اوریا مقبول جان اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی
چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے ڈیم آگاہی مہم کے بعد حال ہی میں ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی آگاہی مہم شروع کی ہے۔ جس کا آغاز انھوں نے اس موضوع پر اسلام آباد میں ایک سمپوزیم منعقد کروا کر کیا۔ جس میں وزیرِاعظم عمران خان سمیت ہر مکتبہ فکر کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس سمپوزیم میں مولانا طارق جمیل، چیف جسٹس اور وزیرِاعظم نے اپنی تقاریر میں اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کے تدراک کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ چیف جسٹس صاحب نے ملک کے لوگوں کے لیے ”بچے دو ہی اچھے“ کا پیغام دیا اور سب کو اس پر عمل کرنے کی تلقین کی۔
اسی طرح کا ایک پیغام محکمہ بہبودِ آبادی کی طرف سے کافی سال پہلے پی ٹی وی کے ایک اشتہار میں بھی دیا جاتا تھا جو کچھ یوں تھا ”پاکستان کے پیارے لوگو۔ پاکستان سے پیار کرو، اپنے وطن کی خوشحالی پر تم بھی سوچ وچار کرو“۔ تو پاکستان کے پیارے لوگوں نے سوچ وچار تو نہیں کیا بس پیار ہی کیا اوراب حالت یہ ہے کہ اس وقت پیارے وطن کی آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس وقت پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے اور اگر اسی تناسب سے آبادی بڑھتی رہی تو اگلے تیس سالوں میں یہ تیس کروڑ سے تجاوز کر جائے گی اور دنیا میں پیارا وطن آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آجائے گا۔
مگر المیہ یہ ہے کہ ابھی بھی وطن کے پیارے لوگوں کے لیے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ مسئلہ ہو بھی کیسے جب یہاں پر اوریا مقبول جان جیسے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جو بھی انسان اس دنیا میں آتا ہے وہ اپنا رزق ساتھ لے کے آتا ہے اور اس لیے چیف جسٹس نے اس مسئلے پر آگہی مہم شروع کر کے اللہ کی تقسیم کو چیلنج کیا ہے تو کون سوچے گا کہ بڑھتی ہوئی آبادی بھی کوئی مسئلہ ہے اور بچے کم ہونے چاہیے۔
اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ جن کے پاس وسائل ہیں ان کے ہاں بچے کم ہیں اور جن کے پاس وسائل نہیں ہیں ان کے ہاں بچے زیادہ ہیں۔ اور اگر کسی غریب سے پوچھ لیا جائے کہ بھائی جب وسائل نہیں ہیں تو اتنے بچے کیوں پیدا کیے تو ان کا معصومانہ جواب ہوتا ہے کہ یہ تو رب کی دین ہے، میرا کیا قصور اس میں۔ یا پھر جتنے بچے زیادہ ہوں گے اتنا ہی کمانے کے ذرائع زیادہ ہوں گے اور سارے نہیں تو کوئی ایک تو بندے کا پتر بنے گا۔ قربان جائے بندہ ایسی سادگی کے اور ایسی سوچ کے۔ پھر آگے سے چین اور بھارت کی مثال بھی دی جاتی ہے کہ اتنی زیادہ آبادی کے ساتھ وہ کیسے ترقی کر رہے ہیں؟ ان کی طرح آپ بھی اپنے ملک کے وسائل بڑھا لیں تو کریں پھر چاہے جو بھی، بات تو وسائل کی ہے چاہے فرد کی سطح پر ہوں یا پھر ملک کی سطح پر ہوں۔
یہاں پر نہ تو انفرادی طور پر اس کی کسی کو پرواہ ہے اور نہ بطور سماج اس کا کوئی ادراک ہے، سماج کی حالت تو یہ۔ ہے کہ آج کے جدیدت کے دور میں بھی اس مسئلے پر کھل کر بات نہیں کی جا سکتی۔ اور ریاست نے بھی بس نام کا ایک بہبودِ آبادی کا محکمہ بنایا ہوا ہے جس نے اس طرح سے فعال ہو کر کبھی کام ہی نہیں کیا۔ جو ریاست تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضرورتیں اپنے لوگوں تک احسن طریقے سے پہنچانے میں ناکام رہی ہو اس کی ترجیح میں آبادی کا مسئلہ کتنی اہمیت رکھتا ہو گا؟
تو ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہوئے بھی اس تناظر میں چیف جسٹس صاحب کا یہ قدم قابل تحسین یے کہ انھوں نے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھا اور سب کو ایک فورم پر اکٹھا کیا۔ اور اُس فورم پر وزیرِاعظم عمران خان کی طرف سے لوگوں میں اس معاملے کے لیے شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائے جانے اور دیگر اقدامات کیے جانے کی یقین دہانی خوش آئند ہے۔ جس سے اس ضمن میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔


