فلم انڈسٹری اور قائد اعظم کا ایک نادر خط
منٹو صاحب نے قائد اعظم کا ایک خاکہ لکھا تھا۔ آج قائد اعظم کا ایک خط نظر آ گیا جو انہوں نے محمد مسعود صاحب کو لکھا۔ مسعود صاحب علی گڑھ میں ہوتے تھے اور ایک نوجوان سیاسی کارکن تھے۔ یہ خط علی جان صاحب نے فیس بک پر پیش کیا تھا۔ علی جان پشاور کے باسی ہیں اور ان کے یہاں سے اس قسم کے نوادر ایک تسلسل سے نظر آتے رہتے ہیں۔ خط میں قائد اعظم کی شخصیت کا ایک اور رخ نظر آیا۔ تو جب یہ رخ نظر آیا تو وہ خاکہ یاد آ گیا جو منٹو لکھ گئے۔ خاکے کا نام تھا "میرا صاحب” اور یہ قائد کے ڈرائیور محمد حنیف آزاد کی زبانی سنائے گئے واقعات پر مشتمل تھا، انہیں خاکے کی شکل منٹو نے دے دی۔ حنیف گاڑی چلانا نہیں جانتے تھے، کیسے منتخب ہوئے، وہ خاکے میں اس قصے سے پہلے بیان ہو گیا اب ایک مزے دار واقعہ دیکھیے جس سے قائد اعظم کی روزمرہ زندگی پر ایک نظر جاتی ہے؛
"ہوا یہ منٹو صاحب خاکسار کو موٹر اسٹارٹ کرنی ہی پڑی۔ نئی پیکارڈ تھی۔ اللہ کا نام لے کر اٹکل پچو اسٹارٹ کر دی اور بڑی صفائی سے کوٹھی کے باہر بھی لے گیا۔ پر جب مالا بار ہل سے نیچے اترتے وقت لال بتی کے موڑ کے پاس پہنچا ۔ جانتے ہیں نا لال بتی؟‘‘میں نے اثبات میں سر ہلایا ’’ہاں ہاں!‘‘بس صاحب مشکل ہو گئی ۔ استاد بدھن نے کہا تھاکہ بریک دبا کر معاملہ ٹھیک کر لیا کرو۔ افراتفری کے عالم میں کچھ ایسے اناڑی پن سے بریک دبائی کہ گاڑی ایک دھچکے کے ساتھ رکی ۔ قائداعظم کے ہاتھ سے ان کا سگار گر پڑا۔ فاطمہ جناح صاحبہ اچھل کر دو بالشت آگے ۔ لگیں مجھے گالیاں دینے ۔ کاٹو تو لہو نہیں میرے بدن میں ۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ دماغ چکرانے لگا ۔ قائد اعظم نے سگار اٹھایا اور انگریزی میں کچھ کہا ۔ جس کا غالباً یہ مطلب تھا کہ واپس چلو ۔ میں نے حکم کی تعمیل کی تو انہوں نے نئی گاڑی اور نیا ڈرائیور طلب فرمایا اور جہاں جانا تھا چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد چھ مہینے تک مجھے ان کی خدمت کاموقع نہ ملا۔
میں نے مسکرا کر پوچھا ’’ایسی ہی خدمت کا ؟ ‘‘
آزادبھی مسکرایا ’’جی ہاں ۔ بس یو ں سمجھیے کہ صاحب نے مجھے اس کا موقع نہ دیا۔ دوسرے ڈرائیور تھے ۔ وہ ان کی وردی میں رہتے تھے ۔ مطلوب صاحب رات کو بتا دیتے تھے کہ کون ڈرائیور کب اور کس گاڑی کے لیے چاہیے ۔ میں اگر ان سے اپنے متعلق کچھ دریافت کرتا تو وہ کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکتے ۔ یہ مجھے بعد میں معلوم ہوا۔ صاحب کے دل میں کیا ہے ۔ اس کے متعلق کوئی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا اور نہ ان سے کوئی کسی امر کے بارے میں استفسار ہی کر سکتا تھا ۔ وہ صرف مطلب کی بات سنتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان کے اتنا قریب ہوتے ہوئے بھی یہ نہ معلوم کر سکا کہ اپنے گیراج کا قائد بنا کر ایک بے کار پرزے کی طرح انہوں نے مجھے کیوں ایک طرف پھینک رکھا ہے۔ میں نے آزاد سے کہا ’’ہو سکتا ہے وہ تُمھیں قطعاً بھول ہی گئے ہوں۔
آزاد کے حلق سے وزنی قہقہہ بلند ہوا ’’نہیں جناب نہیں‘‘صاحب بھولے سے بھی کہیں نہیں بھولتے تھے۔ اُن کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آزاد چھ مہینے سے گیراج میں پڑا روٹیاں توڑ رہا ہے۔ اور منٹو صاحب جب آزاد روٹیاں توڑے وہ معمولی روٹیاں نہیں ہوتیں۔ یہ تن و توش ملاحظہ فرمالیجئے۔ ‘‘میں نے آزا د کی طرف دیکھا ۔ سن سینتیس ،اڑتیس میں جانے اس کا کیا تن و توش تھا مگر میرے سامنے ایک کافی مضبوط اورتنومند آدمی بیٹھا تھا۔ جس کو آپ ایکٹر کی حیثیت میں یقیناًجانتے ہوں گے ۔ تقسیم سے پہلے وہ بمبئی فلموں میں کام کرتا تھا اور آج کل یہاں لاہور میں فلمی صنعت کی زبوں حالی کا شکار کسی نہ کسی حیلے گُزر اوقات کر رہا ہے۔
مجھے پچھلے برس ایک دوست سے معلوم ہوا تھا کہ یہ موٹی موٹی آنکھوں ،سیاہ رنگ اور کسرتی بدن والا ایکٹر ایک مدت قائداعظم محمد علی جناح کا ڈرائیور رہ چکا ہے ۔ چنانچہ اسی وقت سے میری نگاہ اس پر تھی۔ جب کبھی اس سے ملاقات ہوتی تومیں اس کے آقا کا ذکر چھیڑ دیتا اور اس سے باتیں سن سن کر اپنے حافظے میں جمع کر تا رہتا ۔ کل جب میں نے یہ مضمون لکھنے کے لیے اس سے کئی باتیں دوبارہ سنیں تو مجھے قائداعظم کی زندگی کے ایک بہت دلچسپ پہلو کی جھلک نظر آئی محمد حنیف آزاد کے ذہن پر اس بات نے بہت اثر کیا تھا کہ اس کا آقا طاقت پسند تھا جس طرح علامہ اقبال کو بلند قامت چیزیں پسند تھیں۔ اسی طرح قائداعظم کو تنومند چیزیں مرغوب تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے لیے ملازموں کا انتخاب کرتے وقت وہ جسمانی صحت اور طاقت سب سے پہلے دیکھتے تھے۔
اس زمانے میں جس کا ذکر محمد حنیف آزاد کرتا ہے ،قائداعظم کا سیکرٹری مطلوب بڑا وجیہہ آدمی تھا۔ جتنے ڈرائیور تھے، سب کے سب جسمانی صحت کا بہترین نمونہ تھے ۔کوٹھی کے پاسبان بھی اسی نقطہ نظر سے چُنے جاتے تھے۔ اس کا نفسیاتی پس منظر اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جناح مرحوم خود بہت ہی لاغر اور نحیف تھے مگر طبیعت چونکہ بے حد مضبوط اور کسرتی تھی اس لیے کسی ضعیف اور نحیف شے کو خود سے منسوب ہوتا پسند نہیں کرتے تھے۔
وہ چیز جو انسان کو مرغوب اور پیاری ہو ، اس کے بناؤ سنگھار کا وہ خاص اہتمام کرتا ہے چنانچہ قائداعظم کو اپنے صحت مند اور طاقتور ملازموں کی پوشش کا بہت خیال رہتا تھا پٹھان چوکیدار کو حکم تھا کہ وہ ہمیشہ اپنا قومی لباس پہنا کرے ۔ آزاد پنجابی نہیں تھا، لیکن کبھی کبھی ارشاد ہوتا تھا کہ پگڑی پہنے۔ سر کا یہ لباس بڑا طرحدار ہے۔ چونکہ اس سے قدوقامت میں خوشگوار اضافہ ہوتا ہے اس لیے وہ اس کے سر پر پگڑی بندھوا کر بہت خوش ہوتے تھے اور اس خوشی میں اس کو انعام دیا کرتے تھے۔”
تو یہ خاکہ اس لیے یاد آیا کہ حنیف آزاد (ڈرائیور) ایک چھوٹے موٹے ایکٹر رہ چکے تھے اور اس خط میں محمد مسعود صاحب نے برصغیر کے مسلمانوں کی فلم انڈسٹری میں شمولیت کے لیے قائد اعظم کی رائے مانگی تھی اب خط کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے۔
"آپ کے 30 دسمبر 1944 کو لکھے گئے خط کا جواب لکھ رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مسلمان فلمی صنعت میں زیادہ سے زیادہ آئیں اور اس کے لیے میں بخوشی مقدور بھر تعاون کے لیے تیار ہوں۔ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ محبوب صاحب ایک تاریخی فلم ہمایوں کے نام سے بنا رہے ہیں، اگر میں دیکھ پایا تو اس کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کر دوں گا، لیکن عمومی طور پر میری خواہش یہی ہے کہ مسلمان اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ آئیں، کیوں کے فلمی صنعت میں ان کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں۔”
قائد اعظم کو خود بھی ایک زمانے میں اداکاری کا شوق رہ چکا تھا۔ پاکستان کی سرکاری ویب سائیٹ اس بارے میں کیا کہتی ہے، آئیے اس کا خلاصہ دیکھتے ہیں؛
"لندن میں اپنے قیام کے دوران قائد اعظم اکثر تھیٹر دیکھنے جایا کرتے تھے۔ وہ اداکاری سے بہت متاثر ہوتے تھے، خاص طور پر شیکسپیئر کے ڈراموں کے اداکار انہیں بہت متاثر کرتے تھے۔ ان کا خواب تھا کہ وہ رومیو کا کردار ادا کریں۔ یہ شوق انہیں عمر کے آخری برسوں میں بھی رہا۔ فاطمہ جناح یاد کرتی ہیں، "حتی کہ اپنی سیاسی زندگی کے بہت عروج کے دنوں میں بھی جب وہ دیر گئے تھکے ہوئے آتے تو وہ شیکسپئیر کو پڑھتے اور اپنی گونج دار آواز کے ساتھ پڑھتے۔”
ان کا مونوکل (ایک آنکھ کا چشمہ) وہ ہمیشہ عدالت میں جج اور جیوری کے سامنے ڈرامائی تاثرات کے ساتھ سوال جواب کے دوران ایک باوقار طریقے سے استعمال کرتے تھے۔
وکالت کے لیے بار میں منتخب ہونے کے بعد وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک تھیٹر کمپنی کے مالک کے پاس گئے جس نے انہیں شیکسپئیر کے چند اقتباسات پڑھنے کو کہا۔ اور پڑھنے کے فورا بعد انہیں وہاں نوکری کی پیش کش کی جا چکی تھی۔ خوشی خوشی انہوں نے اپنے والدین کا خط لکھا اور اپنے اس نئے شوق کے بارے میں بتایا۔ وہ کمپنی کے معاہدے پر دستخط بھی کر چکے تھے جو تین ماہ کا تھا۔ اپنے والد کے منع کرنے پر انہوں نے انکار کر دیا۔ ایک لمبا چوڑا خط ان کے والد کی طرف سے آیا جس کا ایک جملہ ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ "تم اپنے خاندان کو یوں دھوکا نہیں دے سکتے۔”
معاہدہ کرنے والا گورا نسلی آدمی تھا، اس نے یہ کہہ کر انہیں معاہدے سے فورا بری الذمہ کر دیا کہ اگر آپ کو دلچسپی ہی نہیں رہی تم میں آپ کو یہاں رکھ کر بھی کیا کروں گا۔ یہ شاید ان کی زندگی کا پہلا اور آخری واقعہ تھا جب انہوں نے اپنا کوئی ارادہ پورا نہ کیا ہو۔ والد کے منع کرنے پر انہوں نے اپنا شوق قربان کر دیا۔”
یہ خط بہرحال بہت اہمیت کا حامل ہے، وزارت ثقافت کو اسے جائز اہمیت دینی چاہئیے۔ تعلیمی ادارے جہاں تھیٹر اور فلم پڑھائے جاتے ہیں وہاں بھی قائد اعظم کی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں تحقیق کی جا سکتی ہے۔



