نواز، زرداری کی ممکنہ گرفتاری اور کرپشن بچاؤ تحریک کا آغاز
ملک میں گرفتاریوں کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دے رہی ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلم لیگ ن کا ڈی این اے کبھی بھی مزاحمتی سیاست کا نہیں رہا۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب پرویز مشرف نے شب خون ماراتو پورے ملک میں کہیں احتجاج نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ البتہ بعض مقامات پر جشن ضرور منایا گیا۔ عوام کو تو چھوڑیے خود شریف خاندان ڈکٹیٹر سے معاہدہ کرکے جدہ بھاگ گیا۔
قیمے والے نان کھلاکر ووٹ تو خریدے جاسکتے ہیں۔ مگرعوام کو لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے لئے تیار نہیں کیا جاسکتا۔ میاں نواز شریف کے ناکام جی ٹی روڈ مارچ کے بعد یہ بات تو واضح ہے کہ ان کی نا اہلی کے فیصلے سے عوام کی صحت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر مسلم لیگ ن کیوں اور کس کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی ہے۔ عدالتی فیصلے کومیاں نواز شریف اور مریم نوازنے خود قبول کیا۔ وہ اپنی مرضی سے اپنی اہلیہ کوبیماری کی حالت میں چھوڑ کر گرفتاری دینے کے لئے لندن سے وطن واپس آئے۔
ان کے پاس یہ آپشن تھی کہ وہ اسحاق ڈار حسن اور حسین نواز کی طرح مفروروں کی زندگی گزارتے۔ مگر انہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بارے میں مسلم لیگ ن کے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی کو یہ غلط فہمی تھی کہ شاید ان کی گرفتاری سے عوام جوق در جوق مسلم لیگ ن کو ہمدردی کا ووٹ دیں گے۔ مگر یہ فارمولا زیادہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ میاں نواز شریف نے بڑی مشکل سے ضمانت پر رہائی پائی۔
اور اب ایک مرتبہ پھر 24 دسمبر کو امکان یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ انھیں العزیزہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کے لئے اب میاں نواز شریف کسی صورت تیارنہیں ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کے نزدیک مسلم لیگ کا ووٹ بنک تو موجود ہے مگر پارٹی اسٹریٹ پ اور نہیں رکھتی۔ جبکہ دوسری جانب آصف علی زرادری کی قیادت نے ملک کے تین صوبوں میں مفاہمت اور مبینہ کرپشن کی سیاست کرکے پیپلزپارٹی کی لٹیا ہی ڈوبودی۔ مگر پیپلزپارٹی کے انتخابی نتائج کو دیکھ کر طنزیہ طورپر کہا یہ جاتا ہے کہ ”پنجاب نہیں جاؤں گی“ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ وہی پیپلزپارٹی ہے جس نے 2013 کی انتخابی دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر تحریک چلانے کی بجائے تحریک انصاف کو ایوان میں احتجاج کا درس دیا تھا۔
یہ وہی پیپلزپارٹی ہے جس نے پاناماکیس میں عمران خان کو پارلیمنٹ میں احتجاج کرنے کا لیکچر دیا تھا۔ آج شاید پیپلزپارٹی کو ماضی میں پارلیمنٹ کے بارے میں دیے گئے لیکچر یاد کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سڑکوں کی بجائے جمہوریت کو مضبوط کرنے اور احتجاج کے لئے پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرے۔ تاہم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے پاس حکومت مخالف تحریک چلانے کے لئے مولانا فضل الرحمان کی شکل میں سپر کارڈ موجود ہے۔ جو احتجاجی تحریک کی گاڑی چلانے کے لئے ڈیزل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
جبکہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ عوام کس بنیاد پر عدالتی فیصلے کو مسترد کریں۔ جب فیصلہ چیخ چیخ کر یہ کہے گا کہ میاں نواز شریف منی ٹریل نہیں دے سکے۔ عوام ایسے احتجاج میں کیوں شرکت کرے گی جس کا مقصد مہنگائی، بے روز گاری، تعلیم اور صحت جیسے سنگین مسائل کا حل نہیں ہے بلکے ایک مبینہ طور پرکرپٹ لیڈر شپ کو سزا سے بچانا ہے۔ ایک طرف جہاں اپوزیشن احتجاج کے لئے گراؤنڈ بنانے میں مصروف ہے تو دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے سخت اور غیر مقبول فیصلے بھی اپوزیشن جماعتوں کو یہ امید دلا رہے ہیں کہ وہ عوام کو سڑکوں پر نکالنے میں کا میاب ہو جائیں گے۔
یہی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کو یہ امید بھی ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں کسی وقت بھی حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتی ہیں۔ اور حکومت گھر جا سکتی ہے۔ مگر سیاسی پنڈتوں کے نزدیک ملک کی بیرونی سیاست اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے لئے طالبان امریکہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی اور احتجاجی تحریک کا چلنا نہ ممکن نظر آتا ہے۔


