نیو ائیر نائٹ: غیر قانونی آتش بازی پر کروڑوں روپے پھونک دیے گئے


رات بارہ بجنے میں ایک منٹ باقی تھا کہ پہلا دھماکہ ہوا اور پھر ایسا سماں بندھ گیا جیسے جنگ چھڑ گئی ہو۔ ہم گھبرا کر باہر نکلے تو علم ہوا کہ آسمان رنگا رنگ روشنیوں سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ آتشبازیاں چلا رہے ہیں۔ ہوائیاں چھوڑ رہے ہیں۔ لالٹینیں ہوا میں اڑا رہے ہیں۔ ڈھول تاشے پیٹ رہے ہیں۔ ناچ گا رہے ہیں۔ خوشیاں منا رہے ہیں۔ پچھلے برسوں میں بھی یہ سب کچھ ہوتا تھا مگر اس سال تو کامل پندرہ منٹ تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ لوگوں کو اس طرح خوشیاں مناتے دیکھ کر ہمارا دل بجھ گیا۔

جشن منانے کے نام پر کروڑوں روپے کو اس طرح آگ لگا دینا ظلم ہے۔ جبکہ آتش بازی کی خرید و فروخت جرم بھی ہے اور اب نئے سال کی آمد پر ایک آدمی ہوائی اسی طرح چھپ چھپا کر بلیک میں خریدتا ہے جیسے دوسرا آدمی شراب خریدتا ہے۔ ٹی وی پر یہ روح فرسا منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ ہزاروں نوجوان اپنی اپنی موٹرسائیکلوں کے سائلینسر نکال کر ان ساتھ رت جگا کر رہے ہیں۔ ان کم بختوں کو بے زبان موٹرسائیکلیں ہی ملی تھیں نیو ائیر نائٹ کا جشن منانے کے لئے؟

کیا انہیں ذرا شرم حیا نہیں ہے؟ کیا ہم نے کروڑوں جانوں کی قربانی دے کر یہ ملک اس لئے بنایا تھا کہ لوگ ادھر خوشیاں منائیں؟ کیا ان بے حسوں کو ذرا دکھ نہیں ہے ان قربانیوں پر؟ کیا ان کو علم نہیں ہے کہ ادھر غزہ میں اسرائیل ان کے بھائی بہنوں پر ظلم کے کیسے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ کیا ان کو خبر نہیں ہے کہ کشمیر میں مکار مودی کیا کیا ظلم کر رہا ہے۔

کشمیر اور فلسطین کی بات چلی تو ہم مقبوضہ کشمیر میں نئے سال کا جشن منائے جانے پر بھی شدید دکھی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گلمرگ وغیرہ میں ہوٹل اوور بک ہو گئے تھے اور سیاحوں کے لئے نئے سال کے جشن پر سپیشل پیکیج آفر کیے جا رہے تھے۔ شاید وہ غم کی شدت سے دیوانے ہو گئے ہیں۔

غزہ میں نئے سال کا جشن

شکر ہے کہ غزہ میں حالات کچھ بہتر ہیں۔ ادھر ہر برس نئے سال کا جشن منایا جاتا تھا۔ اس سال حماس نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔ غزہ کی پولیس کے ترجمان ایمن بتنیجی نے بتایا ہے کہ نئے سال کا جشن خلاف اسلام ہے اور مغربی روایت ہے، اور اسے غزہ میں کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے تمام ہوٹلوں اور ریستورانوں کی نئے سال کا جشن منانے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ لیکن کوچہ و بازار سجے ہوئے ہیں۔

کیا ان جشن مناتے فلسطینیوں اور کشمیریوں کو ذرا اندازہ بھی نہیں ہے کہ وہ کتنے دکھی ہیں اور ان کی وجہ سے ہی ہم نے ہر خوشی کو خود پر حرام کر رکھا ہے۔ وطن عزیز میں نوجوانوں کو نئے سال کا جشن منانے کا اتنا ہی شوق ہے تو اسلامی سال شروع ہوتے ہی کسی مولوی صاحب کے زیر نگرانی شرعی طریقے سے منا لیا کریں۔ رات کو محفل شبینہ میں شرکت کریں اور رات بھر آنسو بہا بہا کر کفار کے دکھی اور برباد ہونے کی دعائیں مانگیں۔

وطن عزیز میں فسق و فجور اور فحاشی کا یہی عالم رہا تو بسنت اور ویلنٹائن پر بھی خوب جشن منایا جائے گا۔ لوگ پتنگوں پر پیسہ پانی کی طرح بہائیں گے۔ ویلنٹائن پر یوم حیا ایک مرتبہ پھر ناکام رہے گا اور بے حیائی کا طوفان مچے گا۔ جس پر ظاہر ہے کہ امت مسلمہ کی محبت سے شرابور ہر دل مزید بوجھل ہو جائے گا۔ ہم ان مذموم میلوں کی چشم دید شہادت دینے کی تیاری پکڑنا شروع کر رہے ہیں تاکہ قوم کو ان میں برپا ہونے والے فسق و فجور سے ٹھیک سے خبردار کر سکیں۔ ان بے حیاؤں کو یہ جشن منانے کی دعوت گناہ ملتی کیسے اور کہاں سے ہے؟

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar