بلاول کی عالمی طاقتوں سے این آر او کی اپیل!

سوال گندم، جواب چنا، یہ رویہ اب پاکستانی سیاستدانوں کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ ن لیگ ہو یا پیپلزپارٹی، نواز شریف ہوں یا آصف علی زرداری، معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوں یا جعلی بنک اکاؤنٹس کا، جواب دونوں سیاستدانوں کا یہی ہے۔ کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ شریف خاندان لندن فلیٹس کی ملکیت کوتو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اگر ان سے یہ پوچھ لیا جائے کہ یہ لندن فلیٹس کس آمدن سے خریدے گئے۔تو منی ٹریل دینے کی بجائے یا تو آپ کو قطری خط ملے گا، یا پھر صاف الفاظ میں کہ دیا جائے گا۔ کہ اگر ہمارے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں۔ تو تمہیں اس سے کیا۔ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں زرداری خاندان سے ان کے اخراجات اور اثاثوں کی تفیصل پو چھ لی جائے۔ تو وہ آپ سے یہ سوال کرے گے۔ کہ آپ یہ ثابت کرے کہ ہم نے سرکاری خزانہ لوٹا ہے۔ وہ کبھی یہ نہیں بتائے گے، کہ بلاول ہاؤس کے اخراجات کہاں سے ادا کیے جا تے ہیں۔

Read more

نیوزی لینڈ میں کیا ہوا؟

اہل علم و دانش سے سناتو یہ تھا، کہ انسانیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ مگر جب انسانیت، حیوانیت میں بدلنے لگے۔ جب مقام اور مرتبے کا فیصلہ کردار کی بجائے رنگ اور نسل پر ہونے لگے۔ جب نفرت، محبت سے زیادہ بکنے لگے۔ جب انتہاپسندی، اعتدال پسندی پر حاوی ہونے لگے۔ جب جنگ کو امن پر ترجیح ملنے لگے۔ جب معاشرے میں اسلحہ مہنگا اور انسانی جان سستی ہونے لگے۔ جب ظلم کو انصاف پر ترجیح ملنے

Read more

میرا ٹیپو سلطان

کسی سیانے نے کہا تھا کہ اگر تم امن چاہتے ہوں تو جنگ کے لئے تیار رہو۔ سنا تو یہ تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں۔ مگر کپتان سے پتہ چلا کہ جنگ کردار سے بھی لڑی جا سکتی ہے اور جیتی بھی جا سکتی ہے۔ کپتان تو شروع دن سے ہی خوش قسمت تھا، جس چیز کو چاہا اسے حاصل کیا۔ بلند حوصلہ، پختہ ارادے کا مالک، نا امیدی اسے چھو کر بھی نہیں گزری، کپتان نے محنت، کوشش اور لگن سے نا ممکن کو ممکن بنا کر دیکھایا۔1992 کا ورلڈ ہو یا شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر، نمل یو نیورسٹی ہو یا وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہونا۔ یہ سب کپتان کی خوش قسمتی کی ہی داستانیں ہیں۔ بے شک یہ تمام کامیابیاں خدا کے خاص فضل و کرم کا ہی نتیجہ ہیں۔ کپتان کی یہی خوش قسمتی اب اس ملک کی کوشش قسمتی بھی بنتی جا رہئی ہے۔ عمران خان ایک ایسے وقت میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے جب ملک کی معشیت قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ملک کا ہرادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

Read more

ثابت نہیں کر سکتے تو گرفتار کرتے کیوں ہوں

پاکستانی سیاستدانوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سیاستدان اپنی گفتگو سے ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنانے کا ہنر جا تے ہیں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے آنے سے یہ سیاستدان احتساب کو انتقام میں اور انتقام کو احتساب میں بدلنے کے ماہر بن چکے ہیں، ویسے تو کپتان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا مرکز ہی بلا امتیاز احتساب اور کرپشن کا خاتمہ رہا۔ مگر پاناما اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد عمران خان نے شریف خاندان کے خلاف ایسی جنگ لڑی کہ عدالتی محاذ کے ساتھ ساتھ 2018 کے انتخابی میدان میں بھی شریف خاندان کوشکست کا سامنا کرنا پڑھا۔

پہلے دن سے لے کر آج تک کپتان ہر فورم پر ایک ہی جملہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا۔ سب کا احتساب ہوگا اور بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی۔ کپتان کے اسی عزم کو دیکھتے ہوئے سیکڑوں پی ٹی آئی ووٹرز کو یہ حوصلہ تھا کہ اب اس ملک میں کچھ ہو نہ ہوں۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں احتساب ضرور ہوگا۔

Read more

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

سانحہ ساہیوال کوتین دن گزرگئے، مگر پوری قوم نفسیاتی طور پر صدمے سے باہر نہیں نکل سکی۔ جب بھی مرنے والے خلیل کے معصوم بچوں کی تصویریں ٹی وی پر دیکھتا ہوں تو آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ ان معصوم پھولوں کو کیا پتہ کہ ان کے والدین کو کس جرم کی پاداش میں نہایت سفاکی سے قتل کردیا گیا۔ جب پہلی مرتبہ ٹی وی پر خبر نشر ہوتی دیکھی تو اس کا متن

Read more

تعلیم کے نام پر کاروبار

تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اوراس حق کو ریاست پاکستان کاآئین باقاعدہ طور پر تسلیم کرتا ہے، مگر بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ حق تسلیم ہونے کے باوجود آج ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے اسکول نہیں جاتے اور جو بچے ریاست کے تعلیمی نظام سے استفادہ کر رہے ہیں ان کی حالت کچھ یوں ہے کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ میں اساتذہ کی 6 ہزار اسامیوں کے لئے 20 ہزار امیدواروں نے امتحان دیا، جن

Read more

نواز، زرداری کی ممکنہ گرفتاری اور کرپشن بچاؤ تحریک کا آغاز

ملک میں گرفتاریوں کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دے رہی ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلم لیگ ن کا ڈی این اے کبھی بھی مزاحمتی سیاست کا نہیں رہا۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب پرویز مشرف نے شب خون ماراتو پورے ملک میں کہیں احتجاج نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ البتہ بعض مقامات پر جشن ضرور منایا گیا۔ عوام کو تو چھوڑیے خود شریف خاندان ڈکٹیٹر سے معاہدہ کرکے جدہ بھاگ گیا۔

قیمے والے نان کھلاکر ووٹ تو خریدے جاسکتے ہیں۔ مگرعوام کو لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے لئے تیار نہیں کیا جاسکتا۔ میاں نواز شریف کے ناکام جی ٹی روڈ مارچ کے بعد یہ بات تو واضح ہے کہ ان کی نا اہلی کے فیصلے سے عوام کی صحت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر مسلم لیگ ن کیوں اور کس کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی ہے۔ عدالتی فیصلے کومیاں نواز شریف اور مریم نوازنے خود قبول کیا۔ وہ اپنی مرضی سے اپنی اہلیہ کوبیماری کی حالت میں چھوڑ کر گرفتاری دینے کے لئے لندن سے وطن واپس آئے۔

Read more