عام آدمی کے مسائل
پیر۔ کامل اور مرشد۔ حقیقی کے فیض سے خان صاحب مسند۔ اقتدار پر براجمان ہو ہی گئے۔ جب مرشد کامل ہو تو مُرید کی اُمیدیں ایسے ہی بر آتی ہیں کے دُنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ خان صاحب کی ساری سیاست کا آغاز سب کو چور کہنے سے ہوا اور موجودہ اشرافیہ سے بیزار لوگوں کے یہ نعرہ مسلسل اپنی طرف کھینچتا رہا۔ پھر خان صاحب اچانک سے بڑے بڑے جلسے کرنے لگے اور موجودہ اشرافیہ کو اپنا مستقبل ”کشتی ء خان“ میں سوار ہونے میں ہی نظر آیا اور پھر دُنیا نے دیکھا کے وہ سب جن کو خان صاحب چور بُلایا کرتے تھے وہ ”اپنے پُرانے گناہوں“ سے تائب ہوئے بغیر جب خان صاحب کے ساتھ ہو لئے تو مرشد۔ کامل کی نظر۔ کرشمہ ساز کا کمال تھا کے یکایک گنگا نہائے پاک صاف ہوگئے۔
اور ایسے پاک صاف ہوئے کے ”منکر نکیران“ نے اُنکے پُرانے سارے بہی کھاتوں کو کہیں پھاڑ کے پھینک دیا۔
اب اقتدار میں آنے کے بعد وہ چور جنہوں خان صاحب کی سیاسی بیعت نہ کی اور خود کو پاک صاف نہ کیا، اُن پے گھیرا تنگ ہے۔
کبھی کسی کی شُنوائی ہے تو کبھی کوئی پیش ہو کے صفائیاں دے رہا ہے۔ جو میڈیا پے ذرا سا گُستاخانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔ دوسرے دن خبر لگتی ہے کے اُس گُستاخ کا نامۂ اعمال نکل چکا ہے اور پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہتی، پیر۔ کامل کی کرامتیں اور گستاخوں شامتیں تو دیدنی ہیں اس کرشمہ ساز ماحول میں ایک بات جو رہ گئی وہ غریب کے گھر کا چولہا ہے، ابھی تک کوئی نہیں جانتا کے پیر۔ کامل نے تباہ حال معیشت کو اپنے کون سے کرشمہ سے بہتر کرنا ہے، ابھی تک تو بات وہیں پر گھومتی نظر آ رہی ہے سعودی، آئی ایم ایف اور امریکا چین یو اے ای۔
گیس کم ہے تو پہلے بھی قطر کی طرف نظر جاتی تھی آج بھی وہیں بھٹک رہے ہیں۔ بجلی کے مسائل ہیں وہیں ہیں جہاں چھوڑے گئے۔ ڈالر ہے تو ایسی اُڑان بھری ہے کے رُکنے کا نام نہیں لیتا۔ داخلی صورتحال ہے کے دہشتگرد حملے پھر شروع ہوگئے ہیں۔ کوئی ایک شعبہ ء زندگی ایسا نہیں جس میں کوئی جامع پروگرام ہو اور لگے کے حکومت ایک سمت کا تعین کر چُکی ہے اور اُسکی طرف بڑھ رہی ہے۔ گرفتاریاں، پکڑ دھکڑ، یہ چور وہ چور یہ سب باتیں عام آدمی سالوں سے سُن رہا ہے اور سُنتا آیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کے ہر دفعہ ایک ہی منہ والا بندہ اپنے منہ سے نئے چوروں کے نام بتاتا آیا ہے۔ جیسے ہمارے وزیر موصوف فواد چوہدری کی مشرف دور سے لے کر آج تک کی ساری تقریروں کو اگر ایک ساتھ سُن لیا جائے تو پاکستان کا ایک بھی سیاست دان ایسا نہیں جو چور نہیں بشمول موجودہ حکومت میں شامل سب افراد کے۔
سو گُذارش ہے کے غریب کے پیٹ کی آگ ہے سو وہیں ہے اور اُس کے ذہن میں آلو ٹماٹر پئٹرول گئس اور بجلی کے بل ہیں۔ ہسپتالوں میں اُٹھنے والے اخراجات ہیں، بچوں کی کتابیں اور اُن کی خواہشیں وہ کہاں سمجھتے ہیں کے پیر۔ کامل لنڈن سوئیزر لینڈ نیویارک میں دفن شُدہ خزانوں کو موکلات کے ذریعے ڈھونڈنے میں مگن ہیں۔


