علی رضا عابدی ہم سب کا شہزادہ


ہر طرف بدتمیزی کے طوفان برپا، کوئی آپ کو مخاطب کر کے گالی دے ، طعنہ مارے، طنز کسے، سنگین الزام لگائے تو کیا ردعمل ہوگا یقیناً شدید غصہ آجائے گا مگر میرا دوست بلکہ ہم سب کا بھائی عابدی بالکل ٹھنڈے مزاج سے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دے کر ناقدین کے دل میں گھر موہ لیتا تھا۔

اخلاق احمد عابدی کا چھوٹے صاحبزادہ اور ہم سب کا بڑا بھائی علی رضا عابدی چاہیے کچھ بھی ہو ہر مشکل میں ساتھ کھڑا رہا، سوشل میڈیا کیا ہے ؟ کیسے چلانا ہے اس کا فائدہ کیا ہے؟ نیلی چڑیا ٹویٹر کیا ہے؟ یہ سب عابدی نے بتایا۔

معلوم ہے اُس کی ایک اچھی اور خاص بات کیا تھی کہ جب اُس نے سوشل میڈیا کی آگہی دی تو آئی ڈی بنانے کے بعد سب سے پہلے خود فالو کیا، ہمیں پذیرائی دلوانے کے لیے ری ٹویٹ کیے، لوگوں سے فالو کروایا، ساتھ سمجھاتا بھی رہا دیکھو کاپی پیسٹ نہ کرو، تمھارے اندر صلاحتیں چھپی ہیں انہیں سامنے لاؤ۔

آخری بار عابدی سے ملاقات جولائی میں اور واٹس ایپ پر بات چند دن قبل ہوئی، انٹرویو کے دوران جب میں نے سوال کیا کہ کل کو آپ رکن اسمبلی بن گئے اور وفاداری تبدیل کرنے کا دباؤ آیا تو کیا کریں گے؟۔

اتنی زور سے ہنسا اور کہنے لگا !! بھائی میرے ساتھ ابھی جو ہوتا ہے وہ بیان نہیں کرسکتا، پھر اُس نے آف دی ریکارڈ جو چیزیں بتائیں اُس کے بعد میں اُس کی امان کا سوچتا رہتا تھا۔

میں ایک بات پر اُس کا مخالف تھا اور جہاں ملتا یہ سوال پوچھ بھی لیتا تھا کہ ‘آپ نے کربلا کی سرزمین پر سیاست چھوڑنے کی قسم کھائی تھی تو اب سیاست میں کیوں آگئے پھر؟’۔

اتنا تلخ جواب سُن کر وہ ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ میں نے سیاست چھوڑنے کا نہیں کہا، آپ کو شاید سمجھ نہیں آیا، میں سمجھاتا ہوں’۔ دیکھو عمیر میاں بات یہ ہے کہ وہ اعلان پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے اتحاد سے متعلق تھا، اگر انضمام ہوتا تو کبھی واپس نہ آتا، ویسے بھی میں نہیں چاہتا کہ ایک خلا چھوڑوں، ہوسکتا ہے میری جگہ کوئی غلط آدمی آجائے۔

وہ جیسا بھی تھا، تنقید کو سنتا تھا، عابدی کا ایک شوق اور وژن تھا کہ سب اکھٹے ہوں، ایک ساتھ چلیں، کراچی میں ہونے والی فرقہ واریت ختم ہوں، شہر کے باسیوں کو اُن کے حقوق ملیں، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں، وہ زمینی حقائق کو سمجھنے والا آدمی تھا اس لیے کبھی پروپیگنڈوں پر تذبذب کا شکار نہیں ہوا۔

عابدی کی ایک بات سُن کر ہم ہنستے تھے مگر کل وہ سچ ثابت ہوگئی، وہ کہتا تھا ‘میرے ہاتھ میں طبعی موت کی لکیر نہیں’۔ مجھ سمیت اور بھی رفقاء اس بات کو جانتے ہیں کہ وہ کہتا تھا ‘مولا چاہیے گا ہم ایسے جائیں گے کہ ہر شخص افسردہ ہوگا، تمام لوگ شیعہ سنی ایک ہوں گے، کوئی ہاتھ باندھے گا، کوئی چھوڑے گا مگر انشاء اللہ میں ایسے ہی جاؤں گا’۔

علی رضا عابدی کل چلا گیا، سب کو غمزدہ کرگیا، کوئی ایک بھی اُس کا مخالف نہیں تھا، سوشل میڈیا ہو، پرنٹ میڈیا ہو یا وہ لوگ جو ایم کیو ایم سے عناد رکھتے ہیں وہ بھی افسردہ تھے، آج جنازے میں سیکڑوں آنکھیں اشکبار تھیں اور عابدی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

جنازے میں شامل ہر شخص کے منہ پر ‘کیوں’ کا لفظ تھا اور سب عہد کررہے تھے کہ ایسے ہی کام کریں گے کہ ہمارے جنازے بھی اتنے آباد ہوں، تمام مسالک و مکاتب شرکت کریں، ہم بھی شہزادے کی طرح رخصت ہوں۔

وہ جیسے مسکراتا ہوا دنیا میں رہتا تھا ویسے ہی سفر آخرت پر روانہ ہوا، کچھ ایسے لوگ جن میں انسانیت نہیں بلکہ سفاکیت بھری انہوں نے عابدی پر زندگی میں بھی سنگین الزامات عائد کیے اور لندن سے منسوب کیا اب وہی لوگ قتل کے تانے بانے لندن سے جوڑ رہے ہیں حالانکہ تحقیقات کا ابھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

نہ جانے کیوں لوگ ایسے سخت دل ہوتے ہیں کہ کسی کے دنیا سے گزر جانے پر اپنی پوائنٹ اسکورنگ سے باز نہیں آتے، خدا کے واسطے اُن تمام لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر التجاء کرتا ہوں میرا بھائی، دوست کسی کا برا نہیں چاہتا تھا، اُس کی سیاسی نظریاتی وابستگی سے اختلاف ہوگا مگر آپ اتنے بے رحم نہ بنیں۔

میرا عابدی ، ہم سب کا دوست چلا گیا، اب وہ لحد کے سپرد ہے، اُس کا سفر آخرت شروع ہوگیا، وہ شہزادے کی طرح دنیا سے رخصت ہوا، اُسے متنازع نہ بنائیں کیونکہ وہ تو رول ماڈل تھا گالی دینے والے کو بھی مسکرا کر جواب دیتا تھا۔

ظالموں مارنے سے پہلے علی رضا عابدی سے ایک بار بات تو کرلیتے، پھر تمھارے ہاتھ گولی چلانے سے پہلے کانپ اٹھتے، تم اُس کو اختلاف کی وجہ تو بتاتے مگر تم سفاک ہو، یاد رکھو خدا کی لاٹھی بے آواز ہے وہ انصاف دے گا۔

عابدی کو کچھ نہ دے سکے مگر اُس کی موت پر ایک مطلعے کے ذریعے اظہار کیا۔

تجھے مبارک ہو یہ منصبِ شہادت علی

ہم بدقسمت حالات کو ہی کوسیں گے

سُن کر تیرے جانے کی خبر دل بھر آیا

اب تو ہی بتا ان اشکوں کو کیسے روکیں گے

Facebook Comments HS