جانور راج! انسانوں سے پہلی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکتوبر کے اوائل میں، جب مکئی کی کٹائی ہو کے ڈھیریاں لگ چکی تھیں اور کچھ مکئی گاہ بھی لی گئی تھی، کبوتروں کی ایک ٹکڑی، ہوا میں ڈولتی، ہڑبڑائی ہوئی باڑے کے چوگان میں اتری۔ جانی صاحب اور اس کے گماشتے، ’بوہڑ والا‘ اور ’خالصہ کلاں‘ کے قریبا نصف درجن انسانوں کے ساتھ بڑے پھاٹک سے اندر داخل ہو کے بڑی وٹ کی طرف گامزن تھے جو سیدھی باڑے میں پہنچتی تھی۔ سبھوں نے ماسوأ جانی کے لاٹھیاں پکڑی ہوئی تھیں، جانی بندوق لئے سب سے آگے دندناتا آرہا تھا۔ ظاہر ہے وہ فارم پہ دوبارہ قبضہ کرنے کے چکر میں آئے تھے۔

اس واردات کا عرصے سے اندیشہ تھا اور سب تیاریاں کر لی گئی تھیں۔ سنو بال، جس نے جولیس سیزر کی مہمات پہ ایک پرانی کتاب پڑھی تھی، جو اسے رہائشی مکان سے ملی تھی، دفاعی مہم کا منتظم تھا۔ اس نے سرعت سے احکامات جاری کیے اور دو ہی منٹوں میں ہر جانور نے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔

جیسے ہی انسان، باڑے کی عمارتوں کے قریب پہنچے، سنوبال نے پہلا حملہ کیا۔ سارے کبوتر جو کہ کل ملا کے پینتیس تھے، انسانوں کے سروں پہ جھکائیاں دے دے کر اڑے اور ہواسے ہی ان کے سروں پہ بیٹوں سے چاند ماری کی اور جب انسان اس سے نمٹ رہے تھے، باڑ میں چھپی بطخوں نے ہلہ بول دیا اور ان کے ٹخنوں پہ دبا کے ٹھونگیں ماریں۔ یہ البتہ ایک ہلکی جھڑپ کی جنگی چال تھی، جس کا مقصد ذرا سی افراتفری پھیلانا تھا اور انسانوں نے بطخوں کو بڑی آسانی سے چھڑیوں سے مار بھگایا۔

اب سنو بال نے دوسرا حملہ کیا۔ میوریل، بنجامن اور بھیڑوں نے سنو بال کی سرکردگی میں یلغار کی اور انسانوں کو ٹکروں اور سینگوں پہ رکھ لیا جبکہ بنجامن مڑا اور ان کو دولتیاں رسید کیں۔ مگر ایک بار پھر انسان، اپنی چھڑیوں اور کلی دار جوتوں کی وجہ سے ان پہ حاوی رہے اور پھر اچانک، سنو بال کی ایک چیخ پہ جو، پسپائی کا اشارہ تھی، سب جانور مڑے اور پھاٹک سے احاطے کی طرف بھاگے۔

انسانوں نے فتح مندی کا نعرہ بلند کیا۔ انہوں نے جو سوچا تھا، وہی دیکھا، ان کا دشمن بھاگ رہا تھا اور وہ ان کے پیچھے اندھا دھند دوڑے۔ یہ ہی تو سنو بال چاہتا تھا۔ جیسے ہی وہ احاطے میں آگے تک آگئے، تینوں گھوڑے، تینوں گائیں اور باقی سؤر جو گائیوں کے تھان میں شب خون کے لئے چھپے ہوئے تھے، اچانک انسانوں کے عقب میں نمودار ہوئے اور ان کا محاصرہ کر لیا۔ اب سنو بال نے حملے کا اشارہ دیا۔ خود وہ تیر کی طرح جانی کی طرف دوڑا۔

جانی صاحب نے اسے دیکھا، بندوق اٹھائی اور دھائیں، داغ دی۔ چھرے سنوبال کی پشت کو چیرتے ہوئے نکلے اور ایک بھیڑ ماری گئی۔ ایک لحظے کو بھی رکے بغیر، سنو بال نے اپنا ڈھائی من کاجثہ، جانی صاحب کی ٹانگوں پہ دے مارا۔ جانی، گوبر کے ڈھیر پہ جا کے پڑا اور اس کی بندوق اس کے ہاتھ سے نکل کے وہ جا کے پڑی۔ لیکن سب سے خوفناک نظارہ، باکسر الف ہو کے اپنے نعل ٹھکے کھروں کو اسپِ تازی کی طرح لہراتے ہو ئے پیش کر رہا تھا۔

اس کا پہلا ہی کھر ’بوہڑ والا‘ کے ایک لید اٹھانے والے کی کھوپڑی پہ پڑا اور وہ بے جان ہو کے خاک پہ جاپڑا۔ یہ دیکھ کے بہت سے انسانوں نے چھڑیاں پھینکیں اور فرار کی راہ اختیار کی۔ ان میں افراتفری پھیل گئی اور اگلے ہی لمحے تمام جانور انہیں احاطے میں ہنکاتے پھر رہے تھے۔ ان کو رگیدا گیا، دولتیاں ماری گئیں، کاٹا گیا اور روندا گیا۔ باڑے کا کوئی جانور ایسا نہ تھا جس نے اپنے طریقے سے ان سے انتقام نہ لیا ہو۔ یہاں تک ایک چھت سے بلی بھی اچانک کودی اور اپنے پنجے ایک گائے وال کی گردن میں گڑو دیے جس پہ وہ بھیانک انداز میں چلایا۔ جب راستہ ایک لمحے کے لئے صاف ہوا تو انسانوں نے بھاگ نکلنے میں عافیت جانی اور بڑی سڑک کو تیر ہوئے۔ اور یوں اپنے حملے کے پانچ منٹ کے اندر ہی وہ ایک شرمناک پسپائی میں اسی راہ پہ جس سے وہ آئے تھے دوڑے جا رہے تھے اور بڑی بطخوں کا ایک غول ان کے ٹخنوں پہ چونچیں مارتا اور سسیاتا ان کے ہمراہ تھا۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج! تبدیلی کی ہوا چل پڑیجانور راج۔ جنگ کے بعد
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •