ہمارا مسئلہ کرپشن ہے یا سیاسی بحران؟
پاکستان کی موجودہ سیاست گزشتہ 30 سال کے عرصے پر محیط ہے اور درپیش حالات سے دوچار رہتے ہوئے محدود مدار میں گردشی سفر طے کر رہی ہے۔ اس کے بنیادی کردار وں میں بھٹو اور شریف خاندانوں کے ساتھ ساتھ ایک غیر رسمی لیکن اتنا ہی مضبوط خاندان پرویز مشرف اور اس کی باقیات کے طور پر پہچانا جا سکتا ہے۔ اس حصار کا چوتھا ستون عوام ہیں جو سیاسی کش مکش میں پوری طرح منقسم نظر آتے ہیں جس کی بنیادی وجہ سیاسی دھڑوں کی جانب سے اٹھائے گئے وہ تمام معاملات ہیں جو یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔
ہمیں کسی بھی حل کی جانب بڑھنے سے پہلے پاکستانی عوام کی منقسم ترجیحات کو سمجھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ہم درست سمت میں پیش قدمی کرہے ہیں اور کیا ہم ملک میں بہتری اور استحکام لانے کی جانب گامزن ہیں۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان کی سہ رخی سیاست میں ووٹر اپنی رائے کا اظہار کن پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے ہم خیال لوگوں میں ایسے افراد شامل ہیں جو ملک میں رنگ، نسل، مذہب اور جنس سے بالاتر قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل اور نفاز چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے کبھی اپنے ایسے ووٹروں کو مایوس نہیں کیا۔ اس کی اعلیٰ قیادت چاہے حکومت میں رہی یا اپوزیشن میں انہوں نے اپنے مؤقف پر لچک نہیں دکھائی۔ اسی پارٹی نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے رجحانات کو بھرپور طور پر چیلنج کیا اور ان کے خاتمے کے لئے ہر اقدام کی حمایت کی۔ اس سوچ کی بدولت ملک میں دہشت گردی کے شکار گروہوں کی وابستگی پیپلز پارٹی کے ساتھ بلا مشروط ہے۔
تاہم بد قسمتی سے ایسے افراد جو روشن خیال قوانین اورپالیسیوں کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور انتہاپسندی کو سب سے اہم مسئلہ سمجھتے ہیں ان کی تعداد پیپلزپارٹی کو فیصلہ کن اکثریت دلوانے کے لئے ناکافی ہے۔ سندھ کے عوام آج بھی متبادل قیادت سے محروم ہیں اور پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی اور سیاسی جماعت کو اپنے مفادات کی نگہبانی سونپنے کو تیار نہیں۔ لیکن سندھ سے باہر اب پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں دن بدن کمی کی ایک بڑی وجہ آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات ہیں جن کو پارٹی رد کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ایک بڑی تعداد میں ووٹر پنجاب کا شہری متوسط طبقہ اور تاجر برادری ہے جو نواز شریف کے مواصلاتی اور صنعتی شعبوں کے موافق منصوبوں کے باعث اس کا گرویدہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس جماعت نے انتہائی دائیں بازو کی سوچ سے بلند ہو کر ایک حد تک متوازن سوچ اپنائی ہے جس کا اظہار نوازشریف کی اقلیتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہم آہنگی سے ہوتاہے۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے میثاقِ جمہوریت کے زریعے اسٹیبلشمنٹ کے مقابل اپنی طاقت میں اضافہ کیا جو بدقسمتی سے بتدریج بے نظیر بھٹو کی شہادت اور آصف زرداری اور نواز شریف کی ناموافق پالیسیوں کے باعث ختم ہوتی گئی۔
نوازشریف کا مخالف ووٹ بینک بھی پنجاب میں ہی مضبوط ہے جو کہ اس بات کا قائل ہے کہ سول حکومتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے دائرہ اثر سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ووٹر سیاست دانوں کو کرپٹ اور نااہل سمجھتا ہے اور ان قوتوں کے ساتھ یکجا ہوتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کرپشن کے ایشو پر چلائی جانے والی بھرپور مہم بھی مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کو حالیہ انتخابات میں کسی بڑے نقصان سے دوچار نہیں کر سکی۔
اب آتے ہیں تیسرے سیاسی دھڑے کی جانب جو یلا واسطہ اور بالواسطہ اسٹیبلیشمنٹ کے زیرِ اثر حکومتی نظم و نسق چلاتا رہا ہے ۔ اس کا ووٹر بلبلے کی مانند نمودار ہوتا ہے اور اپنی مدت پوری ہونے پر غائب ہوجاتا ہے۔ عمومی طور پر یہ اپنے ووٹر کو سیاستدانون پر تین طرح کے الزامات عائد کرکے متحرک کرتا ہے جس میں غداری، کرپشن اور غیر اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے الزامات سرِ فہرست ہیں۔ ان تینوں الزامات میں بہت حد تک عوامی تائید کرپشن کے الزام کو ملی ہے جس کو یکسر رد کرنا ممکن نہیں۔ باقی دو الزامات کو کبھی عوامی پذیرائی نصیب نہیں ہوئی۔
پرویز مشرف بہت واضح سوچ کے ساتھ اقتدار میں آئے کہ غداری اور کرپشن کے باعث نواز شریف اور بے نظیربھٹو کی پاکستان کی سیاست میں کوئی جگہ نہیں۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عوام نے انتہاپسندی کی دوغلی پالیسی کو رد کیا اور انہوں نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ایک بار پھر ترجیح دی ۔ پرویز مشرف کا سیاسی دھڑا اپنے دوسرے دورمیں عمران خان کے کندھوں پر سوار ہو کر متحر ک ہوا اور بالآخر پہلے صوبائی سطح پر اور پھر مرکزی سطح پر طاقت کے مسند پر براجمان ہوا۔ اس بار بھی نعرہ کرپشن کا تھا اور اس شد ت کے ساتھ بلند ہوا کہ پوری سیاسی بساط بکھر گئی۔ اس سارے عمل میں گو کہ اقتدار تو عمران خان اور اس کی پارٹی کو نصیب ہوا لیکن فیصلہ کن اکثریت حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔
اس کی بڑی وجہ احتساب کے عمل کا غیر جانبدار اور شفاف نہ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ ماضی میں بھی ایسے قائم کردہ کیسز سالہا سال تک مشرف کی حکومت میں چلتے رہے لیکن منطقی انجام پر نہ پہنچ سکے۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ ان کیسز کو سیاسی بھاؤتاؤ اور وفاداریاں تبدیل کرنے لئے لئے بھی استعمال کیا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ اعمال گفتار سے زیادہ بلند آواز ہوتے ہیں۔ اس بات کو سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کرنے والوں نے شاید کبھی مدِ نظر نہیں رکھا۔ ایک عام آدمی کے ذہن کے پردے پر جو تصویر بنتی ہے اس کے مطابق نواز شریف اور آصف زرداری کا قصور کرپشن سے زیادہ مستقل طور پر سیاسی عمل کے ساتھ منسلک رہنا ہے۔ جس میں وہ اپنی اگلی نسل کو بھی شامل کرچکے ہیں۔ اس بات کو تقویت اس طرح سے ملتی ہے کہ دیگر شخصیات جن پر اسی طرح کے ملتے جلتے الزامات تھے یا لگائے جا سکتے تھے اور اتنی ہی شدومد سے تفتیش کی جاسکتی تھی ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔
خاص طور پر حکمران پارٹی اور ان کے اتحادیوں میں متعدد لوگ ایسے ہیں جن پر منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات ہونے کےباوجود ادارے متحرک نظر نہیں آتے۔ اسی طرح فوجی حکمرانوں سے جڑے معاملات پر تحقیقات سست روی اور عدم شفافیت کا شکار نظر آتی ہیں۔
میری ناقص رائے میں کرپشن کے خاتمے سے قبل عوام اور ریاست میں اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کے لئے ٹھو س اقدامات کی ضرورت ہے جس کا آغاز شفاف ڈائلاگ سے ممکن ہے۔
سیاسی استحکام اور ایک نئے سفر کاآغاز اسی وقت ممکن ہوگا جب سیاسی جماعتیں مختلف جغرافیائی علاقوں اور سوچ کے حامل افراد کو یکساں طور پر متاثر کرنے اور ہم خیال بنانے پر عمل پیرا ہوں گی۔ دوسری جانب ادارے بلا تفریق اپنا کردار ادا کر کے عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد بحال کر نے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔


