گردوارہ چوآ صاحب اور قلعۂ روہتاس کی آوارگی

وہ ہفتے کا دن تھا، جب راجپوتوں کے سپوت نے اپنے دوستوں کی فوج کے ہمراہ شیر شاہ سوری کے قلعۂ روہتاس پر یلغار کر دی۔ پہلے میں دریائے راوی اور چناب کو عبور کرتا ہوا بذریعہ جرنیلی سڑک گجرات پہنچا۔ گجرات سے فہیم کو ساتھ ملایا اور مزید کمک کے لئے انسپکٹر اظہر مجید کو جہلم سے طلب کیا۔ فوج اپنے مکمل سازوسامان کے ساتھ دریائے جہلم کے کنارے پہنچی۔ یہ وہی دریائے جہلم ہے جسے عبور کرنا سکندراعظم کے لئے دوبھر ہو گیا تھا اور ایک دفعہ تو اسے راجہ پورس نے ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ خیر مکاں بے شک وہی تھا لیکن زماں بدل چکا تھا۔ لہٰذا فوج نے منٹوں میں دریا عبور کیا اور تقریباً 18 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے دینہ شہر سے پہلے ایک چوک نما مقام پر پہنچی۔ وہاں سے بائیں ہاتھ قلعہ روہتاس کو جانے والی راہ پر چڑھ دوڑی۔

Read more

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والے واقعہ پہ نجانے کیوں مجھے شاعر مشرق علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال یاد آرہے ہیں۔ آواز گنگ ہے اور الفاظ دل میں اٹھنے والے دکھ کو معانی کا جامہ پہنانے سے قاصر ہیں۔ زبان سے جو نکل رہا ہے وہ یہی ہے۔ کہتقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

Read more

1973 کے آئین میں بنیادی انسانی حقوق

کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے جدید دنیا میں چند سادہ سے بنیادی اشاریئے ہیں جن میں تعلیم، صحت، رہائشی سہولیات، روزگار، قانون کی پاسداری، نظم و ضبط اوربنیادی انسانی حقوق بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ فرانس کے مشہور فلسفی جین جیکس روسو نے کہا تھا انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر آج کل وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ روسو نے انسانوں کی آزادی اور معاشرہ میں فرائض و حقوق کی تشریح کرکے ایک متوازن اور مستحکم معاشرتی اور مملکتی نظام اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے متعلق ”سوشل کنٹریکٹ“ کے عنوان سے کتاب لکھی اور آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا پرچار کرتا رہا۔

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اپنی روایات کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ کالج کی مرکزی عمارت کے سامنے اوول گراؤنڈ، مغربی طرف ایمفی تھیٹر اور علامہ اقبال ہاسٹل کی خوبصورتی انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں کے ”لو گارڈن“ کے ساتھ بے شمار داستانیں وابستہ ہیں جس کا تذکرہ بانو قدسیہ کے ناولز میں بھی ملتا ہے۔ وکٹورین طرز کی اس عمارت کو گھنے درختوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کالج کی یہ عمارت 1874 ء میں مکمل ہوئی تھی جہاں سر گنگا رام اور کنہیا لال جیسے نامور انجینئرز نے تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج میں پڑھنا اور راوین کہلانا آج بھی فخر سمجھا جاتا ہے۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا قیام انگریز عہد میں اندرون شہر میں واقع سکھ دور کی تاریخی حویلی دھیان سنگھ خوشحال سنگھ میں عمل میں آیا تھا۔ 1856 ءمیں لاہور کے سینڑل کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ کالج کے اساتذہ آکسفورڈ، کیمبرج، ڈبلن یا ڈرہم سے تعلیم یافتہ ہونے چاہیے۔ بالآخر یکم جنوری 1864 ءکو حویلی کے دروازے باقاعدہ طور کالج کے لئے کھول دیے گئے اور کالج نے باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر تھے، جو کنگز کالج لندن میں عربی اور اسلامی قانون کے استاد تھے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

Read more

شاہی قلعہ لاہور کی سیر

آپ میں سے اکثر لوگوں نے شاہی قلعہ لاہور دیکھا ہوگا۔ لیکن آپ میں سے اکثر دوستوں کو اس کے بیشتر تاریخی پہلوں کے بارے میں علم نہیں ہوگا۔ آئیے میں اب آپ کو اس کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات دیتا ہوں۔

قلعہ کے لغوی معانی استحکام اور حفاظت کے ہوتے ہیں۔ قلعے فوجی مقاصد یا شاہی رہائش گاہ کے لیے دنیا بھر میں بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں کئی قلعے تعمیر ہوئے۔ مثلاً روہتاس، رانی کوٹ، قلعہ اٹک، قلعہ دراوڑ اور شاہی قلعہ لاہور وغیرہ۔ دریائے راوی کے جنوبی کنارے پر ایک محفوظ مقام کواس قلعہ کے لیے منتخب کیا گیا، یہ دراصل ایک اونچا مصنوعی ٹیلہ تھا جولاہور شہر کی سطح سے کافی بلند تھا۔

اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ شاہی قلعہ لاہور کس نے تعمیر کروایا تھا۔ تو آپ میں سے اکثر کا جواب ہوگا۔ شہنشاہ اکبر نے۔ ویسے تو یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ آپ کے لئے یہ بات حیران کن ہو کہ یہ قلعہ اکبر سے سینکڑوں سال پہلے بھی موجود تھا۔ ہاں اکبر نے اس کو از سرنو تعمیر کروایا تھا۔ اور جو موجودہ حالت اس کی نظر آرہی ہے اس کو اکبر کے دور میں ہی تزئین و آرائش کروائی گئی تھی۔

اس قلعہ کے اندر مختلف ادوار میں مختلف عمارات تعمیر ہوئیں جن کو چھ حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں :

Read more

پولیس سے بھی غلطی ہو جاتی ہے

مثل مشہور ہے کہ پولیس والوں کی نہ دوستی اچھی اور نہ ہی دشمنی۔ پولیس بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس میں کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح اچھے یا برے لوگ موجود ہیں، عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنا سراہا نہیں جاتا جتنے کہ وہ حقدار ہوتے ہیں البتہ ان کی ذرا سی بھی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی میڈیا کی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے، شام کے اخبارات میں مصالحے دارشہ سرخیاں لگائی جاتی ہیں۔

ساہیوال میں جو ہوا بہت بہت برا ہوا۔ چند اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت سے اس ادارے کی برسوں کی محنت اور لا تعداد کامیابیوں اور قربانیوں پر پانی پھر گیا۔ ہر وہ شخص جسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہے وہ انٹیلجنس آپریشنز کا ایکسپرٹ بن گیا ہے۔ جو منہ میں آ رہا ہے کہا جا رہا ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشنز میں امریکی سی آئی اے سے بھی متعدد غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کی ٹیکنولاجیکل استعداد کسی سے چھپی نہیں۔ یقیناً جو ہوا بہت غلط ہوا پر کیا اس وجہ سے آپ سی ٹی ڈی کی سب کارکردگی پہ سیاہی پھیر دیں گے۔

Read more

ریمانڈ اور اس کا طریقہ کار

ریمانڈ کے لفظی معنی واپس بھجوانا ہے۔ فوجداری مقدمات میں ملزم کو پھر حوالات بھیجنا مگر پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اطلاع بڑی خطر ناک بن چکی ہے۔ جب کوئی شخص گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو 24 گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔

عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دے سکتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اس کے رشتہ داروں کو یہ حق دینا چاہیے کہ اگر وہ ریمانڈ کے خلاف ملزم کی طرف سے عذرات پیش کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے قواعد میں درج ہے کہ مجسٹریٹ کو لازم ہے کہ وہ ملزم کو وکیل رکھنے کا موقع دے تاکہ وہ وکیل ریمانڈ کے خلاف عذرات پیش کر سکے۔

Read more

حفیظ ہوشیار پوری: محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

آج اردو کے ممتاز شاعر جناب حفیظ ہوشیار پوری کا یوم وفات ہے حفیظ ہوشیار پوری کا اصل نام شیخ عبدالحفیظ سلیم تھا۔ وہ 5 جنوری 1912 ء کو دیوان پورا ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے تھے مگر اپنے آبائی وطن ہوشیار پور کی نسبت سے ہوشیارپوری کہلائے۔

وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے کچھ مدت میاں بشیر احمد صاحب کے ساتھ انجمن ترقی اردو کے سیکرٹری بھی رہے۔ پھر آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی میں پروگرام ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ لاہور ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ پھر ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بھی مقرر ہوئے۔

Read more

وجود الہی اور الحاد:

پچھلے دنوں ایک مطالعہ کے شوقین دوست سے کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی۔ کافی یادیں تازہ کیں مختلف ٹاپکس پہ ایک دوسرے کے خیالات پہ بحث و مباحثہ ہوا۔ باتوں باتوں میں بات الحاد یعنی atheism کی طرف چل نکلی۔ میرے دوست نے مجھے بتایا کہ ایک صاحب ہیں پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نام کے۔ آج کے دور کے سب سے بڑے ملحدین میں سے ایک ہے۔ اس کا ایک انٹرویو ہے جو الجزیرہ انگلش کے ایک اینکر مہدی حسن نے کیا ہے وہ دیکھو۔

میں نے فارغ ہوکے وہ انٹرویو دیکھی۔
اس میں پروفیسر موصوف نے خدا، مذہب اور سائنس پہ اپنے دلائل دیے۔ اور اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

اینکر نے ایک سٹیج پہ سوال کیا کہ میں آپ کو خدا کی ذات کے لیے کوئی پریکٹیکل ثبوت نہیں دے سکتا کہ وہ ہے؟ تو آپ کے پاس کیا پریکٹیکل ثبوت ہے کہ وہ نہیں ہے؟
پروفیسر فوراً اکتائے ہوئے لہجے میں کہا کہ “نہیں میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے” اور پھر وہ ادھر اُدھر کی مارنے لگ گیا۔ اور کوئی پراپر جواب نہ دیا۔

Read more

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد میں

اقبال نے کہا تھا۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارہ

جب ہم عظیم قائد کی طرف دیکھتے ہیں تو اقبال کا یہ شعر ہمیں بہتر طور پہ سمجھ آجاتا ہے۔ کہ کیسے ایک فرد ایک قوم کے مقدر کا ستارا بن کے اس کی تقدیر بدل دیتا ہے۔

قائد نے سیاسی کیریئر کے تقریباً 40 سے زیادہ سال ہندوؤں کے ساتھ گزار کے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جدید جمہوریت کے تحت مسلمان کبھی بھی ہندو اکثریت جو کم و بیش 650 سال مسلمانوں کی محکوم رہی، اس کے ساتھ پرامن طریقے سے اب نہیں رہ سکتے۔ قائد نے تقسیم ہند سے پہلے کے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی ماحول کو دیکھتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کیا کہ الگ ملک ہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے۔ ورنہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان سیاسی طور پہ ہندوؤں کے دست نگر ہوں گے اور مذہبی طور پہ ہندوؤں کے رحم وکرم پہ ہوں گے۔ اور یوں ہی پھر تخلیق پاکستان کا نعرہ بلند ہوا۔

Read more