وجود الہی اور الحاد:

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں ایک مطالعہ کے شوقین دوست سے کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی۔ کافی یادیں تازہ کیں مختلف ٹاپکس پہ ایک دوسرے کے خیالات پہ بحث و مباحثہ ہوا۔ باتوں باتوں میں بات الحاد یعنی atheism کی طرف چل نکلی۔ میرے دوست نے مجھے بتایا کہ ایک صاحب ہیں پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نام کے۔ آج کے دور کے سب سے بڑے ملحدین میں سے ایک ہے۔ اس کا ایک انٹرویو ہے جو الجزیرہ انگلش کے ایک اینکر مہدی حسن نے کیا ہے وہ دیکھو۔

میں نے فارغ ہوکے وہ انٹرویو دیکھی۔
اس میں پروفیسر موصوف نے خدا، مذہب اور سائنس پہ اپنے دلائل دیے۔ اور اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

اینکر نے ایک سٹیج پہ سوال کیا کہ میں آپ کو خدا کی ذات کے لیے کوئی پریکٹیکل ثبوت نہیں دے سکتا کہ وہ ہے؟ تو آپ کے پاس کیا پریکٹیکل ثبوت ہے کہ وہ نہیں ہے؟
پروفیسر فوراً اکتائے ہوئے لہجے میں کہا کہ “نہیں میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے” اور پھر وہ ادھر اُدھر کی مارنے لگ گیا۔ اور کوئی پراپر جواب نہ دیا۔

پھر پروفیسر مذہب پہ تنقید کرتے ہوئے بولا کہ مذہب انسان کو جنونی، ظالم، انتہا پسند اور دہشت گرد بناتا ہے۔ مذہبی انسان لوگوں کو زبح کرنے سے نہیں چوکتا، اور مذہب خود کش بمبار بناتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اینکر نے اسی تناظر میں پوچھا کہ سائنس سے جب انسان بارود بناتا ہے ایٹم بم بناتا ہے۔ اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کو موت کی گھاٹ اتارتا ہے تو کیا اس کی ذمہ دار سائنس ہے؟
یہاں پھر پروفیسر کی لاجک ٹھس ہوگئی۔

اور آخری بات جس پہ پروفیسر لاجواب ہوا وہ یہ تھی کہ پروگرام کے آڈینس سے اینکر نے سوال پوچھنے کا کہا۔ تو ایک بزرگ اٹھے اور سوال کیا۔ پروفیسر صاحب اگر کل کو آسمان سے بادلوں میں سے یا کائنات کے کسی کونے سے یک دم خدا ظاہر ہوجاتا ہے تو کیا آپ اسے مانو گے یا تب بھی اس کی مخالفت کرو گے؟

پروفیسر آگے سے خفت مٹاتے ہوئے بولا۔ That is the thing i worried about a lot۔ کہتا اگر کبھی ایسا ہو کہ بادلوں کے پیچھے سے خدا برآمد ہو اور اونچی آواز سے بولے ”میں موجود ہوں“ اور اس کا ثبوت مجھے اندرونی طور پہ محسوس بھی ہو تو میں مان جاؤں گا۔
لیکن پھر اول فول بولنے لگا کہ چونکہ ایسا کبھی ہوگا نہیں اس لیے میں نہیں مانتا۔

مجھے یہ سب دیکھ کے اس پہ بہت ترس آیا کہ یہ لوگ ایک اللہ کی نفی کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کسی نہ کسی سٹیج پہ لاجواب ہوجاتے ہیں۔
وہ کیا خوب کسی نے کہا تھا۔
The worst moment for an atheist is when he is really thankful and has no one to thank۔
”یعنی ایک ملحد کی زندگی کا سب سے بدترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ حقیقی طور پہ شکر گزار ہوتا ہے لیکن اسے شکر کرنے کے لیے کوئی ہستی نہیں ملتی“۔

بڑے بڑے ملحدین سے جب بھی یہ پوچھا گیا کہ اگر کل کو موت کے بعد خدا سامنے آکے آپ سے پوچھے کہ بتاؤ کہ میں تو موجود تھا تو نے کیوں انکار کیا تو آپ کیا جواب دو گے؟
آگے سے ہمیشہ آئیں بائیں شائیں کیا گیا۔

شاید ایسے لوگوں کے لیے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ الحاقہ میں فرمایا۔ ”اورآسمان پھٹ جائے گاتو اُس دن وہ کمزور، بھربھرا ہوگا۔ اورفرشتے اُس کے کناروں پر ہوں گے اور اُس دن تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپراُٹھائیں گے۔ اُس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تم سے کوئی چھپی ہوئی چیزچھپی نہ رہ جائے گی۔ “

شاید یہ وہی لمحہ ہوگا کہ وہ متکبر ذات جو اس وقت جبار و قہار ہوگی وہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ بائیں ہاتھ میں پکڑے نامہ اعمال والے ان الحادیوں سے پوچھے گا کو دو اب لاجک، لاؤ اپنا ثبوت ، کرو میرے وجود کا انکار۔ ہائے ہائے وائے ناکامی۔

میرا تو خیال ہے کہ ایسے لوگ جن کے دلوں پہ مہر لگ چکی ہے اور الحاد کی تمام حدود کراس کر چکے ہیں ان سے بحث کے بجائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہی الفاظ پیش کرکے آگے نکل جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ لوگ گمراہی میں بہت بڑھے ہوئے لوگ ہیں اور مذہب کے ماننے والوں کی غلاظتوں کو مذہب کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ لیکن جب ان سے یہ کہا جائے کہ بارود اور ایٹم بم کی تباہی کیا سائنس کی وجہ سے نہیں ہے؟ تو باؤلے ہو کر کہتے ہیں کہ سائنس نے تو کنسیپٹ دیا تھا آگے اس کے غلط استعمال کی سائنس تو ذمہ دار نہیں ہے۔ لیکن جب کوئی مذہبی یہ کہتا ہے کہ مذہبی بندوں کی برائی کا ذمہ دار مذہب نہیں ہے تو یہ ملحد اکڑ جاتے ہیں اور عجیب و غریب مثالیں دیتے ہیں۔

اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذریعے واضح پیغام دے دیا ہے۔ اب یہ مانیں نہ مانیں اللہ تبارک و تعالیٰ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پس سورہ نساء میں ارشاد ہوا۔ ”وہ ان سے زبانی وعدے کرتا رہے گا اور سبز باغ دکھاتا رہے گا ( مگر یاد رکھو! ) شیطان کے جو وعدے ان سے ہیں وہ سراسر فریب کاریاں ہیں۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •