قرض کے عربی ڈالر اور خالص دیسی گھی کا ڈبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب نے ہمارے وزیراعظم کی کامیاب سفارت کاری سے متاثر ہو کر انہیں تین ارب ڈالر نقد دینے کا وعدہ کر لیا اور کمال تو یہ ہے کہ اس میں سے دو ارب سچ مچ دے بھی دیے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ہی دیکھ کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے اتنے ہی ڈالر دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ ہماری ہردلعزیز حکومت کی بہترین کارکردگی ہے لیکن چند مایوسی پھیلانے والے عناصر کہہ رہے ہیں کہ ایک تو ان ڈالروں کو صرف بینک میں رکھ سکتے ہیں، خرچ نہیں کر سکتے، اور دوسرے ان پر سود بھی لاگو ہو گا۔ حالانکہ کوئی بھی ذی شعور شخص اس معاملے پر غور کرے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ کتنی بہترین ڈیل ہے۔

پہلی بات سود کی کر لیتے ہیں۔ اگر یہ دونوں برادر اسلامی ملک سود کے لین دین پر تلے ہوئے ہیں تو قبول کر لینا چاہیے۔ بس تکلف میں تھوڑا انکار کر دیں مگر وہ اصرار کریں کہ اس رقم پر سود بھی ہو گا تو پھر مان جائیں کہ ٹھیک ہے اصل رقم کے ساتھ دے دینا سود بھی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بینک میں پیسے رکھوا دیے اور استعمال نہ کر پائے تو کیا فائدہ ہو گا؟ یعنی یہ تو ایسے ہی ہو گا جیسے ہم بینک کے کیشیر کی تحویل میں موجود کروڑوں روپے دیکھ کر اسے کروڑ پتی قرار دے دیں جبکہ اس بچارے کو سارا مہینہ جان مار کر بمشکل چند ہزار روپے تنخواہ ملتی ہو۔ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اب یہ بات تفصیل سے تو کوئی معیشت کا ماہر ہی سمجھا سکتا ہے، مگر ابھی دو دن پہلے ہم منی چینجر کے پاس گئے تو وہ ایک شخص کو سمجھا رہا تھا کہ اسے بیرون ملک سے آئے ڈالروں کے بدلے میں کم روپے ملیں گے کیونکہ ڈالر کا ریٹ گر کر 138 ہو گیا ہے۔ وجہ یہ بتائی کہ امارات سے ڈالر آنے کی خبر آئی ہے۔ یعنی ڈالر کی خبر سے ہی ریٹ تین چار روپے گر گیا ہے، جب بینک میں سچ مچ آ گئے تو کتنا گرے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں ایک قدیم تاریخی واقعہ یاد آ رہا ہے۔ تین بزنس مین بیٹھے بات کر رہے تھے کہ وہ بچت کیسے کرتے ہیں۔ ایک نے بتایا کہ وہ صبح ناشتے میں روٹی پر چائے کا آدھا چمچہ دیسی گھی لگا کر کھاتا ہے تاکہ پیسہ بچ جائے۔ دوسرے نے اس کی فضول خرچی پر لعن طعن کی اور بتایا کہ وہ روٹی کو دیسی گھی کے ڈبے پر رگڑ کر کھا لیتا ہے اور دیسی گھی کی طاقت سے سارا دن گدھے کی طرح کام کرتا ہے۔ اب دونوں نے تیسرے کو دیکھا جو تینوں میں سب سے زیادہ امیر تھا۔

تیسرے نے کچھ دیر تک دونوں کو گھورا، پھر تاسف سے سر ہلایا اور کہنے لگا ”تم دونوں کی یہی فضول خرچیاں تو تمہیں کنگال بنا رہی ہیں۔ میں نے تو گھی کا ڈبہ الماری میں رکھا ہوا ہے، اسے دیکھ دیکھ کر خوب سیر ہو کر روٹی کھاتا ہوں۔ جان بھی بن جاتی ہے اور روپیہ دھیلہ بھی خرچ نہیں ہوتا“۔
تو ان تین سعودی اور تین اماراتی ڈالروں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ بنیادی چیز یہ ہے کہ اگر قیادت مخلص اور کرپشن فری ہو تو الماری میں پڑے دوسروں کے ڈالروں سے بھی اپنی معیشت کی خوب جان بن جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1194 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar