ڈاکٹر عثمان انور۔ ایک مختلف آئی جی پنجاب

ڈاکٹر عثمان انور کا شمار پاکستان پولیس سروس کے انتہائی پروفیشنل، ایماندار اور فرض شناس افسران میں ہوتا ہے۔ آپ کا تعلق پاکستان پولیس سروس کے تئیسویں کامن سے ہے۔ آپ نے 1995 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس جوائن کی۔ ڈاکٹر عثمان انور اس سے قبل پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر عثمان انور سی ٹی ڈی پنجاب، ایس ایس پی آپریشنز فیصل آباد، سی آئی ڈی اور چیف

Read more

شادیوں کا جان لیوا سیزن

موسم کے خوشگوار ہوتے ہی شادیوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے۔ کبھی شادی کے لئے عمر ہوتی تھی اب صرف سیزن ہوتا ہے۔ لوگ اب شادی کے لئے عمر کم اور سیزن کا انتظار زیادہ کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو شادی کرنے کی چیز ہوتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ہر کوئی شادی کرانے کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ شادی رزق کھولتی ہے لیکن شادی عقل کو تالہ بھی لگا دیتی ہے۔ ہم کتنا بھی سوچ سمجھ کر

Read more

پولیس آپ کی دوست ہے اسے اپنا سمجھیے

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم کو صرف پولیس کی خامیاں ہی نظر آتی ہیں خوبیاں نہیں۔ ہم نے اپنی خامیاں دیکھنے والی آنکھ کو اتنا کھلا رکھا ہوا ہے کے ہم ہر اچھے کام کو چاہے وہ جو بھی کرے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ پولیس بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس میں کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح اچھے یا برے لوگ موجود ہیں، عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنا سراہا نہیں جاتا جتنے

Read more

جب نور جہاں نے ویر سپاہیا کو ڈھول سپاہیا کیا

ملکہ ترنم نور جہاں 21 ستمبر 1926 کوعظیم صوفی شاعر بلھے شاہ کی دھرتی قصور میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا نام اللہ وسائی رکھا گیا۔ میڈم نور جہاں نے 9 سال کی عمرمیں گلوکاری کا آغاز کیا۔ قصور میں پیدا ہونے والی اللہ رکھی وسائی پانچ سال کی عمر میں ہی اسٹیج پر گیت گا کر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی تھیں۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم انہوں نے اس دور کی مشہور گلوکارہ کجن بیگم سے حاصل کی۔ اس وقت وہ تقریباً بارہ گھنٹے کا ریاض کرتی تھیں۔ بعد ازاں وہ استاد بڑے غلام علی خان سے بھی باقاعدگی سے گانا گانا سیکھتی رہیں

Read more

نوجوان لڑکیوں میں ذہنی دباؤ اور اس کا ردعمل

کل گورنمنٹ کالج لاہور کی ایک سائکالوجسٹ دوست اپنے کسی کام سے ملنے دفتر آئی۔ آج کل وہ سائکالوجسٹ لڑکیوں کے سماجی مسائل خاص کر عشق میں ناکامی پر تحقیق کر رہی ہے، اس سے جو گفتگو ہوئی سنسر کرنے کے بعد حسب ذیل ہے

لڑکیوں کی عشق میں ناکامی کی بڑی وجہ سوشل کمپیٹیبلٹی کا نہ ہونا ہے مڈل کلاس لڑکیاں ہمیشہ اپر کلاس یا بزنس کلاس لڑکوں کو پسند کرتی ہیں۔ لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات ہونی چائیے کے وو ان کی ضرورت تو ہو سکتی ہیں مجبوری نہیں۔

Read more

انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار

خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں۔ سرونسٹن چرچل نے جنگ عظیم دوم کے دوران کہا تھا کہ اگر برطانیہ کے لوگوں کو عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ آج جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں انصاف کا نظام انتہائی مہنگا اور پیچیدہ ہے تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والا شخص کس قسم کی بات کررہا ہے۔ اگر آپ اتنا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود ملک کے نظام انصاف سے ہی آشنا نہ تھے تو آپ حکمرانی کا حق کس طرح رکھ سکتے ہیں۔

Read more

خون آلود چہرہ وال پہ چپکائے بغیر تعزیت کا اظہار کیوں نہیں کر پا رہے؟

ہم کائرہ صاحب کے فرزند کی گاڑی میں پھنسی لاش دکھائے بغیر موت کی خبر کیوں نہیں دے سکتے؟ خون آلود چہرہ وال پہ چپکائے بغیر تعزیت کا اظہار کیوں نہیں کر پارہے؟ مطلب کتنی عجیب بات ہے کہ مسلسل کئی برس سے خون دیکھ دیکھ کر ہم شاید مستقل دماغی پیچیدگیوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ جب تک ہم کو اطلاع دینے کے لئے کوئی خون سے مسخ تصویر نہ ملے ہمارا پیغام ادھورا ہی رہتا ہے۔ اللہ کائرہ صاھب کو صبر دے انسان ہونے کے ناطے ہم کائرہ سب کے غم میں برابر کے شریک ہیںپولیس ذرائع کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا۔

Read more

سینئر ٹھرکیالو جسٹ سے ملاقات

لڑکیاں تاڑنے اور انہیں تنگ کرنے کا سلسلہ تو سالہاسال سے چلتا آ رہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ یونہی چلتا رہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو امی کے خوف اور اللہ کے فضل سے میں اچھی ریپوٹیشن کا حامل ہوں یا کم از کم لوگ یہی سمجھتے ہیں لڑکی اور ٹھرکی میں چولی دامن کا ساتھ ہے، اس بارے میں تو کوئی نہیں جانتا کہ ٹھرک کا آغاز کب سے ہوا لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ اگر لڑکی نہ ہوتی تو کوئی ٹھرکی نہ ہوتا، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد بڑا ٹھرکی ہوتا ہے اور خاص طور پر شادی کے بعد تو اس کی نظریں ٹکتی ہی نہیں، میرے خیال میں کنوارہ بندہ تو لڑکیوں کو اس لئے دیکھتا ہے کہ شاید یہ میری ہمسفر بن جائے اور شادی شدہ شاید اس لئے دیکھتا ہے کاش یہ میری ہمسفر بن جاتی، سوچ دونوں کی ایک ہی ہے لیکن انداز اپنا اپنا ہے۔

Read more

ہیرا منڈی کے کباب اور روبینہ سے گپ شپ

آدھی رات کا وقت ہے۔ بھوک نے آن ستایا ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور طبیعت بھی کچھ آوارہ گردی پر مائل ہے۔ ہیرا منڈی کے کبابوں کے چٹخارے سن سن کے کان پک گئے تھے سوچا کیوں نہ پھر کباب ہی کھائے جائیں۔ سو ہم ہیرا منڈی پہنچ گئے۔ بازار حسن کی تنگ گلیوں میں ابھی دن کا آغاز ہوا ہے۔ جہاں باقی دنیا سو رہی ہے، وہیں ہیرا منڈی میں دکانیں سجائی جا رہی ہیں۔  فضا

Read more

مسجد وزیر خان اور شاہی حمام کی آوارگی

دہلی دروازے کے اندر داخل ہوتے ہوئے چند قدم آگے چلیں تو چوک وزیر خان آجاتا ہے جہاں مسجد وزیر خان عہد مغلیہ کا شاندار تعمیراتی شاہکار آنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے مسجد وزیر خان کی تعمیر مغل شہنشاہ شہابُ الدین محمد شاہ جہاں کے عہدِ حکومت کے ساتویں سال 1635 ء میں شروع ہوئی جبکہ یہ 7 سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی۔ 1642 ء میں اِس مسجد کا اِفتتاح شہنشاہ شاہ جہاں نے خود لاہور میں کیا۔ اِس مسجد کے معمارِ اعظم چِنیوٹ کے ایک باشندے شیخ عِلم الدین الانصاری تھے جِنہیں عہدِ شاہجہاں ی میں لاہور کا گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر خان کا خطاب عطا کیا گیا تھا۔

Read more

شری کٹاس راج کی یاترا

میں بنیادی طور پرآوارہ گرد ہوں اور اوارہ گردی کرنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ کیا کروں پاؤں میں دل ہے کہ ایک جگہ ٹھہرتا ہی نہیں، کٹاس راج کے مندروں کے بارے میں سن سن کے عمر گزاری تھی۔ مجھے مندروں سے زیادہ اس طلسماتی تالاب کو دیکھنے کا شوق تھا جس کے بارے میں کئی کہانیاں پڑھ اور سن رکھی تھیں۔ اب کی بار ہماری منزل کٹاس راج کا مقدس تالاب ٹھرا، خیر سے ارادہ تو اس میں اشنان کرنے کا بھی تھا مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ آئیے اب آپ کو کٹاس راج کی سیر کرواتے ہیں۔

Read more

گردوارہ چوآ صاحب اور قلعۂ روہتاس کی آوارگی

وہ ہفتے کا دن تھا، جب راجپوتوں کے سپوت نے اپنے دوستوں کی فوج کے ہمراہ شیر شاہ سوری کے قلعۂ روہتاس پر یلغار کر دی۔ پہلے میں دریائے راوی اور چناب کو عبور کرتا ہوا بذریعہ جرنیلی سڑک گجرات پہنچا۔ گجرات سے فہیم کو ساتھ ملایا اور مزید کمک کے لئے انسپکٹر اظہر مجید کو جہلم سے طلب کیا۔ فوج اپنے مکمل سازوسامان کے ساتھ دریائے جہلم کے کنارے پہنچی۔ یہ وہی دریائے جہلم ہے جسے عبور کرنا سکندراعظم کے لئے دوبھر ہو گیا تھا اور ایک دفعہ تو اسے راجہ پورس نے ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ خیر مکاں بے شک وہی تھا لیکن زماں بدل چکا تھا۔ لہٰذا فوج نے منٹوں میں دریا عبور کیا اور تقریباً 18 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے دینہ شہر سے پہلے ایک چوک نما مقام پر پہنچی۔ وہاں سے بائیں ہاتھ قلعہ روہتاس کو جانے والی راہ پر چڑھ دوڑی۔

Read more

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والے واقعہ پہ نجانے کیوں مجھے شاعر مشرق علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال یاد آرہے ہیں۔ آواز گنگ ہے اور الفاظ دل میں اٹھنے والے دکھ کو معانی کا جامہ پہنانے سے قاصر ہیں۔ زبان سے جو نکل رہا ہے وہ یہی ہے۔ کہتقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

Read more

1973 کے آئین میں بنیادی انسانی حقوق

کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے جدید دنیا میں چند سادہ سے بنیادی اشاریئے ہیں جن میں تعلیم، صحت، رہائشی سہولیات، روزگار، قانون کی پاسداری، نظم و ضبط اوربنیادی انسانی حقوق بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ فرانس کے مشہور فلسفی جین جیکس روسو نے کہا تھا انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر آج کل وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ روسو نے انسانوں کی آزادی اور معاشرہ میں فرائض و حقوق کی تشریح کرکے ایک متوازن اور مستحکم معاشرتی اور مملکتی نظام اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے متعلق ”سوشل کنٹریکٹ“ کے عنوان سے کتاب لکھی اور آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا پرچار کرتا رہا۔

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اپنی روایات کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ کالج کی مرکزی عمارت کے سامنے اوول گراؤنڈ، مغربی طرف ایمفی تھیٹر اور علامہ اقبال ہاسٹل کی خوبصورتی انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں کے ”لو گارڈن“ کے ساتھ بے شمار داستانیں وابستہ ہیں جس کا تذکرہ بانو قدسیہ کے ناولز میں بھی ملتا ہے۔ وکٹورین طرز کی اس عمارت کو گھنے درختوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کالج کی یہ عمارت 1874 ء میں مکمل ہوئی تھی جہاں سر گنگا رام اور کنہیا لال جیسے نامور انجینئرز نے تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج میں پڑھنا اور راوین کہلانا آج بھی فخر سمجھا جاتا ہے۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا قیام انگریز عہد میں اندرون شہر میں واقع سکھ دور کی تاریخی حویلی دھیان سنگھ خوشحال سنگھ میں عمل میں آیا تھا۔ 1856 ءمیں لاہور کے سینڑل کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ کالج کے اساتذہ آکسفورڈ، کیمبرج، ڈبلن یا ڈرہم سے تعلیم یافتہ ہونے چاہیے۔ بالآخر یکم جنوری 1864 ءکو حویلی کے دروازے باقاعدہ طور کالج کے لئے کھول دیے گئے اور کالج نے باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر تھے، جو کنگز کالج لندن میں عربی اور اسلامی قانون کے استاد تھے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

Read more

شاہی قلعہ لاہور کی سیر

آپ میں سے اکثر لوگوں نے شاہی قلعہ لاہور دیکھا ہوگا۔ لیکن آپ میں سے اکثر دوستوں کو اس کے بیشتر تاریخی پہلوں کے بارے میں علم نہیں ہوگا۔ آئیے میں اب آپ کو اس کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات دیتا ہوں۔

قلعہ کے لغوی معانی استحکام اور حفاظت کے ہوتے ہیں۔ قلعے فوجی مقاصد یا شاہی رہائش گاہ کے لیے دنیا بھر میں بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں کئی قلعے تعمیر ہوئے۔ مثلاً روہتاس، رانی کوٹ، قلعہ اٹک، قلعہ دراوڑ اور شاہی قلعہ لاہور وغیرہ۔ دریائے راوی کے جنوبی کنارے پر ایک محفوظ مقام کواس قلعہ کے لیے منتخب کیا گیا، یہ دراصل ایک اونچا مصنوعی ٹیلہ تھا جولاہور شہر کی سطح سے کافی بلند تھا۔

اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ شاہی قلعہ لاہور کس نے تعمیر کروایا تھا۔ تو آپ میں سے اکثر کا جواب ہوگا۔ شہنشاہ اکبر نے۔ ویسے تو یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ آپ کے لئے یہ بات حیران کن ہو کہ یہ قلعہ اکبر سے سینکڑوں سال پہلے بھی موجود تھا۔ ہاں اکبر نے اس کو از سرنو تعمیر کروایا تھا۔ اور جو موجودہ حالت اس کی نظر آرہی ہے اس کو اکبر کے دور میں ہی تزئین و آرائش کروائی گئی تھی۔

اس قلعہ کے اندر مختلف ادوار میں مختلف عمارات تعمیر ہوئیں جن کو چھ حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں :

Read more

پولیس سے بھی غلطی ہو جاتی ہے

مثل مشہور ہے کہ پولیس والوں کی نہ دوستی اچھی اور نہ ہی دشمنی۔ پولیس بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس میں کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح اچھے یا برے لوگ موجود ہیں، عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنا سراہا نہیں جاتا جتنے کہ وہ حقدار ہوتے ہیں البتہ ان کی ذرا سی بھی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی میڈیا کی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے، شام کے اخبارات میں مصالحے دارشہ سرخیاں لگائی جاتی ہیں۔

ساہیوال میں جو ہوا بہت بہت برا ہوا۔ چند اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت سے اس ادارے کی برسوں کی محنت اور لا تعداد کامیابیوں اور قربانیوں پر پانی پھر گیا۔ ہر وہ شخص جسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہے وہ انٹیلجنس آپریشنز کا ایکسپرٹ بن گیا ہے۔ جو منہ میں آ رہا ہے کہا جا رہا ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشنز میں امریکی سی آئی اے سے بھی متعدد غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کی ٹیکنولاجیکل استعداد کسی سے چھپی نہیں۔ یقیناً جو ہوا بہت غلط ہوا پر کیا اس وجہ سے آپ سی ٹی ڈی کی سب کارکردگی پہ سیاہی پھیر دیں گے۔

Read more

ریمانڈ اور اس کا طریقہ کار

ریمانڈ کے لفظی معنی واپس بھجوانا ہے۔ فوجداری مقدمات میں ملزم کو پھر حوالات بھیجنا مگر پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اطلاع بڑی خطر ناک بن چکی ہے۔ جب کوئی شخص گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو 24 گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔

عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دے سکتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اس کے رشتہ داروں کو یہ حق دینا چاہیے کہ اگر وہ ریمانڈ کے خلاف ملزم کی طرف سے عذرات پیش کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے قواعد میں درج ہے کہ مجسٹریٹ کو لازم ہے کہ وہ ملزم کو وکیل رکھنے کا موقع دے تاکہ وہ وکیل ریمانڈ کے خلاف عذرات پیش کر سکے۔

Read more

حفیظ ہوشیار پوری: محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

آج اردو کے ممتاز شاعر جناب حفیظ ہوشیار پوری کا یوم وفات ہے حفیظ ہوشیار پوری کا اصل نام شیخ عبدالحفیظ سلیم تھا۔ وہ 5 جنوری 1912 ء کو دیوان پورا ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے تھے مگر اپنے آبائی وطن ہوشیار پور کی نسبت سے ہوشیارپوری کہلائے۔

وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے کچھ مدت میاں بشیر احمد صاحب کے ساتھ انجمن ترقی اردو کے سیکرٹری بھی رہے۔ پھر آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی میں پروگرام ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ لاہور ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ پھر ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بھی مقرر ہوئے۔

Read more

وجود الہی اور الحاد:

پچھلے دنوں ایک مطالعہ کے شوقین دوست سے کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی۔ کافی یادیں تازہ کیں مختلف ٹاپکس پہ ایک دوسرے کے خیالات پہ بحث و مباحثہ ہوا۔ باتوں باتوں میں بات الحاد یعنی atheism کی طرف چل نکلی۔ میرے دوست نے مجھے بتایا کہ ایک صاحب ہیں پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نام کے۔ آج کے دور کے سب سے بڑے ملحدین میں سے ایک ہے۔ اس کا ایک انٹرویو ہے جو الجزیرہ انگلش کے ایک اینکر مہدی حسن نے کیا ہے وہ دیکھو۔

میں نے فارغ ہوکے وہ انٹرویو دیکھی۔
اس میں پروفیسر موصوف نے خدا، مذہب اور سائنس پہ اپنے دلائل دیے۔ اور اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

اینکر نے ایک سٹیج پہ سوال کیا کہ میں آپ کو خدا کی ذات کے لیے کوئی پریکٹیکل ثبوت نہیں دے سکتا کہ وہ ہے؟ تو آپ کے پاس کیا پریکٹیکل ثبوت ہے کہ وہ نہیں ہے؟
پروفیسر فوراً اکتائے ہوئے لہجے میں کہا کہ "نہیں میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے” اور پھر وہ ادھر اُدھر کی مارنے لگ گیا۔ اور کوئی پراپر جواب نہ دیا۔

Read more

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد میں

اقبال نے کہا تھا۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارہ

جب ہم عظیم قائد کی طرف دیکھتے ہیں تو اقبال کا یہ شعر ہمیں بہتر طور پہ سمجھ آجاتا ہے۔ کہ کیسے ایک فرد ایک قوم کے مقدر کا ستارا بن کے اس کی تقدیر بدل دیتا ہے۔

قائد نے سیاسی کیریئر کے تقریباً 40 سے زیادہ سال ہندوؤں کے ساتھ گزار کے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جدید جمہوریت کے تحت مسلمان کبھی بھی ہندو اکثریت جو کم و بیش 650 سال مسلمانوں کی محکوم رہی، اس کے ساتھ پرامن طریقے سے اب نہیں رہ سکتے۔ قائد نے تقسیم ہند سے پہلے کے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی ماحول کو دیکھتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کیا کہ الگ ملک ہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے۔ ورنہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان سیاسی طور پہ ہندوؤں کے دست نگر ہوں گے اور مذہبی طور پہ ہندوؤں کے رحم وکرم پہ ہوں گے۔ اور یوں ہی پھر تخلیق پاکستان کا نعرہ بلند ہوا۔

Read more

بادشاہی مسجد لاہور کی سیر

آج ہم آپ کو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ، شان و شوکت اور مغل طرزِ تعمیر کی شاہکار بادشاہی مسجد لاہور کی سیر کرائیں گے۔ جسے عالمگیری مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کو مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے تعمیر کروایا تھا۔

بادشاہ ہونے کے باوجود مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دین دار اور نیک حکمران تھا۔ وہ اپنی گزر اوقات کے لئے قرآن پاک کی کتابت کرتا اور ٹوپیاں سیا کرتا تھا۔ بہرحال اقتدار کے حصول اور اس کی پختگی کے حوالے سے اورنگ زیب کی جدوجہد کو ابن انشا کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔ کہ ”اورنگزیب عالمگیر نے ساری زندگی نہ کوئی نماز چھوڑی تھی اور نہ کوئی بھائی چھوڑا“ ۔ اورنگزیب نے 1671 ء میں مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ جو 1673 ء میں اورنگزیب کے سوتیلے بھائی مظفر حسین جس کو فدائے خان کوکا بھی کہا جاتا تھا کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔

Read more

پولیس کے مسائل اور چند تجاویز

پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے کئی ادارے موجود ہیں جن میں خفیہ ادارے اور فوج بھی شامل ہیں مگر پولیس، جو کہ ریاست کی سب سے بڑی نمائندہ ہے سب سے زیادہ ریاستی عدم توجہی کا شکار ہے۔ پولیس کے جوانوں کی جرات مند یا ان کے باہمت ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں مگر، حکمت عملی کے ناقص ہونے، محدود استعداد کار اور وسائل کی کمی کی طرف ضرور ذہن جاتا ہے۔

پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے صف اول کے سپاہی ہیں۔ قانون کا نفاذ ہو یا امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہو، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی ہو یا دہشت گردی کے خلاف آپریشن، ہر محاذ پر مصروف عمل رہنے والے ان اداروں کے جوان سینہ سپر ہو کر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ جب کبھی یہ خبر اخبارات میں پڑھنے کو ملتی ہے کہ پولیس کی جرائم پیشہ عناصر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران پولیس کے جوان شہید جرائم پیشہ اور دہشت گرد فرار، تو ایسی خبریں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

Read more

وہ دانائے سُبل، ختم الرسل، مولائے کلؐ جس نے غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیٔ سینا

پورے پاکستان میں عید میلاد النبی منائی گئی۔ شہروں، محلوں اور گلیوں میں ہر بندے نے اپنی اپنی سوچ اور نظریہ کے مطابق اس کو منایا۔ میں اس بحث سے قطع نظر کہ آیا اس کو منانا چاہیے یا نہیں یا دین اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ بلکہ ایک اور بات کی طرف سب دوستوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ تمام مسلمان چاہے عید میلاد النبی منانے والے ہوں یا نہ منانے والے ہوں سب عشق رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دعوٰی کرتے ہیں۔

Read more

سائبر کرائم شکایات اور سزائیں

سائبر کرائم سے مراد ایسی سرگرمیاں ہیں جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہو یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جائے گا۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل

Read more

تنقید ضرور مگر تعریف بھی پولیس کا حق ہے

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم کو صرف پولیس کی خامیاں ہی نظر آتی ہیں خوبیاں نہیں۔ ہم نے اپنی خامیاں دیکھنے والی آنکھ کو اتنا کھلا رکھا ہوا ہے کے ہم ہر اچھے کام کو چاہے وو جو بھی کرے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ حال ہی میں آئی جی پنجاب کی جانب سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کی اسپیشل مہم شروع کی گئی ہے۔ چائلڈ لیبر آرڈیننس کے اجرا سے تا حال صوبہ بھر کے مجموعی

Read more

اقبال قائد قائد اعظم کی نظر میں

تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کے کسی بھی فرد، معاشرے، ملک اور قوم کے عروج و زوال، نشیب و فراز، ترقی و تنزلی، بلندی و پستی کے پیچھے کوئی نہ کوئی فکر، سوچ اور نظریہ بہرصورت کار فرما ہوتا ہے۔ جب ہم بات کرتے ہیں نظریۂ پاکستان کی تو اس کے پیچھے بہت سے درخشاں ستارے اوجِ ثریا پر دمکتےنظر آتے ہیں۔ جن کی سوچ، نظریات، خیالات اور افکار کا واضح اور زندہ و تابندہ ثمر پاکستان کی صورت

Read more