عورت کے حقوق کی لڑائی سب کے لئے ہے


میں اوریا مقبول جان کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کیوںکہ ان کی بدولت کئی مرد اور عورتوں کا چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔

 بہت عرصہ پہلے میں نے کسی گفتگو کے دوران کہا تھا ، اگر کسی انسان کا ظرف جاننا ہو تو اس سے عورت، سیاست، اور مذہب پر گفتگو کروا لیں۔ اس کی سوچ کپڑے اتار کر سامنے آ کھڑی ہوگی۔ اوریا مقبول کی گفتگو کا معیار تو گرا ہوا تھا ہی، ساتھ ہی ساتھ ہمارے پڑھے لکھے معاشرے کی گری ہوئی سوچ بھی بیدار ہو گئی۔ عقیدے پر تو جنگ جانے کب سے ہے لیکن "زن” ایک ایسا مدعا ہے جس پر ہمارا غبارے جیسا معاشرہ فوراً پھٹ جاتا ہے۔

ایک تو میں عورت، وہ بھی پڑھی لکھی، خود مختار، سدھ بدھ رکھنے والی، اس لئے پاکستان میں بہت آرام سے "فیمنسٹ” کا لیبل لگ جاتا ہے۔ خیر اس میں حرج ہی کیا ہے؟ آخر تو لڑائی ہے حقوق کی۔

آج ٹویٹر پر میڈیا سے جڑے ایک اینکر پرسن نے کہا "عورت ہی عورت کی دشمن ہے”۔ سچ کہا! خود کو ابتر سمجھنے والے مرد اور کمتر سمجھنے والی عورتوں کو جنم اور تربیت دونوں ایک عورت سے ہی ملتی ہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ، جناب آپ نے ان لوگوں کو تو”فیمنسٹ” کہہ دیا جو اوریا کے خلاف ہیں لیکن آپ کب میڈیا میں اٹھیں گے اور قوم کو بتایئں گے کہ عورت اور مرد جانور نہیں ہیں نہ ہی بچہ پیدا کرنے کی مشین؟

کوئی نہیں بتائے گا۔

کیا آپ جانتے ہیں حقوق نسواں کی تحریک کیوں اور کب چلی؟ لگ بھگ اٹھارویں صدی میں اس تحریک کا آغاز ہوا تھا اور بنیادی وجہ یہی تھی کہ مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دے جایئں۔ اوریا جیسے حضرات سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں کہ مذہب نے عورت کو حقوق دیئے حالانکہ وہ حقوق ایسے بنیادی تھے جو کسی بھی معاشرے میں ایک عام انسان کے ہونے چاہئے۔ مثال کے طور پر آپ کسی بھی انسان کو زندہ نہیں دفنا سکتے، اس کا بھی وراثت میں برابر کا حق ہے، اسے بھی اپنی پسند اور نا پسند سے زندگی گزارنے کا حق ہے۔

حقوق نسواں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی اوریا مقبول جان نیوز چینل پر یہ اعلان نہ کرے کہ مرد کی حیثیت کتے اور عورت کی کتیا جیسی ہے۔ یہ ہے حقوق کی جنگ!

عزت، غیرت، فطرت میں سب انسان برابر ہیں۔

اوریا مقبول جان کوئی نیا چہرہ نہیں ہیں اور ایک تاریخ رکھتے ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اور پچھلے دنوں ان کے خیالات اسامہ بن لادن سے لے کر موبائل کے اشتہار تک پر منظر عام پر آگئے۔ سلام ہے نیوز چینل پر بھی کہ اسامہ بن لادن کو آن ایئر ہیرو کہلوا دیا اور لڑکی کے کرکٹ کھیلنے کو فحش بنا دیا۔ شہرت کا لالچ بھی خوب ہے سو نیوز چینل نے بنا اجازت ایک یونیورسٹی کے استاد کی ویڈیو بھی چلوا دی۔

آپ خود سے چند سوال پوچھیں جیسے، کیا آپ کی اولاد کل کو اسامہ بن لادن بن جائے تو آپ فخر کریں گے؟ کیا آپ کا بیٹا خودکش بمبار بننے چلا جائے تو آپ اس کی بلائیں لیں گے؟ اگر آپ کی بیٹی ایک بین الاقوامی سطح کی کھلاڑی بن جائے تو کیا اپکا سر شرم سے جھک جائے گا؟

 کیا کوئی اینکر یا چینل اس سوچ پر پروگرام کرسکتے ہیں؟  شاید ایک یا بہت تیر مارا تو دو کیوںکہ اگر اوریا مقبول جان لائیو شو میں ساتھی اینکر پر بلاسفیمی کا الزام لگا سکتے ہیں تو سوچیں اور کیا کیا کر سکتے ہیں۔

 سوشل میڈیا میں بہت طاقت ہے اور ایسے کلین شیو مولوی یا زن بیزار حضرات آپ کو ملیں گے کہ آپ سوچتے رہ جایئں گے کہ یہ واقعی پڑھے لکھے لوگ ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ جب چار خواتین اوریا کی سوچ کے خلاف بولتی ہوئی پائی جاتی ہیں تو ان پر "فیمنسٹ "کا الزام لگ جاتا ہے۔ بات صرف سوچ اور حقوق کی ہے۔ کسی مذہب میں، کسی صحیفے میں وہ سوچ نہیں لکھی جو اوریا مقبول جان جیسے لوگ پاکستان میں مذہب کے نام پر پھیلا رہے ہیں۔

جب کہ میڈیا میں بہت طاقت ہے چاہے وہ پی ٹی وی  ہو یا پرائیویٹ نیوز چینل’ یہی میڈیا انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے، فیصلے بدلوا سکتا ہے، نئی سوچ دے سکتا ہے۔ پاکستان کا میڈیا اب تک تو انتشارپھیلا رہا ہے لیکن امید ہے کہ مستقبل میں باقی سب بھی "ذرا ہٹ کر” سوچیں۔

انفرادی طور پر ہمارا حق ہے کہ ہم آواز اٹھائیں، نظریوں کو اجاگر کریں کیوںکہ آپ مرد یا عورت بعد میں ہیں، پہلے انسان ہیں۔ کسی عورت کو اپنے حقوق کے لئے نہیں لڑنا پڑے گا اگر مرد اس کو اس کے حقوق بنیادی انسانیت سمجھ کر دیں نہ کہ احسان۔ عام انسان تو اپنے گھر سے شروعات کر سکتا ہے جیسے بیٹا اور بیٹی ایک ہی اسکول میں جائیں یا ماں سالن میں سے بہترین بوٹی چن کر بیٹے کے لئے نہ رکھے۔ جو تربیت بیٹے کی ہو وہی بیٹی کی بھی ہو۔ جو قواعد و قانون بیٹی کے لئے لاگو ہوں، وہی بیٹے پر بھی ہوں۔

یاد رکھیں معاشرہ ہم سے ہے، ہم معاشرے سے نہیں۔ اس لئے آج جو قدم آپ اپنی بہتری کے لئے اٹھاییں گے، کل وہی قدم اس زمانے کا راستہ بنے گا۔

Facebook Comments HS