نیو ایئر منانے کی تاریخ اور شریعت


دنیامیں دو قسم کے کیلنڈر رائج ہیں ایک ہجری کیلنڈراوردوسرا عیسوی کیلنڈر۔ عیسوی کیلنڈراس وقت تمام دنیامیں، بشمول مسلم ممالک عملی طور پر نافذ ہے۔ مسلمانوں کا اصل کیلنڈر عیسوی نہیں ہجری ہے۔ ہجری کیلنڈر کا آغاز محرم الحرام سے اور اختتام ذی الحجہ کے مہینے میں ہوتا ہے جبکے عیسوی کیلنڈرکا آغاز جنوری سے اور سال کا اختتام دسمبر میں ہوتاہے۔ نیو ائیر نائٹ کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی میں ”برطانوی نیوی“ کے نوجوانوں کی طرف سے کیا گیا۔

برطانیہ کی رائل نیوی کے نوجوانوں کی زندگی کا زیادہ حصہ بحری جہازوں میں گزرتا تھا۔ یہ لوگ سمندروں کے تھکا دینے والے سفر سے بیزار ہو جاتے تھے تو جہازوں کے اندر ہی اپنی دلچسپی کا سامان تیار کر لیتے۔ یہ لوگ تقریبات کے مواقع تلاش کرتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے کی بیوی، بچوں کی سالگرہ، ویک اینڈ، ایسٹر، کرسمس کا احتمام کرتے۔ انہیں تقریبات کے دوران کسی نے کہا کہ کیوں نہ ہم سب مل کے نئے سال کو خوش آمدید کہیں؟ یہ آیڈیا انہیں اچھا لگا لہزا 31 دسمبر کو جہاز کا سارا عملہ اکٹھے ہوا اور جہاز کا حال روم سجا کر موسیقی کا انتظام کر کے ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دی۔

برٹش رائل نیوی (British Royal Navy) کے جہاز سے شروع ہونے والا یہ تہوار دوسرے جہازوں پر پہنچا۔ نیوی کے جہاز نیو ایئر نائٹ پر کسی قریب ترین ساحل پر رکتے، نائٹ مناتے، اور سفر پر روانہ ہوجاتے۔ اس وقت دنیا کے 192 ممالک میں نیو ایئر نائٹ منائی جاتی ہے۔ ا مریکہ نیو یارک، برطانیہ، فرانس، اور جرمنی سمیت تمام عیسائی ممالک نیو ائیر کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن برائڈن برگ گیٹ پر دنیا کی سب سے بڑی تقریب منعقد ہوتی ہے۔

ہیپی نیو ایئر جو عیسائیون کی ایک رسم ہے ’جو اب مسلمانوں میں بھی مقبول ہوچکی ہے‘ ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم خوشی کس چیز کی منا رہے ہیں ’اپنی زندگی کا ایک قیمتی سال کم ہونے کی؟ موت کا دن قریب آنے کی‘ ۔ ہمارا اصل سال تو محرم سے شروع ہونے والا ہجری سال ہے ہمیں نئے سال کا استقبال محرم الحرام کے آغاز پر کرنا چاہیے۔ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے جب کہ ذی الحجہ آخری مہینہ۔ اسلام امن کا پیغام عام کرنے کی تاکید کرتا ہے اس طرح اسلامی سال کاآغاز بھی امن سے ہوتا ہے۔

نئے سال کا تہوار منانا بت پرستوں کی شرکیہ رسم ہے اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہے۔ “ ہیپی نیو ایئر فحاشی اور بے حیائی پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہے یہ غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت ہے جس سے ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS