آپ فرمایئے رشتہ قبول ہے ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 22
  •  

فیس بک پر میں نے ایک پوسٹ لگائی کہ
جہیز نہ ہو نے کے سبب کتنی ہی لڑکیاں گھروں میں کنواری بیٹھی ہوئی ہیں۔ رہنماؤں کے بیان کا رٹا ہوا جملہ۔

لیکن کتنے ہی کنوارے مرد ہیں جو معاشی جدوجہد میں ہمہ وقت جٹے ہیں، لیکن نہ تو ذاتی مکان ہے، نہ شادی کے لئے پیسے جڑ پاتے ہیں، ماں بہنوں کی کفالت سے سر ہی نہیں اٹھا پاتے، اور حد تو یہ ہے کہ جہیز کی کمیابی کا شکار لڑکیاں بھی ایسے کنگلوں سے شادی کرناپسند نہیں کرتیں۔

اس پوسٹ کے بعد ان باکس میں ایک دوست کا میسج ملا۔ انہوں نے مجھ سے جو چند باتیں کیں، اس سے اندازہ ہوا کہ ان کا رشتہ ہونے میں بہت دقتیں پیش آرہی ہیں جب کہ وہ کوئی مطالبہ بھی نہیں کر رہے۔ آپ خود بھی دیکھیے کتنا سہل ہے یہ شخص۔

اس لڑکے کے نام کے علاوہ ایک ایک بات سو فیصد سچ ہے۔ سو لیجیے۔
؂ یوسف تو بازارِ وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے۔

میرا نام سلمان ہے گریجویٹ ہوں سوفٹ وئیر ہاؤس کے ادارے میں جاب کرتا ہوں، تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے۔ ابھی ماں باپ کے ساتھ رہتا ہوں، لیکن شادی کے بعد کرائے کے مکان میں رہوں گا، تاکہ میں بھی اپنی زندگی میں محنت کر کے وہی سب حاصل کروں جو میرے باپ نے حاصل کیا۔ جہیز لوں گا نا بری میں کچھ دوں گا، شادی کی کو ئی رسم نہیں چاہتا۔ نکاح کے بعد اسے اس کے گھر سے رخصت کرنا چاہتا ہوں، لیکن ولیمے میں دونوں طرف کے مہمان شریک ہوں گے، لڑکی کسی بھی نسل، فرقے سے تعلق رکھتی ہو، امیر ہو یا غریب کوئی ایشو نہیں، امیر ہونے کی صورت میں دولت اپنے باپ کے گھر چھوڑ کر آنی ہوگی۔

شکل صورت کیسی بھی ہو بس شگفتہ مزاج اور ذہین ہو۔ ( ایسی لڑکیاں خوب صورت ہی لگتی ہیں ) ۔ جانور دوست ہو، (جانور دوست ہو گی تو انسان دوست بھی ہو گی ) ۔ کم پڑھی لکھی ہو یا زیادہ کوئی غرض نہیں لیکن لٹریچر سے دلچسپی ضرور ہو، کسی بھی زبان کے پچیس تیس لکھا ریوں کو پڑھ رکھا ہو۔ ایسی لڑکی ( اعلیٰ ڈگری یافتہ لڑکی سے زیادہ پڑھی لکھی ہو تی ہے ) میری عمر ستائیس ہے۔ اس کی عمر بھی چوبیس تا ستائیس سال ہو نی چاہیے۔

نوکری کرنا نہ کرنا اس کا اختیار ہے، لیکن زندگی میں کچھ کرنے کا جذبہ رکھتی ہو۔ مذہبی اور غیر مذہبی، ماڈرن یا قدامت پسندی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اپنے خیالات و نظریات دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش نہ کرے۔ دو باتیں اور نمبر ایک، لڑکی سیدھی سادی بالکل نہ ہو نمبر دو، یہ ر شتہ لڑکی کے یا میرے ماں باپ کی پسند سے نہیں بلکہ میری اور لڑکی کی باہمی رضامندی سے طے پائے گا۔ جس کے لیے شادی سے پہلے رو برو ملاقات نہ سہی ویڈیو کال پر بات چیت ضروری ہے۔
جی آپ فرمایئے رشتہ قبول ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 22
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں