میز کرسی والے اور سرکاری کام
بچپن سے اپنے گھر میں میز کرسیاں دیکھ رہے ہیں۔ کھانا کھانا اور پھر پڑھائی کرنا آرام سے ہو جاتا تھا۔ مگر جب شعور کی منزلیں طے کیں تو ”میز کرسی“ کی اہمیت اس وقت پتا چلی جب صبح آٹھ بجے بڑی بہن صاحبہ کے ساتھ شناختی کارڈ بنوانے کے لئے جانا پڑا (یہ اس زمانے کی بات ہے جب ’نادرا‘ معرض وجود میں نہیں آیا تھا)۔ دو دن مسلسل خواری اور کاغذات کی لمبی فہرست کے بعد ہمارے بہنوئی صاحب نے ”میز کرسی“ کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ ہمیں یقین نہ آیا اور ہم نے سوال داغا کہ بھئی اس پر تو بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ بہنوئی صاحب نے کہا کہ ”ہم کب کہ رہے ہیں کہ اس پر بیٹھ کر پڑھا جاتا ہے؛ وہ بھی کھانا ہی کھاتے ہیں؛ یہ الگ بات ہے کہ یہ کھانا ہمیں کھلا نا پڑے گا۔
بات کچھ عقل میں آئی اور دوسرے دن ہم شناختی کارڈ کے دفتر کے باہر تھے۔ تمام میز کرسیوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ ہمیں بڑی حیرت ہوئی سب میز کرسیوں کی حالت بڑی خستہ تھی۔ کئی ایک کے تو ایک پیر بھی غائب تھے، مگر اینٹوں کے ذریعے اس کمی کو پورا کیا گیا تھا۔ ایک میز کرسی کو ہماری بڑی بہن صاحبہ نے منتخب کیا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ ہم تو بس ان کے اخلاق کو دیکھ کر ہی متاثر ہو گئے۔ اتنے دن سے ہم خوار ہو رہے تھے؛ ایسا لگتا تھا کہ ہم شناختی کارڈ بنوانے نہیں، بلکہ بھیک مانگنے گئے تھے۔ بہر حال قصہ مختصر کہ بہت آسانی کے ساتھ میز کرسی والے کو کھانا کھلا کر، میر ا مطلب ہے کہ بات کر کے، آ گئے؛ کچھ دنوں کے بعد ہماری بہن صاحبہ کا شناختی کارڈ بن گیا۔
وہ تو جب ’نادرا‘ معرض وجود میں آیا، تو قطار یں لگنا شروع ہوئیں اور ایک انتظار کے بعد شناختی کارڈ بننے لگا۔ ہمیں یہاں کوئی اعتراض نہیں، قطار میں لگنے کی ہمیں بچپن سے نہ صرف عادت ہے، بلکہ بہت تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ خیر ہم بات کر رہے تھے، ”میزکرسی“ کی! ہمیں لگا کہ اب ان کا وجو د ختم ہو گیا۔ مگر جناب دوسری دفعہ جب ایک نوکری کے حصول کے لئے کچھ کاغذات بنوانے پڑے تو پتا چلا وقت نہیں بدلتا بلکہ وقت تو ایک سا رہتا ہے۔
اس بار ہم نے ادارے کے اندر جانے کی زرا بھی زحمت نہیں کی، کیوں کہ ہمارا تجربہ کہتا ہے کہ جن اداروں کے باہر ”میزکرسی ’‘ ہوتی ہے، ان اداروں کے اند ر جانے سے سوائے خواری کے اور کچھ نہیں ملتا۔ اس لئے اپنے تجربے کی بدولت ہم نے ایک میز کرسی والے سے بات کی اور اس نے ایک ہفتے کے اندر اندر کام پورا ہونے کا کہا۔
یہاں ایک بات بتاتے چلیں، کہ ان ”میز کرسی“ والوں میں ایک خاصیت یہ ہوتی ہے، کہ وہ کھانا کھلانے کے ایک دام لیتے ہیں۔ یعنی آپ کسی بھی میز کرسی والے کے پاس چلے جائیں وہ رقم کم یا زیادہ نہیں بتاتے، نا ہی بھاؤ تاؤ کرتے ہیں۔ جو تاریخ کام کی بتاتے ہیں اسی تاریخ پر آپ کا کام کرتے ہیں۔
ان میز کرسی کی بدولت ہمیں بہت سی جگہوں پر آسانی ہوئی۔ ڈومیسائل بنوانا ہو یا پی آر سی بنوانا ہو، بغیر کسی بھاگ دوڑ کے میز کرسی آپ کی مدد کر دیتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ میٹرک بورڈ آفس کے باہر بھی ہمیں ایک آدھ میز کرسی نظر آئی۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمار ا میٹرک کا سرٹیفیکیٹ گم ہو گیا۔ بڑ ے عرصے کے بعد ادھر کا رخ کیا۔ با ہر ایک آدھ میز کرسی نظر آئی مگر سابق تجربہ اچھا تھا، اس لئے ادارے کے اندر جانا ضروری سمجھا۔ اب جو اس نے کاغذات کی فہرست اور اخبار میں اشتہار کا کہا، تو ہم حیرت سے ان صاحب کی شکل دیکھنے لگے۔ پھر ہمارے حیرت کی انتہا نہ رہی، جب ان صاحب نے خود ہمیں ایک ”بابا جی“ کا پتا بتایا، کہ ان کے پاس چلے جائیں، وہ سارے کام کروادیں گے۔ آپ تو جانتے ہیں نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا، اصل بندے کا کام اس کی پہچان ہوتا ہے۔ وہ چھتری والے با با جی تھے۔ تھوڑے سے نخریلے بھی تھے، مگر کام کے پکے تھے۔ وہ کام جس کے لئے ہمیں لگ رہا تھا کہ دو سے تین دن کی چٹھی کرنی پڑے گی، وہ اسی دن نمٹایا اور کچھ دن کے بعد ہمارا سرٹفیکیٹ ہمارے ہاتھ میں تھا۔
بالکل اسی طرح جب گاڑی کے کاغذات کو اپنے نام ٹرانسفر کرانے کی باری آئی تو والد محترم نے کہا بیٹا گاڑی کا معاملہ ہے، اصل کاغذات کسی کو تھماؤ گی، اگر کوئی مسئلہ ہو گیا تو؟ آسان اور مختصر یہ کہ ابو نے ہمیں ڈرا دیا۔
بات تجربے کی کہی تھی، انہوں نے۔ ہم نے سوک سینٹر جانے کی ٹھان لی۔ ہمارے شوہر صاحب نے صاف کہا کہ وہ آدمیوں کی جانے کی جگہ ہے؟ ہم نے کہا! کوئی مسئلہ نہیں ہم چلے جاتے ہیں۔ انھیں پتا تھا کہ ہم ہر سال گاڑی کا ٹیکس جمع کر انے جاتے ہیں، تو کچھ نہیں بولے۔
”کام اس طرح ہو گا نہیں، یہ تم لکھ لو“
یہ ان کا تاریخی جملہ تھا جس کی کچھ دنوں کے بعد ہم نے تائید کی۔
سوک سینٹر اکیلے عورت کا جانا واقعی اتنا آسان نہیں۔ مردوں کا ایک ازدحام ہوتا ہے۔ ہم ہمیشہ اپنے والد محترم کے ساتھ جاتے اس وقت انھیں لے جانا ممکن نہ تھا۔ بے چارے بہنوئی صاحب نے ساتھ دیا اور ہم مردوں سے بچتے بچاتے اپنی مطلوب منزل تک پہنچے۔ دیکھا ہمار ے علاوہ بھی دو چار ناقص العقل عورتیں تشریف فرما تھیں (بعد میں احساس ہوا کہ عقل تو صرف ہماری ہی ناقص ہے)۔ کھڑکی پر جا کر اپنا مدعا بیان کیا۔ وردی والے صاحب نے بہت مختصر عمل بتایا، گاڑی کے کاغذات کے ٹرانسفر کا۔ ہم دل ہی دل میں خوش ہوئے۔ لگا آج ہی سار ا کام کروا لیں گے، اور گھر والوں پر خاص طور پر شوہر صاحب پر خوب رعب جمائیں گیں۔ ابھی ہم خوش ہو رہے تھے، کہ وردی والے صاحب کی ”مگر“ پر چونکے۔ کمپیوٹر کے سسٹم میں کچھ مسئلہ ہے۔ ان صاحب نے بہت شایستہ الفاظ میں کہا۔
”کب تک مسئلہ ختم ہو جائے گا؟“
”کچھ کہہ نہیں سکتے“۔
’’کیوں؟ آپ کا کمپیوئٹر ہے آپ کو نہیں پتا کہ یہ کب صحیح ہو گا‘‘؟
ہمارے اس جواب کی انھیں توقع نہیں تھی۔ آس پاس کی عورتیں بھی ہمیں غصے سے گھورنے لگیں۔ ہمیں ان عورتیں کے غصے کی سمجھ نہیں آئی۔ ایک خاتون بولیں یہ بہت اچھے صاحب ہیں، آپ کا کام کر دیں گے۔
ابھی ہم مزید الٹا سیدھا بولتے، ہمارے بہنوئی صاحب نے ہمیں ”گھورا“ اور چلنے کا اشارہ کیا۔ راستے بھر ان سے ڈانٹ الگ پڑی۔ باہر بیٹھے میز کرسی والوں سے بات بھی کی، مگر یہاں ہمیں اصل کاغذات جمع کرانے تھے، اس لئے ہم ڈر گئے اور ان کی خدمات سے متاثر ہونے کی باوجو د گھر آ گئے۔
گھر آ کے سب سے سننا الگ پڑا، لیکن دیکھیں تجربہ بڑی چیز ہے۔ ہمارے شوہر صاحب نے اپنے تعلقات کی بنا پر خدمت ”میزکرسی“ والوں ہی سے لی، مگر یہاں ”بھروسے والا“ کا لاحقہ لگا اور ہمارا کام بھی ہو گیا۔
ہم سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنے گھروں میں بہت خوبصورت میز کرسیاں سجا رکھی ہیں، مگر یا تو یہ پڑھنے کے کام آتی ہیں، یا پھر کھانے کے۔ اس کے علاوہ ان کا زندگی میں کوئی کام نہیں؛ جب کہ باہر رکھی ہوئی یہ میز کرسیاں، اتنی خستہ حالت میں بھی لوگوں کے کام آ رہی ہیں؛ بڑی بات ہے جناب۔


