سونے کے دانت، سرخ شہتوت اور سمرقند


اپریل کے دن تھے، میں سمرقند میں تھا، بارش ابھی ابھی تھمی تھی، پتوں سے بارش کے قطرے گر رھے تھے اور فضا میں خوش گوار خُنکی تھی۔

سمرقند کا نام بچپن سے حافظہ کی لوح پر محفوظ تھا۔ جب میں نے دنیا کے قدیم اور تاریخی شہروں کی فہرست مرتب کی تب بھی سمرقند کا نام اس میں شامل تھا۔ وسط ایشیا کی قدیم شاھراہ ریشم پر واقع ڈھائی ھزار سال پرانا یہ طلسماتی شہر آج امیر تیمور کا شہر کہلاتا ہے۔ یہ سنٹرل ایشیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ مسلمان بنواُمیہ کے دور میں اس علاقے پر قابض ہوئے، ان فاتحین کے حُسن سلوک کے نتیجے میں مقامی آبادی مسلمان ہوگی، اُس وقت یہ علاقہ “ماوراالنہر” کہلاتا تھا۔ صدیوں پرانی تاریخ یہاں آج بھی سانس لیتی ہے۔

پاکستان کے لوگ دنیا جہان گھوم آتے ہیں لیکن بالکل قریب ایک خوبصورت اور مختلف دنیا کو دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اسلام آباد سے تاشقند کا ہوائی سفر ایک گھنٹہ تیس منٹ کا ہو گا، ٹائم زون بھی ایک ہی ہے۔ لیکن جب آئرپورٹ سے باہر آئیں گے تو ایک اور دنیا آپ کی منتظر ہو گی۔ زبان، ثقافت، لب و لہجہ، موسم، بودوباش سب چیزیں آپ کو ایک خوشگوار حیرت سے دو چار کردیں گی۔

میں دوروز قبل ہی ازبکستان کے تاریخی شہر بخارا پہنچا تھا۔ گزشتہ شب بخارا کے قدیم علاقے “لب حوض” کے قہوہ خانہ میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ سمرقند کیسے پہنچا جائے۔ سلسلہ نقشبندیہ میں “بیعت “بہت سے افراد برصغیر کے مختلف ممالک سے حضرت بہاؤالدین کی درگاہ کی زیارت کی نیت سے یہاں جمع تھے۔ کچھ سوچ و بچار اور حساب کتاب کے بعد یہ طے پایا کہ صبح سویرے بس کے ذریعہ سمرقند پہنچا جائے اور وہاں دو دن رُک کر تاشقند جایا جائے۔

بخارا سے سمرقند پہنچنے میں چار گھنٹے لگے۔ بس سمرقند شہر سے چند میل پہلے ایک سرسبز و شاداب بستی میں رُک گئی۔ اس بستی کے ایک وسیع احاطے میں درختوں کے جھرمٹ میں سادہ لیکن نیلے خوبصورت گنبدوں سے مزین مسجد ہے، مسجد کے ساتھ لکڑی کے نفیس منقش ستونوں سے آراستہ برآمدے ہیں۔ برآمدوں کےدرمیان ایک دیدہ زیب مزار ہے۔ یہ مزار عظیم محدث امام بخاری رحمتہ اللہ کا ہے۔ میں نے اس مسجد میں ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں، بعد ازاں مزار کے سامنے جا کر امام بخاری کو خراج تحسین پیش کیا۔ زائرین انتہائی ادب و احترام اور خاموشی کے ساتھ مزار کے برآمدوں میں تسبیح و مناجات میں مصروف تھے۔ مزار کے ساتھ درخت کے قریب جاری چشمے سے خواتین برکت کے لئے پانی پی رہی تھیں اور بچوں کو بھی اصرار کے ساتھ وہ پانی پلا رھی تھیں۔ مسجد اور مزار کے باہر زائرین کے لئے مختلف اشیا فروخت کی جارھی تھیں، میں نے بھی والد محترم کے لئے ایک تسبیح بطور نشانی لے لی۔

گور امیر (امیر تیمور کا مزار) کے قریب افراسیاب ہوٹل کےکمرہ میں اپنا مختصر سا سامان رکھا اور شہر دیکھنے نکل کھڑا ہوا۔ ہوٹل کے قریب ایک چوک میں تخت پر بیٹھے امیر تیمور کا کانسی کا مجسمہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ امیر تیمور کو موجودہ ازبکستان میں بلند پایہ ھیرو کی حیثیت حاصل ہے۔ ہر بڑے شہر میں امیر کے شاندار مجسمے سربلند نظر آئیں گے یا اُن سے منسوب کوئی عمارت دیکھنے کو ملے گی۔

ہماری سانولی رنگت کی وجہ سے ہمیں وہاں کے مرد و خواتین نمستے کہتے اور جب ہم انہیں بتاتےکہ ہم پاکستان سے ہیں تو بے حد خوش دلی کے ساتھ السلام و علیکم سننے کو ملتا۔ یہ بھی اندازہ ہوا کہ ہندوستان سے بڑی تعداد میں حضرات یہاں تشریف لاتے ہیں۔ تاشقند میں یہ جان کرحیرت ہوئی کہ امرتسر سے ہر ہفتہ دو فلائٹیں آتی ہیں۔ سمرقند میں داد عیش کے تمام لوازمات میسر ہیں۔ سرشام قدیم بازاروں کی کہنہ سال عمارتوں کے وسیع صحنوں میں سرخ قالین بچھا دئیے جاتے ہیں، سازوآواز کے زمزمے بہنے لگتے ہیں، پرانی داستانیں اور قصے دُھرائے جاتے ہیں۔

سمرقند میں بی بی خانم کی شاندار پر شکوہ مسجد اور مدرسہ کے ساتھ چارسو بازار ہے، یہ تھوک کا بازار ہے اور صدیوں سے آباد ہے ۔ اسی بازار میں ایک وسیع شیڈ کے نیچے سینکڑوں دوکانیں سبزی، پھل، اچار اور طرح طرح کے خشک میوہ جات کی لگی ہوئی تھیں۔ ایک خاص بات یہ دیکھنے میں آئی کہ ان دوکانوں کی مالک یا اس کا انتظام سنبھالنے کے لئے اکثریت خواتین ہی میں سے تھی، یہاں کی زندگی ھمارے ملک کی زندگی سے کسی قدر مختلف ہے، مرد عورت سب کام میں لگے ہوئے ہیں، مردوں والے بہت سے کام یہاں سمرقند میں عورتوں کو کرتے پایا۔ ایک گوشت کی دوکان پر دو حسین تنومند خواتین گوشت کے پارچے بنانے میں مصروف تھیں۔

سمرقند میں مرد و خواتین خوبصورت، خوش مزاج اور صحت مند ہیں، مرد پینٹ شرٹ کے ساتھ منقش چوگوشہ ٹوپیاں پہنتے ہیں جبکہ خواتین پھولدار شوخ لباس پہننا پسند کرتی ہیں۔ ایک اور بات یہ دیکھی کہ مرد حضرات نےسونے کا دانت لگوایا ہوا تھا۔ یہاں سونے کا دانت لگوانا فیشن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

دوپہر کے کھانے کے لئے باغ دلکشا میں گھنے شہتوتوں کے نیچے ریستوران میں بیٹھا تو میری قریبی نشست پر ازبک خاتون اپنے بچے کے ساتھ کھانا کھا رھی تھیں اور بچے سے وہ عربی میں گفتگو کررھی تھی، میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ مکہ میں رہتی ہے اور عرب شیخ کی منکوحہ ہےاور چھٹیوں میں اپنے والدین سے ملنے سمرقند آئی ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ سعودی عرب میں بہت سے عرب حضرات نے ازبک خواتین سے شادی کی ہوئی ہیں۔

سمرقند میں امیر تیمور کے جانشین الغ بیگ کا بنایا ہوا مدرسہ (یونیورسٹی) اور اس کے ساتھ بعد کے سالوں میں بنائی گئی دیگر شاہکار عمارتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ نیلے رنگ کے خوبصورت اور منفرد گنبدوں والی یہ تاریخی عمارات وسعت ہی میں نہیں بلکہ رفعت میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ تاریخ اور آرکیٹیکچر سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ خاصےکی چیز ہے۔

بی بی خانم کی مسجد سے ذرا آگے اور مین سڑک عبور کر کے وسیع لیکن قدیم احاطہ آتا ہے، یہ سمرقند کا سب سے اہم، تاریخی اور مقدس مقام ہے، اسے شاہ زنداں (Living King) کہتے ہیں۔ یہاں شاھی خاندان کے مزارات ہیں ۔ یہ سب مزارات اپنے طرز تعمیر، ڈیزائین اورٹائل ورک کی وجہ سے بے مثال ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی قثیم ابن عباس کا مزار ہے۔ پورے ازبکستان سے مردو خواتین اس کی زیارت کے لئے دورو نزدیک سے کھینچے چلے آتے ہیں۔ قریب ہی حضرت خضر اور حضرت دانیال کے حوالے سے مسجد و مزار بھی موجود ہے اس کی حقیقت سے متعلق اللہ تعالی ہی بہتر جانتے ہیں۔ بہرحال بہت سی محیرالعقول داستانیں یہاں سے منسوب ہیں۔ دلچسپ بات جو دیکھی وہ یہ کہ شاہ زنداں سے ملحق قبرستان میں سنگ مزار پر متوفی کے نام، سن پیدائش اور سن وفات کے ساتھ ساتھ اس کی تصویر بھی اس کتبہ پر موجود ہوتی ہے۔

شاہ زنداں کے مزارات کے باہر ایک خوبصورت نوجوان جوڑے نے ہم سے اپنی تصویر اُتروانے کی فرمائش کی، ہم نے بخوشی اُن کی فرمائش پوری کی۔ مزید تعارف کو آگے بڑھایا تو معلوم ہوا کہ اس جوڑے کا ہنی مون ٹرپ ہے۔ لڑکی کا تعلق سمرقند سے جبکہ لڑکا روسی تھا اور ماسکو میں رہتا ہے۔ کچھ دن سمرقند میں گزارنے کے بعد ہم اس حقیقت کو پاگئےکہ ازبک دوشزائیں روسی لڑکوں کو اپنی زندگی کا ساتھی بنانے کی زیادہ مشتاق ہیں اور لڑکا اگر ماسکو میں رہتا ہو تو یہ سونے پہ سہاگہ ہو گا۔

ہمارے شاعر نے اچھے موسم، وافر پانی اور مٹی کے زرخیز ہونے کا ذکر کیا تھا، یہ سب کچھ میں نے سمرقند میں پورا ہوتا دیکھا ہے۔ سمرقند وسط ایشیاء کی انگوٹھی میں جڑا ایک خوبصورت نگینہ ہے۔ سرخ اناروں، سنہرے سیبوں اور شیریں انگوروں سے بھرے اس شہر میں کچھ دن ٹھہرنے کو دل چاھتا ہے۔ اب پیچھے مڑ کر اُن دنوں کو یاد کرتا ہوں تو ایک خواب سا لگتا ہے اور شاید یہی خواب اب میری زندگی کا حصہ ہیں۔

Facebook Comments HS