بیٹی رحمت یا زحمت
پہلی مثال
ایک عالمہ ہیں، جو ماشا اللہ سے 10 سال سے قرآن بمعہ ترجمہ پڑھا رہی ہیں، اُن کی پہلی 2 اولاد بیٹیاں ہیں، تیسری مرتبہ وہ سب سے اولاد نرینہ کے لیے دعا کی درخواست کر رہی تھی، بیٹا ہوا، جانتے ہیں چوتھی مرتبہ اُن کے الفاظ کیا تھے، بیٹا ہو جائے، جوڑی بن جائے گی، اسی ڈر سے کے کہیں بیٹی نہ ہو اُنہوں نے الٹراساؤنڈ نہیں کروایا کہ بیٹی نکل آئی تو، کیونکہ اگر بیٹی پیدا ہوئی تو بقول اُن کے، ایک طرف تو اُن کی تین بیٹیاں ہوں جائیں گی، اور دوسری بات، بیٹے دو ہونے چاہیے، کیونکہ ایک بیٹا اکیلا ہوتا ہے، دو گیارہ کے برابر ہوتے ہیں۔
دوسری مثال
ایک خاتون کی 6 بیٹیاں ہیں، سب سے چھوٹی 40 چالیس دن کی تھی، حج کے لیے نام آ گیا، دونوں میاں بیوی، بیٹیوں کو چھوڑ کر حج پہ چلے گیے سوال پوچھا کسی نے اتنے بچے۔ اُن کا جواب تھا بیٹے کی خواہش میں ہر بار بیٹی آجاتی ہے۔ اُن کے واپس آنے سے تین دن پہلے سب سی چھوٹی بیٹی مر گئی۔ بقول اُن خاتون کے، اللہ کی راہ میں قربان ہوگئی۔
یہ دو مثالیں کچھ دنوں کی ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ہوئے واقعات کی تفصیل لکھنے کے لیے مجھے وقت لگے گا۔ مانتی ہوں اولاد سے پیار کرنے والے کم نہیں۔ بیٹیوں سے پیار کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے گھرانوں میں پہلی اولاد میں بیٹی کو قبول کرنا ابھی بھی بہت مشکل ہے۔ پریگننسی کے چوتھے مہینے میں پتہ چل جاتا ہے ہونے والا بچہ، لڑکا ہے یا لڑکی۔ اور پھر اس عورت کا خیال بھی اسی حساب سے رکھا جاتا ہے۔
بیٹی پہلی اولاد میں ہی مشکل یے قابلِ قبول ہوتِی ہے، تیسری بیٹی کے بعد بیٹے کے لئے منتیں مان لی جاتی ہیں، اور اگر خدا نہ خواستہ چٹھی اولاد بھی بیٹی ہو جائے تو پیدا کرنے والی ماں بِھی اس کا خیال نہیں رکھتی۔ اور بچیوں کو رشتہ داروں کے یا اکیلا چھوڑ کر خود مکہ، مدینہ حج پہ چلی جاتی ہے، کہ بیٹیاں تو ہوتی رہتی ہیں، روز روز حج پہ نہیں جایا جاتا، اور ویسے بھی وہاں جا کر بیٹے کے لیے منتیں بھی تو ماننی ہیں۔
اسلام میں حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد کو ترجیح دی گی ہے، پر پتہ نہیں کون سا مذہب ہے یہ جہاں انسان سے زیادہ ارکان ادا کرنے کی فکر میں لوگ اپنی اولاد بیٹی تک کو مار دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں اللہ کی راہ میں قربان ہو گئی۔
شاید ہم یہ بات بھول جاتے ہیں، کے بیٹے نعمت ہوتے ہیں، اور بیٹیاں رحمت۔ نعمتیں دینے والا، نعمتوں کا ہمیشہ حساب لیتا ہے، رحمتوں کا نہیں۔ پر ہم رحمتوں سے اکتا جاتے ہیں، بالکل بنی اسرائیل کی اُس جماعت کی طرح، جو آسمان سے اُترے من و سلوٰی سے اکتا گئی تھی۔


