مرزا اسد اللہ خان غالب کے نام


بلی ماراں کے محلے گلی قاسم جان سے آج بھی ہوا کا جھونکا گزر کر اترا کے باہر کو نکلتا ہو گا، جہاں جہاں پہ پہنچتا ہو گا ادب کی مہک ماحول میں تحلیل کرتا جاتا ہو گا۔ اردو کو اپنے آپ پہ فخر ہوتا ہو گا آج بھی، جبکہ ہندوستان آج بھی اپنا قد اونچا اور سینہ چوڑا کر لیتا ہو گا۔ دسمبر کے سرد سناٹے بھی بہار میں تبدیل ہوجاتے ہوں گے۔ نواب جاں کے قول کے بقول دلی تو آج قرض دار ہے ہی لیکن ساتھ میں پورا ہندوستان ہی قرض دار ٹھہرا۔ آپ یوں کہہ لیں کہ اس شخص کے لئے ہی جیسے آم اور شراب کو قدرت نے تخلیق دیا ہو۔

اہل علم انہیں مرزا نوشہ کے نام سے جانتے تھے اور آج بھی جانتے ہیں جن کا کشیدہ قامت متوسط بدن، شانے عمر کے ایک حصے میں بھی خم سے آزاد، سنہرہ چمپئی رنگ اور اس پہ سفید داڑھی، سر منڈھا ہوا اور اس پہ مسکراتا ہوا چہرہ، آنکھوں میں شوخی اور فراست کی چمک، جبکہ مے نوشی کے بعد بڑی بڑی آنکھیں تھوڑے سے سرور کے باعث سرخی مائل ہوتیں، پورا چہرہ مہرہ اور قد قامت بالکل کسی تازہ وارد تورانی کا تھا، بس داڑھی اگر ہندی طرز کی نہ ہوتی اور سر منڈھا ہوا نہ ہوتا تو اچھے اچھوں کو یہی دھوکہ ہوتا کہ گلی قاسم جان سے کوئی آغائے تورانی آرہے ہیں ہیں۔
ان کی آواز نہایت صاف اور کھِلی ہوئی تھی اکبر آبادی برج کی لچک اور مٹھاس لہجے میں تھی لیکن اس پر دلی کی کرخت بولی کی گہری تہہ جم چکی تھی۔

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ کے خطوط کو اگر پڑھا جائے تو یوں لگتا کہ جیسے کہ فون آج کی نہیں انیسویں صدی کی ایجاد ہے اور مرزا جی ان سے سمارٹ فون پر

ویڈیو کال کر رہے ہوں یا پھر جس کے نام خط ہوتا وہ بالکل ان کے سامنے بیٹھے ہوں یا پھر پڑھ کے ہمیں یوں لگتا ہے جیسے ان کے صحن میں ہم بھی ان کے پاس بیٹھے ہوں۔

مرزا نوشہ کے نزدیک شاعری معنی آفرینی تھی قافیہ پیمائی نہیں اور ایسا ہی ہے۔ ان کی شاعری اپنے عہد کے گھسی پٹی شاعری سے کسی اور سطح پر تھی جس نے شاعروں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ غالب کے ایک ایک لفظ کے پیچھے کئی حوالے جھلکتے نظر آتے ہیں اور 9 سو سال کی ایرانی تہذیب اور وہ عمل جسے ہم انڈو مسلم کلچر کہتے ہیں وہ سب کچھ نظر آتا ہے۔

ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں

نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے، راتیں اُس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کُھل گیا
بلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

نوشہ جی شراب بھی پیتے تھے خنزیر نہیں کھاتے تھے، ہندو رسم بھی خوشی سے مناتے پرساد بھی کھاتے اور مسلم رسمیں بھی دل سے مناتے، ہندو و مسلم کو جو انگریزوں نے الگ الگ کر رکھا تھا اس کے بھی خلاف تھے، ہندوستان سے پیار بھی کرتے اور ہندی زبان پر جان بھی لٹاتے تھے، زبانوں کا بٹوارہ شاید گوارہ نہ تھا ان کو۔
سچ تو یوں ہے کہ غالب کیا مرا، بڑا کافر مرا۔

Facebook Comments HS