موجودہ بیوی کا سابق شوہر کیا کہلاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں بھی اردو سے پیار ہے۔ مگر کبھی کبھی اردو زبان کی ”عسرت“ ہمیں تنگ کر دیتی ہے اس لیے کیونکہ اردو زبان میں کچھ رشتوں کے لئے کوئی نام ہی نہیں۔ مگر یہ کون سے رشتے ہیں یہ بیان کرنے سے قبل ہم تھوڑی علمیت جھاڑنا ضروری سمجھتے ہیں تا کہ جاوید چوہدری کی روایت برقرار رہ سکے۔ بات یہ ہے کہ ہر زبان انسان کے تجربات سے بنی ہے، جس علاقے کا جو موسم ہے، جو تہذیب ہے، جو ثقافت ہے، جو رسوم و رواج ہیں، ان سب نے مل جل کر زبان کی صورت گری کی ہے۔ جیسے جیسے انسانی تجربات بدلتے جاتے ہیں زبان بھی بدلتی جاتی ہے۔ اب کچھ تجربات کیونکہ ہمارے سماج میں بہت نئے ہیں، اس لئے ان کے لئے ابھی الفاظ ابھی لغت میں موجود نہیں، جب ان پر بات ہوتی ہے تو ایک لفظ کی جگہ ایک پورا جملہ لکھنا پڑ جاتا ہے اور یوں خوبصورت اور مختصر جملہ تخلیق نہیں ہو پاتا۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ مثال ہمارے گھر کی ہے۔ ہمارے یہاں رمضان میں دو میٹھے پکوان خاص طور پر بنتے ہیں۔ پہلے پکوان میں دالوں کو پیس کر بنا مسالے کے پکوڑتے سے تل لیے جاتے ہیں۔ ان پکوڑوں کو شیرے میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ اِس ڈش کو ”منگوچھی“ کہا جا تا ہے۔ دوسرا پکوان ٹھیک اسی انداز میں بنایا جاتا ہے مگر اس میں دالوں کے بجائے آلو کے بھرتے سے بنے پکوڑوں کو شیرے میں ڈال کر تیار کیا جاتا ہے۔ مگر اس پکوان کا کوئی نام نہیں۔ اسے ہم ”آلو انڈے کی مٹھائی“ کہتے ہیں۔ اس طویل نام پر ہم کو بچپن سے اعتراض رہا ہے۔ لگتا ہے مٹھائی کا نام نہیں بتایا جا رہا بلکہ ترکیب اور اجزاء بیان کیے جا رہے ہیں۔ اس لئے جب بھی ہماری یہ مرغوب مٹھائی بنتی ہے تو ہم اس کو دستر خوان پر اس کے طویل نام کے بجائے ”یہ“ یا ”وہ“ کہہ کے طلب کرتے ہیں۔

مگر ظاہر ہے کہ ہر مشکل اور طویل نام کے لئے ”یہ، وہ“ نہیں کیا جا سکتا۔ انسان تنگ آ جاتا ہے اور بھارتی گانا گنگناتا ہے کہ ”یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ “

مگر چلئے ہم اُن رشتوں پر ہی روشنی ڈال دیتے ہیں جس کے لئے ہم اتنی طویل تمہید باندھ رہے ہیں۔ اگر ایک لڑکی پر دو مرد عاشق ہوں تو ان دونوں مردوں کا آپس کا رشتہ ہوا رقابت کا ہوا اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ”رقیب“ ہوئے۔ اسی طرح اگر ایک مرد پر دو لڑکیاں عاشق ہوں تو وہ دونوں آپس میں ”رقیبہ“ ہوئیں۔ اگر ایک مرد دو عورتوں سے شادی کر لے تو وہ دونوں عورتیں اردو لغت کے اعتبار سے آپس میں ”سوتن“ ہوئیں، اگر ایک مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ اس کی ”سابقہ بیوی“ ہوئی، اگر ایک عورت اپنے شوہر سے خلع لے لے تو وہ شخص اس کا ”سابقہ شوہر“ ہوا۔

اب اوپر مذکورہ صورت میں لسانی نکتہ یہ ہے کہ رقیب ایک لفظ ہے، رقیبہ ایک لفظ ہے، بیوی ایک لفظ ہے اور شوہر ایک لفظ ہے، سوتن بھی ایک لفظ ہے مگر ”سابقہ بیوی“ اور ”سابقہ شوہر“ ایک لفظ نہیں ہیں۔ ثابت ہوا کہ رشتہ ختم تو لفظ ختم۔ اب ”منگوچھی“ نہیں ”آلو انڈے کی مٹھائی“ بن جاتی ہے۔ مگر پھر اس سے بھی پرپیچ، اس سے بھی پیچیدہ رشتے بیان کرنا ہوں تو اردو کا جامہ اور تنگ ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ”موجودہ بیوی کا سابقہ شوہر“ اس رشتے کے لئے اردو میں کوئی لفظ ہی نہیں، پھر ”سابقہ بیوی کا سابقہ شوہر“ پھر اس بھی عجیب ہے ”پہلی بیوی (جو کہ اب بیوی نہیں ہے ) کا موجودہ بوائے فرینڈ“ یہ تو اتنا عجیب رشتہ ہے کہ اردو لغت اپنی تنگ دامانی کی وجہ سے رونے لگتی ہے، پھر اس سے بھی عجیب رشتہ بھی آلو انڈے کی مٹھائی کی طرح اردو زبان کو منہ چڑاتا ہے اور وہ رشتہ ہے ”موجودہ شوہر کی سابقہ (اور آنجہانی) داشتہ کی ایسی بیٹی کا جس کا دعویٰ ہو کہ وہ موجودہ شوہر کی اولاد ہے۔ “

ایک اور رشتہ ملاحظہ ہو: ”سابقہ شوہر کا فل باڈی ویکس کروانے والا خاص دوست“۔ اف نجانے کیوں اس موقع پر ہم کو عصمت چغتائی کی ”لحاف“ یاد آ گئی۔ مگر عصمت جی نے بھی اس رشتے کا کوئی نام تو متعارف نہیں کرایا، حالانکہ ادیبوں کا، شاعروں کا تو فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ زبان کا دامن وسیع کریں مگر وہ بھی بس آلو انڈے کی مٹھائی ہی پکا کر چلی گئیں۔ ہم جب بھی ٹی وی پر ٹاک شوز دیکھتے ہیں، اخبار پڑھتے ہیں اور یہ عجیب رشتے ہم پر یورش کرتے ہیں۔

”پہلی سابقہ بیوی کا موجودہ بوائے فرینڈ“، ”دوسری سابقہ بیوی کا پہلا سابقہ شوہر“، ”تیسری موجودہ بیوی کے سابقہ شوہر کی ہونے والی بیوی“، ”فل باڈی ویکس والے خاص دوست کی بیوی“، ”آنجہانی داشتہ سے مبینہ بیٹی“۔ یہ تھکا دینے والے دو دو تین تین نہیں چار اور پانچ الفاظ پر مشتمل رشتے بولنے میں حلق خشک کر دیتے ہیں اور لکھنے میں سیاہی ختم ہو جاتی ہے۔ اردو زبان جس دور میں، جن اقدار میں، جس سماج میں پروان چڑھی تھی وہاں پر یہ ماں، باپ، بہن، بھائی، بیٹی، بیٹا، نند، بھاوج، بہنوئی، پھوپھی، چچا، ماموں، خالہ، دادی، دادا جیسے رشتے تھے۔ ہمارا سماج اور اردو زبان اب جس عہد میں داخل ہو گئے ہیں اس میں رشتے کچھ اور ہی قسم کے ہیں۔ اردو کا دامن تو اس گورکھ دھندے میں تنگ ہے۔ شاید کوئی اور ہی زبان اب ایجاد کی جائے گی جو ہمیں یہ بتا سکے گی کہ یہ رشتے کیا کہلاتے ہیں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں