیں ہیں۔

Read more

ایک شام میاں نواز شریف کے ساتھ.

میاں صاحب آپ ہمارے قارئین کو کچھ اپنے بارے میں بتائیں گے، میرا مطلب کہ اپنے حسب نسب کے بارے میں؟ میان نواز شریف:۔ میں محمد نواز شریف بن پاکستان بن اسلام ہوں، یہ میری پہچان ہے۔ شاید آپ کو عجیب لگا ہو لیکن نوازشریف کو پہچان پاکستان نے دی، اس لئے نواز بن پاکستان کہا۔ اور آتے وقت میرے کان میں پہلی آواز اذان کی تھی اور دنیا سے جاتے وقت بھی آخری کلام لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ،

Read more

میں عمران خان کے مداح سے نقاد کیسے بن گیا؟

غالباً اسی دن پہلی بار میں نے ان کا نام سنا تھا. اس وقت میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا. قبلہ والد مرحوم مجھے اور بڑے بھائی کو کھپرو لے گئے عید کے کپڑے دلوانے کے لئے. ہم جس بھی دکان پر گئے لوگ کان پر ریڈیو لگائے بیٹھے تھے، گاہک آئے یا جائے انہیں پرواہ نہ تھی بس کبھی کسی بات پر اچھل رہے تھے تو کبھی ہلکی پھلکی گالیاں بھی دے رہے تھے. سالے پٹھان نے میچ کا

Read more

میجر صاحب کی باباجی کے ساتھ نشست اور میاں صاحب کے لئے مشورہ

بابا جی، قوموں کے عروج و زوال کا سبب تو اقبال بتا گئے ( شمشیر و سناں اول طاؤس ورباب آخر) ہیں، لیکن سیاستدانوں کے زوال کا کیا سبب ہے۔ بابا جی نے فرمایا پتر ہمارے سیاست دان نہ تو شمشیر (اپنی صلاحیت) پر آگے آتے ہیں اور نہ ہی رباب کی وجہ سے زوال پذیر ہوتے ہیں۔ یہ سارے پیراشوٹ کے ذریعے اتارے جاتے ہیں اور پھر اٹھائے بھی جاتے ہیں۔ مطلب بابا جی؟ پتر میں نے بھٹو کو

Read more

ایک میجر کی ڈائری سے

میں جس وقت آرمی میں سیکنڈ لیفٹیننٹ سلیکٹ ہوا تو ہر طرف سے مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ خاندان کا میں پہلا شخص تھا جو کمیشنڈ افسر بنا، میرے دوست احباب مجھے کندھوں پر اٹھا کر اپنی محبت اور خوشی کا اظہار کرنے لگے۔

ٹریننگ کا سلسلہ شروع ہوا، تو بہت مایوس ہوا میں جو سوچ رہا تھا وہ تو کچھ بھی نہیں، سوچ رہا تھا کہ گاڑی ہوگی گارڈز ہوں گے میں کالاچشمہ لگائے آرڈر دیتا جاؤں گا ہر طرف سے یئس سر یئس سر کی آوازیں ہوں گی، لیکن یہاں تو ہمیں کوئی افسر سمجھتا نہیں ہے ایسے ڈانٹ پڑتی ہے جیسے میں ابھی اسکول کا بچہ ہوں اور وہ سالا ٹرینر نہیں جلاد ہے، آخر ہم افسر ز کے ساتھ کوئی تو رعایت ہونی چاہیے، کم از کم صبح جاگنے میں ہم افسر ز کی مرضی ہونی چاہیے، جب دل کرے اٹھا کریں لیکن ہمیں تو وہ آزادی بھی نصیب نہیں، کافی بار سوچا یار اس تذلیل سے بہتر ہے بھاگ جاؤں اور کہیں استاد کلرک لگ جاؤں، لیکن مجھے گھر والوں کی خوشی روکے رکھتی۔

Read more