میری کرسمس کے علاوہ ہیپی نیو ائیر کہنے سے بھی بچیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میری کرسمس“ کا مطلب تو دیگر علما کے علاوہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بتا دیا ہے کہ کیونکہ مسیحی حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں، اس لئے ان کو ”میری کرسمس“ کہنے کا مطلب ہے کہ نعوذ باللہ ”خدا نے بیٹا جنا“ اور یہ بہت بڑی بلاسفیمی ہے۔ اس کے بعد ہم نہایت پشیمان ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہت بڑے عالم ہیں۔ اسلام کے علاوہ وہ مسیحیت اور ہندو مت پر بھی اتھارٹی ہیں اور کسی کمپیوٹر کی طرح ان سب مذاہب کی مقدس کتابوں کے حوالے دیتے ہیں۔ اب اگر انگریزی کے ایک لفظ کا مطلب جاننا ہو گا تو ہم ڈاکٹر ذاکر نائیک سے پوچھیں گے یا آکسفورڈ ڈکشنری دیکھیں گے؟ ظاہر ہے کہ ڈاکٹر صاحب ہی ہمارے لئے اتھارٹی ہیں۔

ہیلو کا مطلب بھی آپ کے علم میں ہو گا۔ اس پر پہلے بہت تحقیق ہو چکی ہے۔ محققین کے مطابق یہ لفظ ہیل یعنی جہنم سے نکلا ہے اور اہل مغرب جب ہمیں ہیلو کہتے ہیں تو ان کا مطلب ہوتا ہے کہ جہنم میں جاؤ۔ ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے وہ یہ لفظ استعمال نہیں کرتے۔ جاوید چودھری صاحب بھی تصدیق کرتے ہیں کہ ”دنیا کے اکثر لسانی ماہرین کا خیال ہے ہیلو کا لفظ ہیل سے نکلا اور ہیل کا مطلب دوزخ ہوتا ہے، گراہم بیل نے1876ء میں ٹیلی فون ایجاد کیا، وہ ٹیسٹنگ کے مراحل کے دوران اپنے ایک دوست کو ٹیلی فون کیا کرتا تھا، دوست کو آواز نہیں آتی تھی تو وہ اس آلے کو ’ہیل‘ قرار دیتا تھا، یہ ہیل آہستہ آہستہ ہیلو بن گیا“۔

”میری کرسمس“ اور ہیلو کا خوفناک مطلب جاننے کے بعد ہم نے ہیپی نیو ائیر کا مطلب جاننے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے ”میری کرسمس“ پر ٹھوکر کھانے کے بعد ڈکشنریوں پر اب ہمیں اعتبار نہیں رہا۔ ہیپی نیو ائیر کہنے پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کوئی تحقیق نہ ملنے پر ہم نے خود تحقیق شروع کی ہے۔ ہوشربا انکشافات ہو رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہیپی نیو ائیر کہنا بھی امت مسلمہ کے خلاف ”میری کرسمس“ اور ہیلو جتنی بڑی سازش ہے۔

اب یہ ہمارا فرض ہے کہ اس تحقیق کو مقالے کی صورت میں قوم کے سامنے پیش کر کے اسے خبردار کر دیں ورنہ وہ یکم جنوری کو تباہی کے عمیق گڑھے میں گر جائے گی جیسے ہر سال گرتی ہے۔

سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ ہے کیا۔
Happy New Year
ہیپی کا پہلا جز ہیپ ہے۔ اس کا مطلب ہے کچھ ہونا، قسمت، تقدیر۔ آپ نے اکثر سنا ہو گا ”وٹ ہیپنڈ“ یعنی کیا ہوا؟ لفظ ”پن“ کا مطلب ہے مذاق اڑانا۔ کوئی لفظوں سے کھِیلے تو یہی کہتا ہے کہ ”نو پن انٹینڈڈ“۔
No pun intended
یعنی ”میں مذاق نہیں کر رہا ہوں“۔ اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لفظ ہیپی کا مطلب ہے تمہارے ساتھ مذاق ہو۔ ہیپی نیو ائیر، یعنی ”تمہارے ساتھ نئے سال کا مذاق ہو“۔

آپ ان علوم اور مغربی سازشوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کے علم میں ہو گا ہی کہ اپریل فول کیوں منایا جاتا۔ آپ کو علم ہو گا کہ اندلس میں یہود و ہنود کی سازش کے نتیجے میں مسلمانوں کی شکست کے بعد یکم اپریل کو اندلس کے شریر لوگوں نے مسلمانوں کو کہا تھا کہ ساحل پر چلو وہاں جہاز کھڑے ہیں جو تمہیں مراکش لے جائیں گے۔ جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا۔ اس کے بعد اندلس میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ اسی کی یاد میں یکم اپریل کو سب اہل مغرب ایک دوسرے کو اپریل فول بناتے ہیں۔

یاد رہے پرانے زمانے میں نیا سال یکم اپریل کے قریب منایا جاتا تھا۔ آج بھی وہ نوروز اور ایسے ہی دوسرے ناموں سے بہت سے ملکوں میں منایا جاتا ہے۔ اہل مغرب ہمیں کہتے ہیں کہ ہپی نیو ائیر اور اپریل فول۔ یعنی تمہارے ساتھ مذاق ہو اور تم ویسے ہی بے وقوف بنو جیسے سپین میں بنے تھے۔

یہ بھی نوٹ کریں کہ نیو ائیر کا تہوار کرسمس کے ہفتے بھر بعد منایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جب 25 دسمبر کو اہل مغرب جب بھولے بھالے مسلمانوں سے میری کرسمس کہلوا لیتے ہیں تو اس کے ہفتے بھر بعد وہ خوب جشن مناتے ہیں کہ ہیپی نیو ائیر۔ یعنی کہو کیسا بے وقوف بنایا کرسمس پر، اب اور بنو۔

تو گزارش ہے کہ کفار کی باتوں میں آ کر ایک دوسرے کو ہیپی نیو ائیر مت کہیں۔ کوئی آپ کو بے وقوف بنانے کے لئے کہے کہ ”ہیپی نیو ائیر“، تو مسکراتے ہوئے اس کی بد دعا اسی پر لوٹا دیں اور کہیں ”یو ہیپی نیو ائیر“۔ یعنی تم خود بنو بے وقوف۔ کیا ہم ہی رہ گئے ہیں کفار کے ہاتھوں بے وقوف بننے کے لئے؟ امید ہے کہ اب سب محتاط رہیں گے۔

نیز یہ مضمون پڑھ کر ”تھینک یو“ بھی مت کہیں۔ ہمیں اپنے تمام مسلمان بہن بھائیوں سے شرعی حدود میں رہتے ہوئے شدید محبت کرنی چاہیے۔ تھینک یو پر غور کریں کہ یہ کیا ہے۔ کفار شکرگزاری کے اظہار کے لئے آپس میں ایک دوسرے کو ”آئی ایم اوبلائجڈ“ کہتے ہیں، یعنی میں آپ کا بہت ممنون ہوں، لیکن ہم لوگوں سے بات کرتے ہوئے منہ ٹیڑھا کر کے تھینک یو کہنے پر مصر ہوتے ہیں۔ آپ غور سے سنیں تو وہ کہہ رہے ہوتے ہیں پھینک دو۔ آپ خود سوچیں کہ ایک شخص آپ کے ساتھ بھلائی کرے اور جواب میں اسے یہ سننا پڑے کہ پھینک دو، تو کتنی نفرت پھیلتی ہے۔

انگریزی بولتے وقت نہایت محتاط رہنا چاہیے۔ نہ جانے کس لفظ میں کون سی مذموم سازش چھپی ہو۔ آپ تھینک یو کی جگہ شکراً کہا کریں۔ لیکن یہ خیال رکھیں کہ ”شکراً یا حبیبی“ یعنی شکریہ میرے محبوب، صرف زوجین ہی ایک دوسرے کو کہہ سکتے ہیں۔ عام مرد عورت ایسا کہیں گے تو اس سے بھی فحاشی اور فسق و فجور پھیل سکتا ہے اور دل میں گمراہ کن فحش خیالات جنم لے سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1110 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar