رہف، من چاہی زندگی اور ارتداد

ہوا کچھ یوں کہ رہف محمد مطلق القنون نام کی ایک بیس سالہ لڑکی سعودیہ سے بھاگ کر تھائی لینڈ پہنچی۔ یہاں سے اس کا ارادہ کسی مغربی ملک کو فرار کا تھا۔ یہاں جس ایجنٹ کو اس نے اپنا پاسپورٹ دیا کہ وہ اس کے فرار کا انتظام کرے وہ شخص پاسپورٹ لے کر…

Read more

تحریک انصاف کے دانت

آج سے چند سال قبل راقم الحروف کو ایک ورکشاپ میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ وہاں وہی امریکی، یورپی ایجنڈا تھا کہ جی ملک کی قرارداد مقاصد سے اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان ہٹاؤ، قادیانیوں کو مسلم قرار دو، آئین سے غیر مسلم کے صدر، وزیر اعظم بننے کی ممانعت ہٹاؤ، اسرائیل کو تسلیم…

Read more

سیاست کا شمشان گھاٹ اور ادھ جلی ارتھی سے اٹھتا دھواں

آج عالم سیاست ایک بے زاری بھرا منظر پیش کرتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہے اور کیا مایوس کن کارکردگی ہے! پیپلز پارٹی ایک کھنڈر ہے جس سے مستقبل کے لئے کوئی اچھی امید نہیں وابستہ کی جا سکتی۔ نواز لیگ کے پاس ویسے ہی کون سا وژن تھا؟ اب تو الحمد للہ یتیم…

Read more

کامران موچی اور جوتے کا سوراخ

کامران موچی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ دنیا کو جوتے کے سوراخ سے دیکھتا تھا۔ اسے موچی کا کام آتا تھا اور اس کے اسرار و رموز سے واقف تھا۔ آپ کہہ لیجیے کہ وہ ایک اچھا موچی تھا مگر اسے فلسفی بننے کا بھی خبط ہو گیا اور اس نے سوچ لیا کہ وہ جوتا گانٹھنے کے فن سے ہی سارے عالم کو سمجھ لے گا۔ وہ اشفاق احمد کے کرداروں جیسے مکالمے بول لے گا اور لوگ اس میں حکمت و دانائی تراش لیں گے۔ مگر سوچنے کی بات یہ بھی تو ہے کہ ساری دنیا کیا یوں جوتے کے سوراخ سے دیکھ کر سمجھی جا سکتی ہے؟

مگر کامران موچی کیا ایسا کرنے والا ہمارے معاشرے کا واحد انسان ہے؟ دراصل یہ بات تھوڑی تفصیل کی متقاضی ہے۔ دنیا کو اپنے ذاتی تجربات سے سمجھنے کی کوشش کرنا ایک انسانی روش کا نام ہے جسے مکمل طو رپر غلط نہیں کہا جا سکتا۔ مگر سوچنے کی بات یہ بھی تو ہے کہ ہمارا تجربہ کتنا بڑا ہے؟ ہمارا فہم کتنا بڑاہے، ہم نے اپنی زندگی میں کن خیالات پر غور کیا ہے؟ کیا علوم حاصل کیے ہیں اور وہ عالم کی تفہیم میں ہماری کتنی معاونت کرتے ہیں؟

Read more

سائنس مردہ باد!

آؤ کبوتر اڑائیں۔ یہ طنز نہیں، دعوت ہے۔ کبوتر امن کی بھی تو علامت ہے۔ سائنس مگر کس چیز کی علامت ہے؟ بات بڑے مبہم انداز میں ہو رہی ہے۔ تھوڑی شاعرانہ بھی مگر شاعری کرنا اور فلسفہ بگھارنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ سائنس مردہ باد! اس لئے کہ سائنس نے انسان کو چاند پر پہنچنے کی جھوٹی کہانی سنا کر مبہوت کر دیا۔ آج تک لوگ عقیدے کی طرح یہ بات سینے سے لگائے بیٹھے ہیں کہ 1969 ء میں انسان چاند پر گیا تھا۔

Read more

اسرائیل، پاکستان اور عمران خان

کہنے والے کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ سازشی نظریات ( Conspiracy theories) کا معاشرہ ہے۔ بہت سے لوگ بہت سے دعوؤں پر ہنستے ہیں۔ مثلاً بہت سے افراد کے لئے یہ ایک ہنسی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ عرصہ قبل اسرائیل کا ایک جہاز وارد ہوا تھا اور دس گھنٹے تک رک…

Read more

انسانی حقوق اور من چاہا اندھا پن

انسانی حقوق بھی بڑی ہی عجیب شے ہیں۔ دوستوئفسکی کے ناول شیاطین ( Possessed) میں ایک مقام پر نکولس اسٹاورجن اپنے ناہنجار سالے کیپٹن لبیاٹکن سے کہتا ہے کہ جتنی دیرمیں گھر میں ہوں، تم میری یہ چھتری لو اور باہر انتظار کرو۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ سالا دریافت کرتا ہے کہ ”حضور کیا میں چھتری کے قابل ہوں؟ “ جواب ملتا ہے ہاں ہر انسان کو چھتری کا حق حاصل ہے، جس پر کپتان بڑی لجاجت سے کہتا ہے کہ ”حضور نے تو انسانی حقوق کی تعریف بڑی خوبصورتی سے متعین کر دی۔ “

ساری دنیا میں انسانی حقوق بڑی حد تک اسی طرح معین ہو رہے ہیں۔ طاقت ور کے حقوق مختلف ہیں، کمزور کے حقوق جدا ہیں۔ پھر کسی کو ایک قسم کے کمزور مظلوم تو نظر آ جاتے ہیں مگر دوسری قسم کے مظلوم نظر ہی نہیں آتے۔ اس کیفیت کو اردو میں کیسے ظاہر کریں گے یہ تو ہمارے لئے بتانا مشکل ہے مگر انگریزی میں اس لئے ایک بڑی ہی پیاری سی اصطلاح ہے۔ ”Selective blindness“

Read more

اسرائیل: ”غلطی سے مس ٹیک ہو گئی باس“

دو ایک سال قبل رنبیر کپور اور کترینہ کیف کی ایک فلم ریلیز ہوئی تھی۔ تب بھارتی چینلوں اور فلموں کی کیبل پر پابندی نہ تھی، فلم کا عنوان تھا ”جگا جاسوس“۔ فلم بری طرح پٹ گئی تھی، بھارت میں عموماً ہر بڑے بجٹ کی فلم کی بے حد پروموشن اس کے اجراء سے قبل…

Read more

نشے میں ڈوبتے نوجوان اور تحریک انصاف کا مستقبل

کچھ ماہ قبل ایک وزیر نے ایک مقام پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ 70 یا 75 فیصد طلبہ و طالبات نشے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد کے پوش اسکولوں کی کینٹینوں سے ٹافی کے ریپر میں لپٹی آئس اور دیگر نشے کی ادویات باآسانی مل جاتی ہیں۔ بس بات نکلی تو چل…

Read more

غالب، غالب، غالب کا راگ

ہم نے بھی اپنے بچپن میں عامر لیاقت حسین صاحب کی طرح نصیر الدین شاہ صاحب والا گلزار کا لکھا غالب ڈرامہ دیکھا ہوا ہے۔ عامر بھائی اسے غالب فلم کہہ گئے تھے مگر ظاہر ہے کہ مرزا غالب پر بننے والی بھارتی فلم تو نہ اتنی مقبول ہے نہ اتنی اچھی۔ گلزار صاحب کا تخلیق کردہ ڈرامہ غالب پر بننے والے تمام ڈراموں اور فلموں سے بہت بہتر ہے مگر گلزار صاحب کے بھی کچھ مسائل ہیں۔ ایک مسئلہ تو گلزار صاحب سے بڑھ کر سیکولر بھارت کا ہے کہ جو بھی شخص ماضی میں بہتر تھا، اعلیٰ تھا، معروف تھا، اسے کسی طرح سے بس سیکولرازم اور لبرل ازم کا ہی کوئی قدیم نمونہ بنا دیا جائے۔ بے چارہ غالب تو شاعر تھا ورنہ اکبر اور اشوک اعظم بھی اس تحریک سے نہیں بچ سکے۔

مگر ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ غالب کی شاعری پر کوئی بات کرنے کی بھی ہماری جرأت نہیں۔ اگر ہم غالب کی شاعری پر ایک لفظ بھی لکھیں گے تو محض بحیثیت طالب علم مگر ہم آج غالب پر نہیں بلکہ برصغیر میں غالب غالب کی تکرار پر اور اس کے پیچھے موجود نفسیاتی وجوہات کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔

کچھ عرصہ گزرا کہ بدقسمتی سے ہم کو PTV دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ معلوم ہوا کہ غالب کی 150 ویں برسی یا یوم پیدائش منانے کی کوئی کوشش جاری ہے۔ ایوان صدر میں پروگرام ہو رہا ہے، غالب کی غزلیں پڑھی جا رہی ہیں، گائی جا رہی ہیں، سامنے نصیر الدین شاہ صاحب بھی براجمان ہیں۔

Read more