”یہ صرف ایک مذاق ہے“ کہنا بند کرو۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خواتین یا یو این وومن نے جب رواں مہینے پاکستان کی شوبز شخصیات کے ساتھ ملکر جہیز بند کرومہم کا آغاز کیا تو شاید ہی مہم کو ترتیب دینے والے عہداداروں نے مہم کے ممکنا رِسک میں یہ بات درج کی ہو کہ جب یہ مہم انٹرنیٹ پر جائے گی تو اس کے ساتھ کیا، کیا ہوسکتا ہے اور کس طرح کا عوامی ردِعمل آسکتا ہے۔

پاکستان میں یہ کوئی پہلی مثال نہیں جس میں کسی مسئلے پر شروع کی جانے والی ایک بحث کو ایک مثبت اور تعلیمی بحث کے بجائے لطیفوں یا ”میمز“ میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سارے موضوعات جن پر معاشرے میں تعلیمی بحث کرنے کی ضرورت رہی ہے مگراُس کو لطیفوں اور قہقوں میں بدل کر بات کرنے سے فرار ہونے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستانی معاشرے کا نہیں کہ جن عنوانات پر عوامی مباحثے کی ضرورت ہو ان پر منفی پراپوگنڈا، چھپی سازشیں، غیروں کی چال، ایجنٹوں کے کام، جیسے نام یا پھر لطیفوں، اسٹیج ڈراموں، فلموں اور یا لٹریچر کے ذریعے اس مہم کے مخلاف میں مہم شروع کردی جائے۔ اس طرح کی مثالیں ان تمام معاشروں میں پائی جاتیں ہیں جہاں لوگ عمومی رویے کو بدلنے سے ڈرتے ہیں۔ اور اپنے سماجی مرتبے یا سٹیٹس کو کی تنزلی کے خوف سے دوسروں کو مسلسل نیچے رکھنے اور دباؤ قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے اس حالیہ ٹرینڈ میں جس کا بنیادی خاکہ مہندی سے ہاتھ پر لکھے ”جہیز خوری بند کرو“ جملے سے ہوا تھا اب نہ جانے کن کن عنوانات کو اپنی وسعت میں سمیٹ رہا ہے اور لوگ تصویروں کو ایڈٹ کر کے اپنی مرضی اور ذائقے کے حصاب سے شیئر کرتے جا رہے ہیں۔ اگر جائزہ لیا جائے تو ان میمز پر آنے والے زیادہ تبصرے روایتی گلی کوچوں کی زبان میں خواتین پر بنائے جانے والے لطیفوں سے ملتے ہیں۔ مزاح کی زبان میں اس کو تحقیری مِزاح  کہا جاتا ہے جس کا مطلب ایسے طرز کا مذاق جس میں آپ کسی فرد یا گروپ کو حقیر یا کمتر ظاہر کرنے کوشش کرتے ہوں۔ اور اب کے بار یہاں یہ کمزور طبقہ ان لڑکیوں یا عورتوں کا ہے جن کی شادیاں صرف اس لئے نہیں ہو پاتیں کہ ان کے والدین لڑکی کے لئے جہیز جمع کرنے قابل نہیں ہوتے۔ آپ بحیثیت قاری شاید کہیں کہ ”یہ صرف ایک مذاق ہے“ تو میں عرض کرونگا کہ یہ کہنا بند کرو۔

صنفی امتیاز سے منسلک اکثر تعصبات کو ہمیشہ لطیفوں اور مزاح کی مدد حاصل ہوتی ہے اور پھر جا کر یہ کچھ وقت میں یہ ایک روایت یا عمومی رائے کی صورت میں بدل جاتے ہیں۔ اس طرح کے صنفی امتیاز سے نہ صرف حرکات کرنے والوں کو یہ کہہ کر راہ فرار مل جاتی ہے کہ میں تو صرف مذاق کر رہا تھا بلکہ یہ پہلے سے ہی موجود روایتی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اس طرح کی مخالف مہم سے نہ صرف پہلے سے ہی دبے ہوئے طبقے کی آواز کو مزید دبایا جاتا ہے بلکہ ان کی مدد کو آنے والے بھی ہچکچاہٹ اور کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر لطیفہ بتانے والے کی سوچ اور اس کی نظر میں معاشرے میں عورت کے کردار کو بیان کر رہا ہوتا ہے۔

اس تحقیری مزاح سے شاید مخصوص گروپ کے خلاف کوئی زیادہ تعصب نہ پھیلے لیکن اس کے منفی معاشرتی اثرات بہرحال لوگوں کے لئے موضوع پر غور و فکر کرنے کے بجائے اس پر راہ فرار کے لئے لطیفوں کی صورت میں بہت سارا مواد دے دیتے ہیں۔ معاشرے میں جب انسان کو دوسرے انسانوں کی ناکامی، کمزوری اور مصائب پر ہنسی آئے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہنسنے والا دوسرے کی بدقسمتی پر ہنس رہا ہے اور اپنی خوش قسمتی پر رشک کر رہا ہے۔ تحقیری مزاح ”یہ صرف ایک مذاق ہے“ سے آگے کی بات ہے۔ یہ بڑی مشکل سے بولنے والوں کی آواز کو دبا دیتا ہے اور قابلِ بحث مسائل کو قہقوں، چند لائکس اور میمز کے سیلاب میں ڈبو دیتا ہے۔ ہنسنا کس کو اچھا نہیں لگتا؟ لیکن کس چیز پر ہنس رہے ہیں؟ اس پر سوچنے اور غورو فکر کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قیصر رونجھا کی دیگر تحریریں