تدریسی اداروں میں تحقیقی بدعنوانیاں: ’فرسٹ آتھر‘ کون؟

ویسے تو ہمارے ملک کی نام نہاد علمی دنیا بڑی حد تک ناکام دنیا داروں کی دنیا ہے۔ یہاں ایسے ’ڈیفیکٹیڈ پیس‘ بھرے ہیں جو کہ فوجیوں، بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کو دیکھ کر رال ٹپکا رہے ہیں اور جل کڑھ رہے ہیں۔ ان ’علمی فنکاروں‘ کے پاس بہت محدود طاقت ہے۔ ان کی طاقت صرف اپنے کلاس رومز تک محدود ہے۔ ان کی ناطاقتی نے ان کو سر تا پا بدعنوان بنا دیا ہے۔ مگر ان کی بدعنوانی کن کن

Read more

’میر‘ اور جھنڈو بام

مجھے جھنڈو بام پسند ہے۔ جب بھی میرے سر میں درد ہوتا ہے میں جھنڈو بام لگاتا ہوں۔ مگر جھنڈو بام سے میرا تعلق تھوڑا ایوانؔ پاولوف کے تجربے والا بھی ہے۔ ہندوستان میں جھنڈو بام کی بڑی اعلی مارکیٹنگ کی گئی۔ ملائکہ اروڑا صاحبہ کے معروف آئٹم نمبر ’منی بدنام ہوئی‘ میں جھنڈو بام کا ذکر ہے۔ اسی طرح میری پسندیدہ سنی لیونے ؔجی کے معروف آئٹم نمبر بے ’بی ڈول میں سونے دی‘ میں بھی جھنڈو بام کا

Read more

پولیس، ’سافٹ ویئر اپ ڈیٹ‘ اور دیگر کہانیاں

حال میں کراچی کی ایک ویڈیو نے ہر قسم کے ذرائع ابلاغ پر بڑی دھوم مچائی۔ ویڈیو کے دو حصے تھے۔ اول حصے میں ویڈیو ایک گاڑی کے اندر سے بنائی جا رہی ہے۔ گاڑی کے باہر پولیس کے جوان کھڑے ہیں جو کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے نوجوان کو باہر نکالنا چاہ رہے ہیں۔ باہر سے پولیس والے بھی گاڑی کے اندر کی ویڈیو بنا رہے ہیں۔ نوجوان فون پر کسی سے ’بندے‘ منگوا رہا ہے۔ اس کے بعد

Read more

مواد اور ہیئت کا مسئلہ

عسکری نے کہیں لکھا ہے کہ سرسید اور حالی کا مغربی ادب و علوم سے پالا کافی بڑی عمر میں پڑا۔ یہ دونوں ہی افراد مغرب سے بہت مرعوب تھے مگر انگریزی نہیں جانتے تھے۔ مغربی علم و ادب ان تک تراجم کی صورت میں پہنچے۔ تو انہوں نے یوں سمجھا کہ اصل چیز تو خیال ہوتا ہے۔ یعنی اصل چیز تو مواد ہے۔ پھر ہئیت کچھ بھی ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ سرسید کے تصورات جب حالی

Read more

علمی چمگادڑوں کی خدمت میں

میں اپنے بچپن سے علمی لوگوں سے بہت متاثر تھا۔ خود بھی ایک علمی انسان بننا چاہتا تھا۔ میں چھوٹے چھوٹے کتابچے لکھا کرتا اور خود کو مصنف کہلوانا پسند کرتا تھا۔ ان کتابچوں میں کچھ مضامین، کچھ کہانیاں اور کچھ نظمیں بھی ہوتی تھیں۔ میں نے اپنی زندگی کی پہلی نظم اپنے خالا زاد بھائی فیضان کی شان میں لکھی تھی۔ تب میں بارہ سال کا تھا۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ میں بالآخر کسی جادوئی نظام سے آرٹس فیکلٹی پہنچا اور آخر میں علم نفسیات کا ہو رہا۔

Read more

عامر لیاقت کا ناگن ڈانس اور دیگر کہانیاں

چند دن قبل میری نظروں سے عامر لیاقت حسین کی ایک ویڈیو گزری جس میں وہ ناگن ڈانس کر رہا ہے۔ اس ناگن کا رقص میرے لئے ایک بہت بھیانک جمالیاتی جھٹکا تھا۔ میں اس ”ریپٹائل“ کو پہچانتا تو تھا مگر اس کے رقص نے میرے سامنے ہمارے قومی زوال کی ہر جہت کو واضح کر دیا ہے۔ آئیے اس ناگن کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارا زوال بکسر اور پلاسی سے آگے بڑھ کر کیسے ہمارے اخلاقی اور جمالیاتی قلعوں کے تاراج ہونے تک پھیل گیا ہے۔

Read more

پی ایچ ڈی کی تختی اور جہاندار شاہ

حال ہی میں ایک خبر سے دل کو بڑی راحت ملی۔ خبر تھی کہ ایچ ای سی کو وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور اس کی خود مختاری ختم کر دی گئی ہے۔ دیر آید درست آید۔ خس کم جہاں پاک! ایچ ای سی دراصل ہمارے ملک کا ایک خوفناک ناسور ہے کہ جس نے تعلیم کی روح کو اس ملک میں ہلاک کر دیا ہے۔ میں ایچ ای سی پر اس سے پہلے بھی میں

Read more

انگریزی ریستوران، مینیجر اور ہمارا معاشرہ

ابھی چند دن پہلے اسلام آباد کے ایک ’ایلیٹ‘ ریستوران کی مالک دو خواتین کی اپنے مینیجر سے تفریح ان کو مہنگی پڑ گئی۔ ویسے تو عموماً وہ ویڈیو سب ہی دیکھ چکے ہیں مگر جو قارئین اس کہانی سے واقف نہیں انہیں بتاتے چلیں کہ مذکورہ ویڈیو میں ایک ریستوران کی مالک خواتین اپنے مینیجر سے انگریزی میں تعارف کرانے کو کہتی ہیں اور جب وہ بیچارا اس کام کو بہتر طور پر نہیں کر پاتا تو اس کا

Read more

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تعلیم و تحقیق کا کیا حشر کیا؟

جامعات کی گرانٹس بڑھا دی گئیں اور تنخواہوں میں اضافہ ہوا۔ جامعات کے اساتذہ کے گریڈ بڑھا دئے گئے اور پھر ’ٹریول گرانٹ‘ کے سلسلے شروع کیے گئے۔ اب جامعات سے اساتذہ نے ہر عجیب و غریب قسم کی کانفرنسوں میں اپنے انتہائی فضول درجے کے پرچے بھیج کر ایچ ای سی سے غیر ملکی سفر کی خوب گرانٹس لیں۔

مجھے یاد ہے اس ’سنہرے دور‘ میں میں جامعہ کراچی کے ’انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سائیکولوجی’ میں ایم فل کا طالب علم تھا۔ تمام ہی اساتذہ نے تب سیکڑوں ملکوں کی مفت سیر کر لی۔ یوں کروڑوں، اربوں روپے ایک انتہائی فضول کارروائی میں اڑائے گئے اور کہا یہ گیا کہ تحقیق کو پروان چڑھایا جا رہا ہے حالانکہ دنیا جہاں میں کانفرنسوں میں پڑھے پرچے یا اس کی‘پروسیڈینگز ’میں چھپی تحقیق کی کوئی اہمیت ہوتی ہی نہیں۔

Read more

سعودی ولی عہد اور آزادی کا جادو

آج سے ایک سو دس سال پہلے دنیا میں زیادہ تر مملکتوں میں بادشاہت قائم تھی۔ تب دنیا میں اتنی جمہوری حکومتیں تھیں جتنی آج بادشاہتیں ہیں۔ لیکن آج بادشاہتیں دنیا سے مٹتی ہی کیوں چلی جا رہی ہیں اور اگر کہیں قائم بھی ہو رہی ہیں (جیسے شمالی کوریا یا پوتن کا روس یا بیلا روس) تو یہ ملک بھی خود کو شہنشاہیت کیوں نہیں قرار دیتے؟ شمالی کوریا بھی ہر چند سال بعد بڑی دھوم دھام سے انتخابات

Read more

چرب زبانی کے پیکٹ میں موت

پاکستان میں بچوں کے ادب کا سب سے بڑا نام اشتیاق احمد کا ہے، آپ کو ہم سے جدا ہوئے 4 سال ہو گئے۔ آپ کے اولین ناولوں میں سے ایک کا عنوان ’پیکٹ میں موت‘ تھا۔ جاسوسی ناولوں کے ایسے ہی نام ہوا کرتے تھے اور ان ناولوں کے سرورق بھی بڑے پراسرار ہوا کرتے۔ کتاب کا نام پڑھ کر، اس کا عنوان پڑھ کر ہی انسان میں تجسس جاگ جاتا کہ اس کتاب کو پڑھ لے مگر بعض

Read more

دہشت گردی کی تعریف اور ہمارا معاشرہ

ویسے تو ہر چیز کی ایک واضح تعریف کا تعین اس چیز کی تفہیم کے لئے ضروری ہوتا ہے لیکن تعریف کی اہمیت تب کئی گنا بڑھ جاتی ہے جب بات قانون کے تناظر میں ہو، جب کسی شے کی تعریف ہر کچھ عرصے پر بدل دی جائے تو اس بات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دراصل اس کی کوئی تعریف ہے ہی نہیں اور اگر یہ کسی قانونی اصطلاح کے ساتھ ہو تو اس سے خطرناک کوئی چیز

Read more

Social media take up me you!

چند دن قبل میرے بڑے برادر فرخ کامرانی صاحب نے یک بڑی دلچسپ بات فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمارے سماج کو تین بخاروں کا شکار ہوتا دیکھا۔ ان میں سے ہر بخار ایک سرسامی کیفیت لئے ہوئے تھا اور ان میں سے اول دو بخار کم و بیش ایک ایک دہائی جاری رہے۔ اس نوع کا پہلا (اور سب سے شدید) بخار تھا ’کمپیوٹر‘ ۔ اسی کی دہائی کے بالکل اواخر میں یہ لفظ

Read more

ہمالہ سے اونچی اور سمندر سے گہری دوستی کے بارے میں کچھ میدانی باتیں

کہا جاتا ہے کہ محبت میں انسان اندھا ہوجاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ محبت کرنے والوں کو اگر ان کے محبوب کی کوئی برائی بتائی جائے تو ایسا کرنے والے ان کو زہر لگتے ہیں۔ عموماً ایسینیکی مہنگی پڑجاتی ہے۔ جس کی برائی بتائی جائے خبر فوراً اس تک پہنچ جاتی ہے اور وہ فوراً ’خبری‘ کی خبر لے لیتا ہے۔ محبت اندھی جو ہوتی ہے۔ بعض اوقات دوستی بھی اندھی ہوجاتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک

Read more

خشوگی اور سعودیہ کے آخری سلطان

حال ہی میں جمال خشوگی کے قتل کا مقدمہ ترکی کی عدالت میں شروع ہو گیا۔ مگر یہ جمال خشوگی کون تھا؟ ہماری عوام کی یاداشت ماشاء اللہ کافی کمزور ہے اس لیے ان کو بتاتے چلیں کہ جمال ایک سعودی صحافی تھا۔ جمال خشوگی بیچارے کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ ہو گا کہ محض سعودی قونصل خانے ایک دستاویز لینے جانا اتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ خشوگی ترکی میں ایک خاتون سے شادی کرنا چاہتا تھا

Read more

روک سکو تو روک لو ”انسانیت“ آئی رے

مجھے سوویت یونین کے بارے میں سوچ کر ہنسی آتی ہے۔ سوویت یونین پچھلی صدی کا سب سے بڑا اور برا مذاق تھا۔ سوویت یونین کا قومی ترانہ مع اس کے ترجمے کے یوٹیوب پر موجود ہے۔ کبھی موقع ملے تو سنئے گا۔ اس میں اعلان ہے کہ یہ عظیم لوگوں کا اتحاد ابد تک کے لئے ہے۔ وہ ’ابد‘ جب آیا تھا مجھے یاد ہے۔ سوویت یونین اور سوشل ازم کی لاش سے بدبو کا برامد ہونا میرے بچپن

Read more

سکندر اعظم کی عظمت رفتہ کے دو مجاور

کہا جاتا ہے کہ سکندر نے اپنے عہد کی معلوم آدھی دنیا فتح کر لی تھی۔ اس کی حکومت یونان سے موجودہ پاکستان تک قائم ہو گئی تھی۔ وہ ملتان میں ایک جنگ میں اسی مقام پر زخمی ہوا جو ’خونی برج‘ کہلاتا ہے۔ واپسی پر جواں سال سکندر کو گوادر کے مقام پر ملیریا ہوا اور وہ راستے میں ہی اس بیماری کی وجہ سے دار فانی سے کوچ کر گیا۔ اہل یونان ایک عہد کی غالب ترین قوم

Read more

معاشی لٹیروں کی نفسیات

ایک زمانے سے وطن عزیز میں احتساب کے نعرے لگ رہے ہیں اور چھوٹے بڑے معاشی دہشت گرد پکڑے جا رہے ہیں۔ میں نے لفظ ”معاشی دہشت گرد“ جان بوجھ کر استعمال کیا، کیونکہ مجھے احساس ہے کہ اس جملے کو پڑھنے والوں کو لفظ شدید اور غیر منصفانہ معلوم ہو گا۔ آخر کسی ادارے میں خورد برد کرنے والا، تھوڑے پیسے بنا لینے والا شخص دہشت گرد کیوں کہا جائے؟ میں خود اس اصطلاح سے متفق نہیں ہوں، چور

Read more

جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے سے فلائنگ جٹ تک

تقسیم ہند کے وقت کانگریس نے ایک ایسا میدان بھی مارا کہ جس کو اس وقت کے سادہ لوگ سمجھ ہی نہ پائے۔ وہ کارنامہ یہ تھا کہ سکھوں کو مسلمانوں کے بجائے کانگریس کا ساتھ دینے پر ناصرف تیار کیا بلکہ سکھوں کو تقسیم ہند کے خیال کا سب سے بڑا مخالف بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سکھوں اور مسلمانوں کا شدید خون آشام ٹکراؤ ہوا جس میں لاکھوں لوگ جان سے گئے اور صوبہ پنجاب بھی صوبہ بنگال کی طرح تقسیم ہوا۔ حالانکہ سکھ اگر پاکستان کا ساتھ دیتے تو ان کو نہ اپنی وسیع و عریض زمینیں چھوڑنی پڑتیں نہ ہی بابا گرو نانک دیو اور دیگر مقدس ہستیوں کی جنم بھومی۔

Read more

جنرل راوت کا سیکولر پاکستان

ہمارے بچپن میں ایک راوت صاحب کا تذکرہ ہمارے گھر میں بڑے زوروں سے رہتا تھا۔ آپ اپنے محلے کے فلسفی تھے۔ نیم دہریے، نیم لبرل، نیم اشتراکی، نیم انارکسٹ، نیم سیکولر، نیم آمریت پسند۔ الغرض وہ ایک بڑا سا ’نیم‘ تھے۔ محترم کی ہر ادا سے میرے برادر ایک ادائے فلسفیانہ دیکھ لیتے۔ مثلاً ایک مرتبہ وہ میرے برادر کے ساتھ نارتھ کراچی کے 7 D۔ 3 کے علاقے کی ’جاویداں‘ سیمنٹ فیکٹری کے مستقل اثرات سے گرد آلود سڑکوں پر ٹہلتے ہوئے ایک کریانے کی دکان پر گئے۔ جب دکاندار ان کی مطلوبہ اشیاء لینے دکان کے اندر کی طرف گیا تو راوت صاحب نے جلدی سے سامنے پڑی ٹافیوں کی ایک برنی سے چند ٹافیاں چرا لیں۔ دکان سے واپسی پر وہ بڑے فخر سے میرے برادر سے گویا ہوئے۔

Read more

سوچی کی مجبوریاں

آج سے کوئی بیس سال پہلے میں نے برما (میانمار) کے حالات پر ایک فلم دیکھی تھی، اس فلم کا نام ہے Beyond Rangoon۔ اس فلم میں ایک مغربی سیاح خاتون کو دکھایا گیا ہے، جو برما گئی تو سیاحت کی غرض سے تھیں، لیکن وہاں ان پر بہت سے چشم کشا انکشافات ہوتے ہیں۔ ان پر القا ہوتا ہے کہ رنگون کی فوج کس طرح جمہوریت کی حامی اکثریت کو طاقت سے کچل کر رکھنا چاہتی ہے۔ اس فلم میں ایک منظر ایسا ہے کہ فوج کے سامنے جمہوریت کے حامی مظاہرین پہنچتے ہیں، تو وہ ان کو رکنے کا اشارہ کرتے ہیں اور نہ رکنے پر فوجی اپنی بندوقیں تان کر چیمبر کر لیتے ہیں، مگر آنگ سان سوچی رکتی نہیں۔

وہ بڑی ہمت سے، تنہا ہی ایک فوجی کے بالکل سامنے جا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ فوجی کانپنے لگتا ہے، اس لیے کہ اس کو گولی چلانے کا حکم تھا لیکن وہ سوچی پر گولی کیسے چلا سکتا تھا؟ واقعی بندوق والے کے سامنے جا کر کھڑے ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں اور وہ فلم کا منظر در اصل ایک حقیقی واقعے کی منظر کشی تھا، جو رنگون میں ہی پیش آیا تھا۔ جمہوریت کے لئے طویل جد و جہد کرنے والی ڈاؤ آنگ سان سوچی کو امن کا نوبل انعام ایسی ہی جرات پر ہی تو ملا تھا۔

Read more

مجھے کیوں نکالا؟ کیوں نکالا مجھے؟

میاں محمد نواز شریف صاحب میرے بچپن میں میرے ہیرو تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے والد صاحب مرحوم نے 90ء کی دہائی کے اوائل میں جب شریف صاحب پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے، تو ایک طویل خط لکھا تھا جس میں ان کا انٹرویو کرنے کی بھی اجازت چاہی تھی۔ میرے والد صاحب پی ٹی وی میں نیوز ایڈیٹر تھے اور اس نوکری سے قبل 1970ء میں بھٹو، خان عبد القیوم خان، کوثر نیازی، مولانا بھاشانی، اصغر خان، شیخ مجیب الرحمن اور دیگر اہم سیاست دانوں کے انٹرویو کر چکے تھے۔

بعد ازاں وہ جنرل ضیا اور جونیجو کے بھی قریب رہے اور اب وہ اپنی تحقیق میں جواں سال وزیر اعظم نواز شریف کا انٹرویو بھی شامل کرنا چاہتے تھے، جو ان کی تصنیف ”پاکستان انقلاب کے دو راہے پر“ کا حصہ ہوتا۔ نواز شریف صاحب نے نا صرف والد صاحب کے خط کا جواب وزیر اعظم ہاؤس کے لیٹر پیڈ پر تحریر کر کے بھیجا بلکہ اس کے آخر میں ”آپ کا بھائی نواز شریف“ بھی تحریر کیا۔ یہ خط آج کے دن تک میرے پاس محفوظ ہے۔ میرے والد کے انتقال کو اکیس سال بیت گئے۔

Read more

عمران فاروق، سلیم شہزاد اور دیگر کہانیاں

کچھ عرصہ قبل ٹی وی پر عمران فاروق کی بیوہ اور دو بچوں کی تصویر دیکھی۔ خبر تھی کہ وہ لندن میں بے حد کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تصویر سے بھی کسمپرسی واضح تھی۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کا خاندان ہے، جو ایک زمانے میں شہری سندھ کے اہم ترین اشخاص میں سے ایک تھا۔ ایک ایسا شخص جس کے جنازے میں بلا مبالغہ لاکھ لوگ تو شریک ہوئے ہی ہوں گے۔ اس شخص کا خاندان اب بے یار و مدد گار ہے۔ وہ لوگ تو خیر سے برطانیہ میں ہیں۔ کراچی میں ہوتے تو اس سے بھی ابتر حالت ہوتی۔

یادش بخیر! یہ وہی عمران فاروق ہیں، جن کے قتل کا ایک دنیا سے نرالا مقدمہ پاکستان میں بھی چل رہا ہے۔ عجب بات ہے کہ قتل لندن میں ہوتا ہے اور مقدمہ پاکستان میں بھی درج ہوتا ہے۔ پھر اس قتل کی تحقیقات کے بہانے درجن بھر مرتبہ سرکاری اہلکاروں کی ٹیم لندن کی سیر کرنے جا چکی ہے۔ خیر چھوڑیے، اس موضوع پر بات کرنے سے ہمارے پر جلتے ہیں۔

Read more

نواز شریف کا خود کش مشن

نواز شریف، پاکستان کی تاریخ کے واحد شخص ہیں، جو تین مرتبہ وزیر اعظم بنے ہیں۔ اپنی سیاست کی ابتدا، انہوں نے جنرل جیلانی کے دست شفقت سے کی تھی۔ آپ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے لیڈر تھے اور جنرل محمد ضیا الحق کے عہد میں پنجاب کے سیاسی افق پر چمکنے لگے۔ آپ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی بنے اور پھر سایہء ہما آپ کے سر پر پڑا اور آپ مملکت خدا داد کے وزیر اعظم بن گئے۔ غلام اسحق خان ملک کے صدر تھے۔ ان کے پاس اٹھاون ٹو بی‘ کا خطرناک اختیار موجود تھا۔ یعنی وہ وزیر اعظم پاکستان کو گھر بھیجنے کا اختیار رکھتے تھے۔ اس اختیار کا استعمال وہ بے نظیر حکومت پر بھی کر چکے تھے۔

نواز شریف بھی تا دیر انہیں خوش نہ رکھ سکے۔ دونوں میں الزام تراشیاں شروع ہو گئیں۔ پی ٹی وی پر، صدر مملکت اور وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیے، اور ایک دوسرے پر عجیب عجیب الزام دھرے۔ صدر پاکستان نے وزیر اعظم کو برطرف کر دیا اور وہ اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے، جس نے وزیر اعظم کو بحال کر دیا۔ ایسے میں جنرل وحید کاکڑ نے اپنی ’ذمہ داری‘ ادا کرتے ہوئے، صدر مملکت اور وزیر اعظم دونوں کو گھر بھیج دیا۔

Read more

فارمولا فلموں کی کامیابی کا راز

2000 کے بعد ہندوستانی فلموں میں تبدیلی آنے لگی، یاد کیجئے، دل چاہتا ہے، لگان، کبھی خوشی کبھی غم، محبتیں، وغیرہ یعنی فلموں کا مزاج بدلنے لگا اور ان میں بے پناہ سرمایہ لگنے لگا۔ اب بھارتی فلمیں نسبتاً زیادہ حقیقت کے قریب آ گئیں اور کیمرہ ورک، کوریو گرافی، ایکشن وغیرہ میں بہت بہتری آ گئی۔ تب اس نوع کی باتیں اخبارات میں چھپنے والے فلمی تجزیوں میں آنے لگیں کہ اب فارمولا فلمیں ماضی کا قصہ بن گئیں مگر ایسا ہر گز نہ ہوا۔

Read more

اپنا اپنا قید خانہ اور چھوٹے بڑے پنجرے

کراچی کی جیل چورنگی سے گزرنے والے کم ہی لوگ جیل کی بڑی بڑی دیواروں پر غور کرتے ہیں۔ وہاں سے گزرنے والوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ ان دیواروں کے اندر کیسے لوگ رہتے ہیں، ان کی زندگی کیا ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ قیدی نام نہاد اچھی بیرکوں اور کھولیوں میں جانے کے لئے رشوت دیتے ہیں اور اس کے خواب دیکھتے ہیں۔ لوگ مہینوں تک کوشش کرکے اور اپنا سارا زار لگا کر اپنی

Read more

بنی گالہ اور بنی اسرائیل

جب 2018 ء میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو موجودہ وزیر اعظم کی سابقہ بیگم (پہلی والی) نے ایک ٹویٹ کیا تھا۔ وہ ٹویٹ بڑا بامعنی تھا۔ اس میں محترمہ نے عمران خان صاحب کو کچھ وعدے یاد دلائے تھے۔ ہمارے وطن کے معصوم لوگ سمجھے کہ شاید یہ وہ وعدے ہوں جو خان صاحب پاکستانی عوام سے کرتے رہے تھے مگر رفتہ رفتہ وہ وعدے کھل کر عوام کے سامنے آتے جا رہے ہیں۔ مثل مشہور ہے ”پوت

Read more

نظریاتی لوگوں کی کایا کلپ کیوں ہو جاتی ہے؟

2004 میں جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات (IR) میں ایک طالب علم کا داخلہ ہوا۔ وہ حافظ قرآن اور مذہبی سوچ کا حامل تھا۔ عموماً جامعات میں طلبہ و طالبات کی دوستی اپنے ہی ہم خیال لوگوں سے ہو جاتی ہے۔ 2004 جنرل مشرف کا دور عروج تھا۔ تب جامعہ بڑی حد تک APMSO اور اسلامی جمعیت طلبہ میں بٹی ہوئی تھی، لیکن طلبہ کی اکثریت طلبہ سیاست سے دور ہی رہتی تھی۔ وہ طالب علم بھی سیاست

Read more

گلستان جوہر بلاک 7 سے ڈیفنس فیز سیون تک

2015 ء کے اگست کی بات ہے، میں کولمبو کے بندرنائکے انٹرنیشنل ائر پورٹ پر اپنی کراچی کی پرواز کا انتظار کر رہا تھا۔ بورڈنگ کے بعد انتظار گاہ میں میری ملاقات ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی جو 7 سال بعد وطن واپس جا رہی تھیں۔ ابھی وہ اپنی کراچی کی کنیکٹنگ فلائیٹ کا انتظار کررہی تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کوالالمپور میں رہتی تھیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ کراچی میں ان کی گلستان جوہر کے

Read more

فلم ”جوش“ اور کراچی کی بپتا

آج سے کوئی سترہ یا اٹھارہ سال قبل ایک بھارتی فلم ”جوش“ ریلیز ہوئی تھی، فلم میں شاہ رخ خان صاحب اور دیگر معروف اداکاروں نے کام کیا تھا، فلم تو خیر عام سی تھی مگر اس میں خاص چیز دکھائی گئی تھی جو اس فلم کے آنے کے کچھ عرصے بعد کراچی کی کہانی بھی بنی اور جس کے اثرات یہ شہر آج کے دن تک بھگت رہا ہے۔ اس فلم میں بھارتی ریاست ”گوا“ دکھائی گئی تھی۔ یہ

Read more

سیاحت یا جھنڈے گاڑنے کی دوڑ؟

مجھے بچپن سے گھومنے پھرنے کا شوق تھا۔ اس دور میں آج کی طرح بچوں کے پاس گھر میں تفریح کے اتنے ذرائع نہیں ہوتے تھے۔ ہمارے بچپن میں تفریح کا سب سے عام ذریعہ سڑک پر گھومنا اور دوستوں سے کھیلنا ہی ہوتا تھا۔ میں جب نویں جماعت میں آیا تو ہم نارتھ ناظم آباد کے ایل بلاک میں ایک کرائے کے مکان میں منتقل ہوئے۔ اس علاقے میں بہت سے پارک تھے۔ میں اکثر پیدل پھر کر نارتھ ناظم آباد کے بلاکس گھومتا رہتا تھا۔ جب میرے ہم عمر کزن ہمارے یہاں آتے تو ہماری تفریح پارکوں اور سڑکوں پر گھومنا ہی ہوتی۔

عموماً اس چہل قدمی میں میرے پاس پیسے بہت ہی محدود ہوتے تھے، اس لیے کچھ کھانا پینا بھی بس علامتی طور پر ہی ہوا کرتا۔ یہی روکھی سوکھی تفریح کی عادت مجھے یونیورسٹی کے دور تک رہی۔ میں آرٹس فیکلٹی میں تھا، لیکن روز یہ سوچ کہ جاتا آج فلاں ڈیپارٹمنٹ دیکھ لینا ہے اور پھر وہ جا کر دیکھ آتا۔ یوں میں نے اس یونیورسٹی کی  چھوٹی سی دنیا کو چل چل کر ہی پورا دیکھ لیا۔

Read more

محبت کی شادی، شہری دلہن اور دیہاتی ساس

میرے ایک اچھے دوست کی بہن جامعہ کراچی کے شعبہ فارمیسی کی طالبہ تھی۔ وہاں اس کی ایک اپنے ہم جماعت سے دوستی ہوئی اور لڑکے کے گھر والے لڑکی کا رشتہ لے کر اس کے گھر آئے، لڑکا پنجابی تھا اور اس کا خاندان پنجاب میں گاؤں میں مقیم تھا۔ لڑکی کے اہل خانہ ماڈرن خیال کے حامل لوگ تھے، انہوں نے تھوڑی سوچ بچار کے بعد ہاں کر دی اور لڑکے لڑکی کا ڈی فارم مکمل ہوتے ہی دونوں کی شادی کر دی گئی۔ اولاً لڑکی، لڑکے کے سائٹ کے علاقے میں بنے چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو گئی۔

کچھ عرصہ گزرا اور لڑکا بے روزگار ہو گیا۔ اس ’دو ہنسوں کے جوڑے‘ کے لئے مشکلات بڑھیں۔ لڑکے کو فیصل آباد میں نوکری ملی۔ وہ وہاں نوکری کرنے چلا گیا اور اپنی بیوی کو میکے چھوڑ گیا۔ کچھ وقت گزرا اور وہ واپس آیا اور اپنی بیوی کو لے گیا۔ وہ سمجھی کہ شوہر اسے فیصل آباد لے جائے گا مگر اس کے برخلاف وہ اپنی بیوی کو اپنے گاؤں لے گیا جو فیصل آباد سے 2 گھنٹے کی مسافت پر تھا اور خود فیصل آباد میں رہنے لگا۔ اب لڑکی گاؤں میں تھی جہاں اس کی درجن بھر نندیں تھیں، دیور تھے، ایک دیہاتی قسم کی سخت گیر ساس تھی۔

Read more

سیلف ایکچوالائزیشن کا فلمی منجن

میں ’سیلف ایکچوالائزیشن‘ کی فلمیں دیکھ دیکھ کر تنگ آ گیا ہوں۔ مگر یہ کون سی فلمیں ہوتی ہیں؟ ان کی خاص بات کیا ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ یہ سیلف ایکچوالائزیشن ہے کیا بلا؟ یہ بلا علم نفسیات کے دو چورن بیچنے والوں سے منسوب سے۔ ایک کا نام تھا ابراہم ماسلو اور دوسرے کا کارل راجرز۔ یہ دونوں امریکی تھے اور انہوں نے ایک سراب میں جدید نفسیات کو الجھا دیا۔ یہ اچھی اچھی باتیں کرنے والے سرمایہ داری کے ربی، پنڈت، پادری، نیم سرمایہ دار، ’اسٹیٹس کو‘ کے ہرکارے تھے اور فرائیڈ کے نفسیاتی نظام کے خلاف ایک نام نہاد اچھائی کی دیوار کھڑی کر رہے تھے۔ انہوں نے نظریہ پیش کیا کہ ’انسان اچھا ہے‘ ، حالانکہ یہ طے ہی نہ کرسکے کہ ’اچھا‘ ہوتا کیا ہے۔ دعویٰ کیا کہ ’انسان تو بڑھوتری اور ترقی چاہتا ہے۔ بس دنیا اس میں فساد ٹھونس دیتی ہے۔ اسے وہ بنا دیتی ہے جو وہ نہیں ہے۔‘ مگر جو وہ ہے وہ وہ ہے۔ یعنی جو وہ نہیں ہے وہ وہ نہیں ہے۔ ۔ ۔ الجھ گئے آپ؟

Read more

طلبہ تنظیموں کی برکات

میرے ایک استاد محترم طلبہ تنظیموں کے بڑے معترف ہیں۔ وہ ایسے استاد نہیں کہ جن سے میں نے اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں کچھ پڑھا ہو بلکہ حقیقی معنوں میں وہ میرے گرو ہیں مگر ان سے بے حد متاثر ہونے کے باوجود میں کبھی بھی دل سے ان کے طلبہ تنظیموں سے متعلق موقف کی تائید نہیں کر پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ طلبہ تنظیموں سے طلبہ کی سیاسی تربیت ہوتی ہے جس سے وہ بعد کی عملی سیاست کا حصہ بن کر اچھے اور تربیت یافتہ سیاست دان بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ تنظیموں کے انتخابات پر جنرل ضیا نے پابندی لگائی تھی کہ ملک میں سیاسی ذہن کو ہی نہ پروان چڑھنے دیا جائے۔ خیر میں جب یہ باتیں ان سے سنا کرتا تھا تب ہی میں خود جامعہ کراچی میں داخل ہوا۔ تب طلبہ سیاست پر پابندی تھی اور طلبہ تنظیموں کے جامعہ میں انتخابات پر پابندی لگے دو دہائیوں سے زائد وقت بیت چکا تھا۔ جامعہ میں داخلہ فارم کے ساتھ ہی ہم سے ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا جاتا تھا کہ داخل ہونے والا کسی طلبہ تنظیم کا رکن نہیں۔

Read more

احساس کمتری کے ڈیفنس کا لنڈا بازار

مجھے فخر ہے کہ میں ایک پیدائشی ’مڈل کلاسیا‘ ہوں۔ آپ میرے اس جملے پر مجھے حقارت سے دیکھنا چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں مگر اس فخر کی وجہ یہ نہیں کہ ’ہائی کلاس‘ کے انگور کھٹے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہمارے وطن کی نام نہاد ’ہائی کلاس‘ بھی اپنے تصور ذات میں اس قدر کمتر ہے تو ایسے سماج میں مڈل کلاس ہونا حقیقتاً کسی نعمت سے کم نہیں۔ شاید نام کی مناسبت سے

Read more

قوموں کے عروج و زوال کے نشانات

خبر آئی کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ یعنی بقول سلیم احمد، کہاں تک ہوگی غم کی پاسداری لہو اپنا بھلا کب تک پیئیں گے؟ کئے تھے جب کسی سے عہد و پیماں یہ اندازہ نہ تھا اتنا جیئیں گے یا پھر یوں کریے کہ علامہ کے شعر کے ایک مصرعے میں تھوڑا تصرف کرلیتے ہیں، حمیت نام تھا جس کا گئی ’امارات‘ کے گھر سے میں شاعر نہیں اس لیے میرے شعری تصرف میں بھی

Read more

چودہ اگست

اپنے زمانہ طالب علمی سے آج کے روز تک میں نے 14 اگست کی تقاریب میں ایک خاص قسم کے ”آئٹم“ ہی دیکھے۔ وہی ٹیبلوز، وہی ملی ترانے، وہی پاکستان کے جھنڈے والے کیک، ہرے اور سفید لباس، چھوٹے بڑے جھنڈے، بیج وغیرہ۔ 14 اگست کی تقاریر کے وہی رٹے ہوئے جملے۔ 2006 ء میں 14 اگست میں نے کوئٹہ میں گزارا تھا۔ ہم لوگوں کا قیام مسجد روڈ پر ایک ہوٹل میں تھا۔ وہیں پر ایک قدیمی عمارت جس

Read more

ظالم سماج مر گیا

ایک مرتبہ میں اور میرا ایک دوست فلمی معلومات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ بات ایک فلمی گانے پر جا کر اٹکی۔ میں نے پوچھا کہ یہ گانا کس فلم کا ہے؟ لے جائیں گے لے جائیں گے دل والے دلہنیا لے جائیں گے رہ جائیں گے رہ جائیں گے پیسے والے دیکھتے رہ جائیں گے دوست نے تھوڑا سوچ کر کہا کہ ”یہ گانا یقیناً ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کا تو نہیں ہو سکتا ، اس لیے

Read more

’فیکس تیموری‘ اور نفسیات کا کاروبار

کراچی شہر میں ’چائنہ کٹنگ‘ کی اصطلاح آج سے تیرہ سال قبل عام ہوئی۔ یہ اصطلاح ہمارے ذرائع ابلاغ نے سار ے ملک میں پھیلادی۔ مگر چائنہ کٹنگ ہے کیا اور تب کراچی میں ہو کیا رہا تھا جس میں بیچارے چائنہ کا نام بے وجہ ہی بدنام کر دیا گیا؟ ہوا کچھ یوں کہ ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کرکے ’پراپر‘ کالونیاں بنائی گئیں، قبرستان پر زندوں کے مکان بنے، پارکوں میں گھروں کی قطاریں ابھریں۔ اس قبضے کو

Read more

ٹرمپ صاحب تو مذاق کر رہے ہیں

کچھ سال قبل عالمی اسٹیج پر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ٹرمپ بہادر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ سعودی ان کو مہنگا پٹرول کیوں فروخت کرتے ہیں؟ حالانکہ ان کی افواج جانفشانی سے سعودی شاہی کی حفاظت کر رہی ہے۔ اگر امریکی افواج وہاں سے چلی جائیں تو سعودیہ دو ہفتے نہ قائم نہ رہ سکے۔ محمد بن سلمان صاحب (المعروف بہ MBS) نے تھوڑے توقف کے بعد برا مناتے ہوئے ٹرمپ بہادر سے اختلاف فرمایا۔

Read more

عید گاہ میدان کے دروازے اور الطاف حسین

مشرف کی طاقت کا آخری زمانہ چل رہا تھا۔ کراچی میں شہری حکومت بڑی تیزی سے کام کر رہی تھی اور کراچی کی زمینوں پر بھی بڑی تیزی سے قبضہ ہو رہا تھا۔ نارتھ ناظم آباد کے کئی قبضہ ہوچکے تھے۔ تب اچانک ناظم آباد کے مقبول عید گاہ میدان پر بھی کام شروع ہوا۔ لوگ ڈر گئے کہ شاید یہاں بھی ’چائنہ کٹنگ‘ شروع ہو گئی لیکن اس بار خدشہ غلط ثابت ہوا اور پتہ چلا کہ گراؤنڈ کی تزئین و آرائش ہو رہی ہے۔ خیر میدان کے ارد گرد دیواریں بنیں اور دروازے تیار ہوئے۔

Read more

اقتدار کی دیوانگی

لفظ ’پاگل پن‘ اب سائنس میں متروک ہوا۔ ’دیوانگی‘ اب شاعری کا استعارہ ہے۔ ’جنون‘ ایک فلمی گیتوں کا نعرہ ہے۔ لفظ بدل جاتے ہیں۔ معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ عباس عالم کا شعر ہے، پھر یوں ہوا کہ بات سمجھنے لگی فضا پھر یوں ہوا کہ بات کے معنی بدل گئے مصرع ثانی اہم ہے۔ ’پھر یوں ہوا کہ بات کے معنی بدل گئے۔‘ باتوں کے معنی بدل جاتے ہیں۔ کچھ باتیں مٹ جاتی ہیں۔ کوئی پہچانتا ہی نہیں۔

Read more

انقلابی پروفیسروں کی خدمت میں

ویسے تو پروفیسر ہونا ایک پیشہ ہے مگرہمارے وطن میں پروفیسر ہونا ایک کیفیت ہے۔ حقیقت میں ”پروفیسر“ کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کا سب سے بلند درجہ ہے۔ ایسا درجہ جس کے بعد صرف ایک درجہ آتا ہے، ”مرحوم پروفیسر“ ۔ کالجوں میں عمومی روش یہ ہے کہ کوئی ریسرچ اسسٹنٹ بھی بھرتی ہوتا ہے تو خود کو پروفیسر کہلوانا شروع کردیتا ہے۔ جامعات میں معاملہ اندر تو ایسا نہیں مگر جامعات میں بحیثیت لیکچرار بھرتی ہونے والے بھی

Read more

کراچی نام کا یتیم خانہ

میرے والد صاحب مرحوم کی نوکری پی ٹی وی میں تھی اور ہر چند سال بعد ان کا تبادلہ کسی نہ کسی دوسرے شہر میں ہو جایا کرتا۔ وہ دو مرتبہ کوئٹہ میں تعینات ہوئے، چند سال سکھر میں رہے، چند سال حیدر آباد میں اور آخر میں ان کا تبادلہ پشاور ہوا۔ میرے ایک چچا اور ایک ماموں اسلام آباد میں رہتے تھے اور ایک پھوپھی واہ کینٹ میں رہتی تھیں۔ والد صاحب کو خود سیاحت کا شوق بھی

Read more

عہد حاضر کی چند زندہ اشتراکی یادگاریں

سوویت یونین کے انہدام کو تین دہائیاں گزر چکیں۔ آج دنیا میں صرف پانچ ممالک ہیں جو خود کو اشتراکی گردانتے ہیں۔ اس فہرست میں چین، کیوبا، ویتنام، لاؤس اور شمالی کوریا شامل ہین۔ ان تمام ہی ملکوں میں صرف شمالی کوریا ہی اب تک عملاً اشتراکی ہے۔ مگر شمالی کوریا میں بھی اشتراکیت کوئی ولولہ، کوئی انقلاب نہیں، بلکہ بقول غالب ”دین بزرگان“ ہی ہے۔ کیا آج سے 30 سال قبل کوئی کہہ سکتا تھا کہ اشتراکیت کا یوں اتنا خوفناک اس قدر ذلت آمیز انجام ہو گا؟

Read more

ہماری پولیس نااہل ہے یا مجرم؟

ابھی چند دن قبل سماجی میڈیا پر ایک افسوسناک ویڈیو نے کافی گردش کی۔ پشاور کی پولیس ایک شخص کو ننگا کرکے اس کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ اس بیچارے پر بہیمانہ تشدد کیا گیا تھا۔ تب بھی اسے گالیوں سے نوازا جا رہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر مجھ پر ایک حقیقت کھلی۔ وہی حقیقت کھلی کہ ہمارے سماج میں اصل منظم مجرم گروہ کوئی اور نہیں خود پولیس ہے۔ یہ خیال میرے ذہن میں تب بننا شروع ہوا

Read more

چند کنجوس لوگوں کے قصے

ہم کنجوس کسے کہتے ہیں؟ کوئی ایسا شخص جو اپنی اشیا (مال و دولت، چیزیں ) خرچ نہ کرتا ہو۔ مگر کنجوسوں کی بڑی اقسام ہیں، بعض کنجوس ایسے ہیں جو اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں لیکن کسی اور پر خرچ نہیں کرتے۔ کچھ ایسے ہیں جو اپنی ذات پر بھی ایک پائی خرچ نہیں کرتے۔ کنجوسی کی بڑی شکلیں اور بڑے درجات ہیں۔ اس بارے میں کچھ حیرت انگیز مشاہدات قارئین کی پیش خدمت ہیں۔

2015 کے وسط کی بات ہے۔ جامعہ کراچی میں سیمسٹر امتحانات جاری تھے۔ شعبہ نفسیات کی ایک لکچرار صاحبہ اپنے دفتر میں بیٹھی دوپہر کا انتظار کر رہی تھیں۔ دو بجے ان کو امتحان لینا تھا۔ پوری جامعہ خالی تھی۔ ایسے میں ایک سینئر اسسٹنٹ پروفیسر وہاں آئیں ان کے لیکچرار صاحبہ سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ انہوں تجویز دی کہ ”ابھی تو دو بجنے میں کافی دیر ہے، تم میرے ساتھ میرے گھر چلو میں تو یونیورسٹی کے اندر کالونی میں ہی رہتی ہوں۔ وہاں گپ شپ ہو جائے گی۔ دو بجے مجھے بھی پیپر لینے آنا ہے میں تم کو اپنے ساتھ گاڑی پر ہی لے آؤں گی۔“

Read more

شرارتی ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کا آزاد معاشرہ

چند سال قبل امریکا میں ایک عجیب ہلچل ہوئی۔ اس ہلچل کو آپ چھوٹا موٹا طوفان چھوٹا موٹا ’اسٹورم‘ کہہ سکتے ہیں۔ مگر وہ ’اسٹورمی‘ کہانی کیا تھی؟ نیویارک ٹائمز میں سرخی جمی کہ امریکی صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کے ذاتی وکیل مائیکل کوہن صاحب نے ایک لاکھ تیس ہزار امریکی ڈالر مشہور فحش اداکارہ اسٹیفنی کلیفورڈ (جو اسٹورمی ڈینیل کے نام سے معروف ہیں ) کو دیے اور اس ادائیگی کا مقصد محترمہ کی زبان بند کرانا تھا،

Read more

ایک بیوٹی پارلر کا اشتہار

یہ تو میرے علم میں نہیں کہ ہمارے وطن میں پہلا بیوٹی پارلر کب کھلا لیکن اتنا یاد ہے کہ ایک دور ایسا بھی تھا کہ جب بہت سی متوسط طبقے کی بیٹیاں اپنی شادیوں میں گھروں پر ہی تیار ہوا کرتی تھیں۔ ان کی ماں اور بہنیں ہی انہیں تیار کیا کرتی تھیں۔ میری اپنی دو بہنوں کی شادیوں میں بیوٹی پارلر کا کوئی تصور نہ تھا۔ مگر پھر وقت بدل گیا۔ اتنا بدلا کہ دلہن تو بیوٹی پارلر

Read more

پیغام دوستی اور انتقامستان

ابھی کچھ عرصہ قبل ہمیں اخلاقیات کی کلاس میں طلبہ سے ایک موضوع پر بڑی عجیب آراء سننے کو ملیں۔ اخلاقیات کی کلاس میں عموماً کوئی نہ کوئی اخلاقی دوراہا بیان کرکے اس پر اخلاقی رائے لی جاتی ہے۔ پھر مختلف اخلاقی نظریات کا اس معاملے پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ معاملہ چند سال پرانا تھا اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ضمن میں اس کا تذکرہ ہوا۔ چلئے ہم آج اس موضوع کا تجزیہ اخلاقیات اور انسانیت دونوں ہی رخ

Read more

حسن بن الصباح سے الطاف حسین تک

یہ سنہ 1094 ء کی بات ہے۔ مصر کے حکمرانوں میں حکومت پر تلواریں نکلیں۔ الافضل شہنشاہ نامی وزیر نے اپنے پسندیدہ شہزادے مستعالی کو خلیفہ بنایا اور حقیقی ولی عہد، نزار بھاگ کر سکندریہ چلا گیا جہاں اس نے اپنی حکومت قائم کرلی۔ دونوں بھائیوں میں جنگ ہوئی اور مستعالی نے نزار کو شکست فاش دے کر اس کی سرعام گردن کٹوا دی۔ مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی۔ نزار کا حسن بن الصباح نام کا ایک چاہنے

Read more

تین ہزار کی جعلی دوا اور ابا کی مزدا 929

کراچی کا علاقہ صدر ایک عہد میں کراچی کا مرکز ہوا کرتا تھا مگر رفتہ رفتہ بہت سے اہم دفاتر اور ادارے وہاں سے دیگر علاقہ جات منتقل ہو گئے جس کے نتیجے میں وہاں پر بڑی تعداد میں بڑے بڑے آفس کمپلیکس (جیسے پینوراما سینٹر) ویران ہونے لگے۔ اب صدر میں بڑی تعداد میں مخفی امراض کی جعلی دوائیں بیچنے والے اور دیگر قسم کے فراڈیوں کے علاوہ لنڈے کے سامان کے ٹھیلے کثرت سے نظر آتے ہیں۔ ہمارے

Read more

ساٹھ ہزار برس سے ایک جزیرے پر الگ تھلگ رہنے والا ہندوستانی قبیلہ

بحر ہند میں خلیج بنگال سے نیچے ’انڈیمان‘ اور ’نکوبار‘ جزائر کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جسے شمالی ’سینٹینلی‘ جزیرہ کہا جاتا ہے۔ اس جزیرے میں ایک ایسا قبیلہ رہتا ہے کہ جو کہ آج کے دن تک باقی دنیا سے بے خبر ہے۔ یہ جزیرہ بھارت کا حصہ ہے اور آزادی سے قبل برطانوی راج اور کمپنی راج کے دنوں میں اس جزیرے کے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی بڑی کوشش کی گئی۔ انگریزوں نے یہاں سے چار بچے اور دو بڑی عمر کے افراد اغوا کر لیا تھا۔

بڑی عمر والے دو دن میں ہی مر گئے تو انگریزوں نے جلدی سے بچوں کو واپس ان کے جزیرے پر چھوڑ دیا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس جزیرے کے باسی کیونکہ ہزاروں سال سے باقی دنیا سے الگ رہ رہے ہیں اس لیے ان کے جسم میں دیگر انسانوں کی بیماریوں کی مدافعت موجود ہی نہیں۔ وہ تو زکام سے بھی مر سکتے ہیں اور اسی لئے اس قبیلے سے میل جول کی کوششوں پر نوے کی دہائی میں ہندوستان نے پابندی لگا دی۔

Read more

جو ہو گیا سو ہو گیا!

یہ 2007 ء کی بات ہے۔ میں ادارہ برائے طبی نفسیات میں سائیکو تھراپی کی تربیت حاصل کر رہا تھا۔ تب ایک نفسیاتی الجھنوں کے شکار نوجوان نے میری زندگی اجیرن کردی۔ مجھے سائیکوتھراپی میں آتا جاتا کچھ نہیں تھا اور وہ وہ بیچارا تکلیف دینے کے بڑے حربے جانتا تھا۔ اس کا سب سے خاص حربہ یہ تھا کہ اس کے ساتھ میرے کوئی پچپن سیشن ہوئے، اور ان میں سے ہر سیشن میں اس نے کم و بیش

Read more

پاک ایران تعلقات کی دو رنگی

دنیا میں ہر ملک میں کسی مذہب کے افراد کی اکثریت ہوتی ہے، اس ہی مذہب کا رنگ اس وطن کی فضا پر غالب ہوتا ہے، چاہے وہ وطن سیکیولر ہو لیکن پھر بھی کلچر کے اعتبار سے اپنی مذہبی تاریخ سے ہر وطن نے بہت کچھ لیا ہوتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کو ہی مثال کے طور پر لے لیجیے، سیکیولر ملک ہے لیکن اس کے جھنڈے پر بھی صلیب بنی ہے۔ پھر آ جائیے عالم اسلام کے ممالک کی

Read more

ارطغرل اور مقامی مواد کا مسئلہ

’ارطغرل غازی‘ نے ہمارے سماج کے تمام ہی طبقات کو بڑی شدت سے متاثر کیا ہے۔ عوام کی اکثریت کو یہ ڈرامہ پسند ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جو کہ اس کے حق میں اور اس کے خلاف فتوے دے رہا ہے۔ بہت عرصے بعد ان میں سے کئی کو تصویر اور ٹی وی دیکھنے پر شریعت کا حکم یاد آ گیا ہے۔ کچھ کو تصوف کے خلاف بڑی شدت سے مروڑ اٹھ رہا ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جن

Read more

محبت اور ترس میں فرق کی نفسیات

اسٹیفن زیویگ (Stefan Zweig) یورپ کے ان چند ادیبوں میں سے تھا کہ جس کے کام پر لوگوں کی نظر بہت بعد میں پڑی۔ ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے عہد میں یورپ میں بڑے دیو قامت ادیب موجود تھے۔ دوسری وجہ یہ کہ زیویگ کا دور خوفناک جنگوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ زیویگ کو خود اپنی حیات میں سکون نہیں مل سکا۔ جنگ عظیم دوئم سے بھاگ کر وہ لاطینی امریکا چلاگیا۔ لیکن وہاں وطن کی تباہی و

Read more

جبران ناصر کا ارتغرل

جبران ناصر صاحب مجھے پسند ہیں۔ وہ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ماشا اللہ پچھلے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا۔ آپ ’این۔ اے۔ دو سو سینتالس‘ اور ’پی۔ ایس۔ ایک سو گیارہ‘ سے کھڑے ہوئے تھے۔ قومی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے ماشااللہ چھے ہزار چار سو باسٹھ ووٹ لئے تھے اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے چھے ہزار ایک سو نو ووٹ حاصل کیے تھے۔ آپ اپنے حلقوں میں ماشا اللہ سے چوتھے

Read more

کچھ جرم و سزا کے بارے میں

جرم کی اگر کوئی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ، جرم سماجی معیارات سے انحراف سے جنم لیتا ہے۔ یہ انحراف منفی رخ پر ہوتا ہے اور اِس انحرافی رویے سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ جرم ہمیشہ رویے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اگر صرف سوچ ہو تو جرم نہیں۔ جب ایک انحرافی سوچ عمل میں ڈھلتی ہے تو جرم وجود میں آتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ لفظ

Read more

فردوس کے عشاق کے لئے

میرے ایک عزیز کا گھر فردوس کالونی میں ہے۔ وہ مکان پچاس کی دہائی میں خریدا گیا تھا آج ماشا اللہ اس مکان میں اس خاندان کی تیسری نسل رہ رہی ہے۔ میں بھی اپنے بچپن اور لڑکپن میں کئی مرتبہ وہاں رکا۔ ایک زمانے میں میری اپنی نانی اماں کا گھر بھی فردوس کالونی میں ہی تھا۔ اس لیے مجھے اس علاقے سے ایک عجیب عقیدت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ علاقہ بھی کراچی کے دیگر علاقوں کی

Read more

انسپکٹر جمشید کی پانی کی بندوق

مجھے ستر کی دہائی کی فلمیں پسند ہیں۔ تب کی ہندوستانی فلمیں بھی بڑی اعلیٰ ہوا کرتی تھیں اورتب پاکستان کا سینما بھی کافی بہتر تھا۔ ہر عہد کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ ستر کے مزاج میں ایک نوع کی رومان پسندی پائی جاتی تھی۔ تب کی فلموں میں اصولی لوگوں کو اصولوں پر ڈٹتے دکھایا جاتا۔ کبھی ایسے حالات پیش آتے کہ اصول کے لئے باپ بیٹے پر پستول تانتا اور کبھی ماں بیٹے پر گولی چلاتی۔ کبھی بھائی

Read more

مسکرائیے! آپ ’پاگل‘ نہیں ہیں

آج سے کوئی پچیس تیس سال قبل اِس ملک میں علم نفسیات بڑی حد تک ایک چھوٹے سے پودے کے مانند تھا۔ ایک پودا جو ’پنیری‘ میں لگا تھا۔ نفسیاتی معالج تو بہت کم تھے لیکن اُن معالجین کے اپوائنٹمنٹ بک پر گرد کی دبیز تہہ جمتی رہتی تھی۔ آج سے محض تیرہ سال قبل جب راقم نے نفسیاتی علاج کی تربیت حاصل کرنا شروع کی، تو مریض بہت مشکل سے ملتے تھے۔ ادارے میں معالج زیادہ ہوتے اورمریض کم۔

Read more

ہمارے قید خانوں میں کیا ہوتا ہے؟

کورونا کی بیماری ابھی تک الحمدللہ ہمارے ملک میں کسی خوفناک صورت میں ظاہر نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس بیماری کی شروعات میں ہی لاک ڈاؤن ہوگیا تھا۔ پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ وبا عموماً جان لیوا ہے بھی نہیں۔ اکثر افراد اِس بیماری سے بغیر کسی خاص علاج کے ہی نکل آتے ہیں۔ بڑی حد تک آج کل ہماری عوام اِس بیماری یا موت کے خوف سے

Read more

سلمان تاثیر کی یاد میں کھوئے اشتراکیوں کی خدمت میں

چند دن قبل ایک تصویر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تصویر میں آٹھ یا نو لوگ کھڑے تھے اور ان کے ہاتھوں میں موم بتیاں تھیں۔ ان سب لوگوں کا چہرہ کیمرے کی طرف تھا اور ان کے درمیان ایک لیپ ٹاپ رکھا تھا۔ اس لیپ ٹاپ ککا چہرہ بھی کیمرے کی طرف تھا۔ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر سلمان تاثیر صاحب جلوہ گر تھے۔ تصویر کے ساتھ لکھی تحریر سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل کسی یادگاری جلسے کی تصویرتھی۔

Read more

بشار الاسد کی فتح: اب شام میں کیا ہو گا؟

پورا شام تباہ و برباد ہو گیا، لاکھوں شامی ہلاک ہوئے، لاکھوں معذور ہوئے، لاکھوں کو ہجرت کرنی پڑی۔ شہر کے شہر کھنڈر بن گئے اور بشار الاسد فاتح ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں سے اس نے اپنے عوام کا قتل عام کیا۔ روس اور ایران کی افواج سے اپنے ملک کے سنی المسلک شہریوں کا قتل عام کرایا۔ امریکا اور سعودی عرب کی پیدہ کردہ داعش نے بھی انہی لٹے پٹے لوگوں کا خون بہایا۔ انہی کے سروں کے مینار بنائے،

Read more

لبرلوں، سیکولروں، اشتراکیوں کی ذمہ داری

ہمارے ملک میں تقریباً سارے ہی ذرائع ابلاغ لبرلوں، سیکولروں اور اشتراکیوں کے پنجے میں ہیں۔ تقریباً سارے ہی نام نہاد تجزیہ نگار، کالم نگار، اسکالر وغیرہ جیسے خود ساختہ القابات کے ساتھ ٹی وی پر جلوہ افروز ہونے والے لوگ انہی قبیلوں کے ہیں مگر یہ سب جانتے ہیں کہ یہ اپنے نظریات کا کھل کر اظہار کر نہیں سکتے اس لیے یہ تمام افراد ہی عالمی ایجنڈے کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب اِن کی موافق ہوا

Read more

ایم کیو ایم کی لاش پر سو درّے؟

ایک زمانے میں ایڈولف ہٹلر یورپ میں ایک خوف و دہشت کی علامت تھا۔ سارا ہی یورپ (سوائے برطانیہ عظمیٰ) اُس کے یا اُس کے اتحادی اٹلی کے براہ راست یا بلا واسطہ زیر اقتدار تھا۔ مگر پھر ہٹلر پر برُا وقت آیا اور اس نے سوویت یونین سے بھی بلاوجہ محاذ آرائی کی اور اس پر بھی چڑھ دوڑا۔ پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔ 1946 ء میں نہ ہٹلر تھا نہ ہی اس کی بنائی ہوئی ’تھرڈ

Read more

شوکت صدیقی کے ناول اوور ریٹڈ ہیں

معلوم نہیں ہمارے وطن میں اوور ریٹڈ چیزیں اس قدر کیوں ہیں؟ بچپن میں سنتا اور پڑھتا تھا کہ اسلام آباد دنیا کا حسین ترین شہر ہے، اگر اس کی کوئی مثال ہے تو واشنگٹن ڈی سی۔ مگر اسلام آباد استنبول، ماسکو، بیجنگ بلکہ کولمبو کے موازنے میں بھی کیا ہے؟ بلکہ ہمارے ہی لاہور یا ملتان کی حسین ثقافت اور سماجی رنگا رنگی سے بھرپور گلیوں محلوں کے آگے اسلام آباد کے پوش مردہ ماحول میں ہے کیا؟ پھر

Read more

علامہ طاہر القادری کے وجود میں جاری دھرنا

یہ آٹھ سال پرانی بات ہے۔ علامہ طاہر القادری صاحب ذرائع ابلاغ پر دھوم مچا رہے تھے۔ آپ نے اسلام آباد میں زرداری صاحب کی حکومت کے خلاف دھرنا دے رکھا تھا۔ آپ کے پاس ایک کنٹینر تھا جو آپ غالباً اپنے وطن کینڈا سے لائے تھے۔ آپ نے اسلام آباد میں اپنے سارے ہی مرید، معتقد جمع کرلئے تھے جن کی تعداد پانچ یا دس ہزار تو ہوگی ہی۔ بہر حال آپ کا دھرنا بالاخر ختم ہوا اور آپ

Read more

خان صاحب کے لئے خوشخبری

کل میرے خواب میں ’سنت گرومیت بابا رام رحیم سنگھ جی انسان‘ آئے۔ آپ نے بتایا کہ خان صاحب جلد ’خان اعظم‘ بننے والے ہیں۔ سارے عالم میں خان صاحب کا ذکر ہوگا اور سب سے بڑی بات یہ دنیا خان صاحب کی عظمت و جلال کی وجہ سے بہت سے قدیم تاریخی کرداروں کو بھول جائے گی۔ لوگ ’نپولین‘ کو بھول جائیں گے، ’ہٹلر‘ کو بھول جائیں گے۔ لوگ ’سکندر اعظم‘ اور ’خن آتن‘ کو بھول جائیں گے۔ لوگوں

Read more

عمران خان اب کیا کرے؟

دل کیا کرے جب کسی کو کسی سے پیار ہوجائے اونچی اونچی دیواروں کی اس دنیا کی رسمیں نہ کچھ تیرے بس میں جولیؔ نہ کچھ میرے بس میں ایک زمانے میں ’جولی‘ بولڈ ترین فلم تصور کی جاتی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اُس فلم میں دو مختلف مذاہب کے افراد کا معاشقہ دکھایا گیا تھا اور دوسری بات یہ کہ شادی سے قبل ہی سب کچھ ہوتا بڑے graphicانداز میں دکھا دیا گیا تھا۔

Read more

سیانا کوا اور سونے کی کان

میں نے اپنی زندگی میں بہت سے انسانوں کو عدم اعتماد کی آخری حد سے اعتماد کے آخری درجے تک جاتے دیکھا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت مرتبہ اعتماد کی فراوانی ان افراد کی عدم اعتماد والی حالت سے بہت بدتر ہوتی ہے۔ ایسے ہی افراد کو دیکھ کرخیال آتا ہے کہ عدم اعتماد کتنی پیاری شے ہے۔ کاش ان کو واپس مل جائے مگر ظاہر ہے ایسا ہوتا نہیں، ہوسکتا نہیں۔ ہمارے ایک ماسٹرز کے ہم جماعت

Read more

پاکستان، مینڈھا اور کھونٹا

میرے ایک دوست ایرانی نژاد ہیں مگر بڑی پیاری اردو اور سندھی بولتے ہیں۔ سندھی اس لیے کہ آپ کی پرورش حیدرآباد میں ہوئی اور پھر آپ پولیس میں بھرتی ہوکر کراچی آگئے تو اردو بھی اچھی ہوگئی۔ ایک مرتبہ دفتر میں ان سے ایک ان کے نیچے کے اہلکار نے بدتمیزی کی اور وہ بڑی خاموشی سے برداشت کرگئے۔ میں اور وہ ایک ہی ونگ میں بیٹھتے تھے۔ میں ان کے پاس گیا اور ان کی اس غیر متوقع

Read more

ہجو اچانک ہماری شاعری میں شجر ممنوعہ کیوں ٹھہری؟

برصغیر میں جعلی اخلاقیات کی ابتداء مولانا حالیؔ صاحب وغیرہ نے کی۔ آپ کی نظم نثر اور تنقیدی مضامین سے بڑی حد تک وہ نظم نثر اور صحافتی اسلوب پیدا ہوا جو آج رائج ہے، بڑی حد تک سرسید اور حالی نے ہند اسلامی تہذیب کے ساتھ وہی کیا جو انگریز کی تلنگی فوج نے 1857 ء میں ہند کے ساتھ عموماً اور دہلی کے ساتھ خصوصاً کیا تھا۔ سرسید اور حالی سے پہلے کے زمانے میں ہماری غزل، داستان

Read more

اوپیرا کے تہہ خانے اور نفس انسانی ک گہرائیاں

”بیچارہ ناخوش ایرکؔ! کیا ہم اس پر تر س کھائیں؟ یا اس پر لعنت بھیجیں؟ وہ تو صرف ایک عام آدمی بننا چاہتا تھا، کسی بھی دوسرے شخص کی طرح مگر وہ بہت بدصورت تھا! اور اسے اپنی ذہانت کو چھپانا پڑا اس ذہانت کو شعبدے دکھانے کے لئے استعمال کرنا پڑا۔ اگر اس کا ایک عام سا چہرہ ہوتا تو وہ شاید انسانوں میں سب سے نمایاں ہوتا! اس کے پاس ایک ایسا دل تھا جس میں دنیا کی

Read more

I am no one

یہ میرے جامعہ کراچی کے زمانہ طالب علمی کی بات ہے۔ میں نے اطالوی زبان کو بطور مضمون پڑھنا شروع کیا۔ تب جامعہ کراچی کی کلیہ فنون (موجودہ کلیہ سماجی علوم) میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے برابر میں نیا نیا اطالوی لسانی و ثقافتی مرکز قائم ہوا تھا۔ اس ادارے کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پر تعلیم ایک اطالوی استانی دیتی تھیں جو اطالوی زبان میں پی ایچ ڈی تھیں اور کراچی میں واقع اطالوی قونصل خانے

Read more

مستقبل کے نام خط اور حقیقی مستقبل

آج سے تقریباً 50 سال قبل روس میں (جو تب یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکن USSR کا حصہ تھا) یہ چلن تھا کہ ”ٹائم کیپسول“ بنا کر مختلف مقامات پر رکھے جاتے۔ یہ ٹائم کیپسول دراصل مقفل ڈبے ہوتے کہ جن میں مستقبل کے کسی خاص سال کے اہلیان وطن کو خط لکھ کر رکھ دیے جاتے۔ ان میں کئی ٹائم کیپسولز کی مدت حال ہی میں پوری ہوئی تو انہیں کھولا گیا، ان میں سے کئی ٹائم کیپسولز کے

Read more

گلیشیر پگھلانے والی ترقی

حال ہی میں گلگت بلتستان سے خبر آئی ہے کہ ایک گلیشیر نیچے سرک گیا اور اس نے دریا بند کر کے ایک جھیل بنا دیا۔ یہ کوئی نئی بات ہے نہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا کے گلیشیر بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ گلیشیر ہی ہیں جن سے میٹھا پانی پگھل کر دریاؤں میں آتا ہے اور یوں دریا رواں ہوتے ہیں۔ دریاؤں کی مستقل روانی اسی لئے رہتی ہے کہ گلیشیر پر برف ہمیشہ جمی

Read more

فیض کے مجاوروں کے لیے

حال ہی میں ایک وڈیو نے سماجی میڈیا پر بڑی دھوم مچائی۔ ایک ننھی سی اشتراکن پری ”سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے“ بڑے جذبے سے گا رہی ہیں پھر ”سرخ ہوگا سرخ ہوگا ایشیاء سرخ ہوگا کے نعرے بلند ہوتے ہیں“ معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو پانچویں فیض فیسٹول کی ہے۔ مبارک! مبارک! سلامت! سلامت! ۔ آج کل یہ ویڈیو سانڈے کے تیل سے زیادہ مشہور ہے۔ ویسے تو یہ نظم کسی بسمل نیم بسمل شاعر کی

Read more

جب کمپنیاں شیطان بنیں

حال ہی میں ولیم ڈالریمپل کا ایک مضمون نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا، آپ ایک کتاب کے مصنف ہیں جس کا عنوان ہے ”The Anarchy: The East India Company، Corporate Violence and the Pillage of an Empire“ وہ اپنے مضمون میں حالیہ تاریخ میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں ہونے والی ملکی معاملات میں مداخلتوں اور ان کے ہاتھوں افراد اور اقوام کے فکر و عمل و زندگی پر اثر انداز ہونے اور انہیں نقصان پہنچانے کا تذکرہ کر کے

Read more

تیس سال پرانی ایک جنسی ہراسانی کی دلچسپ داستان

یہ 1990 ء کی بات ہے، ہم شادمان ٹاؤن میں رہا کرتے تھے۔ ہمارے گھر کے قریب ہی شادمان مسجد تھی، ہمارے بڑے برادر محترم فیصل کامرانی صاحب شاید پانچویں یا چھٹی جماعت کے طالب علم تھے، ہمارے گھر سے قریب ہی ایک بیکری تھی، ہم سب بھائی بہن اس بیکری سے اکثر چپس، بسکٹ اور پیسٹری وغیرہ خرید کر کھایا کرتے۔ مگر یہ واقعہ ہمارے برادر فیصل کامرانی صاحب کے بچپن کی ”حسین“ یادوں سے متعلق ہے، اس لئے

Read more

سینٹری پیڈ، بیت الخلاء اور اکشے کمار

یوسفی صاحب نے ایک بڑی دلچسپ بات ”آب گم“ میں لکھی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ پہلے طبلہ بجانے والے ”طبلچی“ کہلاتے تھے، بعد میں وہ ”طبلہ نواز“ بن گئے، یہ ”طبلہ نوازی“ صرف طبلچیوں نے ہی نہیں کی ہے، یہ خبط عظمت ہر ہر شعبہ ہائے زندگی میں در آیا ہے، شاہنواز فاروقی نے اپنے ایک خوبصورت کالم میں علامہ جمیل مظہری کا بڑا شاندار شعر لکھا ہے۔ بقدر پیمانہ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا اگر

Read more

فردوس عاشق اعوان کی گیدڑ سنگھی

بات تھوڑی پرانی ہے۔ مورخہ 2 جولائی 2019 ء کی بات ہے، محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے حوالے سے گفتگو فرما رہی تھیں، آپ نے رانا صاحب کے حوالے سے گفتگو فرماتے ہوئے اپنی انگریزی کی صلاحیت بڑے زور سے ظاہر کی، آپ نے فرمایا ”جب رانا صاحب کو اندازہ ہوا کہ“ ”They are not going to escape him“ سب کہو سبحان اللہ۔ محترمہ دراصل کہنا یہ چاہتی

Read more

بیت الخلا کی دیوار سے سماجی میڈیا تک

بچپن میں مجھے اسکول کے بیت الخلاء سے بہت چڑ ہوتی تھی۔ میں اپنے اسکول میں بہ مشکل 10 یا 12 بار ہی بیت الخلاء گیا ہوں گا۔ اس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف ان جگہوں کی غلاظت تھی۔ وہ بیت الخلاء انسانی حسیات اور جمالیات کے لئے ایک بڑا ناگوار تجربہ ہوتے مگر انسان تو آخر مجبور ہے۔ اس کو اگر جینا ہے تو ان برے تجربات کی عادت ڈالنی ہی پڑتی ہے۔ بیت الخلاء واقعی انسان کا

Read more

انسانیت کا ہیضہ اور انسان

اکتوبر 2017ء کی بات ہے، میرا ایک مضمون روزنامہ ایکسپریس میں ”ازابیلہ خان، ابرام خان اور شناخت“ کے عنوان سے شایع ہوا، یہ مضمون اس رویے کے بارے میں تھا کہ جب انسان ایک سے زائد مذہبی شناختوں کو اختیار کرتا ہے اور اسے کسی قسم کا سوچ کا ارتقاء تصور کرتا ہے۔ میں اپنے مضمون کی اشاعت پر بڑا خوش تھا کیونکہ یہ میرا کسی اخبار میں شایع ہونے والا چوتھا مضمون تھا۔ یہ مضمون میرے حلقہ احباب میں

Read more

ہم جنس پرستی اور جین

یہ آج سے کم و بیش چار پانچ سال پرانی بات ہے کہ فیس بک پر پروفائل پکچر کو قوس قزح کے رنگوں میں رنگنے اور ہم جنس پرستوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا چلن چلا، خیر ہمارے ملک کے اکثر لوگوں نے تو بغیر سوچے سمجھے ہی اپنی پروفائل پکچر رنگ دی، ایسا ان سے معصومیت میں ہوا۔ مگر میری فہرست میں موجود دو افراد نے سوچ سمجھ کر یہ کام کیا اور پھر اپنی رائے کے حق

Read more

نئی دنیا کے فلمی کاشت کار

جنگل اور باغ میں کیا فرق ہے؟ جنگل فطری ہوتا ہے، باغ بنایا ہوا۔ پھر اگر بات تفریحی باغوں یعنی عرف عام میں پارکس کی نہ ہو بلکہ زراعتی باغات کی ہو تو باغ کا مقصد معاشی یا تجارتی ہوتا ہے۔ جنگل کا ویسا کوئی افادی مقصد نہیں۔ فطرت کے اپنے مقاصد ہیں جن کا انسان کے افادی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں۔ ویسے انسان کی بنائی ہر شے باغ یا کھیت کی طرح افادی ہو یہ لازم نہیں۔ انسان

Read more

انکشافات کی بیماری

آج سے کوئی 15، 20 سال قبل جنگ اخبار کے مڈ ویک میگزین میں ایک مورخ صاحب کا انٹرویو چھپا تھا۔ آپ نے اپنے انٹرویو میں ارشاد فرمایا تھا کہ پاکستان دراصل 14 نہیں بلکہ 15 اگست کو آزاد ہوا تھا۔ وہ تو کیونکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بیک وقت کراچی اور دہلی میں ہو نہیں سکتا تھا اس لیے 14 اگست کو اس نے کراچی میں انتقال اقتدار کی تقریب منعقد کی اور 15 اگست کو دہلی میں۔ اسی نوع

Read more

مگر میں بھوتوں سے نہیں ڈرتا

مجھے بھوتوں سے الحمد للہ ڈر نہیں لگتا۔ یہ دعویٰ نہیں حقیقت ہے۔ چلیے آپ اسے ”بڑ“ سمجھئے۔ بلکہ مجھے بھوتوں سے بات کرنے کا شوق ہے۔ کل میری ایک بھوت سے بات ہوئی۔ بھوت بہت ناراض تھا۔ کہہ رہا تھا کہ مجھے مرے اتنا بہت سا عرصہ بیت گیا مگر آپ لوگ کیوں مجھے اپنی باتوں میں گھسیٹ لاتے ہیں؟ یہ بھوت بڑا دلچسپ قسم کا ہے۔ یہ بڑے عجیب انداز میں گفتگو کرتا ہے۔ میں نے اس سے

Read more

شعبدے باز اور نفسیاتی تشخیص کا سراب

 ویسے تو کہا جاتا ہے شعبدے بازاپنے راز کبھی نہیں بتاتا مگر ایک انگریزی چینل پر شعبدے بازوں کے کرتبوں کے پول بڑے عرصے سے کھولے جا رہے ہیں۔ پروگرام کا نام ہے Magician’s secrets revealed۔ ہم بھی یہ پروگرام کافی شوق سے دیکھتے ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ ہم کو شعبدوں کی حقیقت میں کوئی دلچسپی ہے۔ نہیں ہر گز نہیں۔بلکہ ہم کو وہ خواتین پسند ہیں جو غربت کا اشتہار بنی اس شعبدے باز کے اردگرد موجود ہوتی

Read more

نجی جامعات، سیکس ریکٹ اور زہر آلود علمی دنیا

سلیم احمد کی شہرہ آفاق نظم ”مشرق ہار گیا“ میں ایک مقام پر ایک کردار اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ وہ مدرسی کے پیشے سے منسلک ہونا چاہتا ہے کہ یہی ایک پیشہ ہے جو علمی سرگرمیوں میں حارج نہیں ہے۔ اس کے جواب میں سلیم احمد کہتے ہیں ”انہیں کراچی کے اساتذہ سے ملواؤ“۔ یعنی یہ خیال کہ اساتذہ کسی طور سے علمی فضا کے لوگ ہوتے ہیں، اس شہر کے حقیقی اساتذہ سے مل کر دھواں

Read more

تعصبات سے مذہبی تجربہ اخذ کرنے کی تمنا

فیودر دوستو ئفسکی کی تحریریں ایک اعتبار سے بڑی اہم ہیں۔ ان تحریروں میں مذہبی تعصبات تو ہیں مگر خدا سے تعلق معدوم ہے۔ جدیدیت کے اجراء کے بعد سے خدا کا تجربہ جس طرح کمزور پڑا اور مذاہب پر ایمان میں جو دراڑ پڑی اس کا ہی ایک نتیجہ یہ روحانی خلا ہے۔ بدقسمتی سے روحانیت کو اب جذباتیت کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے دوستوئفسکی بھی اپنے روحانی تجربے کے خلاء کو جذباتیت سے پر کرنے

Read more

رہف، من چاہی زندگی اور ارتداد

ہوا کچھ یوں کہ رہف محمد مطلق القنون نام کی ایک بیس سالہ لڑکی سعودیہ سے بھاگ کر تھائی لینڈ پہنچی۔ یہاں سے اس کا ارادہ کسی مغربی ملک کو فرار کا تھا۔ یہاں جس ایجنٹ کو اس نے اپنا پاسپورٹ دیا کہ وہ اس کے فرار کا انتظام کرے وہ شخص پاسپورٹ لے کر رفوچکر ہو گیا۔ اب محترمہ کو تھائی حکام نے سعودیہ ڈی پورٹ کرنے کا ارادہ کیا تو محترمہ نے کئی ٹویٹ شروع کیے جس میں

Read more

تحریک انصاف کے دانت

آج سے چند سال قبل راقم الحروف کو ایک ورکشاپ میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ وہاں وہی امریکی، یورپی ایجنڈا تھا کہ جی ملک کی قرارداد مقاصد سے اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان ہٹاؤ، قادیانیوں کو مسلم قرار دو، آئین سے غیر مسلم کے صدر، وزیر اعظم بننے کی ممانعت ہٹاؤ، اسرائیل کو تسلیم کرو، کشمیر کو بھول جاؤ اور اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دو، مدرسوں پر پابندی لگاؤ، مذہبی جماعتوں کی سیاست پر پابندی لگاؤ، الغرض لگاؤ۔

Read more

سیاست کا شمشان گھاٹ اور ادھ جلی ارتھی سے اٹھتا دھواں

آج عالم سیاست ایک بے زاری بھرا منظر پیش کرتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہے اور کیا مایوس کن کارکردگی ہے! پیپلز پارٹی ایک کھنڈر ہے جس سے مستقبل کے لئے کوئی اچھی امید نہیں وابستہ کی جا سکتی۔ نواز لیگ کے پاس ویسے ہی کون سا وژن تھا؟ اب تو الحمد للہ یتیم بھی ہو گئی۔ متحدہ مولوی اتحاد ایک پھس پٹاخہ ہے۔ اس لہسن کی گانٹھ کا ایک دانہ جماعت اسلامی بھی ہے۔ اب یہ جماعت الحمد

Read more

کامران موچی اور جوتے کا سوراخ

کامران موچی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ دنیا کو جوتے کے سوراخ سے دیکھتا تھا۔ اسے موچی کا کام آتا تھا اور اس کے اسرار و رموز سے واقف تھا۔ آپ کہہ لیجیے کہ وہ ایک اچھا موچی تھا مگر اسے فلسفی بننے کا بھی خبط ہو گیا اور اس نے سوچ لیا کہ وہ جوتا گانٹھنے کے فن سے ہی سارے عالم کو سمجھ لے گا۔ وہ اشفاق احمد کے کرداروں جیسے مکالمے بول لے گا اور لوگ اس میں حکمت و دانائی تراش لیں گے۔ مگر سوچنے کی بات یہ بھی تو ہے کہ ساری دنیا کیا یوں جوتے کے سوراخ سے دیکھ کر سمجھی جا سکتی ہے؟

مگر کامران موچی کیا ایسا کرنے والا ہمارے معاشرے کا واحد انسان ہے؟ دراصل یہ بات تھوڑی تفصیل کی متقاضی ہے۔ دنیا کو اپنے ذاتی تجربات سے سمجھنے کی کوشش کرنا ایک انسانی روش کا نام ہے جسے مکمل طو رپر غلط نہیں کہا جا سکتا۔ مگر سوچنے کی بات یہ بھی تو ہے کہ ہمارا تجربہ کتنا بڑا ہے؟ ہمارا فہم کتنا بڑاہے، ہم نے اپنی زندگی میں کن خیالات پر غور کیا ہے؟ کیا علوم حاصل کیے ہیں اور وہ عالم کی تفہیم میں ہماری کتنی معاونت کرتے ہیں؟

Read more

سائنس مردہ باد!

آؤ کبوتر اڑائیں۔ یہ طنز نہیں، دعوت ہے۔ کبوتر امن کی بھی تو علامت ہے۔ سائنس مگر کس چیز کی علامت ہے؟ بات بڑے مبہم انداز میں ہو رہی ہے۔ تھوڑی شاعرانہ بھی مگر شاعری کرنا اور فلسفہ بگھارنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ سائنس مردہ باد! اس لئے کہ سائنس نے انسان کو چاند پر پہنچنے کی جھوٹی کہانی سنا کر مبہوت کر دیا۔ آج تک لوگ عقیدے کی طرح یہ بات سینے سے لگائے بیٹھے ہیں کہ 1969 ء میں انسان چاند پر گیا تھا۔

Read more

اسرائیل، پاکستان اور عمران خان

کہنے والے کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ سازشی نظریات ( Conspiracy theories) کا معاشرہ ہے۔ بہت سے لوگ بہت سے دعوؤں پر ہنستے ہیں۔ مثلاً بہت سے افراد کے لئے یہ ایک ہنسی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ عرصہ قبل اسرائیل کا ایک جہاز وارد ہوا تھا اور دس گھنٹے تک رک کر گیا تھا۔ چلئے زور سے ایک مرتبہ اس بات پر قہقہہ مار کر ہنسئے! مگر ہمارا موضوع مبینہ اسرائیلی جہاز ہر گز نہیں ہے۔

Read more

انسانی حقوق اور من چاہا اندھا پن

انسانی حقوق بھی بڑی ہی عجیب شے ہیں۔ دوستوئفسکی کے ناول شیاطین ( Possessed) میں ایک مقام پر نکولس اسٹاورجن اپنے ناہنجار سالے کیپٹن لبیاٹکن سے کہتا ہے کہ جتنی دیرمیں گھر میں ہوں، تم میری یہ چھتری لو اور باہر انتظار کرو۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ سالا دریافت کرتا ہے کہ ”حضور کیا میں چھتری کے قابل ہوں؟ “ جواب ملتا ہے ہاں ہر انسان کو چھتری کا حق حاصل ہے، جس پر کپتان بڑی لجاجت سے کہتا ہے کہ ”حضور نے تو انسانی حقوق کی تعریف بڑی خوبصورتی سے متعین کر دی۔ “

ساری دنیا میں انسانی حقوق بڑی حد تک اسی طرح معین ہو رہے ہیں۔ طاقت ور کے حقوق مختلف ہیں، کمزور کے حقوق جدا ہیں۔ پھر کسی کو ایک قسم کے کمزور مظلوم تو نظر آ جاتے ہیں مگر دوسری قسم کے مظلوم نظر ہی نہیں آتے۔ اس کیفیت کو اردو میں کیسے ظاہر کریں گے یہ تو ہمارے لئے بتانا مشکل ہے مگر انگریزی میں اس لئے ایک بڑی ہی پیاری سی اصطلاح ہے۔ ”Selective blindness“

Read more

اسرائیل: ”غلطی سے مس ٹیک ہو گئی باس“

دو ایک سال قبل رنبیر کپور اور کترینہ کیف کی ایک فلم ریلیز ہوئی تھی۔ تب بھارتی چینلوں اور فلموں کی کیبل پر پابندی نہ تھی، فلم کا عنوان تھا ”جگا جاسوس“۔ فلم بری طرح پٹ گئی تھی، بھارت میں عموماً ہر بڑے بجٹ کی فلم کی بے حد پروموشن اس کے اجراء سے قبل ہوتی ہے۔ ایسا لگنے لگتا ہے کہ فلم نہیں آ رہی بلکہ کسی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم چل رہی ہے، تب جو بھارتی چینل

Read more