اندھے گونگے اور بہرے لوگ


اسلام آباد میں اندھے گونگے اور بہرے لوگ رہتے ہیں اس لئے میں اردو میں تقریر کرتا ہوں گھوٹکی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے زرداری صاحب نے اسلام آباد کے لوگوں کے بارے عوام کی معلومات میں یہ گراں قدر اضافہ کیا۔ میڈیکل سائنس یہ کہتی ہے جو لوگ بہرے ہوتے ہیں وہ گونگے بھی ہوتے ہیں۔ اور گونگے بہرے سوائے اشاروں کے کوئی زبان نہیں سمجھتے۔ وہ اشاروی کی زبان کے علاوہ کوئی زبان بول نہیں سکتے۔ اندھے لوگوں کی اور بات ہے ان کو کسی بھی زبان میں دشنام طرازی کی جا سکتی ہے۔

پتہ نہیں زرداری صاحب اسلام آباد کے سب لوگوں کو اندھا اور گونگا سمجھتے ہیں یا ان کی نظر میں کچھ اندھے ہیں اور کچھ بہرے ہیں۔ یہ تو سب اندھوں بہروں کو اردو سنا کر ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے والی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لاٹھی زرداری کے ہاتھ میں نہیں اندھے بہرے اور گونگے لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ کافی عرصے سے اشاروں کی زبان میں باتیں کیے جارہے تھے۔ ان اشاروں کو نہ شریف خاندان نے سمجھا ہے نہ زرداری نے حتیٰ کہ لاٹھی اٹھانے بلکہ چلانے کی نوبت آگئی۔

نواز شریف پر لاٹھی چلی تو زرداری اندر سے خوش ہوا بلکہ شہباز بھی اندر ہی اندر خوش ہوتا رہا۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ لاٹھی والے صرف گونگے ہیں اور جن اشاروں کی زبان وہ بول رہے ہیں وہ ان کے فائدے کی بات ہے۔ لیکن نواز شریف کے بعد وہ اندھے بھی ہو چکے ہیں ان کو زرداری نواز اور شھباز ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے لگ رہے ہیں۔

نواز شریف نے پہلی گرفتاری سے پہلے بڑے بڑے جلسے کیے تھے۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس کے جلسے سننے آتا تھا۔ زرداری بھی بڑے بڑے جلسے کر رہا ہے لیکن اسلام آباد والے نہ دیکھ رہے ہیں نہ سن رہے ہیں گونگے بہرے لوگ۔ وزیر اعظم البتہ نہ گونگے ہیں نہ بہرے نہ اندھے۔ وہ دیکھ بھی رہے ہیں اور سن بھی رہے ہیں اسی لئے خود بھی جواب دیتے ہیں اور مذید جواب دینے کے لئے لمبی زبانوں والے دو تین مزدور رکھے ہوئے ہیں جو ہر بات کا جواب دیتے ہیں اور شور مچانے کی حد تک وزیر اعظم کو ناکام نہیں ہونے دیتے۔

دوسری طرف اندھے لوگوں نے میڈیا پر ایسی ٹیم پالی ہوئی ہے جو دشنام طرازی کی ماہر ہے۔ وہ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر نواز اور زرداری کو انڈیا سے زیادہ پاکستان کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ رات گئے یہ تماشا چلتا ہے اور اگلے دن پھر نئے سرے سے شروع ہو جاتا ہے عدالتیں ایک مشکل صورتحال سے گزر رہی ہیں۔ دوسال سے ایک چور کی چوری ثابت نہیں ہو پارہی۔ ایک عدالت چور قرار دیتی ہے دوسری پہلی عدالت پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ سپریم کورٹ سے کیس چلتا چلتا نیب سے ہائیکورٹ سے واپس سپریم کورٹ جا پہنچتا ہے۔ نواز شریف کی چوری ابھی تک سوالیہ نشان بنی کھڑی ہے۔ عوام لیکن نہ اندھی ہے نہ بہری اور گونگی۔ نواز شریف کا فیصلہ اگر متنازعہ نہ ہوتا بھٹو کا فیصلہ متنازعہ نہ ہو تا تو آج تواتر سے کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہوتی کہ اسلام آباد میں اندھے اور گونگے لوگ بیٹھے ہیں۔

اسلامآباد میں تین طرح کے لوگ بیٹھے ہیں جو اور کہیں نہیں۔ جی ایچ کیو، سپریم کورٹ اور وزیراعظم۔ پاکستان میں طاقت کی یہی ترتیب رہی ہے۔ جس نے اس ترتیب کو توڑنے کی کوشش کی ہے وہ خود ٹوٹ گیا ہے۔ ترتیب نہیں ٹوٹی۔ زرداری جب صدر بنے تو کمال مہارت سے صدارتی نظام کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام میں بدل دیا۔ بنیادی مقصد صوبوں کے اختیارات میں اضافہ درکار تھا۔ زرداری کو علم تھا کہ یہ اس کی آخری باری ہے جبکہ سندھ میں انہیں آئندہ بھی اقتدار ملنے کی توقع تھی۔

نواز شریف نے جب کراچی میں امن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو زرداری نے اس کی حمایت کی۔ اس کا خیال تھا کہ اس اپریشن کا پی پی کو فائدہ ہوگا۔ ان کی ایم کیو ایم سے جان چھوٹ جائے گی۔ اس وقت فوج کی کمان جنرل راحیل کے ہاتھ میں تھی جس نے دیانت داری کے ساتھ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان میں امن قائم کرنے کا عزم کیا ہوا تھا۔ ایم کیو ایم کے بعد لیاری گینگسٹرز کا صفایا کرکے کراچی کو امن کا گہوارہ بنا دیا۔ اسی اپریشن  کے دوران فوج کراچی کی بدامنی کی اصل وجوہات کو تلاش کرتے کرتے زرداری نیٹ ورک کے خفیہ گوشوں تک رسائی پانے میں کامیاب ہو گئی۔ لینڈ مافیا بھتہ خوری منی لانڈرنگ اور وزیرستان میں طالبان کی کارروائیاں باہم ملی ہوئی پائی گئیں۔ جہاں وزیرستان میں اپریشن کرکے بدامنی کی عسکری طاقتوں کا خاتمہ کیا وہیں کراچی کی بلیک منی کنٹرول کرنے والی قووتیں بھی زیر عتاب آگئیں۔ دو سال سے اندھے لوگ زرداری کے خفیہ خزانوں اور بلیک مارکیٹ کو کھنگال رہے تھے۔ اس کام میں گونگے اور بہرے لوگ بھی شامل تھے۔ ان اندھوں کو سب کچھ نظر آگیا تھا زرداری صاحب کی البتہ اب آنکھیں کھلی ہیں لیکن اب دیر ہو چکی۔

افغانستان کے طالبان سے امریکہ مذاکرات کے بہانے اپنی فوج کا انخلا چاہتا ہے۔ امریکی حکومت سب سے پہلے امریکہ کی حکمت عملی کے تحت افغانستان سے نکلنا چاہ رہا ہے۔ افغان وار میں پاکستان کا امریکی نقطہ نگاہ کے مطابق کام ختم ہو چکا ہے اس لیے فوج کا کردارکم ہو گیا ہے۔ ۔ وزیرستان اور باقی فاٹا میں اپریشن کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ ایم کیو ایم کے ملک دشمن دھڑے کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ کراچی اور سندھ کے امن کے لئے زرداری کی بلیک منی کنٹرول میں ہے۔ پنجاب کے پھنے خان شریف برادران جیل میں ہیں۔ ابھی بھی آپ اسلامآباد کے لوگوں کو گونگا بہرہ اور اندھا کہ رہے ہیں۔ ؟

Facebook Comments HS