پروفیسر حسیب خان اردو کی کمر میں خنجر بھونکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم جیسے اپنے تئیں مزاح نگار بنے لوگوں کی کئی مرتبہ صاحبان علم کے ہاتھوں بڑی گرفت ہو جاتی ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہم نے ایک مضمون بعنوان ’میاں خوجی فحاشی پکڑتے ہیں‘ شائع کیا۔ اجی سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ ہماری حماقت تھی یا خوش قسمتی لیکن بہرحال پروفیسر مولانا حسیب خان کی نگاہ اس پر پڑ گئی اور وہ بہت خفا ہوئے۔ پروفیسر بڑے آدمی ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق وہ پہلوان سخن استاد امام بخش ناسخ اور استاد قمر جلالوی کے شاگردین کی صف میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے استاد اعجاز رحمانی صاحب، استاد قمر جلالوی کے شاگرد تھے جو کہ ان کے بیان کے مطابق پہلوان سخن امام بخش ناسخ کے سلسلے کے خلیفہ تھے۔ پروفیسر صاحب حق بیان کرتے ہوئے گھبراتے نہِیں ہیں، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بتا دیتے ہیں کہ پہلوان سخن ناسخ، میر و غالب کی صف میں آتے ہیں اور گو وہ ازراہ انکساری زبان سے کہتے نہیں ہیں مگر ہم ان کو بھی داغ ہی جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہوں گے تو درست ہی کہتے ہوں گے، ممکن ہے کہ ناسخ کو کبھی جامع مسجد دہلی میں ان دو عظیم شعرا کی صف میں ہی نماز عید ادا کرنے کا اتفاق ہوا ہو۔

بہرحال بات ہو رہی تھی ان کی گرفت کی۔ تو ہمارا مضمون پڑھ کر انہوں نے کمر کسی، گھوڑا باندھا اور کود پڑے اوریا مقبول جان کے دفاع میں ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کو۔ ہمارے متعلق لکھتے ہیں کہ

تو دوسرے صاحب مزاح نگاری کی مشق فرماتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ’میاں خوجی فحاشی پکڑتے ہیں‘۔

موصوف اوریا مقبول جان صاحب کے فرضی کردار کو جاہل گنواروں سے الجھتے مجمع میں مذاق بنتے اور ایک رانڈ کے ہاتھ مار کھانے کی منظر کشی کرتے دکھائی دیتے ہیں خوبصورت الفاظ کا گلدستہ ملاحظہ کیجئے۔

’کسان کی جورو تو تو ٹھونک ٹھانک، اور پیٹ پاٹ کر چل دی، آپ نے پکارنا شروع کر دیا۔ قسم بابا جان کی جو کہیں قرولی پاس ہوتی تو ان دونوں کی لاش اس وقت پھڑکتی ہوتی۔ وہ تو کہیے خدا کو اچھا کرنا منظور تھا کہ میں اپنے زعم میں آپ نیچے آ رہا ورنہ اتنی قرولیاں بھونکتا کہ عمر بھر یاد کرتے۔ ہات ترے کی۔ نابکار لعین۔ کھڑا تو رہ او گیدی دوزخی۔ اس پر گاؤں والوں نے خوب قہقہہ اڑایا اور اتنا بنایا کہ میاں خوجی سب کو گالیاں دینے لگے۔ او گیدی تم سب پر میں بھاری ہوں، پرے کے پرے صاف کر دوں، وہ تو کہیے قرولی نہ ہوئی۔ ایک نے پوچھا کیوں میاں صاحب، قرولی ہوتی تو کیا بھونک کر مر جاتے، یا اپنے پیٹ میں لگاتے، آخر نتیجہ کیا ہوتا؟ کیوں ایک رانڈ سے مار کھائی؟‘

عجیب بات ہے اخلاقیات کا درس دینے والے اگلے کو ’بھونکتا‘ کہ کر کون سی اخلاقیات نباہتے دکھائی دیتے ہیں۔

بخدا پڑھ کر لطف ہی آ گیا۔ آخری فقرہ تو غضب کا تھا کہ ’’اخلاقیات کا درس دینے والے اگلے کو ’بھونکتا‘ کہہ کر کون سی اخلاقیات نباہتے دکھائی دیتے ہیں‘‘۔ واللہ استاد قمر جلالوی سے لے کر استاد امام بخش ناسخ تک اپنے سلسلے کے اس خلیفہ وقت کا یہ حکم پڑھ کر اپنی اپنی قبر پھاڑ کر ایک مرتبہ تو باہر ہی نکلے آئے ہوں گے اور استاد اعجاز رحمانی تڑپ اٹھے ہوں گے کہ ابھی تک وہ کیوں اس جہان فانی میں ایسے شعرا کے استاد بنے ہوئے ہیں جو کہ اپنے فن کے خاتم ہو چکے ہیں۔  عالم بالا میں استاد قمر جلالوی اب پروفیسر صاحب کو دیکھ کر بس یہی شعر پڑھ رہے ہوں گے

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

بہرحال پروفیسر حسیب خان کا یہ تبصرہ پڑھ کر لطف آ گیا۔ آج تک کسی نے ہمیں ایسی داد نہیں دی تھی کہ اسے اردو کے پہلے ناولسٹ اور عظیم ادیب رتن ناتھ سرشار کے الفاظ پر ہمارے الفاظ ہونے کا یقین ہو۔ اور خوجی جیسا اردو ادب کا عظیم ترین کردار ہماری ایجاد بنانے پر بندہ پروفیسر صاحب کا جتنا بھی شکرگزار ہو وہ کم ہے۔ خدا جانے اگر پروفیسر صاحب کو ’فسانہ آزاد‘ پڑھنے کا اتفاق ہو جاتا، تو ہمارے ادبی رتبے کو وہ کہاں تک بلند کر دیتے۔ ایسے پروفیسر ہی ہمارے تعلیمی شعبے کو اس عظمت تک پہنچانے کا باعث ہیں جس کا ہم اکثر سامنا کرتے ہیں۔ بہرحال پروفیسر صاحب کی تحسین سے لگتا ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ خواجہ بدیع الزمان خوجی کا کردار اٹھارہ سو کچھ میں محض کشف کے زور پر اوریا مقبول جان صاحب کو دیکھ کر تراشا گیا تھا۔ دل میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر فسانہ آزاد سے اگلا اقتباس دے دیا، تو کہیں دگلے والی پلٹن کے کمیدان خواجہ بدیع الزمان خوجی میں حضرت اوریا مقبول جان کی مشابہت تلاش کرنے والے پروفیسر صاحب، خودی کو بلند کرتے ہوئے اپنے آپ کو صف شکن ہی قرار نہ دے دیں۔

لیکن ہم جب سوچنے بیٹھے تو دل تھم تھم کر رہ گیا۔ فرض کریں کہ پروفیسر نے کبھی سعادت حسن منٹو کا ’آؤ اخبار پڑھیں‘ پڑھ لیا تو وہ اپنی کلاس کے ننھے منے معصوم بچوں کو کیا بتائیں گے۔

’نرائن: وہ کیسے؟ فرض کر لیا جائے کہ ہم یعنی میں بھابی اور تم تین ملک ہیں۔ الگ الگ لیکن ہماری سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اب بھابی جان کے پاس لوہے کا ایک کروشیا ہے اور تمہیں ڈر ہے کہ کسی روز منے کا بب بُنتے بُنتے اگر یہ بگڑ گئیں تو کروشیا تمہارے پیٹ میں بھونک دیں گی، اس کا فیصلہ کیا ہو گا؟‘۔

پروفیسر: بچو یہ منٹو پنجاب سے تعلق رکھتا تھا۔ زبان سے تو سکھ ہی لگتا ہے۔ اسی لیے یہ سوچتا ہے کہ کروشیا، جو ایک قسم کا سوا ہوتا ہے، کسی کے پیٹ پر رکھ دیا جائے تو وہ کروشیا کتے کی طرح بھونکنے لگتا ہے۔

یا منٹو کا ہی ’قلوپطرہ کی موت‘ پڑھ لیتے تو کتنا حیران ہوتے۔

’لیکن قلو پطرہ کو ،معلوم نہ تھا کہ اس کی یہ چال اس کے عاشق پر بہت مہلک اثر کرئے گی۔ انطونی دل میں بہت شرمندہ ہوا کہ ایک عورت کی محبت اس سے بڑھ گئی۔ چنانچہ جوش میں آکر اس نے اپنے سینے میں تلوار بھونک لی‘۔

پروفیسر: یہ کتابت کی غلطی ہے میرے بچو۔ یہ تلوار ہے یا کتا جو بھونکنے لگا ہے۔ تلوار لہراتی ہے۔ تلوار چمچماتی ہے۔ لیکن تلوار کبھی بھی بھونکتی نہیں ہے۔ یہ منٹو ایک گمراہ اور جاہل ادیب ہے جو اردو نہیں جانتا۔ اس جاہل کو چھوڑ کر ہم مولانا عبدالحلیم شرر کو پڑھتے ہیں۔ وہ زبان سے خوب واقف ہیں۔

عبدالحلیم شرر اپنے مضمون ’ہندوستان کے بانکے‘ میں لکھتے ہیں کہ

’اس سے زیادہ قیامت یہ تھی کہ ان لوگوں کا تبختُر، ان کا فخر و ناز، ان کی چال ڈھال، ان کی وضع قطع اور ان کے مخصوص شعار سب چیزوں کی یہ حالت تھی کہ دیکھتے ہی انسان کو بے اختیار ہنسی آجائے، مگر کس کی مجال تھی کہ اُن کی طرف دیکھ کے مُسکرا بھی دے۔ انہوں نے کسی کو جھوٹوں بھی مسکراتے دیکھا اور قرابنچے پر ہاتھ جا پڑا۔ پھر اُس وقت اگر کوئی ایسے ہی بُردبار بانکے ہوئے تو اُسے خوشامد درآمد کرکے عفوِ تقصیر کا موقع بھی ملا ورنہ بلاتامل قرابنچہ بھونک دیا اور اپنی راہ لی‘۔

پروفیسر: آہ، یہ کتاب لاہور میں چھپی ہوئی ہے۔ ورنہ قرابینچے کو کتوں کی طرح بھونکنے پر مجبور کیوں کیا جاتا؟ چلو چھوڑو اس ادب کو۔ اب اسلامیات کا وقت ہے۔ مشہور میگزین محدث پڑھتے ہیں۔ اس میں مولانا محمد یوسف خان نے سنہ اکہتر میں اسرائیل کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ مولانا تو بہت بڑے عالم ہیں اور ان کی زبان بہت شستہ ہے۔ وہ ان نوٹنکی بازوں جیسے نہیں ہیں۔ تو مولانا یوسف اپنے مضمون ’عالم اسلام کا اتحاد اور استعماری طاقتوں کے جال‘ میں رقم طراز ہیں کہ

’انہیں دشمن اسلام طاقتوں نے اسلام کے قلب میں اسرائیل کا خنجر بھونک دیا ہے جس سے عالمِ اسلام دو ٹکڑے ہو گیا ہے‘۔

پروفیسر: بچو تم سمجھ ہی گئے ہو گے کہ مولانا صیہونی اسرائیلیوں کے فلسطینیوں پر دشنام طرازی کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈا کرنے کو بھونکنا کہہ رہے ہیں۔ یہ ہوتا ہے بھونکنا کا درست استعمال۔ اب ہم شاعری پڑھتے ہیں۔ امروہے کے مشہور شاعر جون ایلیا کا ایک شعر ہے،

مرے پاس آ کے خنجر بھونک دے تو

پروفیسر: یہ شاعرانہ تعلی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ خنجر بھی جب ناحق کسی عاشق کا سینہ چاک کرتا ہے تو کتے کی طرح بھونکنے لگتا ہے۔ بہرحال یہ جون ایلیا شاید کراچی میں اتنا رہ کر ایسی تشبیہات استعمال کرنے لگے تھے۔ ہماری گلی میں جب کتے بھونکنے لگتے ہیں تو ہمارا بھی یہی گمان ہوتا ہے کہ ہمارے چھری کانٹے میز کرسی تک بھونک رہے ہیں۔ کراچی کا تو مریل سے مریل کتا بھی ایسی بلند آواز میں بھونکتا ہے جیسے اس نے لاؤڈ سپیکر لگوا رکھا ہو۔ ان جدید شاعروں کو چھوڑ کر کلاسیکی شعرا کو پڑھتے ہیں۔ آرزو لکھنوی کا شعر ہے

کہنا پتے پتے کی اور نام پھر ہنسی کا
چھریاں نہ بھونک دل میں میٹھی زبان والے

پروفیسر: کمال ہے۔ یہ آرزو صاحب بھی کسی ہمارے جیسے محلے میں ہی رہتے ہوں گے۔ ہماری میز کرسیاں بھونکتی معلوم ہوتی ہیں تو ان کی چھریاں بھونکتی ہیں۔

پروفیسر کا لیکچر ختم ہوا۔ ہم تو بس پروفیسر صاحب سے یہی عرض کرتے ہیں کہ رتن ناتھ سرشار، منٹو، عبدالحلیم شرر، مولانا یوسف، جون ایلیا، آرزو لکھنوی اور خاکسار پر ناراض ہونے کی بجائے لغت اٹھا کر دیکھ لیں کہ بھونکنا اردو میں کسے کہتے ہیں۔ کئی مرتبہ جو شے بڑے بڑے استاد بشمول پہلوان سخن استاد امام بخش ناسخ اور ان کے پٹھے بھی نہیں بتا پاتے ہیں، وہ لغت میں لکھی نظر آ جاتی ہے۔ ہم پروفیسر صاحب کو اخلاقیات کا درس تو نہیں دیتے ہیں، مگر اردو سیکھنے اور کسی لفظ کا مطلب جان کر اس پر تبصرہ کرنے کا درس ضرور دیتے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ میں بھونکنا کا مطلب کچھ یوں درج ہے۔

بھونکنا: فعل متعدی۔ کسی نوکدار چیز کو کسی جسم کے اندر گھسانا۔ چبھونا۔ فارسی میں خلانیدن۔ گنوار اسے گھوپنا (گھونپنا) کہتے ہیں۔

بہرحال ہم تو پروفیسر کی تعریف ہی کریں گے۔ جس طرح سے انہوں نے قرولی (خنجر) کو کتے کی طرح بھونکنے پر مجبور کر دیا ہے، وہ انہی کا کمال ہے۔ اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ انہوں نے ایک منصف ہونے کا حق ادا کیا ہے، یعنی فیصلہ سنانے سے پہلے اس معاملے میں غیر جانبدار رہنے کی خاطر نہ تو اردو شاعری پڑھی ہے اور نہ ہی اردو ادب۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

7 thoughts on “پروفیسر حسیب خان اردو کی کمر میں خنجر بھونکتے ہیں

  • 02/07/2016 at 8:02 pm
    Permalink

    اس بات پر تو تحسین کی جانی چاہیے کہ کسان کی جو جورو ٹھونک ٹھانک کر چل دی تھی اس پر توجہ نہ کی ورنہ اسی تفتیش کے دوران آپ کوفحاشی کی ترویج میں دھر لیا جاتا

  • 03/07/2016 at 2:49 am
    Permalink

    کہ ہم نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی …. !

    گزشتہ کئی دنوں سے جاری اشتہاری جنگ کی ہما ہمی میں داہنے و باہنے ہر دو گروہ واضح تقسیم ہوۓ چلے جاتے ہیں ایک طوفان بد تمیزی ہے کہ امڈا چلا آوے ہے اور لعن طعن کا بازار گرم ہے ..

    اس حسین ماحول میں کہ جب ” اوریانیت ” و عریانیت مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں خادم نے ایک مضمون بنام

    کیری نیشن Carrie Nation سے اوریانیت Decency تک .

    https://www.facebook.com/Bhaihasib1/posts/1807007356201013

    لکھنے کی جسارت کی اور یہ جسارت مہنگی پڑی مذکورہ بلا مضمون کچھ نازک طبیعتوں پر گراں گزرا تضحیک و مزاح کے فرق کو واضح کرتے ہوۓ یار ” خار ” محترم جناب عدنان خان کاکڑ کی تحریر ” میاں خوجی فحاشی پکڑتے ہیں ” کا حوالہ دے بیٹھا اور زبان و بیان کے اعتبار سے ایک فحش غلطی بھی ہوئی حضرت نے تنبیہ اس طور فرمائی کہ ایک عالی شان مضمون لکھ مارا …

    اجی غلطی کس سے نہ ہووے ہے اور آدمیت کی شان ہی غلطی کے ہونے میں ہے تو ہمیں اپنی غلطی قبول موصوف نے زور بیان میں نا چیز کو لیکچرار سے پروفیسر بھی بنا دیا نوازش جناب من کہ کبھی کسی کی کہی ہوئی بات قبولیت کا درجہ بھی پا لیتی ہے ساتھ ہی ساتھ عالم دین ہونے کی سند بھی بلا معاوضہ عطا فرمائی سو بسر وچشم قبول کہ مفت ہاتھ آوے تو برا کیا ہے .

    کہتے ہیں صاحبان علم و ادب سے کبھی ایسی غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں کہ جو انکے شایان شان نہیں ہوتیں یہ غلطیاں ادبی بھی ہوتی ہیں اور علمی بھی اعتقادی بھی ہوتی ہیں اور فکری بھی .

    ڈاکٹر محسن عثمانی ،اردو بک ریویو دہلی​
    خبر جدید ،

    اپنے مقالے ” آتی ہے اردو آتے آتے ”

    میں لکھتے ہیں …

    ” جوش ملیح آبادی کا شمار ان ماہرِ فن شعرا میں ہوتا تھا جنہیں زبان و بیان کی صحت پر مکمل دسترس حاصل تھی اور جن کا فرمایا ہوا ایک ایک لفظ مستند سمجھا جاتا تھا۔ ایک بار جگن ناتھ آزاد اُن کی مجلس میں آئے اور بعد تسلیم انہوں نے دریافت کیا کہ ’’آپ کے مزاج بخیر ہیں؟‘‘ مجلس کے اختتام پر جگن ناتھ آزاد نے جوشؔ صاحب سے ان کی مہارت زبان کا اعتراف کرتے ہوئے التماس کیا کہ اگر وہ کوئی غلطی ان کی زبان میں دیکھیں تو بے تکلف آگاہ کردیا کریں۔ جوش صاحب نے جواب دیا کہ ’’میاں یہ بات لوگ کہہ تو یتے ہیں لیکن ٹوکنے پر برا بھی مانتے ہیں۔‘‘ جگن ناتھ آزاد نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ہرگز برا نہیں مانیں گے بلکہ شکر گزار ہوں گے۔ تب جوش صاحب نے کہا کہ دیکھئے ابھی آپ نے آتے ہی پوچھا تھا۔ مزاج بخیر ہیں؟ یہ لفظ مزاج اگرچہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے لیکن اس کا منفرد استعمال ہی درست ہے۔ یوں پوچھنا چاہئے تھا آپ کا مزاج بخیر ہے؟ اس واقعہ کے بہت دنوں کے بعد جگن ناتھ آزاد پھر جوش صاحب کے یہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ پروفیسر آل احمد سرور تشریف لائے اور آتے ہی انہوں نے جوش صاحب سے سوال کیا۔ ’’آپ کے مزاج بخیر ہیں؟‘‘ بعد میں جب پروفیسر آل احمد سرور گفتگو کرنے کے بعد واپس چلے گئے، جگن ناتھ آزاد نے جوش سے کہا ’’دیکھئے یہ اتنے بڑے پروفیسر ہیں اور یہ بھی ’مزاج بخیر ہیں‘ بولتے ہیں۔‘‘ جوش نے ہنس کر کہا کہ میاں آج کل اردو کے پروفیسروں کو اردو کہاںآتی ہے۔ یہ قصہ خود جگن ناتھ آزاد نے اپنے مضمون میں لکھا تھا جو ’’ہماری زبان‘‘ دہلی میں شائع ہوا تھا۔ ”

    آگے خود جوش کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں

    سید مسعود حسین ادیب مرحوم مشہور ادیب اور زبان داں تھے۔ لفظوں کے بالکل درست مفہوم اور ان کے دروبست پر ان کی نظر بہت گہری تھی۔ کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان لکھتے تھے۔ ڈاکٹر محمد حسن نے اپنے ایک مضمون میں ان کا واقعہ لکھا ہے کہ جوش ملیح آبادی نے اپنی ایک مشہور نظم پڑھی جس کا ٹیپ کا مصرع تھا:

    رواں دواں بڑھے چلو، رواں دواں بڑھے چلو

    جوش کو کلام پر خوب خوب داد مل رہی تھی۔ جلسے کے بعد مسعود صاحب نے بڑی شائستگی سے جوش سے کہا۔ ’’جوش صاحب آپ جب یہ نظم شائع کریں تو یہ نوٹ ضرور دے دیں کہ ’رواں دواں‘ کا لفظ لغوی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، محاورے کے اعتبار سے نہیں۔‘‘ جوش صاحب چوکنا ہوگئے اور پوچھا کہ محاورہ کے اعتبار سے اس کا کیا مفہوم ہے؟ مسعود صاحب نے بتایا کہ رواں دواں کا محاورہ کے اعتبار سے وہ مفہوم ہے جو صفی لکھنوی نے یتیموں کے بارے میں اپنی نظم میں ادا کیا ہے:

    ’’رواں دواں ہیں، غریب الدیار ہیں ہم لوگ‘‘​

    رواں دواں یعنی مارے مارے پھرنے والے بے سہارا لوگ۔ جوش صاحب لفظوں کے اسرار و رموز سے آگاہ تھے پھر بھی ایک غلطی ان سے سرزد ہو ہی گئی ۔ محاورے کے اعتبار سے ان کے مصرع کا مطلب یہ ہوگیا کہ ’’مارے مارے پھرنے والے بے سہارا لوگوں کی طرح بس چلتے رہو۔‘‘

    سو جناب میں سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آوے

    مگر غور کیجئے کہ اصل مقدمہ تو اپنی جگہ قائم ہے کیا آپکے تخلیقی فن پارے میں انتہائی تضحیک آمیز الفاظ شامل نہیں کچھ نمونے خود ملاحظہ فرمائیں …

    ایک جگہ لکھتے ہیں

    ” خواجہ بدیع الزماں کے نام سے تو آپ خوب واقف ہیں۔ بے تکلف دوست اور راہ چلتے انہیں خوجی کے نام سے پکارتے ہیں۔ ٹینی مرغے کے برابر قد پایا ہے”

    اجی اب اگر کوئی آپ کی جسمانی ہیت کے حوالے سے معیوب قسم کی کوئی پھبتی کس دیوے کہ جو آپکے کسی عیب کی جانب اشارہ کرتی ہو تو کیا کچھ غلط نہ ہووے گا … ؟

    آگے فرماتے ہیں ” اس نے قہقہہ اڑا کر کہا کہ ‘اب ہٹو بھی آئے وہاں سے بڑے اقبال مند ہو کر۔ واہ کیا اقبال ہے۔ صورت سے تو پھٹکار برستی ہے، اقبال والے بنے ہیں’۔ خوجی دانت پیس کر رہ گئے اور بولے کہ ‘بس اب چلی جاؤ۔ نہ ہوئی جوانی ورنہ کھود کر اسی جگہ دفنا دیتا’۔

    میاں کسی کی صورت پر پھٹکار برسوا دینا بھی شاید ادب عالیہ اور مزاح نگاری کی عالی شان مثال ہوگا اب اگر ہم اسے پھکڑ پن کہیں تو کیا کچھ غلط ہو جاوے گا .

    اجی نفس مضمون پر بھی کچھ گفتگو فرما لیتے کہ جدید میڈیائی دنگل میں کون کون سے اوچھے ہتھیار آزماۓ جاوے ہیں اور کس کس انداز میں صارف کو چونا لگایا جاتا ہے اور کس خوبصورتی سے اس خوبصورت عمل میں مستورات کو مکشوفات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ضرور ملاحظہ کیجئے ..

    ویسے اوریا کو چند سیکنڈ کی بے حجابی میں عریانیت دکھائی دی

    اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم دوسری نظر کو حرام فرما رہے کچھ غور کیجئے .

    حسیب احمد حسیب .

  • 03/07/2016 at 1:40 pm
    Permalink

    حسیب خان صاحب ابھی تک رتن ناتھ سرشار اور خاکسار کے الفاظ میں فرق نہیں سمجھ پائے.

    بھیا حسیب. کوئی چوتھی مرتبہ عرض کر رہا ہوں کہ یہ رتن ناتھ آزاد کے امر ناول فسانہ آزاد سے اقتباس ہے. یہ اس عاجز کے الفاظ نہیں ہیں جن کو آپ پھکڑ پن قرار دے رہے ہیں بلکہ اردو کی ایک مایہ ناز تصنیف سے اقتباس ہے.

    لگتا ہے کہ آپ ابھی تک جنرل ضیاء الحق کے پیروکار ہیں.

    جنرل صاحب کو طلسم ہوش ربا میں فحاشی دکھائی دیتی تھی اور آپ کو فسانہ آزاد میں.

    سو سوا سو سال میں کسی نقاد کو فسانہ آزاد میں وہ پھکڑ پن دکھائی نہ دیا جو آپ کو دکھائی دے رہا ہے.

    یوسفی نے درست ہی فرمایا ہے کہ آدمی ایک مرتبہ پروفیسر ہو جائے تو پھر وہ ساری زندگی پروفیسر ہی رہتا ہے خواہ بعد میں عقل کی باتیں کیوں نہ کرنے لگے.

    ویسے اوریا مقبول جان صاحب میں خوجی کی مشابہت دریافت کرنا اور ان کے طرز کلام میں یہ اندازِ بیاں دیکھنا جس کی آپ نے نشاندہی کی ہے، ہم جیسے آپ کے محبین کو تو بجز آپ کی صائب رائے کے اور کچھ معلوم نہ ہو گا.

  • 03/07/2016 at 3:07 pm
    Permalink

    حسیب صاحب نے جو مصرع درج کیا ہے وہ درست نہیں۔ اختر شیرانی کا شعر کچھ اس طرح ہے:
    چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکے دیے مجھ کو
    کہ میں نے شوق مے نوشی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
    اوریا ایسے صاحب کرامت ہیں کہ ان کا دفاع کرتے ہوئے اچھے بھلے شخص کا بھی حال خراب ہو جاتا ہے۔

  • 03/07/2016 at 6:08 pm
    Permalink

    یوں لگتا ہے کہ سرشار نے فسانہ آزاد اسی لیے تصنیف کیا تھا کہ کاکڑ صاحب اپنا کالم نویسی کا شوق اسی کتاب سے مسعتار واقعات و کردار سے پورا فرماتے رہیں۔ یا تو خوجی ان کے کسی رقیب سے ملتا جلتا ہے یا کاکڑ صاحب جس طرح مغلوب الغضب واقع ہوئے ہیں تو اس کردار کی حرکتوں سے ان کا بھی کچھ کتھارسس ہوجاتا ہے اور آخرش یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کاکڑ صاحب کی جملہ دکھ درد کی دوا فسانہ آزاد ہی بن گیا ہو اور وہ جہاں اوریا یا ہم خیالان اوریا کا نام سنتے ہوں، خوجی کی طرح پکارتے ہوں، ارے “غنچہ” لانا تو فسانہ آزاد کی تیسری جلد میں لوں خبراس کی۔ دگلے والی پلٹن کی فٹن پر چڑھنے کے بعد اب ان کا اترنے کو جی ہی نہ چاہے لیکن حضرت اب مارکیٹ میں بھی اور آن لائن بھی، فسانہ آزاد کے علاوہ طلسم ہوش ربا بلکہ پوری داستان امیر حمزہ ، بوستان خیال اور الف لیلہ بھی دستیاب ہیں اب ان پر بھی ہاتھ صاف کیجے۔ ایک عدد افراسیاب باغ سیب میں آپ کی راہ تک رہا ہے۔
    ساجد علی صاحب غلطی پر آپ ہیں۔ حسیب صاحب نے درست(ہم کی تبدیلی کے ساتھ) مصرع لکھا ہے پورا شعر سیماب اکبر آبادی کا یہ ہے
    یہ کس نے شاخ گل لا کرقریب آشیاں رکھ دی
    کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
    اب حال کس کا خراب ہوا ہے شوق دفاع عریانیت میں اس کا فیصلہ خود ہی کر لیجیے۔

  • 03/07/2016 at 8:20 pm
    Permalink

    boht zabardast g khuub likha k dil moh lia hai. Keep it up

Leave a Reply