شادیوں کا جان لیوا سیزن

موسم کے خوشگوار ہوتے ہی شادیوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے۔ کبھی شادی کے لئے عمر ہوتی تھی اب صرف سیزن ہوتا ہے۔ لوگ اب شادی کے لئے عمر کم اور سیزن کا انتظار زیادہ کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو شادی کرنے کی چیز ہوتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ہر کوئی شادی کرانے…

Read more

پولیس آپ کی دوست ہے اسے اپنا سمجھیے

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم کو صرف پولیس کی خامیاں ہی نظر آتی ہیں خوبیاں نہیں۔ ہم نے اپنی خامیاں دیکھنے والی آنکھ کو اتنا کھلا رکھا ہوا ہے کے ہم ہر اچھے کام کو چاہے وہ جو بھی کرے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ پولیس بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے…

Read more

جب نور جہاں نے ویر سپاہیا کو ڈھول سپاہیا کیا

ملکہ ترنم نور جہاں 21 ستمبر 1926 کوعظیم صوفی شاعر بلھے شاہ کی دھرتی قصور میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا نام اللہ وسائی رکھا گیا۔ میڈم نور جہاں نے 9 سال کی عمرمیں گلوکاری کا آغاز کیا۔ قصور میں پیدا ہونے والی اللہ رکھی وسائی پانچ سال کی عمر میں ہی اسٹیج پر گیت گا کر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی تھیں۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم انہوں نے اس دور کی مشہور گلوکارہ کجن بیگم سے حاصل کی۔ اس وقت وہ تقریباً بارہ گھنٹے کا ریاض کرتی تھیں۔ بعد ازاں وہ استاد بڑے غلام علی خان سے بھی باقاعدگی سے گانا گانا سیکھتی رہیں

Read more

نوجوان لڑکیوں میں ذہنی دباؤ اور اس کا ردعمل

کل گورنمنٹ کالج لاہور کی ایک سائکالوجسٹ دوست اپنے کسی کام سے ملنے دفتر آئی۔ آج کل وہ سائکالوجسٹ لڑکیوں کے سماجی مسائل خاص کر عشق میں ناکامی پر تحقیق کر رہی ہے، اس سے جو گفتگو ہوئی سنسر کرنے کے بعد حسب ذیل ہے

لڑکیوں کی عشق میں ناکامی کی بڑی وجہ سوشل کمپیٹیبلٹی کا نہ ہونا ہے مڈل کلاس لڑکیاں ہمیشہ اپر کلاس یا بزنس کلاس لڑکوں کو پسند کرتی ہیں۔ لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات ہونی چائیے کے وو ان کی ضرورت تو ہو سکتی ہیں مجبوری نہیں۔

Read more

انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار

خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں۔ سرونسٹن چرچل نے جنگ عظیم دوم کے دوران کہا تھا کہ اگر برطانیہ کے لوگوں کو عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ آج جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں انصاف کا نظام انتہائی مہنگا اور پیچیدہ ہے تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والا شخص کس قسم کی بات کررہا ہے۔ اگر آپ اتنا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود ملک کے نظام انصاف سے ہی آشنا نہ تھے تو آپ حکمرانی کا حق کس طرح رکھ سکتے ہیں۔

Read more

خون آلود چہرہ وال پہ چپکائے بغیر تعزیت کا اظہار کیوں نہیں کر پا رہے؟

ہم کائرہ صاحب کے فرزند کی گاڑی میں پھنسی لاش دکھائے بغیر موت کی خبر کیوں نہیں دے سکتے؟ خون آلود چہرہ وال پہ چپکائے بغیر تعزیت کا اظہار کیوں نہیں کر پارہے؟ مطلب کتنی عجیب بات ہے کہ مسلسل کئی برس سے خون دیکھ دیکھ کر ہم شاید مستقل دماغی پیچیدگیوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ جب تک ہم کو اطلاع دینے کے لئے کوئی خون سے مسخ تصویر نہ ملے ہمارا پیغام ادھورا ہی رہتا ہے۔ اللہ کائرہ صاھب کو صبر دے انسان ہونے کے ناطے ہم کائرہ سب کے غم میں برابر کے شریک ہیںپولیس ذرائع کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا۔

Read more

سینئر ٹھرکیالو جسٹ سے ملاقات

لڑکیاں تاڑنے اور انہیں تنگ کرنے کا سلسلہ تو سالہاسال سے چلتا آ رہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ یونہی چلتا رہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو امی کے خوف اور اللہ کے فضل سے میں اچھی ریپوٹیشن کا حامل ہوں یا کم از کم لوگ یہی سمجھتے ہیں لڑکی اور ٹھرکی میں چولی دامن کا ساتھ ہے، اس بارے میں تو کوئی نہیں جانتا کہ ٹھرک کا آغاز کب سے ہوا لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ اگر لڑکی نہ ہوتی تو کوئی ٹھرکی نہ ہوتا، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد بڑا ٹھرکی ہوتا ہے اور خاص طور پر شادی کے بعد تو اس کی نظریں ٹکتی ہی نہیں، میرے خیال میں کنوارہ بندہ تو لڑکیوں کو اس لئے دیکھتا ہے کہ شاید یہ میری ہمسفر بن جائے اور شادی شدہ شاید اس لئے دیکھتا ہے کاش یہ میری ہمسفر بن جاتی، سوچ دونوں کی ایک ہی ہے لیکن انداز اپنا اپنا ہے۔

Read more

ہیرا منڈی کے کباب اور روبینہ سے گپ شپ

آدھی رات کا وقت ہے۔ بھوک نے آن ستایا ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور طبیعت بھی کچھ آوارہ گردی پر مائل ہے۔ ہیرا منڈی کے کبابوں کے چٹخارے سن سن کے کان پک گئے تھے سوچا کیوں نہ پھر کباب ہی کھائے جائیں۔ سو ہم ہیرا منڈی پہنچ گئے۔ بازار حسن کی…

Read more

مسجد وزیر خان اور شاہی حمام کی آوارگی

دہلی دروازے کے اندر داخل ہوتے ہوئے چند قدم آگے چلیں تو چوک وزیر خان آجاتا ہے جہاں مسجد وزیر خان عہد مغلیہ کا شاندار تعمیراتی شاہکار آنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے مسجد وزیر خان کی تعمیر مغل شہنشاہ شہابُ الدین محمد شاہ جہاں کے عہدِ حکومت کے ساتویں سال 1635 ء میں شروع ہوئی جبکہ یہ 7 سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی۔ 1642 ء میں اِس مسجد کا اِفتتاح شہنشاہ شاہ جہاں نے خود لاہور میں کیا۔ اِس مسجد کے معمارِ اعظم چِنیوٹ کے ایک باشندے شیخ عِلم الدین الانصاری تھے جِنہیں عہدِ شاہجہاں ی میں لاہور کا گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر خان کا خطاب عطا کیا گیا تھا۔

Read more

شری کٹاس راج کی یاترا

میں بنیادی طور پرآوارہ گرد ہوں اور اوارہ گردی کرنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ کیا کروں پاؤں میں دل ہے کہ ایک جگہ ٹھہرتا ہی نہیں، کٹاس راج کے مندروں کے بارے میں سن سن کے عمر گزاری تھی۔ مجھے مندروں سے زیادہ اس طلسماتی تالاب کو دیکھنے کا شوق تھا جس کے بارے میں کئی کہانیاں پڑھ اور سن رکھی تھیں۔ اب کی بار ہماری منزل کٹاس راج کا مقدس تالاب ٹھرا، خیر سے ارادہ تو اس میں اشنان کرنے کا بھی تھا مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ آئیے اب آپ کو کٹاس راج کی سیر کرواتے ہیں۔

Read more