ٹرمپ جی

پُرانے وقتوں میں راجے مہا راجے اپنے اپنے علاقوں میں جاگیردار نواب اور چھوٹے چھوٹے راجے رکھتے تھے۔ اور پھر کبھی کبھی جب راجا جی کا اپنا خزانہ خالی ہو جاتا تھا یا پھر یہ گمان ہونے لگتا تھا کوئی چھوٹا راجہ، جاگیردار، سردار زیادہ امیر ہوتا جا رہا ہے تو اُس کی جاگیر میں سے سب کچھ ضبط کرنے کا حکم صادر کر دیا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کہ بعد جب یورپ اس قابل نہ رہا کہ دُنیا

Read more

پاکستان میں قومیت کا مسئلہ

وطنی قومیت اور نسلی قومیت یہ دو الگ الگ شناختیں ہیں اور ان شناختوں کی حقیقت سمجھے بغیر پاکستان میں قومیت کے سوال کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ جب عارضی انتظام کے تحت ہندوستان میں مذہب کو قومیت کی بنیاد قرار دیا گیا اور پاکستان کو ایک قوم کا نام دیا گیا تو بہت جلد اس خطے میں نسلی قومیتوں کے سوال پیدا ہو گئے جس نے علاقائی نفرتوں کو جنم دیا۔ سانحہ بنگلادیش میں دوسرے کئی عوامل کے ساتھ

Read more

بیانیوں کی جنگ میں ہارتا ہوا سچ

کوئی وقت تھا امریکہ نے بیانیہ بنایا کہ صدام حسین عراق میں کیمیکل ہتھیار بنا رہا ہے جس سے کہ پورے اقوام۔ عالم کے امن اور سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ پھر ہم نے دیکھا شروع شروع میں ماہرین کی پوری ٹیمیں ہوتی جو عراق جاتی انسپیکشن کرتیں اور پھر بڑے بڑے افلاطون تبصرے اور تجزیے کرتے آخر بیانیہ جیت گیا سچ ہار گیا۔ آج تک کوئی ایک کیمیکل ہتھیار نظر آیا نہ کسی نے پوچھنے کی زحمت

Read more

ہماری تقدیر کے بدلتے موڈ

ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں گُذرا ہم سب بھنگڑے اور لڈیاں ڈال رہے تھے کے بس اب دن دُور نہیں جب سی پیک اپنی تکمیل کو پہنچے گا تو دودھ اور شھد کی ندیاں بہنے لگیں گی ہمارا جغرافیائی محل۔ وقوع ہی کچھ ایسا ہے کے ہم کچھ کریں گے نہیں بس دُنیا اپنی مجبوریوں کی وجہ سے پیسوں کی برسات لگا دے گی۔ چین کیا روس کیا ایران کیا تُرکی کیا ہمیں تو آمریکا اور یورپ کی بھی بقا

Read more

عام آدمی کے مسائل

پیر۔ کامل اور مرشد۔ حقیقی کے فیض سے خان صاحب مسند۔ اقتدار پر براجمان ہو ہی گئے۔ جب مرشد کامل ہو تو مُرید کی اُمیدیں ایسے ہی بر آتی ہیں کے دُنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ خان صاحب کی ساری سیاست کا آغاز سب کو چور کہنے سے ہوا اور موجودہ اشرافیہ سے بیزار لوگوں کے یہ نعرہ مسلسل اپنی طرف کھینچتا رہا۔ پھر خان صاحب اچانک سے بڑے بڑے جلسے کرنے لگے اور موجودہ اشرافیہ کو اپنا مستقبل ”کشتی ء خان“ میں سوار ہونے میں ہی نظر آیا اور پھر دُنیا نے دیکھا کے وہ سب جن کو خان صاحب چور بُلایا کرتے تھے وہ ”اپنے پُرانے گناہوں“ سے تائب ہوئے بغیر جب خان صاحب کے ساتھ ہو لئے تو مرشد۔ کامل کی نظر۔ کرشمہ ساز کا کمال تھا کے یکایک گنگا نہائے پاک صاف ہوگئے۔

Read more

ڈیم کے معاملے پر سندھ کو سمجھئیے

ہم شاہانہ مزاج کے لوگ ہیں اور یہ ہمارا اجتماعی رویہ بھی ہے، جمہوریت اور جمہوری ادوار کی تعریفیں کرتے ہوئے بھی ہم اجتماعی طور پر جس رویئے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں وہ بنیادی طور پر آمرانہ ہوتا ہے۔ جب ہم ارسطو بن کے دوسروں کو بیوقوف سمجھتے ہوئے اپنے احکامات جاری کر رہے ہوتے ہیں تب دراصل ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سامنے بھی کوئی عقل و فہم رکھنے والا انسان موجود ہے۔ یا پھر ہم

Read more

عہد۔ حاضر کے سامری

کہتے ہیں اور سنتے ہیں کہ سامری صاحب بڑے عیار تھے نظروں کے سامنے وہ وہ دھوکے پیدا کر دیتے تھے کہ اچھا خاصہ باشعور بندہ تلملا کے رہ جائے۔ جناب کی دربار۔ شاھی تک بڑی گہری رسائی تھی اور کانا پھوسی بڑی مہارت سے کر لیتے تھے۔ وقت بدل گیا زمانے تبدیل ہوگئے، درباروں کے حُلیے تبدیل ہوئے نہ بدلا تو سامری کا ہنر نہ بدلا اور اُس ہنر کی بدولت لوگوں کی آنکھوں سے سرُمہ چُرانے کی وہ

Read more

خان صاحب کھلونے دینا چھوڑیں

تبدیلی بہت ہی آسانی سے بکنے والا ساز و سامان ہے، اور اس کے خریدار پوری دُنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس نعرے پر جہاں فیصل آباد، اور سیالکوٹ کے لوگ لٹو ہو جاتے ہیں، وہیں حال نیویارک اور واشنگٹن جیسے شہروں میں بسنے والے پڑھے لکھوں کا بھی ہے۔ خان صاحب نے جب یہ نعرہ لگایا، تب لوگوں کی طرف سے تو جو پذیرائی ملنی تھی ملی، پر خان صاحب کے سب سے بڑا حامی، میڈیا بن کے سامنے

Read more

خدارا، سندھ کو سمجھنے کی کوشش کریں

آپ کی دانش سدا سے نرالی تھی۔ آپ نے بنگالیوں کا تماشہ بنا دیا۔ یک طرفہ فیصلے پورے پاکستان کو آدھے پاکستان میں تبدیل کر کے ختم ہوئے۔ لیکن آپ کی دانش پھر بھی آپ کو عذر تلاش کرنے میں لگائے رہی کہ آپ کی دانش اور فیصلے تو درست تھے کچھ علاقائی بین الاقوامی سازشیں اور کچھ بنگالیوں کی کم عقلی تھی کہ وہ قلعہ اسلام مملکت پاکستان کے ساتھ نہ رہ پائے۔ آپ کی دانش نے محب وطن

Read more