انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار

خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں۔ سرونسٹن چرچل نے جنگ عظیم دوم کے دوران کہا تھا کہ اگر برطانیہ کے لوگوں کو عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ آج جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں انصاف کا نظام انتہائی مہنگا اور پیچیدہ ہے تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والا شخص کس قسم کی بات کررہا ہے۔ اگر آپ اتنا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود ملک کے نظام انصاف سے ہی آشنا نہ تھے تو آپ حکمرانی کا حق کس طرح رکھ سکتے ہیں۔

Read more

خون آلود چہرہ وال پہ چپکائے بغیر تعزیت کا اظہار کیوں نہیں کر پا رہے؟

ہم کائرہ صاحب کے فرزند کی گاڑی میں پھنسی لاش دکھائے بغیر موت کی خبر کیوں نہیں دے سکتے؟ خون آلود چہرہ وال پہ چپکائے بغیر تعزیت کا اظہار کیوں نہیں کر پارہے؟ مطلب کتنی عجیب بات ہے کہ مسلسل کئی برس سے خون دیکھ دیکھ کر ہم شاید مستقل دماغی پیچیدگیوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ جب تک ہم کو اطلاع دینے کے لئے کوئی خون سے مسخ تصویر نہ ملے ہمارا پیغام ادھورا ہی رہتا ہے۔ اللہ کائرہ صاھب کو صبر دے انسان ہونے کے ناطے ہم کائرہ سب کے غم میں برابر کے شریک ہیںپولیس ذرائع کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا۔

Read more

سینئر ٹھرکیالو جسٹ سے ملاقات

لڑکیاں تاڑنے اور انہیں تنگ کرنے کا سلسلہ تو سالہاسال سے چلتا آ رہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ یونہی چلتا رہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو امی کے خوف اور اللہ کے فضل سے میں اچھی ریپوٹیشن کا حامل ہوں یا کم از کم لوگ یہی سمجھتے ہیں لڑکی اور ٹھرکی میں چولی دامن کا ساتھ ہے، اس بارے میں تو کوئی نہیں جانتا کہ ٹھرک کا آغاز کب سے ہوا لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ اگر لڑکی نہ ہوتی تو کوئی ٹھرکی نہ ہوتا، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد بڑا ٹھرکی ہوتا ہے اور خاص طور پر شادی کے بعد تو اس کی نظریں ٹکتی ہی نہیں، میرے خیال میں کنوارہ بندہ تو لڑکیوں کو اس لئے دیکھتا ہے کہ شاید یہ میری ہمسفر بن جائے اور شادی شدہ شاید اس لئے دیکھتا ہے کاش یہ میری ہمسفر بن جاتی، سوچ دونوں کی ایک ہی ہے لیکن انداز اپنا اپنا ہے۔

Read more

ہیرا منڈی کے کباب اور روبینہ سے گپ شپ

آدھی رات کا وقت ہے۔ بھوک نے آن ستایا ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور طبیعت بھی کچھ آوارہ گردی پر مائل ہے۔ ہیرا منڈی کے کبابوں کے چٹخارے سن سن کے کان پک گئے تھے سوچا کیوں نہ پھر کباب ہی کھائے جائیں۔ سو ہم ہیرا منڈی پہنچ گئے۔ بازار حسن کی…

Read more

مسجد وزیر خان اور شاہی حمام کی آوارگی

دہلی دروازے کے اندر داخل ہوتے ہوئے چند قدم آگے چلیں تو چوک وزیر خان آجاتا ہے جہاں مسجد وزیر خان عہد مغلیہ کا شاندار تعمیراتی شاہکار آنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے مسجد وزیر خان کی تعمیر مغل شہنشاہ شہابُ الدین محمد شاہ جہاں کے عہدِ حکومت کے ساتویں سال 1635 ء میں شروع ہوئی جبکہ یہ 7 سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی۔ 1642 ء میں اِس مسجد کا اِفتتاح شہنشاہ شاہ جہاں نے خود لاہور میں کیا۔ اِس مسجد کے معمارِ اعظم چِنیوٹ کے ایک باشندے شیخ عِلم الدین الانصاری تھے جِنہیں عہدِ شاہجہاں ی میں لاہور کا گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر خان کا خطاب عطا کیا گیا تھا۔

Read more

شری کٹاس راج کی یاترا

میں بنیادی طور پرآوارہ گرد ہوں اور اوارہ گردی کرنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ کیا کروں پاؤں میں دل ہے کہ ایک جگہ ٹھہرتا ہی نہیں، کٹاس راج کے مندروں کے بارے میں سن سن کے عمر گزاری تھی۔ مجھے مندروں سے زیادہ اس طلسماتی تالاب کو دیکھنے کا شوق تھا جس کے بارے میں کئی کہانیاں پڑھ اور سن رکھی تھیں۔ اب کی بار ہماری منزل کٹاس راج کا مقدس تالاب ٹھرا، خیر سے ارادہ تو اس میں اشنان کرنے کا بھی تھا مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ آئیے اب آپ کو کٹاس راج کی سیر کرواتے ہیں۔

Read more

گردوارہ چوآ صاحب اور قلعۂ روہتاس کی آوارگی

وہ ہفتے کا دن تھا، جب راجپوتوں کے سپوت نے اپنے دوستوں کی فوج کے ہمراہ شیر شاہ سوری کے قلعۂ روہتاس پر یلغار کر دی۔ پہلے میں دریائے راوی اور چناب کو عبور کرتا ہوا بذریعہ جرنیلی سڑک گجرات پہنچا۔ گجرات سے فہیم کو ساتھ ملایا اور مزید کمک کے لئے انسپکٹر اظہر مجید کو جہلم سے طلب کیا۔ فوج اپنے مکمل سازوسامان کے ساتھ دریائے جہلم کے کنارے پہنچی۔ یہ وہی دریائے جہلم ہے جسے عبور کرنا سکندراعظم کے لئے دوبھر ہو گیا تھا اور ایک دفعہ تو اسے راجہ پورس نے ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ خیر مکاں بے شک وہی تھا لیکن زماں بدل چکا تھا۔ لہٰذا فوج نے منٹوں میں دریا عبور کیا اور تقریباً 18 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے دینہ شہر سے پہلے ایک چوک نما مقام پر پہنچی۔ وہاں سے بائیں ہاتھ قلعہ روہتاس کو جانے والی راہ پر چڑھ دوڑی۔

Read more

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والے واقعہ پہ نجانے کیوں مجھے شاعر مشرق علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال یاد آرہے ہیں۔ آواز گنگ ہے اور الفاظ دل میں اٹھنے والے دکھ کو معانی کا جامہ پہنانے سے قاصر ہیں۔ زبان سے جو نکل رہا ہے وہ یہی ہے۔ کہتقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

Read more

1973 کے آئین میں بنیادی انسانی حقوق

کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے جدید دنیا میں چند سادہ سے بنیادی اشاریئے ہیں جن میں تعلیم، صحت، رہائشی سہولیات، روزگار، قانون کی پاسداری، نظم و ضبط اوربنیادی انسانی حقوق بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ فرانس کے مشہور فلسفی جین جیکس روسو نے کہا تھا انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر آج کل وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ روسو نے انسانوں کی آزادی اور معاشرہ میں فرائض و حقوق کی تشریح کرکے ایک متوازن اور مستحکم معاشرتی اور مملکتی نظام اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے متعلق ”سوشل کنٹریکٹ“ کے عنوان سے کتاب لکھی اور آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا پرچار کرتا رہا۔

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اپنی روایات کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ کالج کی مرکزی عمارت کے سامنے اوول گراؤنڈ، مغربی طرف ایمفی تھیٹر اور علامہ اقبال ہاسٹل کی خوبصورتی انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں کے ”لو گارڈن“ کے ساتھ بے شمار داستانیں وابستہ ہیں جس کا تذکرہ بانو قدسیہ کے ناولز میں بھی ملتا ہے۔ وکٹورین طرز کی اس عمارت کو گھنے درختوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کالج کی یہ عمارت 1874 ء میں مکمل ہوئی تھی جہاں سر گنگا رام اور کنہیا لال جیسے نامور انجینئرز نے تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج میں پڑھنا اور راوین کہلانا آج بھی فخر سمجھا جاتا ہے۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا قیام انگریز عہد میں اندرون شہر میں واقع سکھ دور کی تاریخی حویلی دھیان سنگھ خوشحال سنگھ میں عمل میں آیا تھا۔ 1856 ءمیں لاہور کے سینڑل کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ کالج کے اساتذہ آکسفورڈ، کیمبرج، ڈبلن یا ڈرہم سے تعلیم یافتہ ہونے چاہیے۔ بالآخر یکم جنوری 1864 ءکو حویلی کے دروازے باقاعدہ طور کالج کے لئے کھول دیے گئے اور کالج نے باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر تھے، جو کنگز کالج لندن میں عربی اور اسلامی قانون کے استاد تھے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

Read more
––>