وہ واقعی بینظیر تھی


عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم، اور سابقہ پہلے منتخب وزیراعظم اور آئین پاکستان کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی بیٹی بینظیر بھٹو، ایسی خاتون تھی، جس نے اپنی پوری زندگی مشکلات میں بسر کردی۔ سال کے سب سے طویل اور گرم دن اکیس جون کو پیدا ہونے والی وہ بچی جس کے گلابی گال دیکھ کر اس کا نام پنکی رکھا گیا تھا، وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ ان مشکلاتوں کا سامنہ کرتی رہی، جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ وادی مہران کی شہزادی، چاروں صوبوں کی زنجیر، مشرق کی بیٹی جیسے لقب پانے والی بینظیر وہ باہمت خاتون تھی، جس نے جیل کے دنوں میں بھی صبر و استقامت سے کام لیا۔ اپنی آپ بیتی مشرق کی بیٹی میں محترمہ بینظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ، 13 مارچ 1981ع کو جب مجھے سکھر جیل لایا گیا تو وہاں بہت ہی زیادہ ٹھنڈ تھی۔ اتنی ٹھنڈ کہ میں سو نہیں پا رہی تھی۔ نہ میرے پاس کمبل تھا نہ کوئی سوئیٹر، میرے دانت سردی کے مارے کانپ رہے تھے۔ گرمی کے دنوں میں مجھے ایسی جگہ قید کر کے رکھا گیا، کہ اس زمین سے کیڑے نکل رہے تھے۔ گرمی کی حرارت کا درجہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ میرے جسم کے بال بھی جل رہے تھے۔ ایسے سخت حالات میں پاکستان کے سابقہ منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی بیٹی صبر کا دامن تھامے وہ سب جھیل رہی تھی، جو اسے نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ بینظیر کہتی تھی کہ، سیاست میں آنا میری پسند ہرگز نہ تھی، بلکہ میں حادثاتی طور پہ آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت جانے سے اس کی پھانسی تک کے دنوں میں، بینظیر بھٹو اپنے ماں بیگم نصرت بھٹو کے ہمراہ ساری تکلیفیں سر پہ جھیلتی رہی۔ دو بار وزیراعظم بننے والی، جب خود ہی جلاوطنی ختم کرکے 1986ع کے بعد، ايک بار اٹھارہ اکتوبر 2007ء کو جناح انٹرنیشنل ایرپورٹ کراچی پر اتری تو وہ کوئی اور ہی شخصیت تھی، جو کہ پہلے کی طرح کمزور نہ تھی، اس کی ہمت و جرات، اس کا جوش و جزبہ، اس کا تجربہ اور عقل و فہم پہلے سے بہت ہی زیادہ تھا، پر اس کے دشمن بھی اب کے زور پکڑ چکے تھے، اور جو پہلے ناکام ہوئے تھے، انہوں نے ٹھان لی کہ اب کی بار تو اسے زندہ رہنے نہیں دیں گے۔ کارساز جلسے کے سانحہ کے بعد بھی جلسے جلوسوں اور عوامی رابطہ مہم میں مصروف محترمہ بینظیر کو کیا پتا کے جو جان لیوا دھمکیاں اسے مل رہی ہیں، وہ بہت ہی جلد سچ ہونے والی ہیں، اور دشمن اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہونے والا ہے۔

جب ایک صحافی مظہر عباس نے ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ، ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻟﯿﺎﻗﺖ ﺑﺎﻍ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺣﻤﻠﮯ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﺍٓﯾﺎ ”ﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﻣﻨﻊ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﯽ، ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﯽ ”۔

پنڈی کے لیاقت باغ میں ستائیس دسمبر کی شام کو، جب محترمہ بینظیر بھٹو اپنی تقریر میں یہ الفاظ کہہ رہی تھی، یہ دھرتی مجھے پکار رہی ہے، میرا ملک خطرے میں ہے، تو یقیناً اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی لیڈر اور عالمی رہنما بینظیر کی جان خطرے میں تھی، وہ جوں ہی تقریر پوری کر کے واپس آ رہی تھی، تو ظالموں نے گولیوں سے فائر کرکے عوام کی امید کو ختم کردیا، چاروں صوبوں کی زنجیر ٹوٹ گئی، مشرق کی بیٹی لہولہان ہوگئے، وادی سندھ کی شہزادی سوگئی، اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید ہوگئی۔۔۔ اور اسے شہید ہوئے گیارہ سال بھی بیت گئے۔ ۔۔

Facebook Comments HS