پروفیسر حسیب خان اردو کی کمر میں خنجر بھونکتے ہیں


ہم جیسے اپنے تئیں مزاح نگار بنے لوگوں کی کئی مرتبہ صاحبان علم کے ہاتھوں بڑی گرفت ہو جاتی ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہم نے ایک مضمون بعنوان ’میاں خوجی فحاشی پکڑتے ہیں‘ شائع کیا۔ اجی سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ ہماری حماقت تھی یا خوش قسمتی لیکن بہرحال پروفیسر مولانا حسیب خان کی نگاہ اس پر پڑ گئی اور وہ بہت خفا ہوئے۔ پروفیسر بڑے آدمی ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق وہ پہلوان سخن استاد امام بخش ناسخ اور استاد قمر جلالوی کے شاگردین کی صف میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے استاد اعجاز رحمانی صاحب، استاد قمر جلالوی کے شاگرد تھے جو کہ ان کے بیان کے مطابق پہلوان سخن امام بخش ناسخ کے سلسلے کے خلیفہ تھے۔ پروفیسر صاحب حق بیان کرتے ہوئے گھبراتے نہِیں ہیں، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بتا دیتے ہیں کہ پہلوان سخن ناسخ، میر و غالب کی صف میں آتے ہیں اور گو وہ ازراہ انکساری زبان سے کہتے نہیں ہیں مگر ہم ان کو بھی داغ ہی جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہوں گے تو درست ہی کہتے ہوں گے، ممکن ہے کہ ناسخ کو کبھی جامع مسجد دہلی میں ان دو عظیم شعرا کی صف میں ہی نماز عید ادا کرنے کا اتفاق ہوا ہو۔

بہرحال بات ہو رہی تھی ان کی گرفت کی۔ تو ہمارا مضمون پڑھ کر انہوں نے کمر کسی، گھوڑا باندھا اور کود پڑے اوریا مقبول جان کے دفاع میں ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کو۔ ہمارے متعلق لکھتے ہیں کہ

تو دوسرے صاحب مزاح نگاری کی مشق فرماتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ’میاں خوجی فحاشی پکڑتے ہیں‘۔

موصوف اوریا مقبول جان صاحب کے فرضی کردار کو جاہل گنواروں سے الجھتے مجمع میں مذاق بنتے اور ایک رانڈ کے ہاتھ مار کھانے کی منظر کشی کرتے دکھائی دیتے ہیں خوبصورت الفاظ کا گلدستہ ملاحظہ کیجئے۔

’کسان کی جورو تو تو ٹھونک ٹھانک، اور پیٹ پاٹ کر چل دی، آپ نے پکارنا شروع کر دیا۔ قسم بابا جان کی جو کہیں قرولی پاس ہوتی تو ان دونوں کی لاش اس وقت پھڑکتی ہوتی۔ وہ تو کہیے خدا کو اچھا کرنا منظور تھا کہ میں اپنے زعم میں آپ نیچے آ رہا ورنہ اتنی قرولیاں بھونکتا کہ عمر بھر یاد کرتے۔ ہات ترے کی۔ نابکار لعین۔ کھڑا تو رہ او گیدی دوزخی۔ اس پر گاؤں والوں نے خوب قہقہہ اڑایا اور اتنا بنایا کہ میاں خوجی سب کو گالیاں دینے لگے۔ او گیدی تم سب پر میں بھاری ہوں، پرے کے پرے صاف کر دوں، وہ تو کہیے قرولی نہ ہوئی۔ ایک نے پوچھا کیوں میاں صاحب، قرولی ہوتی تو کیا بھونک کر مر جاتے، یا اپنے پیٹ میں لگاتے، آخر نتیجہ کیا ہوتا؟ کیوں ایک رانڈ سے مار کھائی؟‘

عجیب بات ہے اخلاقیات کا درس دینے والے اگلے کو ’بھونکتا‘ کہ کر کون سی اخلاقیات نباہتے دکھائی دیتے ہیں۔

بخدا پڑھ کر لطف ہی آ گیا۔ آخری فقرہ تو غضب کا تھا کہ ’’اخلاقیات کا درس دینے والے اگلے کو ’بھونکتا‘ کہہ کر کون سی اخلاقیات نباہتے دکھائی دیتے ہیں‘‘۔ واللہ استاد قمر جلالوی سے لے کر استاد امام بخش ناسخ تک اپنے سلسلے کے اس خلیفہ وقت کا یہ حکم پڑھ کر اپنی اپنی قبر پھاڑ کر ایک مرتبہ تو باہر ہی نکلے آئے ہوں گے اور استاد اعجاز رحمانی تڑپ اٹھے ہوں گے کہ ابھی تک وہ کیوں اس جہان فانی میں ایسے شعرا کے استاد بنے ہوئے ہیں جو کہ اپنے فن کے خاتم ہو چکے ہیں۔  عالم بالا میں استاد قمر جلالوی اب پروفیسر صاحب کو دیکھ کر بس یہی شعر پڑھ رہے ہوں گے

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

بہرحال پروفیسر حسیب خان کا یہ تبصرہ پڑھ کر لطف آ گیا۔ آج تک کسی نے ہمیں ایسی داد نہیں دی تھی کہ اسے اردو کے پہلے ناولسٹ اور عظیم ادیب رتن ناتھ سرشار کے الفاظ پر ہمارے الفاظ ہونے کا یقین ہو۔ اور خوجی جیسا اردو ادب کا عظیم ترین کردار ہماری ایجاد بنانے پر بندہ پروفیسر صاحب کا جتنا بھی شکرگزار ہو وہ کم ہے۔ خدا جانے اگر پروفیسر صاحب کو ’فسانہ آزاد‘ پڑھنے کا اتفاق ہو جاتا، تو ہمارے ادبی رتبے کو وہ کہاں تک بلند کر دیتے۔ ایسے پروفیسر ہی ہمارے تعلیمی شعبے کو اس عظمت تک پہنچانے کا باعث ہیں جس کا ہم اکثر سامنا کرتے ہیں۔ بہرحال پروفیسر صاحب کی تحسین سے لگتا ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ خواجہ بدیع الزمان خوجی کا کردار اٹھارہ سو کچھ میں محض کشف کے زور پر اوریا مقبول جان صاحب کو دیکھ کر تراشا گیا تھا۔ دل میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر فسانہ آزاد سے اگلا اقتباس دے دیا، تو کہیں دگلے والی پلٹن کے کمیدان خواجہ بدیع الزمان خوجی میں حضرت اوریا مقبول جان کی مشابہت تلاش کرنے والے پروفیسر صاحب، خودی کو بلند کرتے ہوئے اپنے آپ کو صف شکن ہی قرار نہ دے دیں۔

لیکن ہم جب سوچنے بیٹھے تو دل تھم تھم کر رہ گیا۔ فرض کریں کہ پروفیسر نے کبھی سعادت حسن منٹو کا ’آؤ اخبار پڑھیں‘ پڑھ لیا تو وہ اپنی کلاس کے ننھے منے معصوم بچوں کو کیا بتائیں گے۔

’نرائن: وہ کیسے؟ فرض کر لیا جائے کہ ہم یعنی میں بھابی اور تم تین ملک ہیں۔ الگ الگ لیکن ہماری سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اب بھابی جان کے پاس لوہے کا ایک کروشیا ہے اور تمہیں ڈر ہے کہ کسی روز منے کا بب بُنتے بُنتے اگر یہ بگڑ گئیں تو کروشیا تمہارے پیٹ میں بھونک دیں گی، اس کا فیصلہ کیا ہو گا؟‘۔

پروفیسر: بچو یہ منٹو پنجاب سے تعلق رکھتا تھا۔ زبان سے تو سکھ ہی لگتا ہے۔ اسی لیے یہ سوچتا ہے کہ کروشیا، جو ایک قسم کا سوا ہوتا ہے، کسی کے پیٹ پر رکھ دیا جائے تو وہ کروشیا کتے کی طرح بھونکنے لگتا ہے۔

یا منٹو کا ہی ’قلوپطرہ کی موت‘ پڑھ لیتے تو کتنا حیران ہوتے۔

’لیکن قلو پطرہ کو ،معلوم نہ تھا کہ اس کی یہ چال اس کے عاشق پر بہت مہلک اثر کرئے گی۔ انطونی دل میں بہت شرمندہ ہوا کہ ایک عورت کی محبت اس سے بڑھ گئی۔ چنانچہ جوش میں آکر اس نے اپنے سینے میں تلوار بھونک لی‘۔

پروفیسر: یہ کتابت کی غلطی ہے میرے بچو۔ یہ تلوار ہے یا کتا جو بھونکنے لگا ہے۔ تلوار لہراتی ہے۔ تلوار چمچماتی ہے۔ لیکن تلوار کبھی بھی بھونکتی نہیں ہے۔ یہ منٹو ایک گمراہ اور جاہل ادیب ہے جو اردو نہیں جانتا۔ اس جاہل کو چھوڑ کر ہم مولانا عبدالحلیم شرر کو پڑھتے ہیں۔ وہ زبان سے خوب واقف ہیں۔

عبدالحلیم شرر اپنے مضمون ’ہندوستان کے بانکے‘ میں لکھتے ہیں کہ

’اس سے زیادہ قیامت یہ تھی کہ ان لوگوں کا تبختُر، ان کا فخر و ناز، ان کی چال ڈھال، ان کی وضع قطع اور ان کے مخصوص شعار سب چیزوں کی یہ حالت تھی کہ دیکھتے ہی انسان کو بے اختیار ہنسی آجائے، مگر کس کی مجال تھی کہ اُن کی طرف دیکھ کے مُسکرا بھی دے۔ انہوں نے کسی کو جھوٹوں بھی مسکراتے دیکھا اور قرابنچے پر ہاتھ جا پڑا۔ پھر اُس وقت اگر کوئی ایسے ہی بُردبار بانکے ہوئے تو اُسے خوشامد درآمد کرکے عفوِ تقصیر کا موقع بھی ملا ورنہ بلاتامل قرابنچہ بھونک دیا اور اپنی راہ لی‘۔

پروفیسر: آہ، یہ کتاب لاہور میں چھپی ہوئی ہے۔ ورنہ قرابینچے کو کتوں کی طرح بھونکنے پر مجبور کیوں کیا جاتا؟ چلو چھوڑو اس ادب کو۔ اب اسلامیات کا وقت ہے۔ مشہور میگزین محدث پڑھتے ہیں۔ اس میں مولانا محمد یوسف خان نے سنہ اکہتر میں اسرائیل کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ مولانا تو بہت بڑے عالم ہیں اور ان کی زبان بہت شستہ ہے۔ وہ ان نوٹنکی بازوں جیسے نہیں ہیں۔ تو مولانا یوسف اپنے مضمون ’عالم اسلام کا اتحاد اور استعماری طاقتوں کے جال‘ میں رقم طراز ہیں کہ

’انہیں دشمن اسلام طاقتوں نے اسلام کے قلب میں اسرائیل کا خنجر بھونک دیا ہے جس سے عالمِ اسلام دو ٹکڑے ہو گیا ہے‘۔

پروفیسر: بچو تم سمجھ ہی گئے ہو گے کہ مولانا صیہونی اسرائیلیوں کے فلسطینیوں پر دشنام طرازی کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈا کرنے کو بھونکنا کہہ رہے ہیں۔ یہ ہوتا ہے بھونکنا کا درست استعمال۔ اب ہم شاعری پڑھتے ہیں۔ امروہے کے مشہور شاعر جون ایلیا کا ایک شعر ہے،

مرے پاس آ کے خنجر بھونک دے تو

پروفیسر: یہ شاعرانہ تعلی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ خنجر بھی جب ناحق کسی عاشق کا سینہ چاک کرتا ہے تو کتے کی طرح بھونکنے لگتا ہے۔ بہرحال یہ جون ایلیا شاید کراچی میں اتنا رہ کر ایسی تشبیہات استعمال کرنے لگے تھے۔ ہماری گلی میں جب کتے بھونکنے لگتے ہیں تو ہمارا بھی یہی گمان ہوتا ہے کہ ہمارے چھری کانٹے میز کرسی تک بھونک رہے ہیں۔ کراچی کا تو مریل سے مریل کتا بھی ایسی بلند آواز میں بھونکتا ہے جیسے اس نے لاؤڈ سپیکر لگوا رکھا ہو۔ ان جدید شاعروں کو چھوڑ کر کلاسیکی شعرا کو پڑھتے ہیں۔ آرزو لکھنوی کا شعر ہے

کہنا پتے پتے کی اور نام پھر ہنسی کا
چھریاں نہ بھونک دل میں میٹھی زبان والے

پروفیسر: کمال ہے۔ یہ آرزو صاحب بھی کسی ہمارے جیسے محلے میں ہی رہتے ہوں گے۔ ہماری میز کرسیاں بھونکتی معلوم ہوتی ہیں تو ان کی چھریاں بھونکتی ہیں۔

پروفیسر کا لیکچر ختم ہوا۔ ہم تو بس پروفیسر صاحب سے یہی عرض کرتے ہیں کہ رتن ناتھ سرشار، منٹو، عبدالحلیم شرر، مولانا یوسف، جون ایلیا، آرزو لکھنوی اور خاکسار پر ناراض ہونے کی بجائے لغت اٹھا کر دیکھ لیں کہ بھونکنا اردو میں کسے کہتے ہیں۔ کئی مرتبہ جو شے بڑے بڑے استاد بشمول پہلوان سخن استاد امام بخش ناسخ اور ان کے پٹھے بھی نہیں بتا پاتے ہیں، وہ لغت میں لکھی نظر آ جاتی ہے۔ ہم پروفیسر صاحب کو اخلاقیات کا درس تو نہیں دیتے ہیں، مگر اردو سیکھنے اور کسی لفظ کا مطلب جان کر اس پر تبصرہ کرنے کا درس ضرور دیتے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ میں بھونکنا کا مطلب کچھ یوں درج ہے۔

بھونکنا: فعل متعدی۔ کسی نوکدار چیز کو کسی جسم کے اندر گھسانا۔ چبھونا۔ فارسی میں خلانیدن۔ گنوار اسے گھوپنا (گھونپنا) کہتے ہیں۔

بہرحال ہم تو پروفیسر کی تعریف ہی کریں گے۔ جس طرح سے انہوں نے قرولی (خنجر) کو کتے کی طرح بھونکنے پر مجبور کر دیا ہے، وہ انہی کا کمال ہے۔ اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ انہوں نے ایک منصف ہونے کا حق ادا کیا ہے، یعنی فیصلہ سنانے سے پہلے اس معاملے میں غیر جانبدار رہنے کی خاطر نہ تو اردو شاعری پڑھی ہے اور نہ ہی اردو ادب۔

عدنان خان کاکڑ

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1546 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
7 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments