عورت کے خلاف لبرلز کی سازش


میرا موقف یہ کہ جناب خود ساختہ آزاد خیال صاحب! عورت ہی نہیں مرد بھی ہر طرح کے استحصال کا شکار ہوتا ہے کیونکہ استحصال دراصل طبقہ کا ہے نہ کہ صرف عورت کا۔ محروم اور مجبور طبقہ انفرادی آزادی، عزت نفس، آزادی رائے اور برابر کے مواقع ایک دوسرے کو دینے کا روادار نہیں ہوتا۔ متوسط طبقہ بھی روایتوں کی دلدل میں پھنسا ہوتا ہے۔ آپ معاشی آزادی کی بات کریں کیونکہ معاشی نظام بدلنے سے معروض بدلتا ہے، اقدار بدلتی ہیں اور معاشی آزادی انفرادی آزادی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ آپ اگر فیس بک سے عورت کو جنسی تشفی اور انفرادی آزادی بہم پہنچانے لگیں گے تو ذلت اور رسوائی ہی اس بے چاری کا مقدر بنے گی۔

لبرل صاحبان اپنی سطحیت پر قائم رہے تو میں نے چند سوال اٹھائے کہ جناب آج تو چلیے عورت گھٹن کا شکار ہے، مرد عذاب بنا ہوا ہے، روایتوں کے چنگل نے اس کی تخلیقی صلاحیت پر قدغن لگائی ہوئی ہے، سماجی گھٹن اس کے گلے پڑی ہوئی ہے لیکن یہ تو فرمائیے کہ دنیا میں کوئی مزاح نگار خاتون پیدا کیوں نہیں ہوئی؟ کوئی فلسفی کیوں نہیں بنی؟ کوئی تھیورسٹ کیوں نہیں بن سکی حتٰی کہ اپنے کھیل تک نہیں بنا سکی۔ یقین کیجیے پچھلے دو ماہ سے ایک بڑا شعر ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں کسی خاتون شاعر کا لیکن ناکام ہوں۔

مجال ہے کوئی شاعرہ مرد کی نظر التفات سے، اس کے جذباتی غلبہ سے، اس کی بے وفائی سے، اس کی محبت کے جبر سے آزاد ہو سکے۔ لبرل حضرات نے ایک بھی بڑا شعر پیش نہیں کیا، ایک بھی فلسفی عورت کا نہیں بتایا۔ کچھ لوگوں نے سٹاپو کے کھیل کو عورت کی دریافت کہا اور چند لوگوں نے گالم گلوچ کے بعد کچھ شارحین فلسفہ کا نام لیا جو کہ خواتین تھیں۔ تھیورسٹ وہ ہوتا ہے جس کا نظریہ زندگی کی ایک نئی تشریح کرے۔ کچھ لوگوں نے سقراط کی چند استانیوں کا نام بھی لیا لیکن سوال بدستور ہے کہ کارل مارکس، فرائیڈ، یونگ، ڈارون، نٹشے، شوپنہار، ہولباخ، ہیوم، سپینوزا، کانٹ، ہیگل، کوپرنیکس، نیوٹن اور آئن اسٹائن کی طرح عورت زندگی کی ایک نئے زاویے سے تشریح کیوں نہیں کر سکی۔

جیسا کہ فیمینسٹ کہتے ہیں کہ عورت مرد سے ایک مختلف نوع ہے تو اسے ہزاروں برسوں میں اپنی الگ شناخت بنانی چاہیے تھی۔ اس کے اپنے کھیل ہوتے، اپنا ادب ہوتا لیکن بدقسمتی سے عورت نے مرد کے بنائے ہوئے اداب کھیل، فلسفہ، روایات اور فنون لطیف میں اپنائے اور اسی میں رہتے ہوئے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یوں بنائی کہ عورت نے عورت سے کشتی لڑنی شروع کر دی۔ لبرلز نے کہنا شروع کر دیا کہ عورت کیا نہیں کرسکتی اور اس ایک بات نے کبھی اسے مرد کی بنائی ہوئی دنیا سے نکلنے نہیں دیا۔

محترمہ تنویر جہاں نے لکھا کہ انہیں میرے ایسے خیالات سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے فیس بک پر بہت شفقت سے کام لیا اور مجھے یقین ہے کہ غائبانہ طور پر انہوں نے مجھے بہت برا بھلا کہا ہو گا۔ یہ بھی کہا ہو گا کہ میں کسی مولوی کے ہتھے چڑھ گیا ہوں اور کمزور مارکسی نظریات کی وجہ سے اسلام پسندی کی طرف راغب ہو گیا ہوں یا یہ کہ احمد جاوید صاحب کی عقیدت میں بہہ گیا ہوں وغیرہ وغیرہ۔

مقدمہ صرف یہ ہے کہ تمام لبرلز تنویر جہاں، اشفاق سلیم مرزا یا وجاہت مسعود جیسے نہیں ہوتے جو انسان کے اعلیٰ اور ارفع خیالات کی آبیاری کو پہلا حق گردانتے ہیں۔ میرا اختلاف ان لبرلز سے ہے جنہوں نے عورت کو یہ ترغیب نہیں دی کہ وہ سوشل میڈیا کے اس دور میں خود کو ساری دنیا کے ساتھ جوڑ کر منوائے۔ مرد کے معاشرے میں اگر اس کی نفسیات ایک قدم پیچھے چلنے کی تھی تو آگے بڑھ کر جھپٹ لے یہ لیڈری اس سے اور ایسا نظام، سلسلہ روز و شب اور فن و کمال کا اظہار کرے کہ مرد منہ میں انگلیاں داب لے۔ اگر وہ جون آف آرک، ہیلن کیلر، روتھ فاؤ، روزا لکسمبرگ، روزا پارکس، جینی مارکس، فلورنس نائٹ انگیل بن سکتی ہے تو آپ اسے ہر چوپائے اور چرند پرند کی طرح جنسی لذتیں کشید کرنے تک محدود کیوں کرتے ہیں۔

ایک زمانے میں عورتیں مرد کے عضو تناسل گردن میں ڈال کر بازاروں میں گھوما کرتی تھیں اور لگتا ہے یہ لبرلز آج بھی اسے کسی ایسی ہی عقیدت کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ میرا ماننا یہ ہے کہ انسان کا مرتبہ یہ ہے کہ وہ ارفع ترین خیالات پیش کر سکے اور دنیا میں اپنا ہونا علم و فن سے ثابت کرے۔ جنس اور بھوک کا مسئلہ زیادہ تو کتے بلی میں بھی ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی ٹھکانہ بھی مل ہی جاتا ہے لیکن آپ نے عورت کو آزادی دلانے کے نام پر ہوس کی ماری ایک جنس بنا کر رکھ دیا ہے اور افسوس یہ ہے کہ عورت نے خود بھی اس تعلیم کو اپنے لیے احساس سمجھنا شروع کر دیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2